Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

رومہ پر وحشیوں کا قبضہ

 
   
 
مورخوں نے سہولت کے خیال سے اس کی تسخیر کا آخری سال 476ء قرار دیا ہے، کیوں کہ اسی سال مغربی رومی سلطنت کے شہنشاہ نے اپنا تاج و تخت وحشی سردار اوڈو آسرا کے حوالے کیا۔
یہ مت سمجھیے کہ جنگلی قبیلے کسی بیرونی سردار کے زیر قیادت اچانک رومہ پر چڑھ آئے تھے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ رومی سلطنت کے پہلے شہنشاہ آگسٹس کے زمانے ہی میں ان قائل کو اٹلی میں آباد ہونے کی اجازت مل گئی تھی۔ وہ عرصے تک سلطنت کے لیے جنگجو سپاہی بھی مہیا کرتے رہے اور اونچے درجے کے سرکاری عہدے بھی حاصل کرتے رہے اڈو آسرا نے ان قبائلی سپاہیوں سے اٹلی کے ایک تہائی علاقے کا وعدہ کرکے سرداری کا منصب حاصل کرلیا۔ رومی شہنشاہ کو جب یقین ہوگیا کہ وہ اس کے مقابلے سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتا تو عافیت اسی میں سمجھی کہ تخت چھوڑ کر الگ ہوجائے۔ ادھر قسطنطنیہ کے شہنشاہ زینو نے اگرچہ آدو آسر کی حکومت تسلیم نہ کی، تاہم اسے معزول کرنے کے لیے بھی کوئی قدم نہ اٹھایا اور اس کے لیے وہی خطاب استعمال کرتا رہا جو مغربی رومی سلطنت میں خاندانی امیروں کا عام لقب تھا۔
مشرقی گاتھوں کے سردار تھیوڈورک نے آدوآسر کو میدان جنگ میں شکست فاش دی اور صلح اس شرط پر ہوئی کہ دونوں مشترکہ طور پر حکومت کا کاروبار جاری رکھیں۔ پھر تھیوڈورک نے آڈوآسر کو دعوت میں بلا کر کر اپنے ہاتھ سے اس کا سر قلم کردیا۔
مغربی رومی سلطنت کے خاتمے کے ساتھ یورپ قسطنطنیہ کے اثر سے نکل کر وحشنی اقوام کے تسلط میں آگیا، تاہم آگے چل کر اسے موقع مل گیا کہ اپنی مخصوص تہذیب کو نشو و نما دے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close