Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ہائے رے نیند

 
  سیما سعدیہ  
 
دنیا میں سب لوگوں کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے جس سے دوسرسے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اور جس کی کمزوری ہوتی ہے وہ نقصان اٹھاتا ہے، کچھ اس طرح کی کمزوری میرے بھائی کی بھی ہے مگر اس سے کسی کا فائدہ تو نہیں ہوتا مگر بھائی جان کا نقصان ہوجاتا ہے، یہ کمزوری کم بیماری زیادہ معلوم ہوتی ہے جس کا خمیازہ عموماً بھائی جان کواکثر ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
ایک دفعہ بھائی جان حسب معمول کلاس میں لیکچر کے دوران سورہے تھے، ویسے تو فزکس کے پیریڈ میں عموماً سب ہی بچے اونگھ رہے ہوتے ہیں مگر سونے کی ہمت کبھی کسی نے نہیں کی ہوگی، اچانک ہی ٹیچر کی نظر جماعت کی سب سے آخری بینچ پر پڑی جہاں پر بھائی جان بے خبر سورہے تھے، ان کو دیکھتے ہی مس کا فیوز بھک سے اڑگیا۔ مس نے بھائی جان کو بہت پیار سے کان کھینچ کر جگایا، بھائی جانے نے موت کے فرشتے کو کبھی اتنے قریب سے نہ دیکھا تھا اس لیے ان کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی، ہاتھ پیر تھر تھر کانپنے لگے اور سر کے بال مس کی تعظیم میں کھڑے ہوگئے اور ساتھ ہی کانوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں، مس نے دو ہاتھ بھائی جان کی کمر پر جڑدیے اس کے بعد بھی مس کا دل نہ بھرا تو چہرے پر بھی تھوڑی بہت نقش و نگاری کردی، پھر بھائی جان کی صحت کا مزید خیال کرتے ہوئے انہیں وٹامن ڈی سے مستفید ہوھنے کے لیے باہر دھوپ میں کھڑا کرککے باقی کلاس کو بڑھانے میں مشغول ہوگئیں۔
بھائی جان بے چارے معصوم سی صورت بنا کر کلاس سے باہر نکل گئے، وہاں پر بھی نیند نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا اور وہ دیوار کا سہارا لے کر سوگئے۔
آج بھائی جان کی قسمت بھی شااید بھائی کی طرح سو رہی تھی، اس لیے جب وہ خواب میں دیس دیس کی سیر کو نکلے ہوئے تھے عین اسی وقت پرنسپل بھی اسکول کے گشت پر نکل کھڑی ہوئیں۔ بھائی جان کو کلاس روم سے باہر سوتا دیکھ کر وہ بھی اپنے چہرے کے بدلتے رنگ کو چھپا نہ سکیں، پھر روایتی پرنسپل کی طرح ان کو جائے وقوعہ پر بے عزت کرنے کے بجائے انتہائی عزت و احترام سے اپنے آفس لے کر گئیں اور 100 دفعہ اٹھک بیٹھک کرنے کی فرمائش کرڈالی۔ میڈیم کی اس فرمائش پر بھائی جان کے اوسان خطا ہوگئے اور وہ منمناتے ہوئے معافی مانگنے لگے، مگر یہ کوشش ان کو بہت مہنگی پڑی اور میڈم نے اپنی ڈیمانڈ میں مزید اضافہ کردیا، انہیں اب 100 کی بجائے 150 مرتبہ اٹھک بیٹھک کرنے کے لیے کہا گیا، لٰہذا انہوں نے توبہ کرنے سے بھی توبہ کرلی اور خاموشی سے میڈم کی فرمائش پوری کرنے لگے، دس، بیس، پچاس۔ اف ابھی وہ پچاس تک ہی پہنچے تھے کہ ان کی ٹانگیں جواب دے گئیں مگر سزا مزید بڑھ جانے کے خوف سے انہوں نے سزا پر عمل درآمد جاری رکھا اب تو ٹانگوں کے ساتھ ساتھ باقی ماندہ جسم بھی احتجاج پر اتر آیا تھا، مزید وہ اپنے جسم ناتواں کو مجبور کرتے تو شاید زمین بوس ہی ہوجاتے کہ پرنسپل صاحبہ کو بھائی جان کی حالت پر رحم آہی گیا، انہوں نے باقی ماندہ سزا معاف کرنے کی نوید سناتے ہوئے ایک لمبا چوڑا لیکچر بھی دے ڈالا جس میں رات کو جلدی سونے اور اسکول میں نہ سونے کے فوائد پر روشنی ڈالی گئی تھی، بھائی جان کی نیند تو کب کی رخصت ہوچکی تھی اور ان کے چودہ طبق بھی روشنے ہوچکے تھے اس لیے میڈیم کی پوری تقریر حرف بہ حرف انہیں ازبر ہوچکی تھی۔
اس دن اسکول میں ہونے والی عزت افزائی نے انہیں دن میں تاروں کے ساتھ چاند کا بھی دیدار کروادیا۔زیادہ اور بے وقت سونے کی عادت میں اب بھی موجود ہے مگر بس اب اسکول میں نہیں سوتے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close