Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

دوست کی پہچان

 
  پروفیسر محمد ظریف  
 
امی تو مجھے اس بات کی نصیحت کرتی ہی رہتی ہیں کہ میں احمر سے دوستی نہ رکھوں، مگر ابو نے تو حد ہی کردی۔ اب تک تو وہ مجھے کبھی ہلکی سی ڈانٹ پلادیتے تھے، مگر آج تو انہوں نے بڑا ظلم کیا۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ میں احمر کے ساتھ ڈبو کھیل رہا تھا تو انہوں نے وہیں پہنچ کر سب کے سامنے مجھے تھپڑ رسید کیا۔ میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور گھیسٹتے ہوئے گھر تک لے آئے، لو بھلا یہ کیا بات ہوئی، پتا نہیں انہیں کیا ہوگیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا خیال بھی نہیں کیا کہ میرے دوستوں کی موجودگی میں میری کتنی بے عزتی ہوئی تھی اور وہ، جعفر اور رافع میری حالات دیکھ کر کیسے بری طرح ہنس رہے تھے، اب میں کوئی بچہ نہیں رہا۔ میٹرک میں پڑھنے والا سولہ برس کا جوان لڑکا ہوں اور پھر ڈبو کھیلنے میں برائی کیا ہے۔ کبھی کبھی دس بیس روپے کی شرط لگتی یا ہار جیت ہوتی ہے تو وہ بھی اس کھیل کا ایک حصہ ہی ہے۔ مگر میرے شریف ماں باپ مجھے تو وہ جینے ہی نہیں دیتے، احمر اگار برا ہے تو کیا ہو، وہ جانے اور اس کا کام، کیا ابو نے یہ بات نہیں سنی کہ دوست کی دوستی سے غرض ہے اس کے فعال سے کیا تعلق؟ اگر احمر برا لڑکا ہے بھی، تو کم از کم میں تو نہیں ہوں، کمال اوندھے منہ اپنے بستر پر لیٹا ہوا دل ہی دل میں یہ سب کچھ سوچ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کا دل بڑا بے چین سا تھا۔ کبھی وہ بڑبڑاتا تو کبھی من ہی من میں پیچ و تاب کھانے لگتا۔ اس کے خیال میں آج اس کے والد جمال صاحب نے سرعام اس کی بے عزتی کردی تھی اور وہ یہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ اپنے دوستوں کو کیا منہ دکھائے گا۔
کمال کا تعلق متوسط گھرانے سے تھا۔ اس کے والد جمال صاحب شہر کی ایک بڑی مارکیٹ میں بچوں کے سلے سلائے کپڑوں کا کاروبار کرتے تھے، مگر ان کی دکان داری محدود پیمانے پر تھی۔ کمال ان کی سب سے بڑی اولاد تھا۔ اس کے بعد چودہ سالہ جلال اور بھر دو بہنیں فاطمہ اور مریم تھیں۔ کمال صاحب پڑھے لکھے دکاندار تھے۔ کاروبار میں دیانت ان کا اصول تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ کمال لکھ پڑھ کر ڈاکٹر یا انجینئر بنے، کیوں کہ ہمارے پیارے ملک کو ایسے لوگوں کی بڑی ضرورت ہے، مگر بدقسمتی سے کمال کی دوستی پہلے احمر جیسے لڑکے سے ہوئی، جو عمر میں اس سے کوئی دو برس بڑا تھا اور پھر اس کے توسط سے جعفر اور رافع جیسے لڑکے بھی اس کے دوست بن گئے، علاقے میں احمر کی اچھی شہرت نہ تھی، اس کے والد طاہر علی اپنے نام کے بالکل الٹ تھے، طاہر پاکیزہ یا پاک کو کہتے ہیں مگر طاہر علی بڑا گھناﺅنا کام کیا کرتا تھا، نوجوان نسل کی رگوں میں زہر اور موت اتارنے کا کام، وہ نشہ آور چیزیں فروخت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ قانون کے شکنجے میں جکڑا گیا، اور اب دس برس کی جیل کاٹ رہا تھا، اس کے جیل جاتے ہی اس کا بیٹا احمر بالکل آزاد ہوگیا، گھر میں ناجائز دولت موجود تھے، جسے وہ دونوں ہاتھوں سے لٹا رہا تھا، یوں تو باپ کی موجودگی میں ہی اس کے لچھن درست نہ تھے اور کیوں ہوتے، وہ اپنے والد کے نقش قدم پر ہی تو چل رہا تھا۔
