Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

دھنک کی کہانی

 
  وقار محسن  
 
سینکڑوں برس پہلے کی بات ہے کہ دنیا میں زبردست قحط پڑا۔ تالاب ، نہریں اور کنویں خشک ہوگئے۔ فصلیں دھوپ سے جل گئیں۔ ہزاروں جانور پیاس سے تڑپ تڑپ کر مر گئے اور پیاسی زمین چٹخنے لگی۔ مرغزاروں اور پہاڑوں کے دامنوں میں کھلے پھول بے چین نظروںسے آسمان کی گود میں تیرتی بادلوں کی ٹکڑیوں کو دیکھتے رہتے۔
ایک صبح جب ننھی مونا اپنی سہیلیوں کے ساتھ باغ میں آئی تو اس نے دیکھا کہ باغ میں سناٹا ہے۔ نہ تو چڑیوں کی چہچاہٹ سنائی دیتی تھی اور نہ بھونروں اور شہد کی مکھیوں کی آواز۔ باغ میںپھولوں کی مہک بھی نہ تھی۔ گلاب کے پھول اور ننھی کلیاں سر جھکائے کچھ سوچ رہے تھے۔ ننھی مونانے گلاب کی نازک گردن اٹھا کر پوچھا۔
” پھولوں کے راجا، تم کیوں اداس ہو؟“
گلاب کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر ننھی مونا بھی رو پڑی اور گلاب کو پیار سے اپنے چہرے سے لگا لیا۔
گلاب نے سسکی لے کر کہا،
”مونا بہن! تمہیں تو معلومہے کہ پانی سب کی زندگی ہے۔ سورج کی تیز کرنیں ہمارے جسموں کو جلا رہی ہیں۔“
”گلاب بھیا! میرے ڈیڈی کہتے ہیں کہ بادلوں سے پانی برستاہے۔ تم بادل سے پانی کے لیے کیوں درخواست نہیں کرتے؟“ ننھی مونانے مشورہ دیا۔
”مونا بہن ٹھیک کہتی ہے۔ ہمیں بادل کے پاس جانا چاہیے۔“ باغ کے سارے پھول اور پرندے ایک زبان ہو کر بولے۔ پھولوں نے طے کیا کہ پھولوں کے نمائندے ننھی موناکے ساتھ بادل کے پاس جائیں گے۔ا سی دوپہر کو ننھی موناگلاب، گیندا ، چمبیلی اور لالہ ایک برق رفتار عقاب پرسوار ہو کر بادل کے پاس جا پہنچے۔ ننھی مونا نے بادل کا دامن پکڑ کر کہا۔
”بادل بھیا! ہم پھولوں کی طرف سے یہ التجا لے کر آئے ہیں کہ آپ باغ میں منتظر پیاسے پھولوں پر پانی برسا دیں، ورنہ پھول مرجھاجائیں گے۔“
” مجھے روم کے بادشاہ کے باغ میں پانی برسانا ہے۔ دو ٹکے کے جنگلی پھولوں کے لیے میرے پاس وقت نہیں۔“ بادل تیزی سے اپنا دامن چھڑا کر آگے بڑھ گیا۔ بادل کی یہ بے رخی دیکھ کر گلاب نے ہواکا دوپٹہ پکڑ کر کہا۔
”ہوا بہن! کیا تم بھی ہماری مدد نہ کرو گی؟کیا تم بادل کو گھیر کر باغوں کی طرف نہیں لا سکتیں؟دیکھو اگر پھول نہ رہے تو حسن نہ رہے گا اور حسن کا نام ہی زندگی ہے۔ ننھے منے بچوں کے چہروں کی لالی دراصل گلاب کے پھولوں کا عکس ہے۔“
” مجھے اطالوی ملکہ کے بال سکھانا ہیں جو اپنے محل کی چھت پر میری منتظر ہے اور پھر اگر پھول نہ بھی کھلیں تو دنیا کا کون ساکام رک جائے گا۔“ ہوا نے لاپرواہی سے اپنے دوپٹے کا پلو چھڑاتے ہوئے کہا اورسرسراتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔
ہوا کی طرف سے بھی ناامید ہو کر ننھی مونا پھولوں کو لے کر سورج کی طرف روانہ ہو گئی۔ سورج کے قریب پہنچ کر ننھی مونا کا سارا جسم پسینے سے بھیگ گیا۔ پھولوں کے چہرے بھی مرجھا گئے۔ سورج بھی اپنے سنہرے تخت پر سوار ہو کر کہیں جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ لالہ نے سورج کے قریب جا کر کہا۔
”سورج بھیا ! زمین پر پھول، پودے، جانور، پرندے پیاس سے بے جان ہوئے جا رہے ہیں۔ کیا تم سمندر کو اپنی تیز کرنوں سے یہ پیغام نہیں بھیج سکتے کہ وہ بادلوں کو پانی دے کر ہماری طرف بھیج دے۔ دیکھو سمندر بھیا! اگر لالہ مر گیا تو آسمان پر کبھی شفق نظر نہ آئے گی۔“
