Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

زین اور بونے

 
  ناہید فاطمہ حسنین  
 
زین نے اپنے دوست عزیر کے گھر میں پنجرے میں بند کبوتر کو دیکھ کر پوچھا: ”تم نے اس کبوتر کو قید کیوں کررکھا ہے؟“
عزیر نے بے پرواہی سے جواب دیا۔ ”بس یوں ہی، مجھے پرندے پالنے کا شوق ہے۔“
زین نے عزیر کو سمجھایا: ” نہیں دوست! یہ کوئی شوق نہیں، بلکہ پرندوں سے زیادتی ہے“۔
عزیر اپنی بات پر قائم رہا: ” یہ زیادتی کیسے ہوئی؟ میں اس کے کھانے پینے کا پورا خیال رکھتا ہوں اور اسے میں نے اپنی محنت سے شکار کیا ہے“۔
زین نے کہا: ”اپنی مخلوق کو کھانا کھلانا تو اللہ کا کام ہے، تم اسے اڑا دو۔ آزادی اسی طرح اس کا حق ہے، جس طرح ہمارا۔ تم نے خواہ مخواہ اسے بند کررکھا ہے۔ آزادی بہت بڑی نعمت ہے“۔ اس نے سفید براق کبوتر کی طرف محبت سے دیکھا۔
عزیر چپ رہا، اس کی سمجھ میں زین کی بات آگئی، اس نے جھٹ سے پنجرا کھولا اور کبوتر کو اڑادیا۔ کبوتر ہواﺅں میں اونچا ہوتا چلا گیا۔ دونوں دوست خوش ہو کر اسے دیکھنے لگے۔
زین کوئی آٹھ نو سال کا بچہ تھا، مگر نہایت حاضر جواب۔ چیزوں کو بہت غور اور تجسس سے دیکھنے والا، ہر بات کا خودبخود نتیجہ نکالنے والا۔ کیا، کیوں اور کیسے؟ یہ وہ سوالات تھے، جو ہر وقت اس کے ذہن میں ہر چیز کے متعلق گردش کرتے رہتے تھے۔ اسے جانوروں اور پرندوں سمیت ہر جان دار سے محبت تھی۔ اس کا تعلقہ ایک غریب گھرانے سے تھا۔ ان کے ہاں ہفتے میں ایک دن گوشت پکتا تھا اورہ وہ زین کے لیے عید سے کم نہ ہوتا تھا۔ جب دال اور سبزی کی باری آتی وہ منھ بناتا۔ امی اسے بہت پیار سے سمجھاتیں:”دیکھو بیٹا! دال اور سبزی میں کتنے پروٹین اور وٹامن ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں گوشت کی نسبت زیادہ طاقتور ہوتی ہیں۔“
وہ منھ بسور کر کہتا: ”مگر میں کیا کروں؟ مجھے تو بس گوشت ہی پسند ہے۔“
امی اس کے بال سنوارتے ہوئے کہتیں: ”بیٹا! جو اللہ دے، اسے صبر شکر سے کھالو۔“
”دال سبزی کو دیکھ کر میں صبر ہی کرتا ہوں اور جس روز گوشت پکتا ہے، میں شکر ادا کرتا ہوں، لہٰذا آپ کی کہی ہوئی بات پر پورا اترتا ہوں۔“ اس کی حاضر جوابی پر امی مسکرا کر رہ جاتیں۔
تین خوبیاں اس میں ایسی تھیں۔ جس سے وہ اپنے دوستوں میں افضل دکھائی دیتا تھا۔ ایک تو وہ اپنی امی کی ہر بات مانتا تھا۔ دوسری خوبی اس میں سچ بولنے کی عادت تھی۔ وہ کبھی اور کسی حالت میں بھی جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جھوٹ آج نہیں تو کل ضرور پکڑا جائے گا۔ پھر تیسری خوبی اس میں یہ تھی کہ وہ اپنے سے بڑے اور چھوٹے، سب کی خلوصِ دل سے مدد کیا کرتا تھا۔ یہاں تک کہ وہ جانوروں اور پرندوں کا خیال رکھتا۔
ان کے گھر سے جنگل پندرہ منٹ کی مسافت پر تھا۔ وہ اکثر اپنے دوست عزیر کے ساتھ جنگل میں چلاجاتا، جہاں دونوں مل کر سائیکل چلاتے۔ کبھی بے مقصد بھاگ دوڑ کرتے۔ آج بھی وہ اور عزیر سائیکل چلارہے تھے کہ زین کو دور کہیںسے گٹار بجنے کی آواز سنائی دی۔ گٹار اس کی کمزوری تھی۔ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گٹار کی آواز بہت توجہ سے سننے لگا۔ عزیر سائیکل کا لمبار چکر لینے کے لیے دور نکل گیا تھا۔ زین کے قدم خودبخود آواز کی طرف بڑھتے چلے گئے۔ مغرب ہوچکی تھی۔ سردیوں کے دن تھے،لہٰذا رات زیادہ گہری اور تاریک لگ رہی تھی۔ وہ گٹار کی آواز کے جادوںمیںکھویا ہوا آگے ہی آگے بڑھتا چلاگیا۔ یہاں تک کہ اسے ایک چھوٹا سا خیمہ نظر آیا۔ وہ بہت حیران ہوا۔ آواز خیمے کے اندر سے آرہی تھی۔ خیمہ اتنا چھوٹا تھا کہ زین کو اس کی چھت صاف نظر آرہی تھی، بلکہ وہ اس کی چھت پر ہاتھ بھی پھیر سکتا تھا۔ خیمے کا دروازہ اس طرح کھلا ہوا تھا جیسے وہاںرہنے والوں کو زین کی آمد کو پہلے سے علم ہو۔ زین نے جھک کر سر اندر کیا اور اگلے ہی لمحے وہ خیمے کے اندر پہنچ کر بے خیالی میں سیدھا کھڑا ہوگیا، مگر پھر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی، جب اس نے دیکھا کہ اندر سے خیمے کی چھت اتنی اونچی ہے کہ وہ ہاتھ بھی نہیں لگاسکتا، وہ اس معاملے کو سلجھانے کی غرض سے باہر جانے کے لیے مڑا، مگر یہ کیا؟ اب اسے حیرت کا دوسرا جھٹکا لگا، کیوں کہ وہ راستہ جس سے وہ اندر آیا تھا، اب موجود نہ تھا۔
”یاخدا! دروازہ کہاں گیا؟“ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ گٹار بجنے کی آواز تھم گئی اور تالیاں بجانے کی آوازیں آنے لگیں۔ یوں جیسے ننھے بچے تالیاں بجارہے ہوں۔
وہ واپس جانے لگا تو خیمے کے اندر سے آواز آئی۔ ”اندر آجاﺅ۔“ اس نے آواز کی طرف دیکھا تو کونے میں ایک بوڑھا بونا بیٹھا نظر آیا۔
زین حیرت سے پلکیں جھپکانے لگا۔ پھر اسے برابر ہی میں تین بونے اور نظر آئے۔ ایک اور بونا کافی فاصلے پر گٹار لیے بیٹھا تھا۔ یقینا گٹار وہی بجارہا تھا۔
بوڑھے بونے نے ناگواری سے پوچھا۔: ”تم یہاں تک کیسے آئے؟“
عادت کے مطابق زین نے شرارت سے کہا: ”پیروں سے چل کر۔“
بوڑھا بونا سخت غصے میں بولا: ”مذاق مجھے پسند نہیں۔ سچ سچ بتاﺅ؟“
زین بھی سنجیدہ ہوگیا۔ ”دراصل گٹار کی آواز سن کر خود کو روک نہ سکا اور یہاںتک آگیا۔“
گٹار والے بونے نے نرمی سے پوچھا: ”کیا تمہیں گٹار بہت پسند ہے‘
زین آہستگی سے بولا ”جی! گٹار مجھے بہت پسند ہے۔ یہ بہت مہنگا ہوتا ہے اور ہم غریب ہیں، اس لیے خرید نہیں سکتے۔“ زین کی نظریں اب بھی گٹار پر جمی تھیں۔
گٹار والے بونے نے کھلونے جیسا گٹار زین کے سامنے رکھتے ہوئے کہا: ”یہ لو اور اسے بجاﺅ۔“
زین آہستہ آہستہ چلتا ہوا گٹار والے بونے تک پہنچ گیا اور بولا: ”مگر مجھے بجانا نہیں آتا۔“
اب کی بار بوڑھا، جو غالباً ان کا سردار تھا، نرمی سے بولا: یہ کوئی عام گٹار نہیں ہے۔ تم صرف انگلیاں چلاﺅ، باقی کام یہ گٹار خود کرے گا۔“
زین نے شکریہ کہہ کر گٹار بجانا شروع کیا تو واقعی اس میں سے سریلی آواز نکلنے لگی۔ زین خوشی اور حیرت کے مارے باری باری سب بونوں کو دیکھنے لگا۔ وہ سب مشفقانہ انداز میں سر ہلا کر اسے شاباشی دے رہے تھے۔ کافی دیر تک گٹار بجانے کے بعد اچانک زین چونک کر کھڑا ہوگیا: ”مجھے اب چلنا چاہیے، میری امی انتظار کررہی ہوں گی۔“
بوڑھے سردار نے زین سے کہا: ”تم ہمارے مہمان ہو، لہٰذا ہماری مرضی سے ہی جاسکتے ہو، تھوڑی دیر میں ایک بونا اٹھ کر ایک طرف کو گیا اور پھر پلٹ کر واپس آیا۔ اب وہ سب کو کھانے کی دعوت دے رہا تھا۔
”مگر میری امی میرا انتظار کررہی ہوں گی۔“ بہت دیر ہوگئی تھی، زین واقعی پریشان ہورہا تھا۔