کمال اچھا طالب علم تھا اور توقع تھی کہ وہ بورڈ کے امتحانات میں کوئی نہ کوئی پوزیشن ضرور حاصل کرے گا۔ مگر احمر کی دوستی کی وجہ سے اس کی تعلیمی کارکردگی بھی متاثر ہورہی تھی اور وہ ششمائی امتحانات میں دو مضامین میں بہت کم نمبر لے کر کامیاب ہوا تھا۔ دیگر مضامین میں بھی اس کے نمبر 60 فیصد بھی نہ تھے، احمر نے اسے ڈبو جیسے فضول اور وقت ضائع کرنے والے کھیل کا عادی بنادیا تھا۔ وہ شرطیں لگا کر یہ کھیل کھیلا کرتا۔ ابتداءمیں وہ جان بوجھ کر ہارتا رہا، تاکہ احمر شرط کی رقم حاصل کرکے خوش ہوجائے، مگر پھر اس نے جیتنا شروع کیا تو کمال کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوگئیں، اس کا سار جیب خرچ شرطیں ہارنے میں صرف ہونے لگا، اور جب اس سے بھی کام نہ چلا تو وہ مختلف بہانوں سے اپنی ماں سے پیسے مانگتا اور ڈوب کے ڈبے میں پھینک دیتا۔ جب اس کی ماں کو اس بات کا پاتا چلا تو وہ اس پر بہت ناراض ہوئیں۔ کمال صاحب نے بھی اسے کئی بار ڈانٹا، مگر وہ باز نہ آیا اور آخر ایک دن وہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
کمال روانہ شام کو پانچ بجے کے قریب ٹیوشن پڑھنے کے لیے اکیڈمی جانے کی بجائے اسی ڈبو کلب میں چلا جاتا اور وہ گھنٹہ کا وقت وہیں گزار دیتا۔ جمال صاحب تقریباً نو بجے شب کو گھر واپس آیا کرتے تھے۔ انہیں اس بات کی خبر بھی ہوتی کہ کمال اکیڈمی جات اہے یا نہیں، مگر ایک روز ان کی طبیعت ناساز ہوگئی تو انہوں نے سرشام ہی دکان بند کردی اور گھر واپس آنے لگے، چوں کہگھر سے ان کی دکان کا فیصلہ ایک ڈیڑھ کلو میٹر ہی تھا اس لیے وہ عموماً پیدال ہی دکان پر جاتے اور پیدل ہی گھر واپس آتے۔ کمال کا ڈبو کلب ان کے راستے میں پڑتا تھا۔ انہوں نے جب کمال کو وہاں ڈبو کھیلتے ہوئے دیکھا تو غصے میں آگ بگولا ہو کر اس کے ایک زور دار طمانچہ رسید کیا، اور اس کا ہاتھ پکڑ کر تقریباً گھسیٹے ہوئے گھر لے آئے۔
نو بجے شب گھر کے تمام لوگ ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر رات کا کھانا کھاتے تھے، اب نو بج رہے تھے، کمال کی امی دسترخوان پر کھانا چن رہی تھیں، مگر کمال کھانے پر نہیں پہنچ اتھا۔
جمال صاحب عشاءکی نماز ادا کرکے واپس آئے تو وہاں کمال کو موجود نہ پا کر حیرت زدہ رہ گئے، انہوں نے اپنی بیگم سے اس کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے دکھ بھرے لہجے میں انہیں بتایا کہ کمال اپنے بستر پر لیٹا ہوا ہے۔ وہ تیر کی طرح سیدھے کمال کے کمرے میں پہنچے اور اسے وہاں اوندھے منہ پڑا دیکھ کر ذرا ٹھٹکے اور پھر آگے بڑھ کر بڑی شفقت کے ساتھ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے۔