” پیارے پھولو! مجھے افسوس ہے کہ میں اس وقت تمہاری مدد نہیں کر سکتا، کیوں کہ مجھے ابھی روس کے بادشاہ کی طرف سے پیغام آیا ہے کہ شاہی محل کہر سے گھرا ہوا ہے اور سخت ٹھنڈ ہے۔اگر میں فوراً نہ پہنچا تو ایک دو جانیں ضائع ہوجائیں گی اور پھر پھول تو صرف بادشاہوں کے تاجوں کی زینت بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں۔“
سورج کی باتیں سن کر چمبیلی غصے سے کانپ اٹھی اور اس نے کہا
”پھول ہر گز تاجوں کے زینت کے لیے نہیں ہوتے، بلکہ تاجوں میں قید کیا جاتا ہے، کلائیوں اور گلوں میں قید کیا جاتا ہے۔ مغرور سورج! پھول چمن کی زینت ہوتے ہیں، پھول بچوں کے دوست ہوتے ہیں۔“ لیکن سورج نے چمبیلی کے الفاظ کی پروا نہ کی اور سنہرے تخت پر بیٹھ کر روانہ ہو گیا۔
ننھی مونا اور پھولوں کے نمائندے ناامید ہو کر واپس آگئے۔ باغ میں آکرجب انہوں نے پھولوں ، کلیوں اور پودوں اور پرندوں کو بادل، ہوا اور سورج کی بے رُخی کے بارے میں بتایا تو سب کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے طے کر لیا کہ وہ اب کسی سے رحم کی بھیک نہ مانگیں گے۔
اگلی صبح جب سورج اپنے سنہرے تخت پر سوار ہو کر گشت کے لیے نکلا تو اس نے دیکھا کہ سارے مرغزار، کھیت، باغ ویران پڑے ہیں۔ ہر شے پر موت کی سی خاموشی ہے۔ پھولوںنے اپنی گردنیں پیلے پتوں میں چھپا لی تھیں جس سے باغوں میں اندھیرا سا پھیلا ہوا تھا۔ ننھے منے بچے باغوں کی روشوں پر اداس کھڑے تھے۔ کسی کا کھیل میں دل نہ لگتا تھا۔ بچوں کے گالوں کی لالی غائب ہو چکی تھی۔ ان کی چنچل آنکھوں میں آنسو تھے۔ تیز دھوپ کے بعد اندھیرا چھا گیا، لیکن آسمان کے ماتھے پر شفق نہ پھوٹی۔ ہوانے محسوس کیا کہ آج اس کی گود خالی ہے۔ اس کی گود میں کھیلنے والے شگوفے اس سے ناراض تھے۔ فیکٹریوں میں ، کھیتوں میں اور محفلوں میں ہر جگہ اداسی پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ ایک دوسرے پر جھنجھلا رہے تھے۔ کسی کو علم نہ تھا کہ پھول روٹھ گئے ہیں ممی کے کافی اصرار کے باوجود ننھی مونا نے کھانا نہ کھایا اور بھوکی سو گئی۔
آدھی رات کے قریب سورج نے ہوا کو اپنے محل میں بلایا اور کہا کہ اگر پھول اسی طرح روٹھے رہے تو یہ دنیا قبرستان بن جائے گی، اس لیے تم فوراً جا_¶ اور سمندر کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ کل صبح صبح میدانوں ، باغوں اور پہاڑوں کو چپہ چپہ سیراب ہونا چاہیے۔
اگلی صبح جب پھولوں نے پتوں میں چھپے چہرے نکالے تو وہ خوشی سے چیخ اٹھے۔ آسمان پر کالے کالے بادل گرج رہے تھے۔ کچھ ہی دیر بعد تیز بارش ہونے لگی۔ہوا نے نازک کلیوں کے چہروںکو چوم کر انہیں جگایا اور باغوں کے پھول خوشی سے گلے ملنے لگے۔ پھولوں کے مسکراتے ہی باغوں کی روشنی لوٹ آئی۔ دنیا میں زندگی لوٹ آئی۔
بارش رکنے پر جب ننھی مونا اپنی سہیلیوں کے ساتھ باغ میں آئی تو پھولوں نے بچوں کا جھک جھک کر خےر مقدم کیا۔ ننھی مونا نے پھولوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی فتح کا ایک جلوس نکالیں۔ پھولوں نے مونا کی رائے سے اتفاق کیا اور سرخ، پیلے، نیلے، ہرے، نارنجی، اودے اور لال پھول اپنے رنگوں کے مطابق الگ الگ قطاروں میں کھڑے ہو گئے۔ پرندوں نے پھولوں کو اپنے پروں پر سوار کیا اور یہ جلوس نیم دائرے کی شکل میں زمین سے آسمان تک پھیل گیا۔ آج بھی بارش ہونے کے بعد پھولوں کی فتح کا یہ نشان آسمان میں دھنک کی شکل میں نظر آتا ہے۔
٭....٭

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close