Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

شاہین کا مہمان

 
  یاسمین امتیاز، کراچی  
 
ایک بدمزاج بادشاہ اپنے خدمت گاروں اور سپاہیوں کے ساتھ ایک روز شکار پر گیا۔ جب وہ پہاڑ کے دامن میں دوپہر کا کھانا کھانے دسترخوان پر بیٹھا تو ایک شاہین نے اچانک آکر اس کے سامنے بھنے ہوئے مرغ کو پلک جھپکتے میں اٹھالیا اور تیزی سے اڑتا ہوا چلا گیا۔ بادشاہ دیکھتا کا دیکھتا رہ گیا۔ اس نے فوراً ہی اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ گھوڑوں پر سوار ہو کر شاہین کا پیچھا کریں اور معلوم کریں کہ شاہین مرغ کہاں لے گیا ہے"۔
فوراً ہی لشکر روانہ ہوگیا، یہاں تک کہ شاہین کا تعاقب کرتا ہوا پہاڑ کی چوٹی پر جاپہنچا۔ وہاں سے سپاہیوں نے پہاڑ کی دوسری جانب بڑا عجیب و غریب منظر دیکھا۔ ان کے سامنے ایک شخص تھا۔ جس کے ہاتھ اور پائوں بندھے ہوئے تھے اور وہ زمین پر پڑا ہوا تھا۔ بھنا ہوا مرغ دسترخوان سے اٹھا کر لانے والا شاہین بڑے مزے سے اس شخص کی خدمت کررہا تھا۔
وہ پرندہ اپنی چونچ سے گوشت نوچ چوچ کر اس شخص کے منھ میں ڈال رہا تھا۔ پھر وہ اڑا اور کہیں سے اپنی چونچ میں پانی بھر لایا۔ اس نے یہ پانی بھی اس شخص کو پلادیا۔ سپاہی اس شخص کے قریب پہنچے اور اس کے ہاتھ پائوں کھول کر پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے تو اس نے سپاہیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا:
"میں ایک تاجر ہوں، تجارت کے سلسلے میں اپنا مال لے کر جارہا تھا کہ اسی راستے میں ڈاکوئوں کا سامنا ہوگیا۔ وہ میرا مال و دولت لوٹ کر لے گئے۔ وہ چاہتے تھے کہ مجھے قتل کردیں۔ میں نے ان سے التجا کی کہ وہ مجھے جان سے نہ ماریں۔ میری التجا پر انہوں نے مجھے جان سے تو نہ مارا، لیکن مجھے اور میرے خچر کو باندھ دیا اور چلے گئے۔ دوسرے دن یہ پرندہ میرے لیے کہیں سے روٹی لے کر آیا۔ پھر روازنہ ہی کہیں نہ کہیں سے میرے لیے کچھ کھانے کو لاتا ہے۔ آج بھی یہ بھنا ہوا مرغ لے ایا ہے، روانہ دو مرتبہ یہ پرندہ میری اسی طرح خدمت کرتا ہے۔ جیسے میں اس کا مہمان ہوں"۔
بادشاہ کے سپاہیوں نے واپس جا کر اس کویہ واقعہ سنایا۔ بادشاہ کو جب پوری صورتحال کا علم ہوا تو اس کی زندگی میں انقلاب آگیا اور کہنے لگا:
"افسوس ہے ہم پر کہ ہم ایسے اللہ سے غافل ہیں جو اس انداز سے بھی اپنے بندوں کو رزق فراہم کرتا ہے اور اپنا نظام چلاتا ہے"۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close