Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

بوتل میں کشتی

 
   
 
لہریں مارتے سمندر کے کنارے ماہی گیروں کی ایک چھوٹی سی بستی آباد تھی۔ غریب مچھیرے، ان پڑھ، جاہل اور غیر مہذب ماہی گیر سمندر سے مچھلیاں پکڑ کر شہر کی منڈی میں لے جاتے اور اس طرح اپنا اور اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتے۔
ننھا راہو ماہی گیروں کے سردار کو پوتا تھا، اس کے ماں باپ بچپن میں ہی اللہ کو پیارے ہوچکے تھے، اب اس کے دادا اور دادی ہی اس کے لیے سب کچھ تھے جو اپنے سے زیادہ اس کی دیکھ بھال کرتے اور اپنے ہونہار پوتے کی خوشی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردینے کے لیے تیار ہوجاتے۔
راہو کے دادا کے پاس تین شکاری کشتیاں تھیں، جب بوٹھا کشتی میں بیٹھ کر سمندر کی اٹھاہ گہرائی میں مچھلیاں پکڑنے جاتا تو ننھے راہو کے دل میں بھی یہ خواہش لہریں مارتی کہ وہ بھی اپنے دادا کی طرح مضبوط ہاتھ پیروں کا بڑا سا آدمی ہوتا، اس کی بھی کوئی کشتی ہوتی اور وہ اس میں بیٹھ کر مچھلیاں پکڑا کرتا۔ دن رات وہ اسی طرح کے سنہرے خواب دیکھا کرتا۔ اس کے ننھے سے دل میں جلدی سے بڑا ہو کر ماہی گیر بننے کی بے حد تمنا تھی، کبھی کبھی وہ بوڑھے دادا سے کہہ دیتا۔ کیوں دادا اب تو میں اتنا بڑا ہوگیا۔ اب میں کوئی بچہ تھوڑا ہی ہوں۔ کل کو مجھے بھی اپنے ساتھ شکار پر لے چلنا۔ میں بھی کشتی میں بیٹھ کر مچھلیاں پکڑوں گا اور بوڑھا ہنس کر جواب دیتا۔ بس تھوڑے دن اور ٹھہر جاﺅ۔ ابھی تو تم بالکل ننھے منے سے ہو۔ سمندر کی طوفانی موجوں کو دیکھ کر ڈر جاﺅگے۔ جب تم بڑے ہوجاﺅ گے، جوان، مضبوط، دلیر اور عقل مند۔ تب تم بھی سمندر سے مچھلیاں پکڑا کرنا۔ لیکن راہو کے دل پر بوڑھے داداد کی تسلیوں کا کچھ اثر نہ ہوتا اور وہ بری طرح مچل جاتا۔
ایک دن بوڑھے نے اس کی روز روز کی ضد سے تنگ آکر اسے ایک نہایت عجیب و غریب چیز دی۔ یہ ایک چھوٹی سی کشتی تھی جو بوتل میں بند تھی۔ ننھے راہو نے اچنبھے سے بوتل کو دیکھا اور پھر اپنے دادا کو سوالیہ نظروں سے گھورنے لگا۔ بوڑھا اس کا سر سہلا کر بولا۔بیٹا تمہیں ماہی گیر بنانے سے پہلے میں تمہارا امتحان لینا چاہتا ہوں۔ اگر تم ماہی گیروں جیسے بہادر، عقل مند اور دلیر ثابت ہوئے تو پھر میں تمہیں اپنے ساتھ سمندر میں لے جایا کروں گا۔ یہ جادو کی کشتی ہے، اسے بہت سنبھال کر رکھنا کیوں کہ اگر یہ ٹوٹ گئی تو پھر سمجھ لینا کہ میری کشتی بھی سمندر میں غرق ہوگئی۔ جب تک یہ بوتل اور اس کے اندر کی کشتی تمہارے پاس صحیح سلامت رہے گی مجھے سمندر کی طوفانی موجیں اور ہیبت ناک بھنور کوئی نقصانا نہیں پہنچائیں گے لیکن اگر اسے کوئی گزند پہنچا تو پھر میرا خدا ہی حافظ ہے۔
