Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

انصاف

 
  بنت عبدالجبار  
 
وہ ایک انصاف پسند بادشاہ تھا انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا گویا اس کی فطرت میں شامل تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی رعایا اس سے بہت خوش تھی اور ملک میں چہار سو امن ہی امن تھا۔
مجرم جرم کرنے سے پہلے سوبار ضرور سوچتا اور ہر دفعہ میں مایوس ہوتا اور لوگ اپنی جان اور مال کی حفاظت سے مطمئن تھے ہر روز بادشاہ کے دربار میں حاجت مند آتے اور بادشاہ ان سب کی ضروریات کو پورا کرتے۔
اور لوگ بادشاہ کی سخاوت اور فیاضی کے باعث خوشی خوشی لوٹتے اور بادشاہ کے چہرے پر پھیلا اطمینان مزید بڑھ جاتا۔
بادشاہ کا ایک ہی بیٹا تھا، شہزادہ شہروز۔
بادشاہ سلامت اس سے بہت محبت کرتے تھے اور اس کو ہر وقت رعایا کے ساتھ انصاف کی تلقین کرتے۔
لیکن شہزادہ شہروز اس کے برعکس تھے ان کو اپنے والد کا اس طرح نصیحت کرنا بہت ناگوار گزرتا، آج خلاف معمول شہزادہ شہروز بادشاہسلامت کے دربار میں بیٹھے تھے کہ ایک درباری بادشاہ سلامت کے پاس آیا اور آداب بجالانے کے بعد بولا۔
بادشاہ سلامت کوئی حاجت مند آپ سے ملنے آیا ہے۔ بادشاہ نے اسے اندر لانے کا حکم دیا، جیسے ہی وہ شخص اندر داخل ہوا بادشاہ سلامت کے قدموں میں گرگیا اور زارو قطار روتے ہوئے کہنے لگا۔
بادشاہ سلامات انصاف، انصاف مجھے انصاف چاہیے، پورے دربار میں سکوت طاری ہوگیا۔
بادشاہ نے اٹھ کر اس کو اپنے قدموں سے اٹھایا اور کہنے لگے، برخوردار، ٹھہر تم ہمیں اپنے ساتھ کی گئی زیادتی بتاﺅ ہر مجرم کو اس کے جرم کا بدلہ ضرور دیں گے۔
وہ شخص روتے ہوئے کہنے لگا۔
بادشاہ سلامت، میں ایک غریب اور کمزدور آدمی ہوں اللہ کی ذات کے علاوہ میرا کوئی سہارا نہیں سوائے اپنے ایک جوان بیٹے کے جو میری بہت خدمت کرتا تھا، مگر، یہ کہہ کر اس کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
مگر کیا؟۔ بادشاہ نے بے چین ہو کر پہلو بدلا، پورے دربار میں پہلے تو سکوت طاری تھا مگر اب تو جیسے سب پر سکتہ ہی طاری ہوگیا تھا۔
مگر بادشاہ سلامت، کل میں اور میرا بیٹا جنگل کی طرف گئے میرا بیٹا تو وہاں بیٹھ کر لکڑیاں کاٹنے لگا اور میں آس پاس کے درختوں میں سے جڑی بوٹیاں تلاش کرنے لگا۔ یہ کہہ کر بوڑھا خاموش ہوگیا۔
پھر، بادشاہ سلامت کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوتا جارہا تھا۔
پھر مجھے ایک گولی چلنے کی آوا زسنائی دی میں دوڑ کر اپنے بیٹے کے پاس پہنچا مگر، مگر یہ دیکھ کر میرا پورا بدن لرز کر رہ گیا کہ مجھ سے پہلے اس اندھی گولی کا نشانہ میرا بیٹا بن چکا تھا،جسم سے تیزی سے بہتا ہوا خوش اور خون آلود کپڑے۔
کیا۔ بادشاہ کی حیرت اور صدمے میں ملی جلی آواز آئی۔