”تم فکر مت کرو۔ ابھی وقت زیادہ نہیں گزرا ہے۔ تمہاری امی پریشان نہیں ہوں گی‘ ان شاءاللہ۔“ سردار نے اسے تسلی دی اور سب کو لے کر کھانے کے کمرے میں چلاآیا۔
چھوٹی سی میز پر گرما گرم سوپ کے ساتھ بہت عمدہ اور لذیذ گوشت رکھا تھا۔ زین نے خوب پیٹ بھر کر کھایا۔ ایک بات جو بہت حیرت انگیز تھی، وہ یہ کہ چھوٹے سے برتن میں سوپ اور گوشت اسی وقت ختم ہوا، جب زین کا پیٹ بھر گیا، ورنہ کھانے سے پہلے وہ سوچ رہا تھا کہ یہ کھانا تو میرے ایک نوالے کے برابر ہوگا۔
بونے سردار نے زین کی سوچ پڑھ لی تھی، وہ بہت محبت سے بولا: ”ہم عام لوگ نہیں ہیں۔ ہم زمین کے اندر رہنے والی مخلق ہیں۔ ہماری ہر چیز تم لوگوں سے جدا اور مختلف ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے باہر سے خیمہ اتنا چھوٹا ہے کہ تم اس کی چھت دیکھ رہے تھے اور اندر سے اتنا بڑا اور اونچا ہے کہ تم اس کی چھت کو چھو بھی نہیں سکتے۔“
زین چونکا تو ضرور، مگر یہ وقت چونکنے کا نہ تھا۔ وہ جانے کے لیے کھڑا ہوا تو گٹار والا بونا آگے بڑھ کر کہنے لگا۔ ”یہ گٹار میری طرف سے تمہارے لیے تحفہ ہے۔“
زین کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے شکریہ ادا کیا، اسی وقت دوسرا بونا آگے بڑھا اور اسے ایک عام سی، مگر بے حد خوب صورت پنسل دیتے ہوئے بولا: ”تم اس پنسل سے جو کچھ بھی لکھو گے، وہ تمہیں یاد ہوجائے گا۔“
پھر تیسرا بونا آگے بڑھا۔ اس نے لکڑی کی کھڑاویں دیتے ہوئے کہا: ”یہ جادوئی کھڑاﺅں ہیں، تمہیں اپنی منزل پر منٹوں میں پہنچادیں گی۔“
چوتھے بونے نے اسے ایک ہانڈی دیتے ہوئے کہا: ”تمہیں اس میں روزانہ نئے ذائقے کا کھانا پکا ہوا تیار ملا کرے گا۔“ آخر میں ان کا سردار آگے بڑھا اور ایک چھوٹا سا بکس دیتے ہوئے کہنے لگا: ”اس میں ہمیشہ اتنے روپے موجود رہیں گے‘ جو تمہاری ضرورت پوری کرسکیں گے۔“
زین اتنی ساری چیزیں لے کر حیران و پریشان انہیں دیکھ رہا تھا کہ بونوں کا سردار بولا: ”یہ سب انعام تمہیں اس صلے میں مل رہا ہے کہ تم جانوروں اور پرندوں سے محبت کرنے والے بچے ہو۔ تم نے اس دن جس کبوتر کو پنجرے سے آزاد کروایا تھا، وہ کبوتر دراصل گٹار بجانے والا بونا تھا، جو کبوتر بن کر انسانی آبادی میں چلا گیا تھا۔ تمہارے دوست نے اسے قید کرلیا تھا، پھر تم نے اسے آزاد کروایا۔ یاد رکھو، نیکی خواہ چھوٹی ہو یا بڑی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔“
زین حیران ہونے کے ساتھ ساتھ خوش بھی ہورہا تھا۔ اس نے سب کا شکریہ ادا کیا اور سامان سمیٹ کر باہر نکل آیا، مگر باہر آکر اسے ایسا محسوس ہوا، جیسے اسے آئے ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری ہے، دور عزیر سائیکل چلارہا تھا، اس نے پلٹ کر خیمے کی طرف دیکھا: ”ہیں یہ کیا؟“ خیمہ غائب تھا۔ اسے حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔ کیا وہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا۔ اس نے آنکھیں ملیں، مگر ہاتھ میں موجود تحائف بتارہے تھے کہ اس نے کوئی خواب نہیں دیکھا جو کچھ تھا، سمجھ میں نہ آنے والا سچ تھا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close