Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

میاں وہمی بنے دکاندار

 
  محمد توصیف ملک  
 
بچو ایک دن میاں وہمی نے اپنی کثیر رقم ٹھکانے لگانے کا منصوبہ بنایا۔ انہیں یہ خیال سوجھا کہ شہر میں ایک اچھا خاصا جنرل اسٹور بنایا جائے۔ انہوں نے شہر کے ایک بڑے چوک پر دکان کرائے پر حاصل کی اور سامان خریدنے مارکیٹ کا رخ کیا۔ میاں وہمی نے ہر چیز وافر مقدار میں خرید لی۔ اب کیا تھا؟ دکان کی جگہ کم پڑ گئی اور انہیں ایک اور دکان کرائے پر خریدنا پڑی لیکن یہ دکان پہلی دکان سے کچھ فاصلے پر تھی۔ میاں وہمی صبح سویرے ہی دونوں دکانیں کھول لیتے۔
بچو آپ کو پتا ہی ہے کہ ایک آدمی کے لیے بیک وقت دو دکانوں پر کام چلانا کتنا مشکل کام ہے لیکن میاں وہمی اس وہم کا شکار تھے کہ اگر کسی اور بندے کو تنخواہ پر رکھ بھی لیا جائے تو اس کا کیا اعتبار، ایک دن ایک گاہک ٹوتھ پیسٹ اور بجلی کا بلب خریدنے میاں وہمی کی دکان پر آیا۔ میاں وہمی نے اسے ٹوتھ پیسٹ تو دے دیا لیکن بلب دوسری دکان پر پڑا تھا۔ اب میاں وہمی گاہک کو اپنے ساتھ لے کر دوسری دکان پر چل دیے اور پہلی دکان کھلی ہی چھوڑ گئے۔ گاہک کو فارغ کرکے میاں وہمی سامان کو ترتیب دینے لگ گئے۔ وہ کوئی آدھے گھنٹے کے بعد پہلی دکان پر واپس آئے تو یہ دیکھ کر سخت پریشان ہوگئے کہ وہاں کسی چیز کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ دراصل کچھ شرپسندوں نے دن دیہاڑے ہی میاں وہمی کی دکان کو لوٹ لیا تھا۔ میاں وہمی یہ سمجھے کہ شاید وہ بھولے سے کسی اور دکان پر آگئے ہیں کیوں کہ ان کی دکان کافی بھری ہوئی تھی۔ اب لگے میاں وہمی شہر بھر میں اپنی دکان تلاش کرنے۔ کبھی ایک دکان تو کبھی دوسری دکان، کبھی کسی سے پوچھتے کبھی کسی سے۔ بالآخر ایک جنرل اسٹور میں داخل ہوئے اور اس کے مالک سے جھگڑنے لگے کہ یہ تو میری دکان ہے۔ دیکھو یہ ٹوتھ پیسٹ، یہ کریمیں، یہ جرابیں یہ بچوں کے سوٹ یہ سب میں نے خریدے ہیں۔ لوگوں نے میاں وہمی کوبہت سمجھایا کہ ایسا سامان کسی اور کے پاس بھی ہوسکتا ہے لیکن وہ اپنے وہم پر جمے رہے اور جھگڑا کرتے کرتے شام ہوگئی۔ کچھ دکانداروں نے آکر میاں وہمی کوبڑے اچھے طریقے سے سمجھایا تو ان کی عقل میں بات آگئی۔ اب وہ دوسری دکان پر پہنچے تو وہاں بھی یہی حال تھا۔ اب لگے وہ سٹپٹانے لیکن اب کیا کیا جاسکتا تھا۔