بادشاہ سلامت، آپ کے دربار سے تو کوئی بغیر انصاف کے نہیں جاتا مجھے بھی انصاف چاہیے۔
ضرور تمہیں انصاف ملے گا مگر کیا تم مجھے اپنے بیٹے کے قاتل کا نام بتاسکتے ہو۔
بادشاہ سلامت نے اس بوڑھے سے سوال کیا۔
جی بادشاہ سلامت، میں نے اس سے اسی وقت اس قاتل کا نام پوچھا تھا۔
پورے دربارمیں سکون طاری تھا اور ہر کوئی قاتل کا نام سننے کے لیے بے چین تھا۔
بادشاہ سلامت، وہ قاتل آپ کا بیٹا شہزادہ شہروز ہے۔
کیا، بادشاہ کا چہرہ شدت غم و غصے سے سرخ ہوگیا۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔
جی بادشاہ سلامت وہ آپ کا ہی بیٹا تھا۔
شہزادہ شہروز کا رنگ بالکل زرد اور اس کا جسم سوکھے پتے کی طرح لرز رہا تھا۔
کچھ دیر بعد بادشاہ سلامت کی آواز دربار میں گونجی، تمہیں ضرور انصاف ملے گا اور ایسا انصاف ملے گا کہ پوری دنیا اس انصاف کو یاد کرے گی۔
بادشاہ سلامت نے خادم کو حکم دیا کہ وہ آج شام کو پورے ملک میںمنادی کرے کہ جس کو آج بادشاہ کا انصاف دیکھنا ہو وہ آج شام کو میدان میں جمع ہوجائے۔
لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں، کوئی کہتا، بادشاہ کا ایک ہی تو بیٹا ہے اور بادشاہ سلامت اس سے محبت بھی تو بہت کرتے ہیں۔
کوئی کہتا، اس بوڑھے کو بادشاہ کے پاس آنے کی کیا ضرور تھی پتا بھی ہے بادشاہ سلامت کتنے انصاف پسند ہیں ذرا سی بھی حق تلفی برداشت نہیں کرتے، اب اللہ ہی جانے وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں، اللہ کرے کچھ اچھا ہی فیصلہ کریں۔ غرض کوئی کچھ کہتا اور کوئی کچھ مگر ہوتا تو وہی جو انصاف کہتا ہے۔
شام ہوتے ہی پورا مجمع ایک میدان میں جمع ہوگیا، انسانی سروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ایسا لگتا تھا کہ یہاں صرف انسانی سر ہی سر ہوں۔
اتنے میں بادشاہ آگئے۔
سب کی سانسیں رکی ہوئی تھیں کہ نہ جانے کیا فیصلہ ہوگا کیوں کہ بادشاہ کی صرف ایک اولاد تھی صرف اور صرف ایک، اور ایک اولاد کے لیے اس طرح کا فیصلہ کرنا بہت دم خم کی بات تھی۔
اتنے میں بادشاہ سلامت کی آواز گونجی، جی تو میرے بزرگو، میرے نوجوانو اور میرے بچو!۔
السلام و علیکم۔
ہاں تو آج کا دن انصاف کا دن ہے، آپ سب سمجھ رہے ہوں گے کہ میرا ایک ہی بیٹا ہے تو میں اس کی لغزش کو معاف کردوںگا، نہیں نہیں ہرگز نہیں۔ میں تو اپنے بیٹے کی وہی سزا تجویز کروں گا جو انصاف کہے گا اور میں نے اس فیصلے کو کل تک موخر بھی اس لیے نہیں کیا کہ میری موت آئے تو میں اللہ تعالیٰ کو کیا منہ دکھاﺅں گا۔ سب لوگ بادشاہ کے اتنے بڑے حوصلے پر حیران تھے۔
جی تو میرے بزرگ، آپ اپنے بیٹے کے قاتل کی کیا سزا تجویز کرتے ہیں۔ بادشاہ نے بزرگ سے پوچھا۔
