Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مغرور بادشاہ

 
   
 
بہت عرصے کی بات ہے۔ ایران پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا، اس کا نام ابراہیم تھا، اسے اپنی دولت پر بہت غرور تھا، وہ کہا کرتا کیا دنیا میں مجھے سے بھی زیادہ کوئی دولت مند ہے؟
ایک دفعہ صبح فوج کی پریڈ دیکھنے کے بعد اس نے اپنے وزیر سے کہا۔ آج میں شکار کھیلنے جاﺅں گا۔
جلد ہی شکار کا انتظام کیا گیا اور بادشاہ اپنے بہت سے ساتھیوں کے ساتھ جنگل کو چل دیا۔ ایک ہرن کا پیچھا کرتے ہوئے بادشاہ اپنے ساتھیوں سے جدا ہوگیا لیکن ہرن ہاتھ نہ آیا۔ وہ تھک کر چور ہوگیا تھا اور اسے بڑی زور کی پیاس لگ رہی تھی، ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ ایک تالاب کے کنارے پہنچ گیا۔ اس کی جان میں جان آئی۔ وہ جھٹ کپڑے اتار کر پانی میں کود پڑا اور تیرتے تیرتے کنارے سے دور نکل گیا۔
اسی وقت ایک اجنبی جو شکل و صورت میں بادشاہ سے بہت ملتا تھا، ادھر آنکلا، اس نے بادشاہ کے کپڑے پہن لیے اور پاس ہی کھڑے گھوڑے پر سوار ہو کر چل دیا، ادھر بادشاہ کے دوسرے ساتھی بادشاہ کو تلاش کررہے تھے، جب ان لوگوں نے گھوڑے پر سوار اپنے بادشاہ کو آتے دیکھا تو بہت خوش ہوئے، شام ہوتے ہوتے وہ لوگ محل میں پہنچ گئے۔
ادھر بادشاہ جب نہا چکا تو اس نے دیکھا کہ اس کے کپڑے اور گھوڑا غائب ہے، ادھر ادھر تلاش کرنے کے باوجود گھوڑا کہیں نہ ملا تو وہ بہت گھبرایا۔
کافی دیر سوچنے کے بعد اسے خیال آیا کہ پاس ہی اس کا ایک سردار رہتا ہے، میں اس کے پاس جاﺅں اور اس سے گھوڑا لے کر محل میں جاﺅں اور پتا لگاﺅں کہ کس نے میرا گھوڑا اور کپڑے چرانے کی ہمت کی ہے۔
جب وہ سردار کے قلعے کے پاس پہنچا تو شام ہوگئی تھی،اس نے دروازہ کھٹکھٹایا، پہرے دار نے پھاٹک کھولنے سے پہلے پوچھا۔ کون ہے؟
پھاٹک کھولو بادشاہ نے چلا کر کہا۔ پھاٹک کھلا۔ پہرے دار نے ایک ننگے آدمی کو دیکھ کر حیرانی سے پوچھا۔ کون ہے تو اور کہاں سے آیا ہے؟
بادشاہ کو بہت غصہ آیا۔ اس نے کہا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ میں بادشاہ ابراہیم ہوں۔ اپنے مالک سے جا کر کہو کہ بادشاہ نے ایک گھوڑا اور کپڑے مانگے ہیں۔
بدمعاش پہرے دار نے ڈانٹ کر کہا۔
ابھی ابھی تو میرے مالک بادشاہ کے ساتھ شکار کھیل کو لوٹے ہیں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے بادشاہ کو محل کی طرف جاتے دیکھا ہے، میں ابھی سردار کو یہ بات بتات ہوں۔
وہ بادشاہ کو اندر لے گیا اور سردار کو سب حال بایا۔
سردار نے پوچھا۔ تم کون ہو؟ کیا نام ہے تمہارا؟
میں تمہارا بادشاہ ہوں۔ کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ ابھی تھوڑے ہی دن ہوئے میں نے تمہارا عہدہ بڑھایا تھا۔
جھوٹا کہیں کا۔ سردار نے غصے سے کہا۔
تو اپنے آپ کو بادشاہ کیسے کہتا ہے، میں خود بادشاہ کو محل تک چھوڑ کر آیا ہوں۔ بھاگ جا یہاں سے ورنہ دھکے دے کر باہر نکوادوں گا۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے نوکروں کی طرف دیکھا۔ نکال دو اس کو باہر۔
