Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

پینتالیس سال پہلے

 
  اعظم طارق کوہستانی  
 
دادا جان کی آنکھیں نمناک تھیں۔ ان کے سامنے ایک میز دھری تھی جس پر سیکڑوں تصاویر بکھری پڑی تھیں۔ کچھ تصاویر نئی تھیں اور کئی تصاویر پینتالیس سال پرانی بلیک اینڈ وائٹ تھیں۔ دادا جاان کا چہرہ افسردہ نظر آرہا تھا۔ میں چپکے سے کمرے میں داخل ہو کر دادا جان کو ڈرانا چاہتا تھا مگر ان کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی دیکھ کر مجھے بھی سنجیدہ ہونا پڑا۔ میز پر ان کے اس دور کی تصاویر تھیں جب وہ فوج میں ہوا کرتے تھے۔ اسی تصاویر میں ان کا آج سے 10 سال پہلے کا لکھا گیا مضمون موجود تھا۔ میں نے مضمون پڑھنا شروع کیا۔
پاکستان کو بنے ہوئے ابھی صرف اٹھارہ سال ہی تو ہوئے تھے جب دشمن نے اپنی پوری عسکری قوت کے ساتھ پاکستانی کی سرحدوں پر شب خون مارا۔ وہ چھ ستمبر کی صبح کاذب تھیں جب بھارت نے پاک سرزمین پر حملہ کیا۔ پاکستانی فوج میں شامل وہ جری جوان جو 14 اگست 1947ءکی ہجرت میں اپنا سب کچھ لٹاچکے تھے۔ دشمن کے سامنے فولاد کی دیوار کی طرح سینہ سپر ہوگئے۔ چشم فلک نے ایسے مناظر کم ہی دیکھے ہوں گے جب مسلمان ماﺅں کی بہادر اولاد دشمنوں کی گھناﺅنی اور مکروہ سازشوں سے ٹکراگئے۔ بھارتی جرنیلوں نے شام کو لاہور کے جم خانے میں کھٹکتے ہوئے جاموں کے ساتھ جشن کامران کا جو رنگین خواب دیکھا تھا وہ حسرت ناکام کی صورت اختیار کرگیا کیوں کہ جم خانے کا تصور بھی دور تھا۔ لاہور محاذ پر بدترین ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد سیالکوٹ سیکٹر کو میدان کارزار بنایا گیا لیکن پاکستانی افواج کی جواں مردی کے سامنے دشمن کی ایک نہ چلی اور بھارت کے ایسے لتے لیے کہ اسے بھاگتے ہی بنی، دوسری ج انب چونڈہ کا میدان دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا گیا۔ ان معرکوں میں پاکستان کی افواج اور عوام کی شجاعت کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ آج بھی دشمنوں کے دل ان کی بہادری اور عظمت سے ہیبت زدہ ہیں۔
اس جنگ میں ناصرف بری فوج نے داد شجاعت حاصل کی بلکہ فضاﺅں پر بھی پاکستان کو برتری حاصل رہی۔ پہلی جنگی پرواز کا منفرد اعزاز 19 فائٹر اسکوارڈن کے حصے میں آیا اور دشمنوں کو دفاعی جنگ لڑنے پر مجبور کردیا۔ دشمن نے اندازہ لگایا کہ پاکستان کے دل لاہور پر قبضہ کا جو خواب وہ آنکھوں میں سجا کر اپنے دیش سے نکلا ہے شیر دل پاکستانی اپنی آخری سانس تک اسے تعبیر کی صورت نہ دیکھنے دیں گے۔ یہی نہیں بلکہ بحریہ نے بھی دشمن کے سمندری ٹھکانوں اور جہازوں پر کاری ضربیں لگائیں۔ سومنات کا مندر جسے مسلمان فاتح محمود غزنوی کے ہاتھوں مٹی میںملنے کا شرف حاصل ہوچکا تھا اسے ایک بار پھر پاک بحریہ نے زمین بوس کردیا۔ یہ معرکہ آرائیاں سترہ دن تک جاری رہیں اور ٹینکوں کی یہ دوسری بڑی عالمی جنگ اپنے اختتام کو پہنچی۔