کمال بیٹا اٹھو، کھانے پر تمہارا انتظار ہورہا ہے۔
اور پھر جیسے ہی باپ کی پیار بھری انگلیوں کا لمس محسوس کرکے کمال نے اپنے چہرہ ان کی طرف موڑا تو جمال صاحب اس کی آننسو بھری آنکھیں دیکھ کر آزردہ ہوگئے، ادھر جمال بڑی آہستگی کے ساتھ کہہ رہا تھا۔
مجھے بھوک نہیں ہے ابو، آپ جا کر کھانا کھالیں۔
ارے بھئی تمہیں بھوک کیوں نہیں، آج تو تمہیں دوہری بھوک لگنی چاہیے، آج تم نے میرا ایک تھپڑ تو کھایا ہے ناں۔ انہوں نے اس کے پیٹ میں گدگدی کرتے ہوئے کہا۔ مگر کمال نے آہستگی کے ساتھ ان کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔ ابو مجھے واقعی بھوک نہیں ہے، آپ دسترخوان پر جائیں۔ سب لوگ آپ کے منتظر ہوں گے۔ بیٹے کو یوں آب دیدہ دیکھ کر کمال صاحب کا دل کٹ گیا۔ وہ اسے بستر سے اٹھا کر اپنے گلے سے لگاتے ہوئے بولے۔
اوہو اب سمجھا ہمارا بیٹا ناراض ہے ہم ہے، چلو چلو اٹھو سیدھے چلو دسترخوان پر، پھر ہوں گے صلح صفائی کی باتیں۔
وہ مزاحیہ انداز میں کہہ رہے تھے، انہیں اس طرح بات کرتے دیکھ کر کمال بڑی آہستگی کے ساتھ بستر سے اترا اور بوجھل قدموں کے ساتھ برآمدے کی طرف چل دیا۔ جہاں چوڑا چکلا دسترخوان پختہ فرش پر بچھا ہوا تھا، اس گھر میں اللہ کا دیا ہوا سب کچھ موجود تھے، مگر کھانا ہمیشہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کھایا جاتا تھا یعنی نیچے زمین پر دسترخوان بچھا کر، سکون سے بیٹھ کر۔
کمال کو دیکھ کر اس کی امی، بھائی جلال اور بہنوں کے چہرے کھل اٹھے، کمال نے جیسے ہی کھانا کھانا شروع کیا تو وہ بھی لمبے ہمبے ہاتھ مارنے لگے، کھانے کے بعد سبب لوگ قہوہ پینے کے لیے بیٹھک میں جمع ہوگئے، اب جمال صاحب نے کمال سے کہا۔
اچھا بیٹا، اب مجھے ذرا سوچ کر بتاﺅ کہ میں نے تمہیں تھپڑ کیوں مارا تھا اور تمہیں گھسیٹ کر اپنے ساتھ کیوں لایا تھا۔
ابو آپ میرے والد ہیں، آپ کی مرضی، میں کیا بتاسکتا ہوں۔ اس نے آہستگی کے ساتھ جواب دیا۔ نہیں بیٹا نہیں.... تم سب کچھ جانتے ہو تم ننھے بچے نہیں ہو۔ ماشاءاللہ سولہ برس کے جوان ہو، تم خود سوچو، پہلے تو تم نے احمر جیسے لڑکے کے ساتھ دوستی کی، جو عمر میں تم سے بڑا ہے، پھر تم نے اس کے ساتھ ڈبو کھیلنا شروع کیا، آہستہ آہستہ شرطیں لگا کر کھیلنے لگے، یہ بھی جوئے کی ایک قسم ہے جو ہمارے دین کے مطابق بالکل حرام ہے، احمر ایک بدنام اور سزا یافتہ شخص کا بیٹا ہے، جو خود بھی بری عادتوں میں مبتلا ہے تم لاکھ اچھے سہی، مگر تم اس کی صحبت میں بیٹھ کر برے نہ بنتے تو بدنام ہوجاﺅگے۔ یہ کہہ کر وہ سانس لینے کے لیے تھوڑی دیر رکے اور پھر سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے بولے۔ بیٹے یاد رکھو.... ہر شخص اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، ابھی وہ آگے کچھ اور کہتے کہ اکمل ان کی بات کاٹ کر بولا۔
