Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

صبر

 
  حسن منظر  
 
شمس الرحمن صاحب اچھے ٹیچر تھےا ور جتنے اچھے ٹیچر تھے اس سے بڑھ کر اچھے انسان تھے۔ وہ بس دو مضمون پڑھاتے تھے، انگریزی اور تاریخ، اور وہ بھی اسکول کی اونچی جماعتوں کو یعنی آٹھویں، نویں اور دسویں کو، لیکن اگر کسی نچلی جماعت کی کلاس لینے کی ضرورت پڑجائے یعنی اس پیریڈ کے ٹیچر چھٹی پر ہوں تو وہاں بھی اسی توجہ اور مشقت سے پڑھاتے تھے جس کے لیے وہ اونچی جماعتوں میں پہچانے جاتے تھے۔
شمس الرحمن صاحب کا پڑھانے کا طریقہ بڑا دلچسپ تھا۔ وہ صرف کتاب کے اس باب تک خود کومحدود نہیں رکھتے تھے جو پڑھارہے ہیں، اگر انگریزی پڑھا رہے ہں تو شاعر کی زندگی کے دلچسپ واقعات سناتے۔ دوسرے شاعروں کی نظموں کے ایسے ٹکڑے پڑھتے، جن سے اچھی شاعری پڑھنے کی رغبت بڑھے، کبھی کہتے، دیکھیے اسی بات کو ایک اردو شاعر نے کیسے بیان کیا ہے۔
تاریخ پڑھانے میں جس بادشاہ یا انگریز گورنر جنرل، وائسرائے کا باب ہوتا اس سے متعلق کوئی دلچسپ واقعہ سناتے، جس میں کسی قوم کے آزادی کے لیے ہاتھ پیر مارنے کا ذکر ہوتا۔ کس نے کیسے پہیم ناکامیوں کے بعد فتح پائی۔ ان کی اس بیچ بیچ میں آجانے والی گفتگو سے انسان کی فطرت کا پتا چلتا تھا۔ کون کینہ پرور تھا اور سالوں بعد بھی بدلہ لیے بغیر نہیں رہتا تھا اور آخر اپنی اس فطرت کی بنا پر برے انجام کو پہنچا۔ کون دشمن کی دغا بازی کو بار بار نظر انداز کرجاتا تھا اور اسے انسانی تاریخ میں کیا رتبہ ملا۔
شمس الرحمن صاحب کبھی طلبہ سے تم یا تو کہہ کر بات نہیں کرتے تھے، ہمیشہ آپ کہتے، ان کے بارے میں مشہور تھا کہ امتحان کے پرچے میں اگر سوال یوں ہو کہ "فلاں کے بارے میں کیا جانتے ہو، لکھو"۔ تو سمجھ لیں کہ وہ پرچہ انہوں نے نہیں بنایا ہے۔ اگر سوال یوں ہو "آپ اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں، لکھیے"۔ تو وہ پرچہ انہوں نے بنایا ہے۔
شمس الرحمن صاحب کی چند باتیں جو طلبہ میں مشہور تھیں، ان میں سے ایک یہ تھی کہ اگر کوئی عقل مندی سیکھنا چاہتا ہے تو وہ بے وقوفوں سے سیکھے۔ ظاہر ہے اس پر طلبہ چونک پڑتے ہوں گی کہ کیسے۔ وہ مسکرا کر کہتے: "بس وہ مت کہیے اور کیجئے جو بے وقوف کہتے اور کرتے ہیں۔ آپ خود بخودی عقل مند بن جائیں گے"۔
یہ بات اکثر طلبہ کی سمجھ میں اس وقت نہیں آتی تھی اور وہ اسے ایک لطیفہ سمجھتے تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زندگی کے تجربات انہیں اس مقولے کی سچائی سمجھا دیتےا ور کہتے واقعی ماسٹر صآحب کی بات میں وزن تھا۔
