Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ایک دن کا ذکر ہے

 
   
 
جب میں اسکول سے آئی تو دیکھا کہ گھر اکیلا ہے۔ صرف نوکر ہی گھر میں ہیں۔ میں نے رشید سے پوچھا۔ممی کہاں ہیں رشید؟ اس نے بتایا کہ جیلر صاحب کے لڑکے کی شادی ہے۔ وہاں گئی ہیں۔سیمیں کو بھی اپنے ساتھ ہی لے گئی تھیں۔ چھوٹے بھائی ابھی اسکول سے نہیں آئے تھے۔ پاپا دورے پر تھے اور باجی، بھائی جان تو اپنے کالج میں رہتے ہی ہیں۔ کہنے کا مقصد یہ کہ گھر پر میں ہی تھی۔ کھانا نکالنے کے لیے کہہ کر میں کپڑے بدلنے چلی گئی۔
زیبا بی بی! آپ کو بھی آنے کے لیے حکم دیا ہے بیگم صاحب نے۔ انور نے مجھے پانی دیتے ہوئے کہا۔
کہاں آنے کا؟ میں نے پوچھا۔
شادی میں۔ آپ کے واسطے فراک، شلوار نکال کر رکھ دیا ہے۔ کچھ دیر آرام کرلیجئے۔
سہ پہر کو حمید پہنچادے گا۔ تب تک چھوٹے میاں بھی آجائیں گے۔ انور نے کہا۔
اچھا کہہ کر میں کھانا کھانے لگی۔ اس کے بعد اپنے کمرے میں آئی۔ سوچا کچھ دیر آرام کرلوں۔ مگر پھر خیال آیا کہ اسکول کا کام پورا کرلینا چاہیے۔ نہ جانے کتنی رات کو واپسی ہو۔ پھر نیند آجائے۔ میں نے اپنی نوٹ بک دیکھی،جس میں اسکول کا ملا ہوا کام لکھتی ہوں۔ آج کا کام تو بہت ہی ہے۔ کیسے پورا ہوسکے گا اتنی سی دیر میں۔ تین سوال حساب کے کرنا، انگریزی کے جملے بنانا، نقشے میں پہاڑ دریا بنانا۔ اردو نظم یاد کرنا۔ تاریخ کے سوال لکھنا اور ڈرائنگ.... یا اللہ ! آج تو سب ہی استانیوں نے کام دے دیا۔ میں نے قطعی فیصلہ کرلیا کہ آج شادی میں نہیں جاﺅں گی۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد میں پڑھنے بیٹھ گئی اور ابھی پورا صفحہ بھی نہیں لکھ پائی تھی کہ قلم ٹوٹ گیا۔ قلم بنانا مجھے آتا نہیں۔ سوچا چھوٹے بھائی آگئے ہوں گے۔ ان سے بنوالوں گی۔ کمرے سے باہر آئی۔ رشید نے بتایا کہ وہ تو شادی میں چلے گئے ہیں۔ خیر کوئی بات نہیں۔ کہتی ہوئی پاپا کے کمرے میں گئی تاکہ قلم تراش لے کر خود ہی جیسا بھی آتا ہے، قلم بنا کر کام چلالوں۔
میں چاقو تلاش کررہی تھی۔ چیزوں کو احتیاط سے اٹھاتی تھی تاکہ خراب نہ ہوجائیں اور پاپا آکر خفا ہوں۔ یکاک مجھے میز کے نیچے کچھ سرسراہٹ معلوم ہوئی۔ ساتھ ہی ردی کی ٹوکری بھی گری۔ جھک کر دیکھا تو مارے ڈر کے برا حال ہوگیا۔ ایک سانپ خاصہ بڑا تقریباً دو ڈیڑھ فٹ لمبا، بہت چمکیلا اور خوب صورت میز کے نیچے.... یا اللہ! اب میں کیا کروں....؟ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ دل چاہا بھاگ جاﺅں۔ مگر پھر سوچا نہ جانے یہ سانپ کدھر چلاجائے اور پھر کس وقت نکل آئے.... کیا کروں! مارنا میرے لیے ناممکن تھا۔ اگر چیخ کر کسی نوکر کو بلاتی تو یہ خیال تھا کہ شاید آواز سن کر سانپ مجھ پر حملہ کردے۔ ایک ہی منٹ میں یہ سب خیالات میرے دماغ میں پیدا ہوئے، مگر سب میں خطرہ ہی خطرہ تھا۔ ایک دم مجھے خیال آیا کہ ممی سوتے وقت آیتہ الکرسی پڑھ کر سارے گھر پر حصار کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے بعد کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچاسکتی۔ اللہ ہماری حفاظت کرتا ہے مگر مجھے تو آیتہ الکرسی بھی نہیں آتی۔ صرف دو ایک آیتیں شروع کی، سنتے سنتے یاد ہوگئی تھیں۔ جلدی جلدی میں نے وہی پڑھنا شروع کیں اور قل ھو اللہ کئی بار پڑھ کر اپنے اوپر حصار کیا۔ مجھے ایسا معلوم ہونے لگا جیسے سانپ کوئی ڈرنے کی چیز ہی نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ ثریا نے ایک مرتبہ کہا تھا۔ اس کی باجی یاحفیظ بہت پڑھتی ہیں۔ ان کو ڈر نہیں لگتا۔
