Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بج گئی

 
   
 
۱۳۵ء میں شاہ ہینڈرین کے رومی لشکر نے یروشلم کو بالکل تباہ و تاراج کر ڈالا۔ اس سے پیشتر بہت سے دشمنوں نے ایسی کوششیں کیں،مگر انہیں پوری کامیابی نصیب نہ ہوئی تھی، اس مرتبہ شہر کا ملاً برباد کردیا گیا۔ کوئی چھوٹی سے چھوٹی عمارت بھی سلامت نہ رہی اور یہودیوں کے نام حکم جاری ہوگیا کہ وہ آئندہ کبھی اس شہرمیں واپس نہ آئیں۔
یروشلم کی تاریخ پھر کے دور سے شروع ہوتی ہے۔ دنیا کا کوئی دوسرا شہر پیش نہیں کیا جاسکتا جس کی سرگزشت اس درجہ ہنگامہ خیز اور درد ناک ہو۔ ایک بار جب یہودیوں نے رومی سپاہیوں کے ایک دستے کو موت کے گھاٹ اتار دیا تو رومی شہنشاہ نیرو کو سخت تادیبی کارروائی کی ضرورت محسوس ہوئی۔ وسپیسن اور ٹائی ٹس رومی لشکر لے کر آئے اور ملک میں سیل کی طرح پھیل گئے۔ تین سال کے دوران میں بڑے ہولناک واقعات پیش آئے اور بالاخر یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ یہ یہودیوں کی سلطنت کے خاتمے کا رسمی اعلان تھا۔
یروشلم کی عظمت اور شان کا پہلا دور وہ تھا جب یہ شہر حضرت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کا مرکز تھا۔ اس دور کی ہر قابل ذکر عمارت بخت نصر شاہ بابل نے تباہ کر ڈالی، یہاں تک کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا بنایا ہوا مقدس ہیکل بھی باقی نہ چھوڑا۔ اس کی مغربی دیوار کے پتھر عام روایت کے مطابق ملبے کے نیچے باقی رہ گئے تھے جن سے لپٹ کر رونا یہودیوں کے نزدیک ایک خاص عبادت بن گیا تھا۔ کورش شہنشاہ ایران نے شہر اورہیکل کو از سر نو تعمیر کرنے کا حکم دیا مگر یہ شہر دوبارہ سن 70ء میں تباہ ہوا۔ پھر آہستہ آہستہ تعمیر ہوا تو شہنشاہ ہیڈرین نے حکم دیا کہ یہودیوں کو نکال دیا جائے اور شہر کو رومیوں کا ایک مرکز بنادیا۔ آگے چل کر رومی شہنشاہوں نے مسیحیت قبول کرلی تو یہودیوں پر اس وقت بھی پابندیاں باقی رہیں، بلکہ ان پر زیادہ سختیاں ہونے لگیں۔ جب فلسطین کی حکومت مسلمانوں کے ہاتھ آئی تو ہیکل کی جگہ مسجد تعمیر ہوئی۔ مگر یہودیوں اور عیسائیوں کو زیارتوں کی عام اجازت مل گئی۔
امن و خیر سگالی کی اس فضا میں خلل اس وقت پیدا ہوا جب یورپ نے صلیبی جنگیں شروع کیں۔ اس دور کے خاتمے پر صدیاں گزر گئیں تو پہلی جنگ عظیم کے بعد برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کی آباد کاری کا دروازہ کھول دیا۔ اس وقت سے جو فتنہ پیدا ہوا اس کی وجہ سے پورے مشرق قریب کا امن خطرے میں پڑا ہوا ہے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close