شمس الرحمن صاحب کی دوسری بات جسے طلبہ اسکول چھوڑنے پر بھی یاد رکھتے تھے، یہ تھی کہ انسان خود کو عقل کل سمجھتا ہے اور اس پر نازاں رہتا ہے کہ اللہ کی مخلوق میں اس جیسا کوئی اور نہیں، نہ اسے کسی دوسرے جان دار سے کچھ اور سیکھنے کی ضرورتج ہے، چناںہ چہ وہ زندگی میں بار بار دھوکا کھاتا اور گھاٹا اٹھاتا ہے۔ حالاں اکثر اسے درستی کی راہ جانور دکھاتے ہیں۔
کلاس کا کوئی نہ کوئی لڑکا اس پر بول اٹھتا: "مثلا"۔
شمس الرحمن صاحب مسکرا کر کہتے حضرت انسانج میں اتنی تو عقل تھی کہ جذبات سے مغلوب ہو کر قتل کر بیٹھے، لیکن مقتول کا کیا کرے اس کی سمجھ نہیں تھی۔
حضرت آدم کے بیٹوں ہابیل اور قابیل کا قصہ سناتے کہ قابیل کے دل میں حسد پیدا ہوگیا تھا کہ ہابیل  کو اس سے زیادہ خوب صورت بیوی مل رہی تھی اور ہابیل کی قربانی اللہ کے یہاں قبول ہوئی تھی، اس کی نہیں۔ ہر لحاظ سے ہابیل اس سے بہتر انسان تھا۔ حسد کی آگ اس کے دل و دماغ میں اتنی شدت سے بھڑکی کہ اس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا۔ اس کے بعد اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تاھ کہ اپنے بھائی کی لاش کا کیا کرے جو اس کے سامنے پڑی اسے چڑا رہی تھی۔ اتنا سنا کر وہ لمحے بھر کو مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہوجاتے جیسے قابیل کی بے وقوفی پر ہنس رہے ہوں۔
لڑکے منتظر رہتے اب آگے وہ کیا سنائیں گے۔ وہ کہتے اس وقت تک حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے موت کسی کی ہوئی نہیں تھی اور انہوں نے مرنے والے کے لیے اللہ کا حکم اس کے بندوں کو نہیں سنایا تھا۔ قابیل ابھی اپنی حرکت پر شرمندہ ہورہا تھا اور مرنے والے کے لیے کچھ نہ کرنے پر پریشان کہ یہ لاش کب تک یوں ہی پڑی رہے گی کہ اس نے ایک کوے کو دیکھا جو اپنی چونچ سے ذرہ ذرہ کرکے زمین کھود رہا تھا اور نکلنے والی مٹی کو گڑھے کے ادھر ادھر ڈھیر کرتا جاتا۔ جب گڑھا بن گیا تو اس نے اپنے ساتھی مردہ کوے کی لاش اس میں ڈال کر مٹی سے چھپادی۔
اس وقت قابیل کو احساس ہوا کہ وہ تو شعور میں اس کوے سے بھی گیا گزارا ہے اور سمجھتا ہے خود کو عقل کل۔ پھر اس نے اپنے بھائی ہابیل کی لاش کے ساتھ وہی کیا جو کوے نے اپنے ساتھی کے لیے کیا تھا۔
ایک موقع پر انھوں نے تیمور کا واقعھ سنایا تہا، جب وہ امیر تیمور نھیں بنا تہا۔ ھمت اور عزم کا دہنی تہا۔ لیکن تجربھ اس کے پاس نھیں تہا۔ سپاھی جمع کرتا تہا جو شروع میں اس کے ساتھ کے کھیلے ہوئے نوجوان ہوتے تھے اور اپنی سلطنت قائم کرنے کے لیے دشمن فون سے جنگ کرتا تھا۔ شروع میں اسے ان جنگوں میںتھوڑی بہت کامیابی ہوئی، لیکن اس کے بعد کے دنوں میں ہر بار اسے شکست ہوئی اور اس کے ساتھی تتر بتر ہوجاتے تھے۔ وہ خود بھاگ کر کہیں پناہ لیتا، دوبارہ فوج جمع کرتا اور ہار جاتا۔