تم بے فکر رہو دادا۔ راہو سینہ تان کر بولا۔ میں اس کشتی کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھوں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے اور تم دیکھو گے کہ میں اپنے وعدے کا کہاں تک پاس کرتا ہوں۔
دوسرے دن علی الصبح راہو بستر پر پڑا کروٹیں بدل رہا تھا کہ اسے اپنی دادی کی آواز سنائی دی۔ وہ زور زور سے کہہ رہی تھی۔ خدا کے لیے ماان جاﺅ۔ آج سمندر میں جاناموت کو دعوت دینا ہے۔ دیکھتے نہیں موسم کتنا خراب ہے۔ آسمان پر بادل چھائے ہوئے ہیں اور جھکڑ چل رہے ہیں۔ کیوں خواہ مخواہ خطرہ مول لیتے ہو مگر بوڑھا مستقل مزاجی سے بولا۔ اسی برس ہوگئے مجھے سمندر کی چھاتی پر کشتی سے کھیلتے ہوئے۔ اب بھی میں اس سے ڈروں تو یہ میری بزدلی ہوگی اور پھر آج مچھلیاں نہ پکڑوں گا تو کل روٹی ک یسے ملے گی؟ اناج بالکل ختم ہے۔ میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔
ننھے راہو کا دل سینے میں دھک دھک کرنے لگا۔ اس نے خوف بھری نگاہوں سے بوتل والی کشتی کو دیکھا اور پھر مضبوطی سے اسے دونوں ہاتھوں سے تھام لیا۔ اس کے دماغ میں اپ نے دادا کے وہ الفاظ گھوم رہے تھے جو اس نے بوتل دیتے وقت کہے تھے۔ وہ چیخ اٹھا۔ دادا تم فکر نہ کرو۔ طوفان تمہارا بال بھی بیکا نہیں کرسکے گا۔ میں اس بوتل کو بڑی احتیاط سے رکھوں گا۔
دوپہر کے وقت جھکڑ زیادہ تیز ہوگیا۔ ہوا کے تیز و تند جھونکوں سے سار گھر لرزنے لگا۔ راہو ڈرا سہما بوتل پکڑے چولہے کے پاس بیٹھا تھا اور اس کی دادی کھڑکی میں کھڑی سمندر کی اٹھتی ہوئی موجوں کو خوفزدہ نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔
اف میرے اللہ! اب کیا ہوگا۔ بڑھیا کانپ کر بولی۔ سمندر کی لہریں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ خدایا، خدایا۔
راہو چپ چاپ بیٹھا آگ کو تکتا رہا مگر بوتل کے گرد اس کے ہاتھوں کی گرفت اور زیادہ مضبوط ہوگئی۔ چولہے کی آگ بجھ چکی تھی۔ گھر میں اور لکڑیاں نہ تھیں۔ بڑھیا بولی۔ بیٹا دروازے کے باہر والے پیڑ کے نیچے سے لکڑیاں تو چن لا۔ خبر کہیں اور نہ چلے جانا۔ا
راہو نے بوتل کو بڑی آہستگی سے تپائی پر رکھ دیا اور دروازہ کھول کر باہر جانے لگا مگر ابھی اس نے کنڈی کھولی ہی تھی کہ ہوا کا جھونکا ایسا آیا کہ کواڑ بڑے زور سے کھل گئے اور راہو اچھل کر نیچے گر پڑا۔ ساتھ ہی جھونپڑی میں کھنکھناہٹ کی آواز گونجی۔ بوتل زمین پر گر کر ٹوٹ گئی تھی۔
