Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

کہا نہ ماننے کا انجام

 
  مصطفے مغل  
 
اف میرے خدا، اتنی گرمی اور اوپر سے ان بجلی والوں نے بجلی بھی لے رکھی ہے، حامد نے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔
یار رات کو تو نیند ہی نہیں آتی بجلی جاتی ہے، اور جناب مچھر صاحب کی زیادت ہوجاتی ہے، ویسے علامہ اقبال اور واپڈا کا ایک ہی مقصد ہے سوئی ہوئی قوم کو جگانا۔ علی کے اس جملے پر سب کو ہنسی آگئی، 4گھنٹے گزر چکے تھے مگر بجلی آنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی جیسے وہ ہم سے روٹھ گئی ہو، دھڑک کی آواز سے دروازہ کھلا۔
آﺅ حارث آﺅ، تمہاری ہی کمی تھی، علی نے اندر آتے ہوئے حارث سے کہا۔
ایک خوشخبری لایا ہوں۔ حارث نے چہکتے ہوئے انداز میں کہا۔
کہیں تمہارے گھر میں یو پی ایس یا جنریٹر تو نہیں آگیا، علی نے ہاتھ میں موجود پنکھے کو روکتے ہوئے کہا۔
حارث نے سنجیدہ لہجے میں کہا، نہیں یار آج تو ہم نہر پر جارہے ہیں وہ !بھی۔۔۔۔۔
کس کے ساتھ، کامران نے کہا۔
یار ہم اب بچے نہیں رہے ہیں جو اپنے بڑوں کی انگلی تھامے چلیں، اپنے آس پاس دیکھو اب ہم بڑے ہوگئے ہیں۔ حارث نے قابل دلیل دیتے ہوئے قابل وکیل کی طرح جواب دیا۔
ابھی ہم اتنے بڑے بھی نہیں ہوئے ہیں کہ ہم خود کو اپنے والدین سے بھی عقلمند اور بڑا سمجھیں۔ علی نے دونوں کے درمیان بولتے ہوئے کہا۔
میں جس کام کے لیے آیا تھا ہم ابھی جارہے ہیں ہمارے ساتھ چلنا چاہتے ہو تو چل سکتے ہو۔
میں چلوں گا۔ علی نے جواب دیا۔
میں نہیں جاﺅں گا، کامران نے کہا۔
اور کون کون جارہا ہے، تم میں اور میرے دوست، حارث نے بات کو کاٹتے ہوئے جواب دیا۔
تو پھر چلیں، ہاں تم تیاری کرلو، کامران جاتا تو کچھ اور مزہ تھا۔ علی نے کہا۔
ارے یار اگر وہ نہیں جانا چاہتا تو نہ سہی اس کو منت سماجت کرانے کی عادت ہے، اتنی منت سماجت اچھی نہیں ہوتی، حارث نے نہر کے قریب رکتے ہوئے جواب دیا۔
چلو یار، سب باتیں چھوڑو، آﺅ پل پر سے چھلانگ لگاتے ہیںِ بہت مزہ آئے گا۔
نہیں یار، پانی بہت زیاد ہے رہنے دو کم پانی والی جگہ پر نہاتے ہیں۔
تو تو ڈرپوک نکلا ہے دیکھ میں تجھے قلابازی لگا کر دکھاتا ہوں۔
حارث ہم یہاں پر کرتب دکھانے نہیں آئے ہیں۔ رہنے دو حارث ہمیں تو ڈر لگ رہا ہے، حارث کے ساتھ آئے ہوئے حامد نے ڈرتے ہوئے انداز میں کہا۔
تم تو سارے ڈرپوک نکلے۔ دوستوں کے کہنے کے باوجود حارث نہ رکا چھلانگ مارتے ہوئے حارث کا پاﺅں پھسلا اور وہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور بے قاعدہ پاﺅں مارنے لگا اور ڈبکیاں کھانے لگا، علی کی نظر حارث پر پڑی تو علی بھاگتے ہوئے ایک آدمی کو بلالایا۔ آخر کار بڑی مشکل سے ایک آدمی نے حارث کو باہر نکالا۔ ہسپتال میں حارث کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے دوستوں اور والدین کو اپنے پاس پایا تو اس کے اٹھتے ہی سب نے خدا کا شکر ادا کیا۔
اگر تم نے نہانا جانا تھا تو اپنے بڑے بھائی کو ساتھ لے جاتے۔ تم بغیر بتائے ہی چلے گئے۔ تمہیں آزادی دی گئی ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم کہیں بھی جاﺅ۔ اس کے ابو نے پیار بھرے انداز میں کہا۔ آہستہ آہستہ اس کو اپنے دوستوں کی اور اپنے والدین کی نصیحتوں کا خیال آرہا تھا اور وہ رو رہا تھا حالاں کہ اس کی آنکھ میں ایک قطرہ بھی آنسو نہ تھا کیوں کہ یہ خون کے آنسو تھے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close