Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

لکڑی کا گھوڑا

 
   
 
پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایران پر ایک بڑا زبردست بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہ نئی نئی ایجادات اور عجائبات کا بڑا ہی اشتیاق رکھتا تھا۔ اسی لیے دور دور کے کاریگر نفیس اور عجیب و غریب چیزیں بادشاہ کے حضور لاتے اور انعام پاتے۔
ایک دفعہ ہندوستان کا ایک شخص بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور لکڑی کا ایک گھوڑا پیش کیا۔ گھوڑا اس کاریگری اور خوب صورت سے بنایا گیا تھا کہ دیکھنے میں بالکل جان دار لگتا تھا۔
ہندوستانی نے بادشاہ نے کہا، حضور‘ بندہ یہ نادر گھوڑا آپ کے ملاحظے کے لیے لایا ہے، اس گھوڑے کا وصف یہ ہے کہ اس پر سوار ہو کر انسان جدھر چاہے ہزاروں کوس چلاجائے۔
بادشاہ نے کہا۔ اگر واقعی ایسا ہی ہے تو ایسا نادر گھوڑا نہ میں نے دیکھا نہ سنا، لیکن جب تک میں خود اس کی آزمائش نہ کرلوں گا، تمہاری بات کا یقین نہیں کروں گا۔
یہ سن کر شہزادہ فیروز نے جو ولی عہد تھا، آگے بڑھ کر کہا۔ عالی جاہ! اگر اجازت ہو تو میں اس گھوڑے پر سواری کروں؟
بادشاہ سے اجازت پا کر شہزادے نے گھوڑے کی پشت پر سوار ہو کر ایڑ لگائی، لیکن گھوڑا اپنی جگہ سے ذرا بھی نہ ہلا۔
شہزادے نے سوداگر سے مخاطب ہو کر کہا:اس کی تیزی کہاں گئی۔
یہ بات سن کر ہندوستانی آگے بڑھا اور گھوڑے کی گردن کے نیچے ایک پیچ دکھا کر کہا: حضور‘ اس پیچ کے پھیرنے سے گھوڑا ہوا کی مانند آسمان کی طرف اڑ جائے گا۔
شہزادے کے پیچ گھماتے ہی گھوڑا تیر کی مانند آسمان کی طرف پرواز کرنے لگا اور یکایک لوگوں کی نگاہوں سے غائب ہوگیا۔
بہت دیر تک بادشاہ اور وزیر بادشاہ کا انتظار کرتے رہے لیکن جب وہ واپس نہ آیا تو بادشاہ کو شبہ ہوا کہ شہزادے کو ضرور کسی آفت کا سامنا پڑ گیا ہوگا۔
بادشاہ نے ہندوستانی کو بلا کر کہا: شہزادے کو کسی قسم کا بھی صدمہ پہنچا تو تمہارا سر قلم کردیا جائے گا۔
حضور خاطر جمع رکھیں مجھے پورا یقین ہے کہ شہزادے کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔ گھوڑے کی گردن کے نیچے ایک اور پیچ ہے جس کے مروڑنے سے گھوڑا زمین کی طرف اتر آئے گا۔
بادشاہ نے کہا: خواہ کچھ ہی ہو، مجھے تمہاری باتوں کا یقین نہیں آتا۔ اس نے افسروں کو حکم دیا کہ جب تک شہزادہ صحیح سلامت واپس نہ آجائے، اس ہندی کو قید میں رکھو۔
ادھر شہزادہ فیروز تیر کی طرح ہوا میں آسمان کی طرف اڑتا چلاگیا، ابھی آدھ گھنٹا بھی نہ گزرنے پایا تھا کہ وہ اس قدر بلندی پر چڑھ گیا کہ سے کوئی شے زمین کی سطح پر نظر نہ آتی تھی۔ پہاڑ زمین کے ساتھ بچھے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ تب اس نے چاہا کہ جہاں سے سوار ہوا تھا، وہاں واپس آجائے، گھوڑے کو نیچے اتارنے کے لیے اس نے پیچ کو الٹی طرف مروڑا، لیکن بے سود، پھر اس نے اسے ادھر ادھر سب طرف گھمایا، مگر گھوڑا نیچے نہ اترا۔
