Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مشرق میں نئے رومی سلطنت

 
   
 
رومی سلطنت کا مرکز ابتدا سے رومہ چلا آتا تھا۔ 11 مئی 33ء کو براعظم یورپ کے جنوب مشرقی کونے میں اسی سلطنت کا ایک نیا مرکز قائم ہوا جس نے قسطنطنیہ کے نام سے شہرت پائی اور ایک ہزار سال تک اسے دنیا کا اولین شہر ہونے کا فخر حاصل رہا۔ اس کا سرکاری نام "نیا رومہ" رکھا گیا تھا، قسطنطنیہ اس کا دوسرا نام ہے۔
مغربی رومی سلطنت آہستہ آہستہ وحشی اقوام کے قبضے میں جاتی رہی اور مشرقی رومی سلطنت کے مرکز کی اہمیت بڑھتی گئی۔  476ء میں مغربی سلطنت بالکل ختم ہوگئی۔ اس کے بعد قسطنطنیہ ہی یونانی و رومی تہذیب کی روایات کا حامل رہ گیا۔ اس نے یورپ کے وحشیوں اور ایرانیوں کے حملے روکے، پرانے فنون کی سرپرستی کی تجارت کو ترقی دی۔
قسطنطنیہ سے یونانی علوم مغربی یورپ میں پہنچے اور احیائے علوم کی روشنی کے لیے ابتدائی سرو سامان فراہم ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی رومی سلطنت میں یونانیت زیادہ سے زیادہ فروغ پاتی رہی اور جسٹینیئن کے بعد یونانی یہاں کی سرکاری زبان بن گئی۔
قسطنطنیہ ساتویں صدی سے پندرھویں صدر کے وسط تک مختلف یورشوں کا مقابلہ کرتا رہا۔ آخر 1453ء میں سلطان محمد فاتح عثمانی نے اسے فتح کرلیا اور سلطنت روہ کا ہمیشہ کے لیے خاتمھ ہوگیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close