میں نے یاحفیظ یا حفیظ بہت جلدی جلدی کہہ کر حصار کرنا شروع کیا۔ میں برابر یا حفیظ کہتی رہی اور وہ سانپ مجھ کو دیکھتا رہا۔ اب اس کی آنکھوں سے مجھے بالکل ڈر نہیں لگ رہا تھا اور شاید اس کی بھی اتنی ہمت نہ پڑتی تھی کہ میرے قریب آئے یا کم از کم کہیں بھاگ ہی جائے۔ وہ جہاں تھا وہاں ہی کنڈلی بنا کر بیٹھ گیا۔ جیسے کہہ رہا ہو۔جب خدا تمہاری حفاظت کررہا ہے تو میری کیا مجال جو نقصان پہنچاﺅں۔
گزشتہ چھٹیوںمیں باجی میرے لیے جو کتاب لائی تھیں، اس میں لکھا تھا کہ سانپ کو ہرگز زندہ نہ چھوڑو۔ وہ انسان کا دشمن ہے اور موقع ملنے پر اس کو مار ڈالتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ موذی کو ایذا پہنچانے سے پہلے مار ڈالا جائے۔ مگر میں اس کو ماروں کیسے؟ یہ بڑامشکل سوال تھا۔ آخر کار میری نظر میز پر رکھی ہوئی لکڑی کی ٹرے پر پڑگئی جس میں پاپا کے کاغذات اور فائل رکھے تھے۔ میں نے اس کو خالی کیا اور مسلسل یا حفیظ پڑھتے ہوئے بڑی ہمت کرکے وہ ٹرے سانپ کے اوپر الٹی رکھ دی۔ میری خوشی کی حد نہ رہی، جب دیکھا کہ وہ سانپ بہت آسانی سے اس کے اندر بند ہوگیاہے۔ پھر بھی اندیشہ تھا۔ شاید اس کو ہٹا کر بھاگ جائے۔ کچھ وزن اس کے اوپر رکھنا چاہیے۔ سارے کمرے میں تلاش کرنے کے بعد اور تو کچھ ملا نہیں۔ ٹائپ رائٹر اٹھا کر اس پر رکھ دیا اور باہر جانے لگی کہ کسی نوکر کو بلا کر سانپ کو مروادوں۔ میں ابھی برآمدے ہی میں تھی کہ دیکھا پاپا آرہے ہیں۔ ان کے ساتھ رشید ان کا ہیٹ اور چھڑی لیے آرہا تھا۔ اپنے کمرے سے نکلتے دیکھ کر پاپا نے کہا۔ ”کیا کررہی تھیں زیبی ہمارے کمرے میں؟۔
جی کچھ نہیں.... قلم تراش لینے گئی تھی۔ میں نے جواب دیا۔
ملا؟ انہوں نے پوچھا۔
جی نہیں! وہاں سانپ ہے میں نے کہا۔
سانپ! کہاں ہے؟ چلو دکھاﺅ کہتے ہوئے پاپا اندر آئے اور رشید گھبرانے لگا۔
سرکار! سانپ کیسے ہوسکتا ہے؟ روزانہ تو جھاڑو لگتی ہے فرش پر۔ سانپ کا کیا کام؟ بیبی کو دھوکا ہوا ہوگا مگر پاپا نے اس کی ایک بھی نہ سنی۔ اندر آکر بولے۔ کہاں ہے سانپ؟ کس طرف دیکھا تھا تم نے؟
دیکھو الماری کے نیچے چلا گیا ہوگا۔ فرش ہٹا دو رشید.... اور نہ جانے کیا کیا ایک ہی سانس میں کہہ گئے۔ ان کو بہت تعجب ہوا جب میں نے میز کے نیچے اشارہ کیا۔ جہاں الٹی ٹرے پر ٹائپ رائٹر رکھا تھا۔ کہاں؟ انہوں نے ایک مرتبہ پھر پوچھا۔
ٹرے کے نیچے.... میں نے کہا۔
وہ کیسے؟
میں نے سارا قصہ بتایا کہ کس طرح میں نے اس کو قید کیا ہے۔ پاپا نے رشید سے چھڑی لے کر ٹرے ہٹانا چاہی۔ مگر رشید نے ایک جاں نثار نوکر کا فرض ادا کرتے ہوئے کہا۔
آپ نہ تکلیف کیجئے سرکار! میں ابھی مارے ڈالتا ہوں وہ باہر سے بلم لایا اور ٹرے ہٹا کر دیکھا۔ سانپ بدستور بیٹھا تھا۔ رشید نے اس کو ماردیا۔
پاپا دیکھیے! میں سچ کہہ رہی تھی نا؟ میں نے کہا۔
اور کیا جھوٹ بھی بول سکتی ہے میری بیٹی؟ کہتے ہوئے انہوں نے مجھے خوب زور سے پیار کیا۔
شام کو خلاف توقع ممی جلدی واپس آگئیں۔ میرے نہ آنے کا سبب پوچھا تو میں نے بتایا کہ اسکول کا کام زیادہ تھا۔ اس لیے نہیں آئی۔
وہاں ثریا، ناہید، رفعت، شاہدہ، آمنہ اور اچھی بی نے تمہارا اس قدر انتظار کیا کہ حد ہوگئی“۔ ممی نے برقع اتارتے ہوئے کہا۔
بیگم! اور سنا تم نے آج کا زیبی کا کارنامہ؟ پاپا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
وہ کیا؟ ممی بولیں۔
اور پاپا نے کل قصہ سنادیا۔ ممی بہت خوش ہوئیں۔ مجھے پیار کیا اور خوب شاباش دی۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close