فیروز نے خطرے کو محسوس تو کیا، مگر ہوش و حواس پر قابو رکھا، اس نے گھوڑے کے سر اور گردن کو بڑے غور سے ٹٹولا کہ شاید کوئی پیچ مل جائے، جس کے مروڑنے سے گھوڑا نیچے اترے، آخر بہت جستجو کے بعد دائیں کان کے نیچے اسے ایک پیچ دکھائی دیا جو پہلے پیچ سے چھوٹا تھا، اس پیچ کو مروڑتے ہی گھوڑا جس تیزی سے چڑھا تھا، ویسی ہی تیزی سے نیچے اترنے لگا۔
جب فیروز زمین پر اترا، تو رات کا وقت تھا مگر تاریکی ایسی نہ چھائی تھی کہ کچھ نظر نہ آئے، اس نے دیکھا کہ وہ جگہ جہاں وہ اترا ہے، ایک محل کی چھت ہے جو چاروں طرف سینے تک بلند منڈیر سے گھری ہوئی ہے، گھوڑے سے نیچے اتر کر راہ ڈھونڈنے لگا، آخر ایک طرف اس نے دیکھا کہ ایک زینہ ہے جو نیچے کی منزل تک جاتا ہے۔ اس زینے سے اتر کر وہ مکان کی نچلی منزل میں گیا۔ دالان کا فرش سنگ مرمر کا تھا، دیواروں پر نقاشی اور گل کاری کو دیکھ کر فیروز دنگ رہ گیا، مکان میں بالکل خاموشی تھی، حیران تھا کہ کیا کرے۔
اسی وقت اسے دالان کے ساتھ والے کمرے میں کچھ روشنی معلوم دی۔ فیروز آگے بڑھ کر ایک باریک ریشمی پردے کو اٹھا، ایک سجے ہوئے کمرے میں داخل ہوا جہاں ایک خوب صورت لڑکی سو رہی تھی، لباس سے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شہزادی ہے۔
فیروز نے دو زانو ہو کر شہزادی کی آستین کو کھینچا، جس سے اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ ایک خوب صورت نوجوان کو اپنے پلنگ کے پاس پا کر بڑی گھبرائی۔
فیروز نے اسے دلاسا دیا اور اپنی بپتا سنائی۔
یہ شہزادی بنگال کے راجا کی بڑی لڑکی تھی اور یہ عالی شان محل اس کے باپ نے دارالحکومت سے کچھ فاصلے پر خاص اس کے لیے ہی تعمیر کروایا تھا اور وہ اسی میں رہائش کیا کرتی تھی۔
جب فیروز نے اپنا حال بیان کرچکا تو شہزادی نے کہا۔ ارے شہزادے‘ مطمئن رہو، یہاں تمہیں کسی قسم کی تکلیف نہ ہوگی، جس طرح سے تم اپنے ملک میں رہتے تھے، یہاں بھی اسی شان و شوکت کے ساتھ رہو گے، مجھے امید ہے کہ تمہیں میرے مہمان بن کر رہنے میں کوئی عذر نہیں ہوگا۔
فیروز کو بھلا اس کی درخواست قبول کرنے سے کب انکار ہوسکتا تھا شہزادی نے بھی اس کا دل بہلانے میں کوئی دقیقہ باقی نہ چھوڑا۔ اسی طرح چند ہفتے گزر گئے۔
ایک دن فیروز نے شہزادی سے کہا۔ میں کب تک یہاں بے کار پڑا رہوں گا۔ اب مجھے اجازت دیجیے تاکہ ا پنے گھر جاﺅں۔ اس پر شہزادی بولی۔ میں بھی تمہارے ساتھ جاﺅں گی۔
ایک دن صبح ہی صبح، جب کہ سب خدمت گار سوئے پڑے تھے، فیروز نے اپنے گھوڑے پر سوار ہو ، شہزادی کو پیچھے بٹھا، پیچ مروڑا، گھوڑا آناً فاناً ہوا میں اس تیزی سے اڑا کہ ابھی دو گھنٹے بھی گزرنے نہ پائے تھے کہ ایران کے پایہ تخت کے قریب آپہنچا۔ فیروز نے گھوڑے کا رخ ایک حویلی کی طرف کیا جو محل سے کچھ فاصلے پر تھی، شہزادی کو وہاں چھوڑا، خدمت گاروں کو اس کی سب ضروریات بہم پہنچانے کا حکم دیا اور خود گھوڑے پر سوار ہو، تن تنہا بادشاہ کوا پنا قصہ سنانے کے لیے روانہ ہوا، جب وہ بازاروں سے گزرا تو لوگوں نے شہزادے کو دوبارہ زندہ دیکھ کر خوشی سے تالیاں بجانی شروع کیں۔ محل میں پہنچا تو بادشاہ اسے دیکھ کر خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ شہزادے کو گلے لگایا۔ خوشی کے مارے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس خوشی میں حکم دیا کہ ہندی کو فوراً رہا کرکے مع گھوڑے کے ملک سے باہر نکال دیا جائے۔
