Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

لاپروائی کی سزا

 
   
 
راشدہ ایک نیک اور خوب صورت لڑکی تھی، اس میں بہت ساری خوبیاں تھیں مگر چوں کہ ہر انسان سے کوئی نہ کوئی غلطی سرزد ہوجاتی ہے، اسی لیے وہ بھی اکثر ایک غلطی کردیا کرتی تھی اور وہ غلطی یہ تھی کہ جب بھی وہ کھانا پکانے لگتی تو چولہا جلانے کے لیے سوئی گیس پہلے کھولتی اور پھر دیا سلائی جلاتی اور اگر ماچس نہ ملتی تو ادھر ادھر تلاش کرتی رہتی مگر چولہے کی گیس بند نہ کرتی، اس پر اس کی امی جان نے کئی مرتبہ منع کیا، ٹوکا، ناراض بھی ہوئیں اور پیار سے بھی سمجھایا کہ دیکھو اس حرکت سے اگر زیادہ گیس کمرے میں جمع ہوگئی اور پھر تم نے دیا سلائی جلائی تو اس طرح آگ بھڑک اٹھے گی، مگر وہ ان سب باتوں کو کوئی اہمیت نہ دیتی اور انہیں فرسودہ جان کر سنی ان سنی کردیتی۔
اس کا خیال تھا کہ یہ محض امی کا وہم ہے، ہماری بلڈنگ میں اتنے گھر ہیں اور سب میں سوئی گیس ہے مگر آج تک کبھی کسی گھر میں آگ نہیں لگی۔
خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک روز اس نے حسب معمول کچھ پکانے کی خاطر آگ جلانے کے لیے گیس کھولی اور پھر ماچس تلاش کرنا شروع کردی پہلے تو ماچس نہ ملی، مگر جب ملی تو بھیگی ہوئی تھی جو کسی طرح جل نہیں رہی تھی اس نے سوچا کہ پڑوس سے ماچس لے آﺅں، ماچس لینے کے لیے راشدہ اپنے پڑوس میں گئی تو یہ بات بھول گئی کہ وہ گیس کا چولہا کھلا چھوڑ کر آئی ہے۔
واپس آکر راشدہ نے جونہی دیا سلائی جلائی پورے باورچی خانے میں آگ بھڑک اٹھی، آگ نے راشدہ کے کپڑوں کو بھی اپنی لیٹ میں لے لیا اور پل بھر میں یہ آگ پورے گھر میں پھیل گئی، پھر کیا تھا....کہرام مچ گیا، محلے بھر کے لوگ جمع ہوگئے، کوئی پانی کی بالٹیاں بھر کر لایا، کسی نے مٹی سے آگ بجھانے کی کوشش کی، مگر بے سود۔
جلتے ہوئے گھر سے راشدہ کو تو بچالیا گیا مگر راشدہ کا چہرہ بری طرح جھلس چکا تھا، فائر بریگیڈ کے آنے تک گھر کا بہت سا قیمتی سامان جل کر خاک ہوچکا تھا،فائر بریگیڈ نے کافی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا، اس طرح اڑوس پڑوس کے گھر آگ کی زد میں آنے سے بچ گئے۔ راشدہ کو فوراً ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ چیخ چیخ کر رو رہی تھی اور کہہ رہی تھی.... امی مجھے معاف کردیجئے! امی مجھے معاف کردیجئے، میں نے آپ کا کہنا نہیں مانا.... مجھے میری غلطی کی بہت بڑی سزا مل گئی۔
امی نے راشدہ کو سینے سے لگایا، امی رو بھی رہی تھیں اور راشدہ کے ٹھیک ہونے کی دعائیں بھی کررہی تھیں۔
راشدہ چند دنوں بعد ٹھیک تو ہوگئی مگر نہ تو اس نقصان کی تلافی ہوسکی جو اس بھیانک آگ کی وجہ سے ہوا تھا اور نہ ہی راشدہ کے حسین چہرے سے آگ کے وہ نشان مٹ سکے جو خود اس کی غلطی کا نتیجہ تھے، راشدہ اب جب کبھی آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی ہے، اپنے چہرے کو دیکھ کر رونے لگتی ہے، چہرے پر آگ کے نشان اسے یاد دلاتے ہیں کہ لاپروائی اور نافرمانی کی پاداش میں ملنے والی سزا کے نشان کبھی نہیں مٹتے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close