آخری شکست کے بعد اس کی ہمت جواب دے گئی۔ پہاڑی کے ایک غار میں بیٹھا وہ سوچ رہا تھا۔ میری قسمت میں ہی نہیں ہے کہ یہاں کا حکمراں بنوں اور کوئی ڈھنگ کا کام کروں کہ رعایا کی حالت سنبھلے۔ ناگہاں غار کے ایک کونے میں اسے ایک چینوٹی نظر آئی جو اپنے وزن سے بڑا رزق کا دانا لے کر اوپر چڑھ رہی تھی۔ کچھ اوپر پہنچنے پر وہ پھسل پڑی یا اس کی قوت جواب دے گئی کہ وہ نیچے گری۔ تیمور نے اسے فوراً ہی وہ دانا سنبھال کر دوبارہ اوپر چڑھتے دیکھا۔ اس دفعہ پہلے سے کچھ زیادہ فاصلہ اس نے طے کیا، لیکن پھر وہ نیچے آن گری۔ تیسری بار جب وہ اسی کام میں جٹی تو تیمور کو اس میں دلچسپی پیدا ہوگئی کہ دیکھوں کبھی کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔ کئی اوپر چڑھنے اور نیچنے گرنے کا عمل دیر تک جاری رہا اور جب تیمور یہ طے کرچکا تھا کہ وہ کامیاب نہیں ہوگی، دانا اس کی طاقت سے بھاری ہے کہ اچانک چیونٹی اوپر پہنچ کر اپنے سوراخ میں غائب ہوگئی۔ تیمور کو اب یہ خیال آیا کہ جب اللہ کی اتنی چھوٹی مخلوق نے اپنے کام کی دھن میں ہمت نہیں ہاری تو کیا مجھے یہ زیب دیتا ہے کہ کوشش تر کردوں۔
چناں چہ وہ وقت آیا کہ تیمور کامیاب ہوا اور اس کی جواں مردی کو ایک جہان مانتا ہے۔
شمس الرحمن صاحب سبق کو دلچسپ بنانے کے لیے کتنے ہی واقعات، حکایتیں اور اشعار سناتے تھے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ ان کی کلاس میں کوئی لڑکا اونگھ رہا ہو۔
ایک موقع پر وہ کئی دن اسکول نہیں آئے اور سننے میں آیا کہ ان کا لڑکا سخت بیمار ہے اور وہ اسپتال میں اس کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ ان کا ایک ہی بیٹا تھا اور وہ اس سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ شاید بیٹے کی ماں سے بڑھ کر۔ پھر ایک دن پتا چلا کہ بیٹا بیماری سے بچ نہیں سکا۔ اس کی نماز جنازہ اور تدرفین میں اکثر اساتذہ اور بڑی عمر کے طلبہ شریک ہوئے۔ سب نے دیکھا کہ وہ جنازے کے ساتھ ساتھ چل تو رہے ہیں، لیکن جیسے دنیا سے بے خبر ہوں، چہرہ ایسا تھا جیسے اس میں سے خون کھینچ لیا گیا ہو۔ پورے وقت ان کے ہونٹ ایک دوسرے سے جڑے رہے۔ آنکھوں میں آنسو بھی نہ تھے۔
لڑکوں نے فیصلہ کرلیا کہ اب شمس الرحمن صاحب پڑھانا چھوڑ دیں گے۔ گھر اپنات ھا اور شاید آٹھ دس ایکٹر زمین سے تھوڑی بہت یافت بھی تھی۔ اب گھر بیٹھ کر عبادت میں وقت گزاریں گے۔ یا علمی کتابوں کا مطالعہ کریں گے جس کے وہ شیدائی تھے۔
لڑکوں کو فکر تھی کہ شمس الرحمن کی جگہ کون لے گا۔ کوئی سزا دینے کا شیدائی نہ آجائے یا خاموشی سے کلاس میں وقت گزارنے والا۔ جسے نہ پڑھانے میں دلچسپی ہو، پڑھنےو الوں میں۔ شمس الرحمن صاحب کی بات ہی اور تھی کہ ایک لڑکے پر نظر پڑی جو بے حد اداس، سست بلکہ ادھر مرا نظر آرہا تھا۔ انہوں نے اس سے اس حالت کی وجہ پوچھی۔ جواب دینے کے بجائے اس کی آنکھوں سے آنسو امڈ آئے تو وہ اسے اشارہ کرکے باہر لے گئے اور وجہ پوچھی۔ لڑکا کوشش کرنے کے باوجود کچھ کہہ نہیں سکا اور ہونٹ بس ہل کر رہ گئے۔
