Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

قرطاجنہ کا نام ونشان مٹتا ہے

 
   
 
فونیقی ملاحوں نے حضرت مسیح علیہ السلام سے ہزاروں سال سے پہلے لیبیا کے باشندوں سے تجارت تعلقات پیدا کرلیے تھے اور ان کا تجارتی مرکز شمالی افریقا کے ساحل پر موجود تیونس کے قریب واقع تھا۔ خود قرطاجنہ (کارتھیج) کی بنیادصور کی ملکہ دیدو نے 850 ق م میں رکھی۔ مشہور ہے کہ ملکہ نے اتنی زمین خریدی جتنی ایک بیل کی کھال کے اندر آجائے۔ سودا ہوچکا تو کھال کے باریک اور لمبے ٹکڑے کاٹ کر بہت بڑا علاقہ گھیر لیا۔ اس میں وہ پہاڑی بھی شامل تھی جس پر قلعہ تعمیر ہوا۔ اہل قرطاجنہ کی تجارت تیزی سے پھیلتی گئی اور اسے اتنا فروغ حاصل ہوا کہ چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط میں قرطاجنہ بحیرہ روم کی ملکہ بن گئ۔ اس نئی کاروباری سلطنت نے یونانیوں کی مخالفت کے باوجود سسلی اور ساحلی ہسپانیہ پر نوآبادیاں قائم کرلیں، بلکہ آبنائے جبل طارق سے آگے بڑھ کر اوقیانوس کے افریقی ساحل پر بھی تجارتی مرکز بنالیے۔
اہل قرطاجنہ کی اصلی فوقیت سپہ سالار ہنی بال کی جنگی ہنرمندی میں مضمر تھی۔ اگرچہ سمندر رومیوں کے زیر اقتدار تھا اور خشکی پر ان کی برتری مسلم تھی، بایں ہمہ ہنی بال نے  217 ق م میں کوہستان ایلپس کو عبور کرکے شمالی اٹلی پر قبضہ جما لیا اور دس سال تک یہ قبضہ قائم رکھا۔ رومی مقابلے میں بڑی بڑی فوجیں لائے، لیکن ہنی بال نے انہیں جھیل تھراسی مین، کنائے اور کاپو میں پے در پے شکستیں دیں۔
اس اثناء میں دو اور مصیبتیں آئیں۔ اول جو فوج ہنی بال کی امداد کے لیے آرہی تھی وہ راستے میں تباہ ہوگئی، دوسرے ہنی بال کا رومی حریف فیصلہ کن جنگ کو بہت دن ٹالتا رہا جس کی وجہ سے انجام کار ہنی بال کوناکامی ہوئی۔ بایں ہمہ اس دوسری جنگ میں ہنی بال نے جو کارنامے انجام دئیے ان کی وجہ سے وہ ممتاز سپہ سالاروں کے اس گروہ میں شامل ہوگیا جنہیں بقائے دوام کا خلعت ملا۔
قرطاجنہ نے 201 ق م میں ہتھیار ڈال دئیے۔ رومہ نے اس کا انتظام ہنی بال کے ہاتھ میں رہنے دیا تھا مگر وہ خفیہ خفیہ قرطاجنہ کی پہلی عظمت بحال کرنے میں لگا رہا۔ جب رومیوں کو اس کے ارادوں کا علم ہوگیا تو ہنی بال شہر چھوڑ کر بھاگ نکلا لیکن آخر میں گھر گیا تو خودکشی کرلی۔
اپنی شان و شوکت سے بہت کچھ محروم ہوجانے کے باوجود قرطاجنہ والوں نے دوبارہ سنبھالا لیا اور تجارت میں فروغ حاصل کرنا شروع کیا، جس سے رومی حکام کے دلوں میں پھر حسد اور خوف پیدا ہوگیا۔ چنانچہ 149 ق م میں رومی لشکر نے بہانہ تلاش کرکے قرطاجنہ پر دھاوا کردیا۔ شہر کی آبادی پانچ لاکھ سے زیادہ تھی۔ اس میں سے صرف پچاس ہزار لوگ زندہ بچے جنہیں غلام بنا کر بیچا گیا۔ شہر کو آگ لگا دی گئی اور اس کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close