Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ہوکا عالم

 
  حبیب احمد حنفی  
 
رات کے ساڑھے دس بج رہے تھے ہوکا عالم تھا ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دیتا تھا مگر وہ ان دیکھے راستوں پر سر پٹ دوڑا چلا جارہا تھا اس کا دل ایسے دھڑک رہا تھا گویا کہ ابھی نکل کر باہر گر پڑے گا مگر وہ بھاگا چلا جارہا تھا، اک انجانا سا خوف اسے گھیرے میں لے چکا تھا کہ جیسے کوئی اس کے پیچھے لگا ہوا ہے اور یہی خوف تھا کہ جس نے اسے راستے سے بھی بھٹکادیا تھا بھاگتے بھاگتے اچانک وہ ٹھوکر کھا گیا اور منہ کے بل گر پڑا،عجیب سا ذائقہ منہ میںمحسوس ہوا اس نے منہ پر ہاتھ پھیرا تو خون سے ہاتھ بھی چپچپارہا تھا اس نے آنکھیں پھاڑ کر غور سے دیکھا کہ وہ کس چیز سے ٹکرایا تھا مگر اندھیرے میں کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا اس نے ہاتھ سے ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ وہ تو کسی قبر کا کتبہ ہے یعنی اس کا مطلب ہے کہ وہ کسی قبرستان میں پھنس چکا ہے اتنا سونا تھا کہ اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہوگئے ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے اسے کچھ سرسراہٹ سی محسوس ہوئی اس نے پلٹ کر دیکھا تو ایک کالا ہیولا اسے نظر آیا اس کا شک یقین میں بدل چکا تھا وہ اٹھا اور دوبارہ دوڑ پڑا جیسے ایک بجلی سی بھر گئی ہو، اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا پھر وہ تھک ہار کر گر پڑا اور بے اختیار اس کی سسکیاں نکل گئیں اور آنسو بہ گئے۔
وہ اپنے دوست کے پاس کمبائنڈ اسٹڈی کرنے گیا تھا۔ کیوں کہ نویں کے امتحان نزدیک تھے۔ وہ وقت کا اندازہ بھی نہ کرسکا اور دس بج گئے اس نے دوست سے اجازت چاہی اور باہر نکل گیا یہ علاقہ سنسان تھا اور آبادی بھی بہت کم تھی لوگ نو بجے کے بعد گھروں میں بند ہوجاتے تھے پہلے تو وہ بہت ڈرا مگر اللہ کا نام لے کر چل پڑا وہ بار بار پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ رہا تھا اس کو ایسا لگتا جیسے کوئی اس کے پیچھے لگا ہوا ہے مگر جب وہ مڑ کر دیکھتا تو کوئی نظر نہ آتا وہ اس کو وہم ہی سمجھا مگر جب قدموں کی ہلکی سی چاپ اور سانس لینے کی آواز بھی سنائی دینے لگی تو وہ ڈر کے مارے دوڑ پڑا پندرہ منٹ مسلسل دوڑنے کے بعد وہ راستہ بھول کر قبرستان میں پھنس چکا تھا۔
وہ مسلسل رو رہا تھا وہ زندگی میں کبھی اتنا نہیں بھاگا تھا وہ نڈھال ہوچکا تھا اس کی کتابیں بھی شاید کہیں بھاگتے میں گر گئی تھیں۔ وہ اس وقت کوکوسنے لگا جب اس نے دوست کے ساتھ مل کر پڑھنے کا پروگرام بنایا تھا نہ وہ پروگرام بناتا اور نہ آج اس طرح پھنستا وہ ابھی اپ نے آپ کو کوس ہی رہا تھا کہ اس کو محسوس ہوا کہ جیسے کوئی چیز اس کے پاﺅں پر چل رہی ہے اب اس کی آنکھیں اندھیرے سے مانوس ہوچکی تھیں، اس نے غور سے دیکھا تو اس کی چیخ نکل گئی وہ کافی لمبا کالا سانپ تھا اس نے ایک جھٹکے سے ہاتھ مار کر سانپ کو دور پھینکا اور دوبارہ دوڑ پڑا اب تو اس کا بھاگنا بھی مشکل ہورہا تھا کیوں کہ جگہ جگہ قبریں تھیں اور بڑے بڑے کتبے لگے تھے جن سے ٹکرانا گویا ٹانگ تڑوانے کے مترادف تھا اس چکر میں اب وہ رونا دھونا بھی بھول چکا تھا، اچانک بجلی چمکی اور ایک ساعت کے لیے روشنی سی پھیل گئی، اس نے دیکھا کہ تاحد نگاہ قبریں ہی قبریں ہیں۔ پھر بارش بھی شروع ہوگئی وہ بہت بری طرح کانپ رہا تھا اور ساتھ ساتھ ہانپ بھی رہا تھا مگر بھاگا چلا جارہاتھا اس کو عجیب عجیب آوازیںسنائی دے رہی تھیں جیسے کوئی بدروح اس کو پکار رہی ہو اس کے حواس اس کا ساتھ چھوڑتے جارہے تھے کہ اچانک اس کا پاﺅں کیچڑ میں پڑا اور وہ دور تک پھسلتا چلا گیا اور گڑھے میںجاگرا اچانک دوبارہ بجلی چمکی تو اس نے دیکھا کہ وہ جس گڑھے میں گرا ہے اس میں تو ہڈیاں ہی ہڈیاں پڑی ہیں گویا وہ کسی قبرمیں گر گیا ہے، یہ سوچنا تھا کہ اسکا ذہن ماﺅف ہوگیا اور سر ایک طرف ڈھلک گیا پھر پھر پھر....
نبیل کی سمجھ میںنہیں آرہا تھا کہ وہ آگے کیا لکھے، اس نے کہانی کو خطرناک موڑ پر پہنچادیا تھا مگر اس کا ذہن کام نہیں کررہا تھا کہ وہ آگے کیا لکھے، وہ جھنجھلا گیا وہ کہانیاں لکھنا جانتا تھا مگر ڈراﺅنی اور خوفناک اور وہ سب کچھ جس سے عام قارئین محظوظ ہوں اور اس نے اس میں شہرت بھی حاصل کرلی تھی مگر وہ مزید شہرت کا خواہشمند تھا جب وہ سوچتے سوچتے تھک گیا تو اس نے قلم پٹخ دیا اور سستانے لگا اچانک اس کے ذہن میں آپی کا خیال آیا جو ڈراﺅنی کہانیاں بہت پڑھتی ہیں، وہ فوراً ان کے پاس پہنچا اور مدد کی درخواست کی مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئیں انہوں نے کہا۔ دیکھو نبیل میرے پاس فالتو وقت نہیں ہے میرے امتحانات قریب ہیں اور میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتی، مگر نبیل اپیا کی جان چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھا وہ کہہ رہا تھا کہ آپ پڑھ کر تو دیکھیں شاید کوئی آئیڈیا آپ کے ذہن میں آجائے مجبوراً انہوں نے پڑا اور قہقہے لگا کر ہنس پڑیں کہنے لگیں۔ نبیل اب تم ایسا کرو کہ اس بیچارے پڑھاکو بچے کو وہین دفن کر ڈالو کیوں کہ اگر وہ بچ بھی گیا تو پاگل تو ہوہی جائے گا، نبیل نے سینڈل اٹھائی اور اپیا کے پیچھے دوڑ پڑا اس شور شرابے میں ان کی امی اندر آگئیں، ارے نبیل یہ تم کیا کررہے ہو بڑی بہن سے لڑ رہے ہو چلو ادھر آﺅ کیا مسئلہ ہے؟ اور پھر نبیل نے ساری کہانی سنا ڈالی۔
امی نے کہا اچھا لاﺅ کہانی مجھے دو شاید میںتمہیں کچھ بتاسکوں وہ کہانی لے کر پڑھنے لگیں کہانی ختم کرنے کے بعد انہوں نے نبیل سے پوچھا کہ بیٹا تم یہ بتاﺅ کہ تم کہانیاں کیوں لکھتے ہو اور تمہارا مقصد کیا ہوتا ہے؟
نبیل نے کہا مقصد؟ میرا تو کوئی مقصد نہیں ہوتا بس اس لیے لکھتا ہوں کہ میرا دل چاہتا ہے، امی نے کہا نہیں یہ تو نہیں ہوسکتا کچھ نہ کچھ مقصد ضرور ہوا کرتا ہے اچھا تم اسکول میں کیوں پڑھتے ہو۔
نبیل نے کہا اس لیے کہ پڑھ لکھ کر انجینئر بنوں گا اور ملک کی خدمت کروں گا تو امی نے کہا کہ تمہارا مقصد انجینئر بننا ہے پھر تو کہانی لکھنے کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوگا۔
