Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

حاجی صاحب

 
  ام ایمان  
 
حاجی ظہیر الدین بریانی والے صبح کام پر جانے کے لے گھر سے نکلے تو کچھ نڈھال سے تھے، ایک تو رات بھر پیٹ میں درد کے باعث نیند اچھی طرح نہیں آئی تھی، دوسرے صبح صبح بیوی سے بھی جھڑپ ہوگئی تھی۔
پیٹ میں درد کی وجہ تو یہ تھی کہ رات کو اپنی ہی دکان کی بریانی چکھ لی تھی اور پھر بیوی نے صبح صبح انہیں ملاوٹ والی اور باسی بریانی پر ایک لیکچر پلادیا تھا۔
لیکن بیوی کی سنتا کون ہے بھلا بتاﺅ کہ اگر ایک دن پہلے کی بریانی ملا کر فروخت نہ کروں تو کیا بچ جانے والی بریانی کوڑے کے ڈھیر پر ڈال آﺅں؟؟
حاجی صاحب نے غصے میں بڑبڑاتے ہوئے کہا اور بغیر ناشتہ کیے ہی دکان کے لیے نکل گئے۔ راستے میں انہوں نے دیکھا کہ محمود دھوبی کا بیٹا اپنے باپ کی دکان کے سامنے چھوٹی سی میز رکھے اس پر جھنڈیوں اورمختلف خوبصورت بیجوں کو سلیقے سے سجارہا تھا۔ ایک طرف کچھ چھوٹے بڑے جھنڈے رکھے تھے اور ایک چھوٹی سی تپائی پر بیجوں کی تھیلی رکھی تھی۔ حاجی صاحب کی تیوریاں کچھ اور چڑھ گئیں۔
ہونہہ! پیسہ کمانے کے لیے نئے نئے دھندے نکالتے ہیں!! رات میں ان کے بیٹے نے ان سے جھنڈے اور سجانے والی جھنڈیوں کے لیے پیسوں کی ضد کی تھی جو ان کے خیال میں بالکل بے فضول اور بے مقصد خرچ تھا۔
سو ان کی جیب سے ایک روپیہ نہ نکلا۔ کنجوس تو وہ سدا کے تھے۔ مثلاً ابھی پچھلے مہینے بھی انہوں نے اپنے بیٹے کی سالگرہ بڑے دھوم دھام سے منائی تھی۔ سارے رشتہ داروں اور پڑوسیوں اور تحفوں کا بھی حساب کتاب کیا تھا۔ بڑے خوش تھے کہ دعوت نفع بخش ثابت ہوئی تھی۔ خرچ بھی نکل آیا اور تحفے بھی اچھے خاصے مل گئے۔ بیوی سے کہہ دیا تھا کہ اگلی عید تک کسی قسم کے کپڑوں کی کوئی بات نہ کی جائے۔ بیوی ان کے مزاج کو سمجھتی تھی۔ ان کے جانے کے بعد بیٹے کے ہاتھ پر جھنڈوں کے لیے پیسے رکھے اور ساتھ ہی نصیحت کی کہبارش کی آمد ہے لہٰذا جھنڈیاں چودہ اگست سے ایک دن پہلے لگانا تو اچھا رہے گا۔ مایوس دانش کی پیسے پاکر بانچھیں کھل گئیں۔
محمود دھوبی کے بیٹے حسن سے اس کی اچھی سلام دعا تھی بلکہ کرکٹ کے کھیل کے ساتھی تھے۔ اسے یقین تھا کہ حسن اسے کم قیمت میں جھنڈیاں دے دے گا لہٰذا پیسے حاصل کرکے دانش فوراً حسین کے پاس پہنچا۔
حسین کے چھوٹے سے اسٹال پر کئی ننھے گاہک موجود تھے، چمکتے دمکتے بچوں کو بڑے شوق سے اٹھا اٹھا کر دیکھ رہے تھے، کچھ دیر دیکھ بھال کر سب نے اپنے اپنے لیے ایک بیج خریدا کس کس نے گھر میں لگانے کے جھنڈے بھی لیے۔
حسین جب فارغ ہوا تو دانش کی طرف متوجہ ہوا۔