انہوں نے پوچھا: "صبح ناشتا کیا تھا"۔
اس نے نفی میں سر ہلایا۔
ان دنوں اسکول صبح نو بجے سے تیسرے پہر تین بجے تک کا تھا اور سب کھانا کھا کر گھر سے نکلتے تھے۔
لڑکے کے آنسو نکل پڑے۔
انہوں نے پوچھا: "آپ کی ماں سوتیلی ہیں"۔
لڑکے نے ہاں کا اشارہ سر سے کیا۔
شمس الرحمن صاحب نے کلاس کو چھٹی دی اور خود اس کے ساتھ اپنے گھر روانہ ہوگئے جہاں اتنی دیر میں کہ ان کی بیوی روٹی پکاتیں وہ لڑکے سے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہے۔
ان کے گھر کھانا کھانے کا واقعہ اور وہ بھی اس طرح کہ خاس اس کے لیے ان کی بیوی نے بے وقت توے پر روٹی ڈالی تھی راز نہیں رہا اور طلبہ کے دلوں میں ان کی عزت بڑھ گئی۔
اپنے بیٹے کے چل بسنے کے تیسرے دن جب طالب علموں کے دلوں کو دھکڑ پکڑ تھی کہ دیکھیں شمس الرحمن صاحب آتے ہیں یا ان کی جگہ کوئی اور۔ شمس الرحمن صاحب صحیح وقت پر آٹھویں جماعت کے پہلے پیریڈ کے لیے کلاس میں داخل ہوئے۔ مسکراہٹ ان کے چہرے پر تھی کہ مارے باندھے نہیں آئے پڑھانے کا شوق یہاں لے کر آیا ہے۔
لڑکے چپ رہے۔ کسی نے کتاب نہیں کھولی۔ انہوں نے پوچھا: "یا بات ہے سب چپ کیوں ہیں۔ پڑھنے کا ارادہ نہیں ہے"۔
لڑکوں نے کہا: "ہے"۔
ایک لڑکے نے کہا: "ہمارا خیال تھا کہ آپ کو اتنا بڑا صدمہ پہنچا ہے۔۔۔۔۔۔۔"۔
"اب پڑھا نہیں سکوں گا۔ ہوں۔"
ایک لڑکے نے کہا: "آپ نے اتنی آسانی سے غم پر کیسے قابو پالیا۔ میری والدہ کا انتقال ہوا تھا تو میں مہینے بھر تک پلنگ سے نہیں اٹھ سکتا تھا۔ سوچتا تھا کہ اب میں کیسے جیوں گا"۔
شمس الرحمن صاحب نے عینک اتار کر میز پر رکھ دی اور مسکرا کر بولے: "صبر"/
کئی طلبہ نے ایک ساتھ کہا: "وہ تو کتابوں میں ہوتا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر ہاتھ تو نہیں آتا ہے، جو آتا ہے کہتا ہے صبر سے کام لو، لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ صبر ہوتا کیا ہے"۔
شمس الرحمن صاحب کرسی پر بیٹھ گئے اور گہری سوچ میں چلے گئے۔ لڑکے سوچ رہے تھے کہ ہم نے غلط کیا جو اپنے سوالوں سے ان کا دل دکھادیا۔ بے چارے بڑی مشکل سے تو ہمت کرکے اسکول آئے ہیں اور ہم ان سے صبر کے معنی پوچھ بیٹھے۔
شمس الرحمن صاحب گویا ہوئے پہلے میں بھی صبر کے معنی نہیں جانتا تھا اور زندگی کے ہر بڑے صدمے پر برداشت کی ہمت ہار بیٹھتا تھا۔ پھر کسی بے زبان نے اپنے عمل سے مجھے اس کے معنی سمجھادیے۔
لڑکوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے: "کس بے زبان نے"۔
"اللہ کی ایک حقیر مخلوق نے جس ہم ارذل سمجھتے ہیں"۔