ماحول میں پہلے تو سکون طاری تھا مگر اب تو جیسے سب پر سکتہ طاری ہوگیا تھا لوگوں کی سانسیں تھم گئیں اور لوگ اپنی آتی جاتی سانسوں کی بخوبی آواز سن رہے تھے۔ شہزادہ شہروز سب کے سامنے شرمندہ سرجھکائے ہوئے کھڑے تھے۔
اسی عرصے میں اس بوڑھے کی آواز گونجی۔
بادشاہ سلامت، کیا آپ نے قرآن مجید کی وہ آیت نہیں پڑھی کہ اے ایمان والو، تم پر مقرر کیا گیا ہے قصاص (قتل) کے بدلے۔۔۔؟،
جی ضرور پڑھی ہے۔ بادشاہ نے کہا۔
تو پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ جو آپ فیصلہ کریں۔ بوڑھے شخص نے اپنا اختیار بادشاہ کو سونپ دیا۔
بادشاہ نے اپنے بیٹے کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا، شہزادہ شہروز آس بھری نگاہ سے اپنے باپ کو دیکھ رہے تھے۔
لیکن بادشاہ نے توجہ نہیں دی کیوں کہ وہ ان کی اولاد تھی اور وہ حکم خداوندی پر اپنی اولاد کو کیسے ترجیح دیتے؟۔
جی تو حاضرین! فیصلہ ہوچکا ہے، میں اپنے بیٹے کو سزائے موت کا فیصلہ سناتا ہوں کیوں کہ قتل کے بدلے قتل۔
نہیں نہیں نہیں۔ مجمع سے کئی آوازیں ابھریں، بادشاہ نے قدرے حیرت سے ان سب کی طرف دیکھا۔
بادشاہ سلامت آپ کا ایک ہی تو بیٹا ہے آپ اسے اس طرح فیصلہ مت سنائیں۔
نہیں، بادشاہ کی اطمینان بھری آواز آئی، میں اپنے بیٹے کی خاطر انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا، اگر آج میں نے اپنے بیٹے کو معاف کردیا تو کل قیامت کے دن اس نوجوان کا خون میرے سر پر ہوگا کیا اس وقت مجھے اللہ کے عتاب سے کوئی بچالے گا۔
سب کے سر جھک گئے۔
بوڑھا آگے بڑھا اور کہنے لگا۔ بادشاہ میں نے اس کو معاف کیا خدارا آپ بھی اس کو معاف کردیں۔
بادشاہ نے حیرت بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ جی بادشاہ سلامات مت دیجیے ان کو سزا معاف کردیجئے اس کو۔
مگر میری ایک شرط ہے، بادشاہ گویا ہوئے۔
وہ کیا بادشاہ سلامت۔ اس بوڑھے نے پوچھا۔
میرا یہ بیٹا آج سے تمہارا بیٹا بن کر رہے گا اور تمہاری خدمت کرے گا میں بھول جاﺅں گا کہ میرا بھی کوئی بیٹا تھا۔
بادشاہ کا انصاف ہوچکا تھا، بادشاہ نے انصاف کی خاطر اپنا اکلوتا لخت جگر بھی قربان کردیا۔
مگر کیوں قربان کیا۔
کیا آپ نے یہ پوری کہانی پڑھ کر سوچا۔ اس لیے کہ انصاف سے قومیں متحدہ رہتی ہیں۔
انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنے میں بڑی طاقت ہوتی ہے اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور گناہوں میں کمی آتی ہے۔
لیکن آج ہم نے سوچا کہ ہم پر کیوں مصائب آرہے ہیں، کیو مشکلات سر پر کھڑی ہیں، ہم پر آزمائشیں کیوں آرہی ہیں، سیلاب، زلزلوں، قحط سالی، بھوک، بے روزگاری، مہنگائی کی صورت میں، ان سب کو ختم صرف انصاف ہی کے ساتھ کیا جاسکتا ہے، اگر آپ سوچیں تو۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close