ہاں بھئی دانش صاحب کو کیا لینا ہے۔ حسین نے مسکرا کر پوچھا۔
یار ویسے تو میں جھنڈیاں لینے آیا ہوں لیکن یہ بیج بڑا شاندار ہے۔ دانش نے رنگین جہاز والا چمکتا ہوا بیج اٹھایا۔
کتنے کا ہے؟۔
دس روپے کا۔
ہوں، میرے لیے کم نہیں ہوں گے۔
یار میں نے ان میں بہت تھوڑا منافع رکھا ہے اور وہ بھی ایک خاص مقصد کے لیے۔
ہوں کس مقصد کے لیے، دانش نے دلچسپی سے پوچھا۔ اس کو پورا یقین تھا کہ وہ مقصد کمپیوٹر کے گیم خریدنے ہوں گے یا آئس کریم کھانی ہوگی یا پھر موبائل کے لیے جمع کرنے ہوں گے۔
یار یہ جو ہمارے گھروں کے پیچھے کچی جھونپڑیاں ہیں ناں۔
ہاں یا وہہی جو بازار والی گلی کے بعد آتی ہے۔ تمہارے ابا کا بریانی کا ٹھیلہ جہاں لگتا ہے۔
اچھاتو پھر۔
یار وہاں بہت سے بچے ہیں جو یا تو کوڑا چنتے ہیں یا دن بھر یوں ہی بیکار پھرتے ہیں اگر ہم ان کو تھوڑا بہت پڑھادیا کریں تو کیسا رہے گا۔
یار تمہیں پڑھانا ہی ہے تو بچوں کو ٹیوشن پڑھاﺅ کہ کچھ ہاتھ بھی آئے۔
نہیں یا میرے ابا کہتے ہیں کہ جس طرح پیسوں کی زکوة ہوتی ہے اس طرح جسمانی صلاحیتوں اور علم کی بھی زکوة ہوتی ہے اور زکوة ادا کی جائے تو ہر چیز پاک بھی ہوتی ہے اور برکت بھی حاصل ہوتی ہے۔ دانش نے سر اٹھا کر حسین کو دیکھا عزم و ہمت کا ایک عجیب رنگ اس کے چہرے پر تھا۔
میرے ابا کہتے ہیں کہ اگر ہر پڑھا لکھا اپنے علم کی زکوة نکالتا رہے تو بہت جلد ہمارے ملک کا کوئی بچہ جاہل نہ رہے۔
یار تمہارے ابا تو مفکر لگتے ہیں۔
دانش نے پیچھے فاصل پر بیٹھے محمود چاچا کو دیکھا۔ کاﺅنٹر پر کھڑے کسی گاہک کے کپڑے گن رہے تھے۔ دانش نے فی الحال بیج خریدنے کا ارداہ ترک کرکے صرف جھنڈیاں خرید لیں لیکن امی کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے انہیں احتیاط سے الماری میں رکھ دیا، ابھی 14 اگست میں کئی دن تھے۔
امی کا پیاز کاٹ کاٹ کر برا حال تھا۔ بریانی کے مصالحے کے لیے ڈھیروں پیاز، لہسن اور ادرک کا مصالحہ بنانا کوئی آسان کام تھا؟؟ کبھی کبھی تو دانش ککو بھی ان کے ساتھ لگنا پڑتا۔
امی ابا سے کہہ کر اس کام کے لیے کوئی نوکر رکھیں یا کوئی لڑکا۔
کہا تو کئی دفعہ ہے بیٹا ہر دفعہ کہتے ہیں کہ ایک دیگ کا منافع اتنا تھوڑی ہوتا ہے کہ گھر کا خرچ بھی نکلے اور نوکر کی تنخواہ بھی ہو۔
اچھا یہ بتائیے خریدنے والے اگر زیادہ ہیں تو زیادہ دیگ بنائی جائے تو منافع بھی زیادہ ہو۔
چھوڑو بیٹا ابھی ایک دیگ کے لیے مصالحہ بنانا مشکل ہے اور تم مزید کی کہانی سنارہے ہو۔
امی کی بات سن کر دانش خاموش ہوگیا لیکن اس کے ذہن میں کوئی بات تھی جو چکر کھا رہی تھی، بے کار پھرنے سے بہتر ہے بریانی کی دیگ کے مصالحے بنانے کا کام