ابو جہاں تک دین کا تلعق ہے تو احمر کا اور میرا دین تو ایک ہے۔ وہ بھی مسلمان ہے اور میں بھی اللہ کے فضل و کرم سے مسلمان ہوں۔
کمال کی یہ بات سن کر جمال صاحب ہنس پرے اور پھر بولے۔
بیٹے دین صرف مذہب ہی نہیں بلکہ ضابطہ حیات بھی ہے، یعنی زندگی گزارنے کا طریقہ اس میں عبادت، اخلاق اور کردار، روایت اور ثقافت وغیرہ سب کچھ شامل ہے، اس حوالے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سن کر سمجھ لو۔
جی ابو بتائیے۔ کمال نے بے چینی کے ساتھ دریافت کیا۔
بیٹے کمال صاحب نے ایک گہرا سانس لیا اور پھر گویا ہوئے۔
ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دوستی کے حوالے سے فرمایا ہے۔
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، تو تم میں سے ہر ایک یہ دیکھ لیا کرے کہ وہ کس سے دوستی کررہا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ دوستی کرتے ہوئے اس شخص کا اخلاق و کردار ضرور دیکھ لینا چاہیے۔ جس کے ساتھ دوستی کی جارہی ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ ہمیشہ اس شخص کے ساتھ دوستی کرو، جو اعلیٰ اخلاق و کردار کا حامل ہو، کیا تم نے احمد فراز کا یہ مشہور شعر نہیں سنا۔
تم تکلف کو بھی اخلاصس سمجھتے ہو فراز
دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا
جی ابو میں نے یہ شعر سن رکھا ہے، کمال نے سر جھکا کر جواب دیا۔
شاباش! اب تم میری بات کا مطلب سمجھ گئے ہو، یاد رکھو دوستی کی مثال خوشبو اور بدبو جیسے ہے، اگر آدمی کسی گندی جگہ پر بیٹھے گا تو غلاظت اس کے لباس کے ساتھ لگ کر بدبو کا سبب بن سکتی ہے اور اگر خوشبو اور پھولولں کے درمیان ہوگا تو اس کی خوشبو اور اس کے ملبوس کے ساتھ اس کے دل ودماغ کو بھی معطر کردے گی۔
سمجھے کچھ نالائق.... وہ اس کا کان کھینچ کر بڑے پیارے سے بولے۔
جی ابو جان میں اس حدیث شریف کا مطلب اور آپ کی نصیحت خوب سمجھ گیا۔ اب ان شاءاللہ میں احمر کے ساتھ دوستی بالکل ختم کردوں گا۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے، پکا وعدہ۔ کمال بڑے عزم کے ساتھ کہہ رہا تھا۔ا
بہت خوب.... تم تو بڑے پیارے بچے ہو۔ یہ کہہ کر جمال صاحب نے کمال کو اپنے گلے لگالیا۔
مگر ابو ایک بات ہے۔ کمال نے شرارت کے ساتھ اپنی گول گول آنکھیں گھماتے ہوئے کہا۔
وہ کیا، جمال صاحب نے دریافت کیا۔
وہ یہ کہ احمر کے ساتھ دوستی نہیں کروں گا مگر وہ تو مجھ سے دوستی کرسکتا ہے ناں، میں تو گندا بچہ نہیں ہوں۔ کمال چہکتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
کمال کے اس جملے سے سنجیدہ فضا کو پردہ چاک ہوا اور کمرے میں قہقہے گونجنے لگے جب کہ جمال صاحب اس کے گال پر بڑے پیار کے ساتھ ایک ہلکا سا طمانچہ مار کر کہہ رہے تھے۔
چپ شریر کہیں کا، باز نہیں آئے گا اپنی حرکتوں سے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close