Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

گھڑی کا تحفہ

 
  بانو ارشد  
 
کہنے کو یوں تو منی بہت سمجھ دار تھی،لیکن ایک بات اس کی ضد تک پہنچ گئی تھی کہ آخر امی آپ مجھے گھڑی خرید کر کیوں نہیں دیتی ہیں، ہزار بار امی نے سمجھایا کہ ابھی آپ بہت چھوٹی ہو، کوئی بھی اکیلا دیکھ کر گھڑی چھین لے گا یا ہاتھ زخمی کردے گا۔
منی نے منہ بسور کر کہا: "وہ فرحت بھی تو اپنے ہاتھ میں گھڑی باندھے رکھتی ہے۔ ماریہ کے پاس بھی گھڑی ہے۔ مجھے بھی چاہیے"۔
منی کے ماں ایک غریب عورت تھی۔ وہ لوگوں کے گھروں میں جا کر صفائی کرتی  اور بچوں کے کپڑے اور کھانے کا بندوبست کرتی۔ منی کو اندازہ نہیں تھا کہ اسکول کے باقی بچے اس  کی طرح غریب نہیں تھے۔ بس اس کو ایک ہی رٹ لگی رہتی کہ مجھے بھی گھڑی چاہیے۔
ماں نے لاکھ سمجھایا کہ جب تم ہائی اسکول میں جائو گی تو میں پیسے جمع کرکے تم کوایک خوب صورت سی گھڑی لا کر دوں گی۔ مگر منی کی سمجھ میں یہ بات ہرگز نہیں آتی۔ ماں نے اس سے وعدہ کیا کہ کچھ عرصے میں پیسے جمع کرلوں پھر میں تم کو گھڑی کا تحفہ دوں گی۔ تھوڑے دن صبر کرلو۔
منی کی امی نے سوچا منی اب سمجھ گئی ہے۔ اس نے پھر تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کیے کہ منی کو ایک گھڑی اس کی سالگرہ پر تحفہ دے گی۔ جب دو چار مہینے گزر گئے تو منی کی امی نے ایک گھڑی لاکر اپنی الماری میں چھپا کر رکھ دی کہ وہ اسکول سے آئے گی تو اس کو یہ گھڑی دے گی اور پھر کیک بھی بنایا۔
وہ منی کو اسکول سے خوشی خوشی گھر لے آئیں، لیکن منی بہت اداس تھی: "کیا بات ہے، آج تمہاری سالگرہ ہے پھر تم اداس کیوں ہو? چلو کیک کاٹیں"۔
ایک بڑا سا سالگرہ کا کارڈ بھی میز پر تھا اور موم بتیاں جل رہی تھیں، لیکن منی کا چہرہ پھر بھی اداس تھا: "کیا بات ہے۔ آئو چلوں کیک کاتیں اور لو تمہاری گھڑی"۔
منی رونے لگی۔ : نہیں، امی مجھے گھڑی نہیں چاہیے"۔
منی بولی: "نہیں، میں نہیں لوں گی:۔
امی نے پوچھا۔ : کیوں خفا ہو۔ لائو ہاتھ ادھر لائو۔
"نہیں، اب میں گھڑی نہیں باندھوں گی"۔
"کیا بات ہے"۔ امی نے پوچھا۔
"آج میری کلاس میں ایک لڑکی شیریں داخل ہوئی ہے۔ اس کا ایک ہاتھ نہیں ہے"۔
"وہ کیسے"۔ امی نے پوچھا۔
شیریں نے بتیا کہ وہ اپنے ملک میں تھی۔ وہاں پر بمباری ہورہی تھی۔ رات کا وقت تھا۔ بلیک آئوٹ کا زمانہ تھا۔ ہر طرف گھپ اندھیرا تھا۔ اس کے ہاتھ میں گھڑی بندھی تھی۔ وہ اپنے گھر کے صحن میں تھی۔ اس کی گھڑی چمکی تو دشمنوں نے اندازہ لگالیا کہ یہاں آبادی ہے۔ وہیں بم پھینکا اور اس کا ایک ہاتھ کٹ کر گر گیا۔ اس نے اپنا مصنوعی پلاسٹک والا ہاتھ مجھے دیکھا۔ شیریں کہنے لگی کہ مجھے گھڑی سے نفرت ہے۔ اگر میرے پاس اس رات ہاتھ پر گھڑی نہ بندھی ہوئی ہوتی تو دشمنوں کو پتا ہی نہیں چلتا۔ میری ماں بھی اس بم سے مرگئی۔ پھر ہم لوگوں کور فیوجی کیمپ میں رکھا گیا اس کے بعد ہم یہاں آگئے۔ منی نے کہا کہ امی اب میں آپ سے کبھی ضد نہیں کروں گی کہ مجھے گھڑی چاہیے۔ آپ بھی زندہ ہیں اور میرے دونوں ہاتھ بھی سلامت ہیں۔ منی کی آنکھوں میں آنسو تھے اور خوب ہچکیاں لے کر رو رہی تھی کہ اگر شیریں کے ہاتھ میں گھڑی نہ ہوتی تو اس پر بم نہیں گرتا۔ میں ضد نہیں کروں گی۔ امی نے منی کو گلے لگایا اور کہا کہ چلو یہ کیک شیریں کے گھر لے چلیں، اس نے تم کو یہ قصہ سنایا ہے۔ تم اب شیریں کا خیال رکھا کرو۔ منی بولی :"امی وہ بہت خوب صورت اور ذہین لڑکی ہے۔ میں اس سے دوستی کرلوں گی"۔
امی اور منی شیریں کے گھر کیک لے کر گئیں۔ منی نے پھر ضد کرنا چھوڑدی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close