اگلا دن چھٹی کا تھا۔ صبح کرکٹ کا میچ تھا، اس دن میچ کے بعد دانش نے حسین کو روک لیا۔
آﺅ یار کچھ گپ شپ کرتے ہیں۔
گلی کے نکڑ پر چائے والے کی کرسیوں پر بیٹھ کر گپ شپ کرنے کا مزا ہی کچھ اور ہوتا ہے۔ حسین نے چائے کے ساتھ دو گرما گرم کرارے پراٹھے بھی منگا لیے۔
واہ بھئی واہ مزا آگیا۔
دانش نے کرارے نمکین مزے دار پراٹھے کا لقمہ توڑ کر منہ میں رکھا اور ساتھ ہی چائے کی چسکی لی۔
باتیں کرتے ہوئے دانش کی نظر دو لڑکوں پر پڑی جو ہر دکان اور ٹھیلے کے سامنے سے گتے کے ڈبے اور کاغذ سمیٹ سمیٹ کر اپنے کندھے پر پڑے تھیلے میں ڈال رہے تھے۔
ارے ہاں یار.... یاد آیا تم بچوں کی تعلیم کے بارے میں کچھ سوچ رہے تھے ناں؟
ہاں،
حسین کے منہ میں پراٹھے کا ایک بڑا ٹکڑا تھا لہٰذا وہ اس سے زیادہ کچھ بول بھی نہیں سکتا تھا۔
یار ابا کہہ رہے تھے کہ اگر آدم پلازہ کے روڈ میں جہاں بہت آفس اور دکانیں ہیں بریانی کا ایک اور ٹھیلا لگایا جائے تو دوگنا منافع ہو۔
ہاں....! حسین پھر صرف اتنا ہی بول پایا۔
لیکن اماں تو ایک دیگ کا مصالحہ کاٹ کاٹ کر پریشان رہتی ہیں۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم ان بچوں کی مدد سے مصالحے کا کام کروائیں پھر ان کو دو سے تین گھنٹے پڑھادیں۔
ہونہہ! یہ لوگ اپنے وقت کو بڑا قیمتی سمجھتے ہیں وہ کیوں مصالحہ بنانے اور پڑھنے میں وقت ضائع کرنا چاہیں گے۔
لیکن تم ہی تو کہہ رہے تھے کہ یہ لوگ بے کار پھرتے رہتے ہیں۔
ہاں لیکن صبح کے وقت ان کا اسی طرح تھیلے بھرتے گزرتا ہے۔
تو پھر کیا ہے ہم ان کو دوپہر میں پڑھادیں اور اگر دیگ میں منافع ہوا تو ابا بھی ان کو کچھ نہ کچھ دینے پر آمادہ ہوجائیں گے۔
ہاں منصوبہ کچھ نہ کچھ قابل عمل لگ رہا ہے، چلو یوں کریں گے کہ آج ان سے بات کرکے دیکھیں گے لیکن ابھی ان کو صرف یہ کہنا کہ ایک گھنٹہ آکر پیاز، لہسن چھیلیں، اس کے بعد دو گھنٹے ان کی پڑھائی ہوگی۔ صرف ابھی تین مضمون پڑھائیں گے اردو، انگریزی اور حساب، ٹھیک ہے ناں۔
حسین اور دانش کی کوششوں سے نہ صرف بچے تیار ہو گئے بلکہ دانش کے ابا بھی خوش ہوگئے کہ انہیں تھوڑا سا پیسہ لگا کر اچھا خاص بلکہ دو گنا منافع ہونے لگا تھا۔ دوسرے مہینے سے دانش نے ابا سے منافع میں سے ایک چوتھائی ان کی محنت کے معاوضہ کی ادائیگی کے لیے لینا شروع کردیا۔ ابا اس پر بھی راضی ہتھے کیوں کہ پورے محلے میں حاجی ظہیر الدین بریانی والے کی دھوم تھی۔ چھوٹے بڑے سب ہی ان کا پرانا نام حاجی صاحب بھلا کر بڑے ادب سے ان کا پورا نام لیتے تھے۔ حاجی ظہیر الدین بریانی والے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close