بادشاہ باہر آکر اس بے عزتی کا بدلہ لینے کی سوچنے لگا۔ اس نے دل میں کہا، اس آدمی کے ساتھ میں نے اتنی بھلائی کی اور آج یہ مجھے پہچاننے سے انکار کرنے لگا۔
اب اسے اپنے ایک وزیر کی یاد آئی اور وہ اس کے پاس پہنچا۔ مگر یہاں بھی وہی بے عزتی ہوئی جو سردار کے ہاں ہوئی تھی۔
بادشاہ کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا کہ کیا کرے۔ وہ سوچنے لگا کہ محل میں نہ جانے کون بادشاہ بن بیٹھا ہے، یہ خیال آتے ہی اسے غصہ آیا اور وہ محل کی طرف چل دیا۔
محل پر کھڑے پہرے دار نے اسے روکا، بادشاہ نے کہا۔ تم مجھے نہیں پہچانتے؟ میں تمہارا بادشاہ ہوں۔ اگر تمہیں یقین نہ ہو تو یہ انگوٹھی لے جا کر ہماری بیگم کو دے دو اور کہو کہ ہمارے لیے بادشاہ لباس بھیج دو۔
پہرے دار نے ڈانٹ کر کہا۔ تم پاگل ہوگئے ہو؟ اس وقت بادشاہ خود بیگم کے پاس بیٹھے ہیں۔ خیر میں تمہاری بات مان لیتا ہوں۔ لیکن جو کچھ ہوا اس کے تم ذمہ دار ہوگے۔ یہ کہہ کر پہرے دار محل کے اندر چلاگیا۔
پہرے دار نے محل میں جا کر بیگم کو انگوٹھی دے کر سارا حال سنادیا۔
بیگم پہلے تو چونگی۔ لیکن اتنے میں اس اجنبی نے کہا۔ شکار کے وقت میری انگوٹھی گر گئی تھی۔ جاﺅ اس آدمی کو لے آﺅ۔
پہرے دار بادشاہ کو اندر لے گیا۔ خود اس کی بیگم بھی اسے نہ پہچان سکی۔ لیکن اس کے دل میں شک ضرور ہوا۔ بادشاہ نے ہمت کرکے پوچھا۔ تم مجھے نہیں پہچانتیں؟ میں تمہارا خاوند ہوں۔
بیگم نے بات کاٹ کر نوکروں کو حکم دیا کہ اس کو دھکے دے کر باہر نکال دو۔
بے چارہ بادشاہ دھکے دے کر باہر نکال دیا گیا۔ وہ تڑپ اٹھا۔ زندگی میں پہلی دفعہ اس کے غرور کو ٹھیس لگی تھی۔
اچانک اسے اپنے پیر کی یاد آئی۔ جھٹ پٹ اس کے پاس پہنچا۔ پہلے تو دوسروں کی طرح انہوں نے بھی اس کو نہیں پہچانا۔ لیکن جب اس نے اپنی زندگی کے کئی واقعات بتائے تو پیر صاحب کو یقین آیا۔ بادشاہ نے شرمندہ ہو کر ان سے کہا۔ یہ ضرور میرے غرور کا پھل ہے۔
پیر صاحب نے بادشاہ کو کپڑے پہنا کر کہا۔ جاﺅ۔ اب لوگ تمہیں پہچان سکیں گے۔
جب بادشاہ کپڑے پہن کر شہر میں پہنچا تو لوگ اسے جھک جھک کر سلام کرنے لگے۔ شہر بھر میں کھلبلی مچ گئی۔
لوگوں کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اصلی بادشاہ کون ہے۔
اجنبی کے کانوں میں بھی یہ بات پہنچی اور اس نے بیگم سے کہا۔ جاﺅ۔ تم دیکھ کر آﺅ۔ یہ کیا ہورہا ہے۔
بیگم خود حیران تھی کہ یہ بات کیا ہے
آخر دربار لگایا گیا۔ اور درباریوں سے بادشاہ کو پہچاننے کے لیے کہا گیا، مگر کوئی بھی نہ پہچان سکا۔
آخر اجنبی خود اٹھا اور کہا۔ تمہارا اصلی بادشاہ تو یہ ہے۔ لیکن یہ اپنے غرور میں اتنا چور تھا کہ اسے خدا سے بھی ڈر نہیں لگتا تھا، اس لیے اس کو یہ سزا دی گئی تھی، اب اس کا غرور ٹوٹ گیا ہے۔ اب میں خود اسے گدی پر بٹھاتا ہوں۔ اتنا کہہ کر اجنبی محل سے باہر چلا گیا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close