Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

چراغ

 
  حافظ عبدالمتین  
 
ایسا آج پہلی مرتب نہیں ہوا تھا۔ پہلی مرتبہ میں نے اسے اس حالت میں اس وقت دیکھا جب ایک ماہ پہلے میں نے بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او میں ملازمت اختیار کی تھی۔ اس دن سے ہر روز میں دفتر سے نکلتے ہی اس بچے کو فروٹ چاٹ کی ریڑھی پر اس کے باپ کے ساتھ دیکھتا تھا۔ پہلے روز میں نے اسے غور سے اس وقت دیکھا جب فروٹ چاٹ سے زیادہ اس کی معصوم آواز میں تشہیری پکار۔
بابو جی فروٹ چاٹ کھالو، اس کے فروغ چاٹ ڈالتے ننھے ہاتھوں کو دیکھا تو مجھے محسوس ہوا، اور شاید ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے والوں کو ایسا ہی محسوس ہوتا ہو، کہ اس معصوم بچے کی عمر تو اسکول میں جا کر علم کا خزانہ سمیٹنے اور کھیلنے کودنے کی تھی، تاہم اس روز کی پہلی ملاقات پر میں نے چاٹ کھانے پر ہی اکتفا کیا اور کوئی بات کیے بنا اپنی راہ لی۔
اتفاق سے اگلے روز ہی مجھے ایک سیمینار کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا پڑا اور دوبارہ کچھ دن تک مجھے چاٹ کھانے کے لیے وہاں جانے کا موقع نہ مل سکا۔
میں اکثر سوچتا ہوں، ہم پرھے لکھے لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں، مجبور لوگوں کا درد ہمارے دل میں تھوڑی دیر کے لیے اس وقت جاگتا ہے جب وہ ہمارے سامنے ہوتے ہیں، ان کے غائب ہونے کے بعد ہماری مصروفیت ہمیں اپنی ذات کے خول سے باہر ہی نہیں نکلنے دیتی۔
میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا، اس بچے کا خیال میرے ذہن میں محو ہوگیا۔ تین دن بعد جب دوبارہ دفتر گیا تو جاتے ہوئے میں نے اس بچے کو ریڑھی پر دیکھا، اس کے ساتھ موجود شخص کے بارے میں میرا خیال تھا کہ وہ اس کا باپ ہوگا۔ میں نے سوچا کہ واپسی پر اس سے چاٹ کھاﺅں گا۔ شاید اس طرح اس کے باپ سے بات کرنے کی کوئی سبیل نکل آئے۔
دفتر سے چھٹی ہونے تک میں بے تاب ہی رہا۔ چھٹی کے فوراً بعد میں نے اپنے ذہن میں تعلیم کے حق اور چائلڈ لیبر کی مخالفت میں تمام تر دلائل کو جمع کیا اور اس کی ریڑھی پر چلاگیا۔
میرے سلام کا گرمجوشی سے جواب دینے کے بعد اس نے چاٹ تیار کرنا شروع کی تو میں نے اس سے نام پوچھا۔
محمود! اس نے اپنا کام جاری رکھتے ہوئے جواب دیا۔ جانتے ہو ہماری تاریخ میں محمود نام کی مشہور شخصیت کا کیا کارنامہ ہے۔ میں نے ایک اور سوال جڑدیا۔ جی صاحب جی جانتا ہوں میں نے پانچویں کی کتاب میں پڑھا تھا کہ محمود غزنوی نے سومنات کا مندر توڑا تھا اور ہندوستان پر سترہ حملے کیے تھے، حقیقت یہ ہے کہ اس کے جواب سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے اس ریڑھی والے شخص سے پوچھا۔ آپ نے اپنے بیٹے کو اسکول سے کیوں اٹھالیا۔
بیٹا! میں اس کا باپ نہیں ہوں، یہ تو میری ریڑھی پر کام کرتا ہے۔ میں نے اپنے اندازے کی غلطی پر شرمندہ ہوتے ہوئے بچے کی طرف دیکھا تو وہ چاٹ کی پلیٹ میرے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے بولا۔ صاحب جی! میرے ابو تو چھ ماہ قبل اس دنیا سے چلے گئے تھے۔ میری امی کے پاس تو ہماری اچھی پرورش کے لیے وسائل نہیں تھے، وہ بھلا اسکولوں کی مہنگی تعلیم کیسے برداشت کرتیں.... مجھے پانچویں تک پڑھایا مگر میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں۔ اپنی ماں کی مشکلات کو دیکھ کر میں نے پڑھائی چھوڑ دی اور یہ کام کرنا شروع کردیا۔ میری ماں کو بہت شوق تھا کہ میں پڑھائی کروں۔ اب بھی میں جب شام کو اپنی کمائی اس کے ہاتھ میں رکھتا ہوں تو خوشی کے بجائے غم کے دو آنسو اس کے گالوں پر ڈھلک جاتے ہیں۔
میں نے سوچا اس سے بڑی منافقت کیا ہوگی کہ میں این جی او کے سیمیناروں میں جوشیلی تقریریں کرنے کے بعد بھی اس بچے کے لیے کچھ نہ کرسکوں۔
ایک لمحے میں یہ فیصلہ ہوا اور میں نے اسے کہا، اگر میں تمہاری تعلیم کے سارے اخراجات برداشت کروں تو کیا تم پڑھنے کے لیے تیار ہو، اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا تو اس کی معصوم آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے اور یہ خوشی کے آنسو تھے۔ مجھے لگا کہ شاید میرے ایک چراغ روشن کرنے سے اردگرد کے ماحول سے تاریکی چھٹ گئی ہو اور چہار سو علم کی روشنی پھیلنے لگی ہو۔ کیا آپ مزید چراغ جلانے میں میری مدد کریں گے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close