Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ننھا شاہین

 
   
 
صبح کے نو بج چکے ہیں۔ لاس اینجلس کے ایک چھوٹے سے ائیر پورٹ پر ہر طرف مانوس سی ہلکی ہلکی دھند پھیلی ہوئی ہے۔ ائیر پورٹ کے ایک کونے میں سیسنا۔ 210 ایک چھوٹا سا جہاز کھڑا ہے۔ ائیر پورٹ کے اطراف میں لگی ہوئی ریلنگ کے ساتھ مقامی باشندے کافی تعداد میں موجود ہیں۔ لوگ بار بار بے چینی سے کبھی اپنی کلائیوں پربندھی گھڑیوں اور کبھی ائیر پورٹ کے ایک کونے میں بنے ہوئے کیبن کی جانب دیکھتے ہیں اور پھر چپس کھاتے یا چیونگم چباتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ مدھم مدھم گفتگو میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
یکایک بھیڑ میں ایک شور بلند ہوا اور سب لوگ تیزی کے ساتھ کھڑے ہو کر کیبن کی جانب دیکھنے لگے جہاں سے سرخ و سپید رنگت اور بھورے بالوں والا ایک گداز بچہ پائلٹ کا لباس پہنے اپنے انسٹرکٹر کے ساتھ نکل رہا تھا۔ ہجوم نے بچے کو دیکھ کر زور دار انداز میں تالیاں بجانا شروع کریں۔ بچہ لوگوں کے استقبالیہ نعروں اور تالیوں کا ہاتھ ہلا کر جواب دیتے ہوئے جہاز میں جا کر بیٹھ گیا۔ لوگ خاموش ہوگئے اور تجسس بھری نظروں کے ساتھ ائیرپورٹ کے ایک کونے میں کھڑے ہوئے چھوٹے سے جہاز کو دیکھنے لگے۔
تھوڑی دیر بعد وہ چھوٹا سا جہاز گھرگھرا کر رن وے پر دوڑتا ہوا فضا میں بلند ہوگیا اور یوں دنیا کی فضائی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ کا اضافہ ہوا۔
جہاز اڑانے والے اس بچے کا نام جان لیون مل ہے۔ اس کی عمر گیارہ برس ہے۔ اس اعتبار سے یہ دنیا کا کم ترین پائلٹ ہے۔ کم عمری کے علاوہ جان کا ایک اور کارنامہ یہ ہے کہ اس نے اس جہاز کے ذریعے لاس اینجلس سے واشنگٹن ڈی سی تک ڈھائی ہزار میل کا سفر خود جہاز اڑا کر طے کیا۔ جان سے پہلے چوں کہ اتنے کم عمر بچے نے جہاز اڑا کر اتنا طویل فاصلہ طے نہیں کیا تھا۔ اس لیے وہ جس شہر سے گزارا اس کا زبردست استقبال کیا گیا۔
جان کو جہاز اڑانے کا شوق اس وقت ہوا جب اس نے اتفاقی طور پر نو برس کی عمر میں 20 منٹ کی پہلی تعارفی فلائٹ لی۔ اس وقت بیس منٹ فضا میں رہنے کے بعد جب وہ دوبارہ زمین پر آیا تو اس نے اپنے والد سے کہا کہ وہ باقاعدہ جہاز اڑانا سیکھنا چاہتا ہے۔ جان کے شوق کو دیکھتے ہوئے اس کے والد نے اسے مقامی فلائنگ کلب کا ممبر بنوادیا۔ یوں جان نے نو برس کی عمر سے جہاز اڑانے کی تربیت حاصل کرنا شروع کردی۔ اپنے شوق کے باعث جان جلد ہی اس منزل پر پہنچ گیا کہ وہ طویل سفر پر روانہ ہوسکے۔
اگرچہ جان نے سات دنوں پرمشتمل ڈھائی ہزار میل کا یہ فضائی سفر خود جہازاڑا کر طے کیا لیکن اس سفر میں اس کے ساتھ اس کا انسٹرکٹر بھی مسلسل موجود رہا، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کسی حادثے کے امکان کو پیش نظر رکھتے ہوئے جان کو تنہا جہاز اڑانے کی اجازت نہیں دی۔
امریکا میں تنہا جہاز اڑانے کے لیے سولہ سال کی عمر ضروری ہے۔
سات دن کے اس طویل سفر کے دوران جان سارا دن جہاز اڑانے کے بعد شام ڈھلے کسی ائیر پورٹ پر اتر جاتا اور پھر رات گزار کر صبح پھر اپنے سفر پر روانہ ہوجاتا۔ سفر کے دوران اگرچہ کئی بار موسم سخت خراب ہوالیکن جان کا جہاز ہر بار کسی مصیبت کا شکار ہونے سے محفوظ رہا۔
سفر کے اختتام پرجب جان کا جہاز واشنگٹن کے نیشنل ائیرپورٹ پراترا تو وہاںموجود سیکڑوں افراد نے جان کا زبردست استقبال کیا۔
واشنگٹن میں جان نے اپنی پسندیدہ شخصیت امریکا کے صدر رونالڈ یگن سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جان نے صدر سے اپنی ملاقات کو شاندار قراریدا۔
جان کو صحافیوں سے شکایت ہے کہ وہ جہاں بھی جاتا،صحافی حضرات سائے کی طرح وہیں پہنچ جاتے ہیں اور بقول جان کے اس سے اتنے مشکل مشکل سوالات کرتے ہیں کہ وہ پریشان ہوجاتا ہے۔
جان کو مچھلیوں کے شکار کا بہت شوق ہے، مگر اب جہاز اڑانے کی تربیت میں اس کاا تنا وقت صرف ہوجاتا ہے کہ اسے مچھلیوں کے شکار کے لیے وقت نہیں ملا، جان کو اس کا افسوس ہے۔
جان اب جہاز اڑانے میں اتنا ماہر ہوگیا ہے کہ جہاز اڑانے کو وہ کار چلانے کی طرح آسان قرار دیتاہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ جلد جہاز پر پوری دنیا کا سفر کرے۔ جان مستقبل میں خلا باز بن کر چاند پر جانا چاہتا ہے۔ جان کے شوق، محنت اور عزم کو دیکھتے ہوئے آپ کو ہمارا مشورہ ہے کہ جان کے نام کو یاد رکھیں، ممکن ہے دس بارہ سال بعد آپ سنیں کہ جان لیون مل نام کا ایک خلا باز چاند یا مریخ پر جانے والی شٹل کے چار خلا بازوں میںشامل ہے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close