Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

امن پسند

 
  ابن ساحل  
 
ارسلان بیٹا، اٹھ جاﺅ، دیکھو سورج سر پر آپہنچا ہے، جلدی سے اٹھ جاﺅ شاباش۔
ارسلان کی امی نے صبح کے وقت ہمیشہ کی طرح بیٹے کو اٹھاتے ہوئے کہا مگر اسش کی نیند کچھ ایسی گہری تھی کہ اسے اٹھانا آسان نہ تھا۔ آج بھی بڑی تگ و دو کے بعد امی جان ارسلان کو بستر سے اتارنے میں کامیاب ہوئیں۔
جاگنے کے بعد بھی وہ کبھی ایاک جگہ بیٹھ کر جمائیاں لینے لگتا تو کبھی دوسری جگہ، منہ ہاتھ دھونے میں بھی اس نے کافی وقت صرف کیا، ارسلان صرف صبح ہی نہیں بلکہ ہر وقت سستی کا مظاہرہ کرتا تھا۔ سودا سلف لینے کے لیے بھیجو تو گھنٹے بعد واپس آتا، اسکول میں کبھی امتحان ہوتا تو مقررہ وقت میں بمشکل آدھے سوالات کرپاتا، دوسرے کمرے میں موجود ہوتا تو کئی آوازیں دینے پر بھی جواب نہ دیتا۔ ارسلان کی سستی اور غائب دماغی کی وجہ سے اس کے امی ابو شدید نالاں تھے۔
احمد کا خاندان ارسلان کے پڑوس میں نیا نیا آباد ہوا تھا۔ وہ بہت خوش اخلاق اور ملنسار لوگ تھے۔ احمد، ارسلان کا ہم عمر اور بہت اچھا لڑکا تھا۔ چند ہی دن میں ارسلان کے گھر والوں سے ان کے اچھے مراسم پیدا ہوگئے، مگر ارسلان اپنی آدم بیزاری کی وجہ سے کھنچا کھنچا رہا۔
احمد روزانہ ورزش کرنے کا عادی اور کھیلوں میں شریک ہونے والا چست و ہوشیار لڑکا تھا جبکہ ارسلان اس کا الٹ۔ رفتہ رفتہ احمد اپنے پڑوسی کی غائب دماغی اور عدم اعتمادی کا سبب جان گیا۔ اس نے دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ارسلان کو ضرور راہ راست پر لائے گا۔
احمد آہستہ آہستہ ارسلاان سے قربت بڑھانے لگا۔ پراخلاق طبیعت کے باعث چند روز میں ارسلان اس کی طرف مائل ہوگیا۔ ایک اچھا دوست ہونے کے ناتے احمد کی خواہش تھی کہ ارسلان سستی سے چھٹکارا حاصل کرلے۔
ایک روز احمد نے کہا۔ ارسلان آخر تمہیں کھیل کود اور ورزش سے چڑ کیوں ہے۔
بھئی میں اچھا کھاتا پیتا ہوں۔ پھر ورزش اور بلاوجہ دوڑ لگا کر خود کو تھکانا ضروری تو نہیں۔ ارسلان نے جواب دیا۔
صرف کھانے پینے سے ہی تو صحت برقرار نہیں رکھی جاسکتی۔ احمد نے کہا۔ جو خوراک ہم کھاتے ہیں، اسے ٹھکانے بھی تو لگانا چاہیے، خوراک اسی وقت بھرپور اثر دکھاتی ہے جب وہ بدن میں توانائی پیدا کرے اور یہ مقصد ورزش سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ کراٹے کلب جایا کرو۔
ارے بھئی یہ کراٹے وغیرہ کس لیے۔ بندہ امن پسند ہو تو جنگ کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ارسلان نے کہا۔
نہین ارسلان کبھی کبھی جنگ ناگزیر ہوجاتی ہے۔ احمد نے مسکرا کر کہا تو ارسلان نے منہ بنالیا۔
جلد ہی احمد کی بات درست ثابت ہوگئی۔
ایک شام موسم بہت خوشگوار تھا، احمد اصرار کرکے اسے سیر کرانے باہر لے گیا۔ چہل قدمی کرتے ہوئے ابھی وہ کچھ ہی دور گئے تھے کہ کہیں سے ان کے ہم چند لڑکے آئے اور چھیڑ خانی کرنے لگے۔ یہ شرارتی لڑکے تھے جن کا کام ہی لڑائی جھگڑا ہوتا ہے۔
کیا چاہتے ہو تم، کیوں ہمیں تنگ کررہے ہو، احمد نے غصے سے کہا۔
بھولے میاں، یہ تو شکر کرو ہم تمہیں صرف تنگ کررہے ہیں، اگر پٹائی شروع کردی تو تم کیا کرلوگے۔ ایک لڑنے سے بدتمیزی سے کہا تو باقی قہقہہ مار کر ہنس پڑے۔
ان کے قہقہوں پر احمد کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا۔ مگر ارسلان گھبرایا ہوا لگ رہا تھا، اسے آج پہلی مرتبہ ایسی صورتحال کا سامان تھا۔ اسے اپنے جسم سے جان نکلتی محسوس ہوئی، ان لڑکوں کے سامنے اسے اپنی من پسندی بیکاری نظر آرہیتھی۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا احمد مخالفوں پر چھلانگ لگا چکا تھا۔ وہ مضبوط بدن کا مالک اور ورزش کا عادی تھا، اس کی جاندار لاتیں اور مکے ماہرانہ انداز میں لڑکوں پر پڑیںتو وہ زمین چاٹنے پر مجبور ہوگئے، آخر انہیں فرار ہونا پڑا۔
