Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

سکندر اعظم دنیا فتح کرنے کے لیے نکلتا ہے

 
   
 
سکندر اعظم نے سپارٹا کے سوا یونان کی تمام شہری ریاستوں کو اپنا حلیف بنایا اور 334ء ق۔ م میں تیس چالیس ہزار جنگجوئوں کے ساتھ ہیلس پانٹ کو عبور کرکے ایشیا میں داخل ہوگیا۔
ایرانی بیڑا بحیرہ ایجہ میں موجود تھا۔
تاجدار دارا کے لیے مناسب یہ تھا کہ پیچھے ہٹ جاتا، تاکہ سکندر کا راستہ لمبا ہوجاتا اور اسے ضروری چیزیں بہم پہنچانے میں مشکلات پیش آتیں، لیکن قدیم زمانے میں جوالنمردی کا تقاضا یہی سمجھا جاتا تھا کہ اپنی جگہ قائم رہ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے اور دست بدست ڑائی میں بھی تاتل نہ کیا جائے۔ سکندر کی یہ انتہائی کوش نصیبی سمجھنی چاہیے کہ ایشیا میں پہنچتے ہی ایرانی رسالے سے مقابلہ پیش ایا اور اس راسلے نے دریائے گرینی کس کے کنارے شکست ھائی۔
اس کامیابی کے بعد سکندر نے بحریہ روم کا ساحلہ علاقہ مسخر کرکے ایرانی بیڑے کو بالکل بیکار کردیا۔ یہ ہوچکا تو ایرانیوں نے شام کے شمالی علاقے میں اسوس کے مقام پر سندر سے جنگ کی۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے ایرانی رسالے کی نقل و حرکت میں مشکلات پیش آئیں۔ ایرانی سوار سکندر کی پیادہ فوج سے عہدہ برآنہ ہوسکے اور انہیں پھر شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔
ایران کی فتح کے بعد سکندر ہندوستان پر حملہ آور ہوا اور جہلم کے قریب راجہ پورس کو شکست دی۔ وہ دریائے بیاس سے آگے بڑھنا چاہتا تھا۔ مگر فوج نے انکار کردیا۔ چنانچہ وہ سندھ اور بلوچستان کے راستے عراق کے شہر بابل میں واپس آیا۔ جسے اپنا مرکز حکومت بنانا چاہتا تھا یہیں تنتیس برس کی میں اس نے وفات پائی اور اس کے ساتھ ہی تمام دنیا کو فتح کرنے کا منصوبہ درہم برہم ہوگیا، لیکن اربیل کے میدان میں اس کی فوج نے یونان کا جو نقش قائم کیا تھا، وہ صدیوں تک ایشیا پر اثر انداز رہا۔  
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close