Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

قربانی کا مقصد

 
  محمد عذیر سلیم  
 
جب پاپا نے بکرا لینے سے انکار کیا تو سمیر کا دل چکنا چور ہوگیا۔
پاپا ہم اس دفعہ بکرا کیوں نہیں لیں گے۔ پچھلی دفعہ تو ہم نے بہت موٹا تازہ بکرا لیا تھا تو اس دفعہ کیوں نہیں لیں گے، سمیر سوال پر سوال کیا جارہا تھا لیکن اس کے پاپا سمیر کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا۔ بیٹا اب قربانی کرنے کی ہماری حیثیت نہیں ہے پچھلے سال ہم قربانی کرسکتے تھے حالات ایک جیسے نہیں رہتے اس دفعہ ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ ہم قربانی کرسکیں؟۔
اتنے میں گھر میں، میں.... میں.... کی آواز آنے لگی سمیر خوشی سے جھوم اٹھا کہ شاید پاپا نے اس کے لیے بکرا منگوایا ہے لیکن باہر پہنچتے ہی اس کی یہ خوشی اداسی میں تبدیل ہوتی ہوئی دکھائی دی جب اس نے آصف کو بکرا پکڑکے آتے ہوئے دیکھا۔ آصف کے ساتھ اس کا بھائی عمیر بھی تھا۔ سمیر روتا ہوا اپنے کمرے میں چلاگیا، تھوڑی دیر بعد سمیر کے پاپا اس کے کمرے میں گئے تو دیکھا کہ سمیر رو رہا ہے، بیٹا کیوں رو رہے ہو، پاپا آپ نے دیکھا کہ وہ آصف بکرا ہاتھ میں لیے مجھے دکھا رہا تھا انہوں نے تو بکرا لے لیا لیکن آپ نے کیوں نہیں لیا، مجھے ہر حال میں بکرا چاہیے میں نے بھی انہیں اپنا بکرا دکھانا ہے کہ ہم بھی بکرا لے سکتے ہیں۔ مجھے ان سے اچھا اور موٹا بکرا چاہیے اور ہاں بکرا ہونا چاہیے بکری نہیں۔
بیٹا میں آپ کو کیسے سمجھاﺅں، ہمارے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے، ہم قربانی نہیں کرسکتے، آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کرو۔ اب تم ہی اس کو سمجھاﺅ میں تو سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہوں۔ سمیر کے پاپا نے اس کی مما کو کہا۔ کیا ہوا بیٹا۔ کیا بات ہے اس کی مما نے کہا۔ مما دیکھیں نہ سب نے بکرا لے لیا اور ہم نے نہیں لیا، بیٹا آپ کے پاپا ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ نے بکرے کے ساتھ کھیلنا ہی ہے نا آپ آصف کے بکرے کے ساتھ کھیل لو۔ آپ اس کو اپنا بکرا سمجھ لو بس، اب یہ رونا بند کرو اور اچھے بچے کی طرح سو جاﺅ۔ اگلے دن صبح کو سب سوئے ہوئے تھے لیکن میں.... میں کی آواز سمیر کی کانوں میں گونج رہی تھی سمیر اپنے بستر سے اٹھا اور صحن کی طرف گیا، صحن میں آصف کا بکرا میں.... میں کررہا تھا سمیر نے دور پڑا ہوا گھاس اٹھایا اور بکرے کو کھلانے لگا بکرا بھی بڑے آرام سے اس کے ہاتھوں سے گھاس کھا رہا تھا اتنے میں آصف منہ پر ہاتھ پھیرتا ہوا باہر نکلا، اوئے سمیر تمہاری تمہاری جرات کیسے ہوئے میرے بکرے کو ہاتھ لگانے کی۔ تم ہوتے کون ہو، آئندہ تم میرے بکرے کے قریب بھی نظر نہ آنا، آصف میری بات تو سنو تمہارا بکرا میں.... میں کررہا تھا اسے بھوک لگ رہی تھی میں تو صرف اس کو گھاس کھلا رہا تھا۔ ٹھیک ٹھیک ہے اب زیادہ بہانے بنانے کی ضرورت نہیں اب تم مجھے اس کے قریب بھی نظر مت آنا، دادا جان ساتھ کمرے میں بیٹھے قرآن پاک پڑھ رہے تھے انہوں نے سمیر اور آصف کی ہونے والی گفتگو سن لی۔ دوپہر کو آصف نے اپنے بکرے کو خوب سجایا اور پھر اس کو گھمانے کے لیے گراﺅنڈ میں لے گیا، راستے میں جاتے ہوئے دوستوں سے کہتا کہ دیکھو میرا بکرا کتنا خوبصورت ہے تمہارے بکرے سے اور کتنا موٹا بھی ہے، جب یہ ساری باتیں دادا جان کو پتا چلیں تو انہوں نے آصف کو اپنے پاس بلایا اور کہا بیٹا تم نے صبح سمیر کو بکرے کو گھاس کھلانے سے کیوں منع کیا، دادا جان وہ میرے بکرے کو گھاس کھلا رہا تھا وہ اپنا بکرا لے اور اس کو کھلائے، بیٹا قربانی کا مطلب بکرا خرید کر اس کو دکھاوا کرنا نہیں ہے تم قربانی کے مطلب کو غلط سمجھ رہے ہو، تم ثواب نہیں گناہ کمارہے ہو، قربانی کرکے ہم سنت ابراہیمی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں لیکن تم اس کو دکھاوا بنا کر خود کو اور اپنے والد کو گناہ گار کررہے ہو۔ قربانی کرنا صاحب استطاعت پر فرض ہے، سمیر کے پاپا اس دفعہ استطاعت نہیں رکھتے اس لیے انہوں نے بکرا نہیں لیا۔ چوری کرکے، ڈاکا ڈال کے یا قرض لے کر قربانی نہیں کی جاتی۔ یہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کے لیے ہیں، آپ دوسروں کو دکھانے کے لیے اگر قربانی کرو گے تو آپ کا سارا ثواب جاتا رہے گا۔ آپ کیا چاہتے ہو آپ کے پاپا آپ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے آگے شرمندہ ہوں، بیٹا عید الضحیٰ ہمیں آپس میں پیار، محبت، ایثار اور ایک دوسرے سے قربانی کا درس دیتی ہے اس مبارک دن کو ہم اپنے عزیزوں، غریبوں، مسکینوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں، آپ کو چاہیے کہ جو لوگ قربانی نہیں کرسکتے آپ ان کو اپنے ساتھ ملاﺅ تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرسکو۔ بیٹا قربانی کا مقصد صرف بکرے کی قربانی کرنا نہیں ہے،قربانی کا ثواب اور طریقوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، بیٹا آپ نے صبح سمیر کو دھتکارا اس کو کتنا دکھ ہوا ہوگا وہ تمہارا کزن ہے کوئی غیر تو نہیں ہے اس کے دل سے نکلی ہوئی ہر آہ تمہارے اور تمہارے پاپا کے ثواب کو کم کرتی رہے گی، اگر تم صبح سمیر کو کچھ کہنے کے بجائے اس کو اپنے ساتھ ملاتے تو تم اپنے جذبات کی قربانی دیتے اگر تم ایسا کرتے تو تم نے سچ مچ قربانی کا مقصد جان لیا ہوتا لیکن آپ کو سمجھانے کا کیا فائدہ، آپ کے سرپر تو دولت، عیش و آرام اور دکھاوے کا بھوت سوار ہے، اگر آپ یہی چاہتے ہو تو ٹھیک ہے آپ خوشی سے لوگوں کو دکھاﺅ جا کر اپنے بکرے کو۔ ان کے ساتھ مقابلے کرو میں آپ کو کچھ نہیں کہوں گا، دادا جان مجھے معاف کردیں آصف کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، میں بھول گیا تھا میں دکھاوے کو ثواب سمجھ بیٹھا تھا، آپ مجھے معاف کردیں، بیٹا معافی مجھ سے نہیں سمیر سے مانگو جس کا آپ نے دل دکھایا، ٹھیک ہے دادا جان۔
سمیر دروازے پر کھڑا ساری باتیں سن رہا تھا، سمیر مجھے معاف کردو میں نے تمہارا دل دکھایا، یہ بکرامیرا نہیں بلکہ تمہارا بھی ہے، آﺅ دوسرے بچوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کریں اور اس کو گھمانے کے لیے لے کر چلیں، چلو جلدی سے چلیں یہ کہتے ہی دونوں دروازے کی طرف گئے اور دادا جان مسکراتے ہوئے دونوں کو جاتا دیکھ کر اپنے کمرے کی طرف روانہ ہوگئے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close