"کون سی"۔ بہت سوں نے پوچھا۔
"ایک کتیا"۔
گویا آج پھر وہ کوے اور چیونٹی جیسی کوئی حکایت سنانے جارہے تھے۔
انہوں نے کہا: "تقریباً تیس سال پہلے میں اپنے کالج گرمیوں کی چھٹی میں کسی سے کام گیا تھا۔ صبح کا وقت تھا۔ کالج کی سڑکیں جو پڑھائی کے دنوں میں طلبہ، اساتذہ اور دوسرے کام کرنے والوں کی آمد و رفت سے آباد دکھائی دیتی تھی اس وقت سونی تو تھیں، لیکن ہرے بھرے گھاس کے قطعوں، پھولوں اور جھاڑیوں کی باڑوں کے درمیان بڑی خوب صورت لگ رہی تھیں۔ اچانک میری نظر ایک چھوٹے سے لان پر پڑی۔ وہاں ایک کتیا اپنے سامنے کے پیروں کے درمیان کسی چیز کو جیسے چھپا رہی تھی۔ کتیا کے چاروں طرف کوے بیٹھے تھے، ہوں گے آٹھ دس، میں کچھ دور اور آگے بڑھ کر رک گیا۔ زیادہ نزدیک اگر جاتا تو شاید کوے اڑ جاتے۔
ایک کوا پھدک کو اس کے پاس تک گیا اور اس پر جھپٹی۔ اب میں نے دیکھا جس چیز کی وہ حفاظت کررہی تھی وہ اس کا بچہ تھا، ایک پلا۔ جو ہل نہیں رہا تھا۔ اس بات کا کوئوں نے پتا چلالیا تھا کہ بچہ مر چکا ہے، لیکن اس بات کو کتیا نے نہیں مانا تھا۔ وہ بڑی بے چین نظر آرہی تھی۔ کبھی ایک طرف سے کوا بڑھ کر نزدیک آجاتا تھا اور وہ اس پر جھپٹی تھی۔ اس لمحے موقع پاتے ہی دوسری جانب سے ایک کوا کو آگے بڑھ جاتا اور وہ اسے بھگاتی تھی۔ بیچ بیچ میں وہ بچے کو ایک پنجے سے ہلاتی کہ اٹھ جائے اور چاٹ بھی لیتی۔ اس کا بس چلتا تو وہ ایک ایک کوے کو مار ڈالتی۔
میں کھڑا دیکھتا رہا۔ نہ معلوم کب سے یہ حملہ آوری اور دفاع کا عمل جاری تھی۔ کتیا کے چاروں طرف بیٹھے ہوئے کوئوں کا دائرہ تنگ ہوتا جارہا تھا۔ کتیا تھکی ہوئی لگ رہی تھی اور کوے زیادہ دلیری دکھا رہے تھے۔
آخرہ وہ وقت آیا کہ کتیا نے اپنی جگہ سے ہلنا بند کردیا اور مرے ہوئے بچے اور کوئوں کے درمیان بس اتنا فاصلہ رہ گیا کہ وہ دو تین بار پھدکنے میں اسے طے کرسکتے تھے۔ پھر میں نے عجیب سین دیکھا: "کتیا بچے کی طرف بغیر دیکھے ایک طرف کو چل پڑی۔ پھر اس نے بیچ کی سڑک کو پار کیا اور دوسرے لان میں پہنچ کر ایک بار اس جانب دیکھا جدھر بچہ اب کووں کے نرغے میں تھا اور آگے کہیں نکل گئی۔
اس لمحے میری سمجھ میں آیا ہ بچے کے لیے جو کچھ وہ کرسکتی تھی اس نے کیا اور جب تک بچے کے جی اٹھنے کی جھوٹی آس اس کے دل میں رہی س نے اسے بچانے کے لیے پہرا دیا۔ اس کے بعد اس کی سمجھ نے مان لیا کہ زندگی میں اسی طرح ہوتا ہے یعنی اسے۔۔۔۔۔۔"۔
"صبر آگیا"۔ ایک لڑکے نے کہا۔
" جی جناب!" شمس الرحمن نے مسکرا کر کہا، لیکن ان کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے تھے جو غم کے نہیں ہمدردی میں دل بھر آنے کے تھے۔ ایسے آنسو کئی طلب علموں کی آنکھوں میں جھانک رہے تھے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close