احمد ہاتھ جھاڑ کر ارسلان کی طرف مڑا جو حیرت زدہ سا اس کی جانب دیکھ رہا تھا۔ احمد کے چہرے پر موجود مسکراہٹ سے نہ صرف ارسلان کو بہت کچھ سمجھایا بلکہ اندر ہی اندر شرمندہ بھی کردیا۔
اس واقعے کے دو روز بعد ارسلان بازار سے سودا سلف لے کر واپس آرہا تھا کہ راستے میں اسے انہی آوارہ لڑکوں سے پکڑلیا جو احمد سے مار کھا کر فرار ہوئے تھے، انہوں نے ارسلان کی خوب پٹائی کی اور ارسلان اپنا دفاع تک نہ کرسکا۔ وہ اپنے اندر اتنی قوت ہی محسوس نہیں کررہا تھا کہ ان کا مقابلہ کرسکتا۔ جب وہ گھر پہنچا تو امی ابو اپنے لادلے کے جسم پر لگی چوٹیں دیکھ کر پریشان ہوگئے، اس نے سائیکل سے ٹکر لگ جانے کا بہانہ بنا کر انہیں ٹال دیا۔
اگلے دن کا سورج ارسلان کے گھر والوں کے لیے خوشگوار حیرت لے کر طلوع ہوا۔ ارسلان صبح سویرے ہی اٹھ بیٹھا، نماز باجماعت پڑھنے کے بعد وہ احمد کے ہمراہ ورزش کرنے گیا اور پھر یہ اس کا معمول بن گیا۔ وہ نہ صرف روزانہ ورزش کرنے لگا بلکہ اس نے احمد کے ساتھ کراٹے کلب میں جسمانی دفاع کی تربیت بھی لینا شروع کردی۔
اس معمول سے ارسلان کو بدل کر رکھ دیا، وہ ہر وقت ہشاش بشاش رہنے لگا اور احمد کی طرح حاضر دماغ اور پھرتیلا ہوگیا۔ ہر کام کو بہتر طریقے سے کرنے کی صلاحیت اس میں خودبخود پیدا ہونے لگی۔ اسے اب احساس ہوا کہ جسم کے لیے ورزش کی اہمیت نئی زندگی جیسی ہے، اس کے بدلتے اطوار اور بہتر جسمانی حالت پر اس کے والدین حیران تھے جبکہ احمد خوشی سے سرشار دکھائی دیتا تھا۔
وہ آوارہ لڑکے جنہوں نے ارسلان سے جھگڑا کیا تھا ابھی تک دوبارہ نظر نہیں آئے تھے، ارسلان ان کی تلاش میں تھا، وہ ان سے اپنی توہین کا بدلہ لینا چاہتا تھا، آخر ایک روز اس کی خواہش پوری ہوگئی، وہ احمد کے ہمراہ معمول کے مطابق کراٹے کلب جارہا تھا کہ راستے میں وہی لڑکے کھڑے نظر آئے۔ ارسلان ٹھٹک کر رک گیا، اس نے بے اختیار مٹھیاں بھیج لیں، ارسلان نے پلٹ کر احمد کی طرف دیکھا مگر وہ نظر نہیں آیا، نجانے کہاں غائب ہوگیا تھا، اس نے دوست کا خیال چھوڑا اور اپنے حریفوں کی جانب مڑ گیا، اچانک ان میں سے ایک لڑکا آگے بڑھا، ارسلان نے اپنے آپ کو تیار کرلیا، اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا، آگے بڑھنے والا لڑکابولا۔ کہو دوست کیسے ہو۔
اس کا لہجے ایسا بااخلاق اور شائسہ تھا کہ ارسلان چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ اس کے لبوں پر دوستانہ مسکراہٹ رقصان تھی، وہ گویا ہوا۔
دوست ہمیں معاف کردینا، ہم نے تمہارے ساتھ جو کچھ کیا وہ تمہارے بھلے کے لیے تھا، ہم احمد کے دوست ہیں، ہم نے احمد کے کہنے پر ہی تمہیں یہ سکھانے کی کوشش کی ہے کہ زندگی کا اصل مزا جوش اور ولولے کے ساتھ جینے میں ہے، سست اور کاہل انسان کو ہر میدان میں ناکامی کا سامان کرنا پڑتا ہے، تندرستی خدا کی بڑی نعمت ہے اور اس کی حفاظت کے لیے ورزش جیسی عادت اپنانا ضروری ہے، تم احمد کا شکریہ ادا کرو جس نے تمہیں نئی زندگی سے روشناس کرایا اور سچا دوست ہونے کا حق ادا کردیا۔
لڑکے نے بات ختم کی تو ارسلان کو اپنے پیچھے آہٹ کا احساس ہوا، اس نے مڑکر دیکھا اور احمد مسکرا رہا تھا۔ ارسلان پرامن رہنے کے لیے امن پسندی ہی کافی نہیں بلکہ ہمیں اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ کوئی ہم پر جنگ مسلط نہ کرسکے۔
احمد کا ایک ایک لفظ ارسلان کے دل میں اترتا گیا اور اسے اپنے دل کی دنیا بدلتی محسوس ہونے لگی۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close