مضمون پڑھ کر میں سوچنے لگا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ستمبر 1965ءکے ان سترہ دنوں میں پاکستانی قوم پورے عزم و یقین کے ساتھ زندہ و بیدار رہی۔ اب اس واقعے کو 45 سال ہوچکے ہیں لیکن ان سترہ دنوں کی نمایاں خصوصیات ہمارے ذہنوں میں اسی طرح زندہ و تابندہ ہیں اور ہم انہیں ایک ایک کرکے نئی نسل کو بتاسکتے ہیں، اگرچہ بدقسمتی سے ایک سازش کے تحت نئی نسل کے ذہنوں سے وہ کارنامے حرف غلط کی طرح مٹانے کی کوششیں جاری ہیں لیکن چھ ستمبر کے یہ سترہ دن اس قدر عظیم ہیں کہ یہ بھلائے نہیں بھولیں گے۔ آئیے ذرا ان کی یادیں تازہ کرکے اپنے حوصلوں کو جلا بخشتے ہیں۔
ان سترہدنوں میں سب سے اہم بات اس وقت یہ دیکھنے میں آئی کہ صدر پاکستان کی مختصر نشری تقریر سنتے ہی پورے ملک میں اتحاد یکجہتی کی لہر دوڑ گئی جس نے پوری قوم کو یک جان اور یک زبان کردیا۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کہا۔ بھارتی حکمرانوں کو ابھی تک اس بات کا احساس نہیں ہے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔
قومی اتحاد و یکجہتی کے علاوہ ہر پاکستانی اسلامی جذبے سے بھی سرشار تھا۔ ہر پاکستانی اس جنگ کو حق و باطل کا معرکہ تصور کرتا تھا اور اسے یقین تھا کہ وہ حق پر ہے جس کی فتح کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے‘ حتیٰ کہ بعض سرحدوں پر یوںمحسوس ہوا کہ غیب سے بھی مدد ہورہی ہے۔
پاکستان کو نا صرف پاکستانی حمایت حاصل تھی بلکہ بہت سے مسلم ممالک نے اس موقع پر پاکستان کی ہر ممکن مدد کی۔ ان میں سعودی عرب، ترکی اور انڈونیشیا قابل ذکر ہیں۔ دنیا بھر کی مسجدوں میں پاکستان کی کامیابی و سرخروئی کے لیے دعائیں مانگی جاتی رہیں، امیر مکہ مشعل بن عبدالعزیز بھی ان کروڑوں مسلمانوںمیں شامل تھے۔ وہ ہر رات خانہ کعبہ کی چوکھٹ پکڑ کر پاکستان کی سلامتی اور کامرانی کے لیے مسلسل دعائیں مانگتے رہے۔
ستمبر کی جنگ کے دوران مثالی کردار کا اعلیٰ مظاہرہ صرف افواج پاکستان یا قوم کے چند مخصوص طبقوں نے نہیں کیا بلکہ پوری قوم نے دلوں کی کدورتیں دھوڈالی تھیں اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ ستمبر 1965ءکی جنگ کے چشم دید گواہ شاہد ہیں کہ شدید جنگی حالات کے باوجود تاجروں نے کسی چیز کی مصنوعی قلت پیدا نہیں کی۔ قیمتیں بھی معمول پر رہیں حتیٰ کہ بلیک آﺅٹ کے دنوں میں بھی چوری چکاری کی وارداتیں سننے میں نہیں آئیں۔ ڈاکا زنی تو ویسے س بھی اس وقت انہونی بات تھی۔
پاک فوج کے جوانوں اور پاک وطن کو چاہنے والی عوام نے مل کر اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کو سبق سکھایا اور خود کو تاریخ میں امر کردیا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close