بچو، میاں وہمی نے ہمت نہیں ہاری اور دوبارہ سامان خریدا لیکن تھورا سا، اب انہوں نے ایک ہی دکان پر اکتفا کرنے کا سوچا۔ میاں وہمی اب خوش تھے کہ چلو دو دکانوں کے بکھیڑے سے تو جان چھوٹی لیکن ان کی اپنے وہم سے جان نہ چھوٹ سکی جب بھی کوئی گاہک آتا تو وہ بار بار دی ہوئی رقم گنتے جس سے گاہک کا کافی وقت ضائع ہوتا۔ ایک دن میاں وہمی کو شک پڑا کہ گاہک کا دیا ہوا نوٹ جعلی ہے، اب وہ نوٹ ہاتھ میں لیے مختلف دکانوں پر گئے کبھی کسی کودکھاتے تو کبھی کسی کو۔ کبھی کہتے کہ دیکھو یہ نوٹ جعلی ہے کیوں کہ اس میں قائد اعظم کی تصویر واضح نہیں ہے۔ اس تصویر میں جناح کیپ ٹیڑھی نظر آرہی ہے۔ اس میں کوٹ کا رنگ ذرا مدہم سا ہے۔ اس نوٹ کا کاغذ بوسیدہ ہوچکا ہے۔ گاہک میاں وہمی کی ان حرکتوں سے تنگ آگئے اور انہوں نے دوسری دکانوں کا رخ کرنا شروع کردیا۔ میاں وہمی اب سارا سارا دن اپنی دکان پرمکھیاں مارتے رہتے۔ اگر کوئی اکا دکا گاہک بھولے سے آجاتا تو وہ آئندہ کے لیے ان کے پاس آنے سے توبہ کرلیتا۔
میاں وہمی نے اپنی دکان چلانے کا یہ منصوبہ سوچا کہ گاہکوں کو لمبے ادھار پر چیزیں فروخت کردی جائیں۔ اب میاں وہمی کی دکان پر سخت بھیڑ رہنے لگی اور وہ خوشی سے پھولے نہ سماتے کہ ان کی دکان کافی چل رہی ہے۔ وہ یہ سوچ کر بہت محظوظ ہوتے کہ اب تو شام تک گاہکوں کا رش ہی ختم نہیں ہوتا لیکن گاہک تو میاں وہمی کو ایک نہایت ہی وہمی قسم کا انسان سمجھتے ہوئے دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔ کم و بیش دو ہفتوں میں ہی ان کی دکان ختم ہوگئی اور اب ان کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ وہ مزید سامان خریدسکیں۔ انہوں نے دکان کو تالا لگایا اور گاہکوں کے گھر جا کر رقم کا مطالبہ کرنے لگے لیکن کوئی کہتا میاں صاحب آپ نے تو ایک ماہ کے ادھار پر چیزیں دی ہیں کوئی کہتا کہ دو ماہ کے ادھار پر چیزیں دی ہیں۔ ان کا کوئی بس نہ چل رہا تھا۔ آخر انہیں یہ یاد آیا کہ ایک گاہک نے ان سے اکٹھا دس ہزار کا سامان خریدا ہے اور کل رقم کی ادائیگی کا وعدہ کیا تھا۔ میاں وہمی دفعتہ اس کے گھر پہنچ گئے اور اسے اس کا وعدہ یاد دلایا لیکن گاہک نے یہ کہتے ہوئے پیسے دینے سے انکار کردیا کہ میاں وہمی صاحب میں نے کل کا وعدہ کیا تھا لیکن کل تو کل ہی نا۔ میاں وہمی نے فوراً اس سے معذرت کرتے ہوئے کہا۔ ہاں بھئی کل تو کل ہی ہے میں کل ہی آجاﺅں گا۔
میاں وہمی یہاں بھی اپنے وہم کا شکار ہوگئے اور یہ بھول گئے کہ کل تو کبھی نہ آئے گا۔ وہ جب بھی گاہک کے پاس جاتے تو وہ بھی یہی کہتا کہ میں نے تو کل کا وعدہ کیا ہے آپ آج ہی آگئے۔ میاں وہمی اس سے معذرت کرتے اور کل آنے کا کہہ کر واپس آجاتے۔ میاں وہمی نے اسی کل کی تلاش میں کوئی دو ماہ گزار دیے وہ روزانہ اپنے پرانے گاہک کے پاس جاتے اور ناکام ہی واپس لوٹ آتے۔
میاں وہمی اب اس وہم کا شکار ہوگئے کہ اگر ایک گاہک کا کل ابھی تک نہیں آرہا تو باقی گاہکوں کے دو دو ماہ کب تک آئیں گے۔ وہ یہ بات سوچ کر بے فکر ہو کر گھر بیٹھ گئے کہ جب کل آئے گا تو پیسے بھی مل جائیں گے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close