نبیل کہنے لگا کہ امی میں کہانی لکھتا ہوں تاکہ میری شہرت ہو اور جس طرح لوگ دوسرے ادیبوں سے آٹو گراف لیتے ہیں بالکل اسی طرح مجھے سے بھی لیں اور میری اہمیت کو تسلیم کیا جائے اور بڑے بڑے پروگرامات میں مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جاﺅں اور کیا ہوسکتا ہے مقصد بلکہ ہر کہانی نویس اور ادیب کا یہی مقصد ہوتا ہے۔
امی نے کہا۔ نہیں نبیل بیٹام تم غلطی پر ہو ہر ادیب اور کہانی نویس کو تم اپنی طرح نہ سمجھو یہ صرف تمہاری اپنی سوچ ہے اور اس سوچ میں سے تو سوائے خودغرضی اور ذاتی مفاد کے مجھے اور کچھ نہیں نظر آتا۔
نبیل روہانسا ہو کر بولا: امی اور کیا مقصد ہوسکتا ہے کہانی لکھنے کا۔
امی نے کہا: بیٹا کہانی لکھنا بہت ہی اچھا اور نیک کام ہے مگر جب اس نیکی کے کام میں بے مقصدیت ہو تو وہ نیکی بھی برائی بن جاتی ہے یا پھر اس کا شمار خرافات میں ہوتا ہے۔
میں نے تمہاری کہانی پڑھی تم نے لکھی تو اچھی ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم کہانی لکھ بھی سکتے ہو، مگر اس میں کوئی مقصد نہیں ہے، یہ صرف وقت کا ضیاع ہے اپنا بھی اور اور دوسروں کا بھی، پڑھنے والے دلچسپی سے پڑھ لیں گے اور کوئی مقصد اور سبق حاصل کیے بغیر رسالہ بند بھی کردیں گے۔
بیٹا تمہارا مقصد اور معاشرہ کی اصلاح ہونا چاہیے، ایسے پراگندہ ماحول کی اصلاح جس میں اندھیرا ہی اندھیرا اور نیکیاں کرنے والوں کا فقدان ہے ہر طرف برائی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اور ایسے ماحول کی اصلاح جس میں قوم کی یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں جس میں تعصب اور فرقہ واریت کو پروان چڑھایا جارہا ہے جس میں بھائی بھائی کا دشمن بن چکا ہے، بیٹا تمہیں تو ایسی کہانی لکھنی چاہیے جس سے نئی آنے والی نسل کی تربیت ہوسکتے جو لوگ بگڑ چکے ہیں ان کی اصلاح ذرا مشکل سے ہوتی ہے مگر نئی نسل کو صحیح ڈگر پر چلانا آسان ہوتا ہے جس طرح کہ تناور درخت کا رخ موڑنا مشکل ہے مگر ایک ننھے پودے کو تم جس طرف چاہو جیسے چاہو ڈھال سکتے ہو صرف ایک دھاگا باندھ کر تم اس کو مطلوبہ رخ پہ لاسکتے ہو۔
بیٹا اگر تم اصلاحی کہانیاں لکھو تو تمہاری کہانی کا ہر ہر لفظ تمہارے لیے نیکی بن جائے گا اور اگر تمہاری تحریری سے کسی ایک بچے کی بھی اصلاح ہوگئی اور وہ سیدھے راسستے پر چل نکلا اسی طرح صراط مستقیم پر جس کا رب نے حکم دیا ہے اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی کی ہے تو یقین جانو وہ تمہارے لیے صدقہ جاریہ بن جائے گا اور نیکیوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔
اب نبیل کی سمجھ میں بات آچکی تھی، امی میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اب ایسی کہانیاں لکھوں گا جس سے شہرت نہیں بلکہ دوسروں کی اصلاح ہوگی اور جیسے لکھوں گا ویسے عمل بھی کرکے دکھاﺅں گا، نبیل نے پرعزم لہجے میں کہا تو امی نے زور سے آمین کہا اور نبیل کی پیشانی چوم لی کہ وہ بیٹے کو مقصدیت کی راہ دکھاچکی تھیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close