آہ دادی اماں۔ ہائے دادی اماں، وہ سسکیاں لے کر بولا۔ بوتل ٹوٹ گئی۔ اب کیا ہوگا، دادا تم کہاں ہو۔ میں تمہیں بچاﺅں گا۔ میں تمہیں بچاﺅں گا۔ اس نے دیوانوں کی طرح ٹوٹی ہوئی بوتل کے ٹکڑوں اور کشتی کو اٹھایا اور دروازہ کھول کر سمندر کی طرف دوڑنے لگا۔
شام کا بھیانک سناٹا۔ ہولنااک سمندر، کنارہ مگر راہو اردگرد سے بالکل بے خبر ایک پتھریلی چٹان پر کھڑا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ یااللہ، یااللہ، اس نے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر دعا مانگتے ہوئے کہا۔ میرے دادا کو صحیح سلامت کنارے تک پہنچا دے۔ تو جانتا ہے کہ بوتل میں نے جان بوجھ کر نہیں توڑی۔ میرا اس میں کوئی قصور نہیں۔ میں بالکل بے گناہ ہوں۔ اس نے آنکھیں جھکا کر ٹوٹی ہوئی بوتل کو دیکھا جو اس کے کانپتے ہوئے ہاتھوں میں لرز رہی تھی اور پھر اس کے ننھے سے دماغ میں امید کی ایک ہلکی سے شعاع پیدا ہوئی۔ ٹوٹی ہوئی چیز جوڑی بھی تو جاسکتی ہے، اس نے کشتی کو بوتل میں رکھ دیا اور قمیض کا دامن پھاڑ کر بوتل کے ٹکڑوں کو جوڑ کر خوب مضبوطی سے باندھ دیا۔ کشتی پھر بوتل میں محفوظ تھی۔ راہو کی آنکھیں خوشی کے مارے جگمگانے لگیں۔ اب دادا بالکل محفوظ ہوگئے، اب انہیں سمندر کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا۔ اس نے زور سے چیختے ہوئے کہا اور منہ اٹھا کر د یکھا،۔ دور دھندلکے میں ایک کشتی ہچکولے کھاتے کنارے کی طرف آرہی تھی۔ راہو کے منہ سے خوشی کی ایک چیخ نکل گئی اور وہ آواز دے کر بولا۔ دادا، دادا۔ کیا تمہی ہو۔ل ٹھہرو، میں آگ جلاتا ہوں تاکہ تمہیں کنارہ نظر آسکے، وہ چٹان سے کود گیا اور ادھر ادھر سے لکڑیاں اکٹھی کرکے کنارے پر جمع کردیں اور پھر پتھروں کو رگڑ کر انہیں آگ لگادی۔ سمندر کا کنارہ روشنی سے جگمگانے لگا۔
کشتی آہستہ آہستہ ہلکورے لیتی کنارے کی طرف آرہی تھی۔ جوں جوں وہ قریب آتی گئی۔ راہو کی بے چینی بڑھتی گئی۔ وہ اچھل اچھل کر آوازیں دے رہا تھا۔ اب کشتی والا بھی اسے جواب دے رہا تھا۔ راہو نے سنا۔ اس کے دادا ہی کی آواز تھی۔ اس نے آگ اور تیز کردی اور کشتی کی رسی تھامنے کے لیے تیار ہوگیا۔
کون راہو، بوڑھے ملاح نے پوچھا۔ لو یہ رسی کھونٹے سے باندھ دو اور جب راہو نے رسی مضبوطی سے جکڑ دی تو بوڑھا اسے گود میں لے کر بولا۔ شاباش بیٹا، تم نے بڑا بہادری کا کام کیا۔ اب تم بے شک ملاح بننے کے لائق ہو۔ کل سے میرے ساتھ سمندر میں مچھلیاں پکڑنے چلنا۔
اور راہو کاننھا سا دل کشتی کی طرح ہچکولے کھانے لگا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close