Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
تاریخ عالم > قدیم تاریخ
بنی اسرائیل...
سکندر اعظم...
یروشلم کی...
مشرق میں نئے...
انگریزوں کی...
رومہ پر...
جولیس سیزر کا...
قرطاجنہ کا...
میراتھان کے...
کنفیوشس کی...
سائرس کا بابل...
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

تاریخ عالم

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   پچھلا
 

جولیس سیزر کا قتل

 
   
 
15 مارچ 44 ق م کو رومہ کے ایوان اعلیٰ میں جولیئس سیزر جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ قاتلوں کو سیزر کا دوست بروٹس بھی شامل تھا۔ جب بروٹس نے ساے خنجر مارا تو سیزر نے اپنے آخر سانس کے ساتھ اسے یہ کہہ کر ملامت کی کہ "اے بروٹس تو بھی"۔ شیکسپئر کے قلم نے اس منظور کو بقائے دوام کا لباس پہنادیا ہے۔
سپہ سالار کی حیثیت سے جولیئس سیزر کی شہرت تاریخ عسکریت کے اوراق پر ثبت ہوچکی ہے۔ اس شہرت کا ایک سبب وہ تحریریں ہیں جن میں اس نے گال (فرانس) کی مہمات تفصیل سے بیان کی ہیں۔ یہ تحریریں حسن بیان کا ایسا نمونہ پیش کررہی ہیں جس سے بہتر نمونہ اب تک دنیا کے سامنے نہیں آسکا۔ سیزر نے وحشی جرمن قبیلوں کو مسخر کیا، ہسپانیہ اور ایشیا میں اپنی ماہرانہ سپہ سالاری کا ثبوت دیا۔ پھر وہ برطانیہ پر حملہ آور ہوا۔ اس کی آمریت (ڈکٹیٹر شپ) کا زمانہ صرف چار سال رہا۔ اس مدت میں رومہ جو سالہا سل سے سیاسی کشمکش کا مرکز بنا ہوا تھا۔ سیزر نے اسے نظم و امن کی دولت بخشی۔

 
Next   پچھلا

Bookmark and Share
 
 
Close