شہزادی کو محل میں لانے کے لیے تیاریاں ہونے لگیں۔ ایک عظیم الشان جلوس اس غرض سے نکالا گیا۔
جب ہندی نے سنا کہ فیروز اس گھوڑے پر ایک شہزادے اپنے ساتھ لایا ہے اور اسے ایک حویلی میں چھوڑ کر بادشاہ کے پاس آیا ہے تو اس نے سوچا کہ اب بدلہ لینے کا موقع ہے، اس نے اس حویلی کی راہ لی جہاں شہزادہ ٹھہری ہوئی تھی، وہاں پہنچ کر شہزادی سے کہا۔ بادشاہ نے مجھے آپ کو لانے کے لیے بھیجا ہے۔
شہزادی تیار ہوگئی، دونوں کل کے گھوڑے پر جسے فیروز وہاں چھوڑ گیا تھا، سوار ہوگئے۔ ہندی کا پیچ مروڑنا تھا کہ گھوڑا ہوا کی تیزی سے بادشاہ اور خادموں کی نظروں کے سامنے آسمان کی طرف اڑ گیا۔
بادشاہ نے للکار کر کہا۔ نیچے اتر اور شہزادی کو ہمارے حوالے کر۔ لیکن ہندی نے ذرا بھی اس کے حکم کی پروا نہ کی، اور دوسرے دن دونوں کشمیر کے ایک خوب صورت اور سر سبز جنگل میں پہنچے، شہزادی کو اب معلوم ہوا کہ وہ ایک دشمن کے ہاتھ میں ہے جو ضرور اس پر ظلم کرے گا۔ اس نے چاہا کہ کسی طرح سے اپنی جان اس کے ہاتھ سے چھڑائے۔
جونہی وہ زمین پر اترے، شہزادی نے چلا کر رونا شروع کردیا۔ اس کے رونے سے ایک ہنگامہ جنگل میں برپا ہوا۔ اس غل کے سنتے ہی سواروں کے ایک گروہ نے وہاں آکر دونوں کو گھیر لیا۔ یہ سوار کشمیر کے بادشاہ کے ملازم تھے، شار سے لوٹتے وقت ادھر آنکلے اور رونے کی آواز سن کر وہاں دوڑے آئے۔
کشمیر کے بادشاہ نے ہندی سے پوچھا: تو کون ہے اور یہ عورت جو تیرے ہمراہ ہے‘ کون ہے؟
ہندی نے کہا۔ یہ میری بیوی ہے، تمہیں اس بات سے کیا غرض۔
شہزادی بولی: یہ شخص جھوٹا ہے، اس کا آپ ہرگز اعتبار نہ کریں، یہ ایک جادوگر ہے جو مجھے کل کے گھوڑے پر بٹھا کر ایران سے اڑا کر دھوکے سے لے آیا ہے۔
بادشاہ کو شہزادی کی بات کا اعتبار آگیا۔ اس نے سواروں کو حکم دیا کہ اس ہندی کا سر قلم کردو۔
شہزادی اس ہندی سے نجات پا کر اب بادشاہ کشمیر کے بس میں پڑ گئی، محل میں پہنچ کر بادشاہ نے شہزادی سے کہا۔
خواہ تم رضا مند ہو یا نہ ہو۔ میں نے تمہارے ساتھ شادی کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ یہ بات سنتے ہی شہزادی بے ہوش ہو کر گر پڑی۔
جب اسے ہوش آیا تو ایک ترکیب سوجھی۔ خود کو دیوانہ بنا کر، بادشاہ کو ہزار ہا گالیاں دینے لگی، بادشاہ نے کئی طبیب شہزادی کے معالجے کے لیے بلوائے، لیکن شہزادی کا یہ حال تھا کہ وہ کسی کو پاس نہ پھٹکنے دیتی تھی، وہ جانتی تھی کہ اگر حکیموں نے نبض دیکھی تو سب راز فاش ہو جائے گا، جب کوئی نزدیک پہنچنے کی کوشش کرتا تو جھنجھلا کر اس کے مارنے اور کاٹنے کا قصد کرتی، اس خوف سے کوئی اس کے پاس نہ جاسکتا تھا۔ بادشاہ نے دور دور کی سلطنتوں سے طبیب بلوائے، مگر سب ناکام رہے۔
اب فیروز کا حال سنیے، وہ شہزادی کی جدائی میں بے قرار ہو کر فقیرانہ لباس پہنے، شہر بہ شہر اور ملک بہ ملک اسے ڈھونڈتا پھرتا تھا، اتفاق سے پھرتا پھرتا بادشادہ کشمیر کے محل میں پہنچ گیا، وہاں اس نے لوگوں کی زبانی سنا کہ ایک بنگالے کی شہزادی آئی ہوئی ہے، جس کے ساتھ بادشاہ شادی کرنا چاہتا ہے مگر وہ پاگل پن میں ایسی مبتلا ہے کہ کسی طرح اچھی نہیں ہوتی۔
فیروز سمجھ گیا کہ یہ شہزادی وہی ہے جس کی تلاش میں میں نے شہر بہ شہر خاک چھانی ہے۔
حکیم کا بھیس بدل کر وہ محل میں پہنچا اور علاج کرنے کی ذمہ داری اٹھائی، لیکن یہ شرط کرلی کہ علاج وہ کسی کے سامنے نہیں کرے گا۔
بادشاہ نے اس شرط کو قبول کیا اور حکیم کو شہزادی کے کمرے میں جانے کی اجازت بخشی، شہزادی نے اسے حکیم سمجھ کر برا بھلا کہنا شروع کردیا، لیکن فیروز نے نزدیک پہنچ کر آہستہ سے کہا۔ میں حکیم نہیں ہوں۔ ایران کا شہزادہ ہوں اور تمہاری رہائی کے لیے یہ بھیس بدل کر یہاں آیا ہوں۔
شہزادی نے بھی فیروز کو پہچان لیا اور حیران ہو کر اس کے وہاں تک پہنچنے کا حال پوچھا۔ اور اپنا حال بھی جو اس پر گزرا تھا، بیان کیا، شہزادی نے کہا کہ بادشاہ کشمیر اس سے شادی کرنا چاہتا ہے، فیروز نے کہا۔ تسلی رکھو۔ اس کا ارادہ ہر گز پورا نہ ہونے دوں گا۔ تمہیں اس کے ظلم سے بچانے کی کوئی اچھی سی تدبیر نکالوں گا۔
اب شہزادہ فیروز بادشاہ کے حضور میں پہنچا اور عرض کیا: جہاں پناہ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہزادی کسی جادو کے گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کی سلطنت میں پہنچی ہے۔ بادشاہ نے کہا۔ ہاں یہ بات درست ہے اور گھوڑا اب بھی میرے خزانے میں موجود ہے۔ گھوڑا کیا ہے، ایک عجیب و غریب چیز ہے۔
شہزادے نے کہا: حضور‘ شہزادی پر جادو کا اثر ہوگیا ہے جو ایک خوشبودار سفوف کے جلانے سے، جو کہ میرے پاس ہے، دور ہوسکتا ہے، کل آپ گھوڑے کو کسی میدان میں منگوائیے اور شہزادی بھی وہاں پہنچے، میں وعدہ کرتا ہوں کہ چند ہی منٹوں میں شہزادی صحت یاب ہوجائے گی۔
یہ عجیب علاج دیکھنے کے لیے بہت سے لوگ جمع ہوگئے، شہزادی کو گھوڑے پر بٹھایا گیا، فیروز نے گھوڑے کے اردگرد آگ کی بارہ انگیٹھیاں رکھوائیں اور ان میں خوشبودار سفوف ڈال دیا۔ فوراً ہی انگیٹھیوں سے دھوئیں کا بادل اٹھا جس میں گھوڑا اور شہزادی چاروں طرف سے چھپ گئے تب شہزادہ لپک کر شہزادی کے پیچھے بیٹھ گیا اور گھوڑے کی گردن کا پیچ گھما دیا۔ پیچ گھماتے ہی گھوڑا آسمان کی طرف اڑنے لگا۔
اسی روز شہزادہ فیروز شہزادی کو لے کر ایران میں اپنے باپ کے محل میں پہنچ گیا، بادشادہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کچھ دن بعد دونوں کی شادی دھوم دھام سے رچائی گئی۔
شادی کے بعد بادشاہ ایران نے ایک سفیر بنگالہ کے راجا کی خدمت میں روانہ کیا تاکہ اسے اس امر سے مطلع کرے اور یہ شادی دونوں ملکوں کے درمیان ایک قسم کا صلح نامہ سمجھا جائے، بنگالہ کا راجا یہ خبر سن کر نہایت خوش ہوا اور اس طرح یہ دونوں ملک دوستی کے بندھن میں بندھ گئے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close