Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

انڈے مرغا اور اذان

 
  نعیم مشتاق نومی، پشاور  
 


میں گھر سے انڈے لینے کے لیے نکلا۔ گھر کے دروازے سے نکلتے ہی مجھے اسی گلی کا ایک لڑکا مل گیا۔ جس سے میری نہ صرف جان پہچان تھی، بلکہ گپ شپ بھی تھی، واحد نام تھا اس کا، شاید اس لیے کہ وہ اپنے گھر میں واحد لڑکا تھا۔
"کدھر کا ارادہ ہے۔" وہ اپنے مخصوص لہجے میں بولا۔ ایسے جیسے گارہا ہو۔
میں نے بتایا تو بولا: "انڈے لینے تو میں بھی جارہا ہوں"۔ اس نے ایک خاص انداز میں آنکھیں گھما کر کہا: "مگر میں دکاندار کو مرغی نہیں، مرغا بنانے جارہا ہوں"۔
میں نے وضاحت طلب انداز میں اس کی جانب دیکھا: "سمجھا نہیں"۔
وہ بولا: "جس دکاندار سے میں انڈے لیتا ہوں، وہ ہمیشہ کہتا ہے، یہ لو تھیلی اور خود ہی ڈال لو، اور پھر۔۔۔۔۔۔۔ پھر میں خود ہی ڈال لیتا ہوں"۔ اس کی آنکھوں میں اس وقت ایک خاص چمک اور چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ تھی۔
"یہ تو ٹھیک ہے، مگر اس سے دکاندار مرغا کیس بنتا ہے"۔ میں نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا۔ "کہیں وہ بانگیں دینا تو شروع نہیں کردیتا"۔
"مجھے پتا تھا، تو اسی طرح کا کچھ ضرور بولے گا"۔ وہ میری ناسمجھی پہ ہلکا سا ہنسا۔
میں اس کا منہ تکنے لگا: "کیا مطلب"۔
"میں جانتا تھا، تتو میری بات سمجھ نہیں پائے گا"۔ وہ مسکرا کر بولا۔ "اس لیے خود ہی بتادیتا ہوں، سن!"۔ وہ ایک لمحے کو رکا، پھر بولا۔ "دیکھ! جب میں دکاندار سے کہتا ہوں، ایک درجن انڈے دے دو اور وہ مجھے کہتا ہے، یہ لو تھیلی اور ڈال لو، تو جناب! چوں کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ ایک درجن ڈال لو، اس لیے میری مرضی ہوتی ہے کہ پھر میں پندرہ ڈال لوں یا سولہ، کیا سمجھے"۔
"اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔!"۔ میرے ہونٹ سیٹی بجانے کے سے انداز میں سکڑ گئے۔ میں نے سر ہلاتے ہوئے پوچھا۔ "تو تم دکان دار کو یوں مرغا بناتے ہو"۔
"اپنا اپنا اسٹائل ہے بھئی!" وہ اترا کر بولا۔
"وہ توٹھیک ہے"۔ میں نے طنزیہ انداز میں کہا: "مگر اس کے اس اسٹائل کا کیا ہوگا، جس دن اس نے اذان دے دی، وہ بھی ککڑوں کوں، تیری بودی وچ جوں"۔
وہ فورا میرا مطلب سمجھ گیا۔ مسکرا کر بولا۔ "ایسا دن کبھی نہیں آئے گا"۔
اسے اپنے ہاتھ کی صفائی پر پورا یقین تھا اور نہ صرف یہ ، بلکہ اعتماد بھی۔
"ٹھیک ہے، آج سے تجھے اپنے فن کی کار دکھاتا ہوں، کیسے چلتی ہے وہ"۔ وہ فخریہ آواز میں بولا۔ پھر ہلکا سا ہنستے ہوئے وضاحت کی: "مطلب، فن کاری"۔
"ٹھیک ہے، دیکھتے ہیں"۔ میں نے کندھے اچکا کر کہا۔
یوں ہی باتیں کرتے ہوئے ہم مارکیٹ پہنچ گئے، وہ مجھے لے کر سیدھا اس دکان پہ گیا، جہاں بقول اس کے وہ کسی کو مرغا بناتا تھا۔ پھر میں نے دیکھا، حرف بہ حرف وہی ہوا، جو اس نے مجھے بتایا تھا۔ اس نے دکان دار سے کہا: "ایک درجن انڈے دے دو"۔
جواب میں دکان دار نے کہا: " یہ لو تھیلی اور خود ڈال لو۔" اس نے تھیلی اس کے ہاتھ میں تھمادی۔
واحد نے پہلے میری طرف فخریہ انداز میں دیکھا، پھر دکاندار سے بولا۔ "ایک تھیلی اور دینا پلیز۔"
پھر وضاحت کرتے ہوئے بولا: "اپنے لیے نہیں مانگ رہا"۔ اس نے مسکراتے ہوئے تھیلی لی اور میری طرف بڑھاتے ہوئے بولا: "یہ تو آپ کے نئے گاہک کے لیے ہے، جسے میں اپنے ساتھ لایا ہوں"۔
"اچھا، بڑی مہربانی بھئی"، دکان دار خوش ہو کر ممونیت سے بولا۔
"جو ہم سے بن پڑتا ہے، وہ ہم کرتے ہیں نا جی"۔ وہ اپنی خاص لے میں دکان دار سے بولا۔
"ہم ڈیل بھی تو آپ سے اسپیشل کرتے ہیں نا بھئی"۔ دکان دار مسکرایا۔
اس کے بعد ہم دونوں اس کونے کی طرف بڑھ گئے، جہاں انڈوں کے کریٹ رکھے ہوئے تھے، جب کہ دکان دار چند اور آنے والے گاہکوں کے ساتھ مصروف ہوگیا، اس کی دیکھا دیکھی ہم بھی مصروف ہوگئے۔ واحد نے اپنی تھیلی میں درجن سے زیادہ انڈے ڈالے اور میری تھیلی میں بھی دو اضافی انڈے ڈال دیے۔ میں نے اضافی انڈے فورا باہر نکال لیے۔
"بڑا بزدل نکلا تو تو"۔ وہ مجھ پر افسوس کرتے ہوئے بولا۔
"بات بزدلی کی یا ڈرنے کی نہیں، بات اس اعتماد کی ہے، جو وہ تم پر کرتا ہے، مگرشاید تمہاری سمجھ میں میری بات نہیں آئے گی"۔ میں نے کہا اور ایک لمبا سانس لیا۔
عین اسی لمحے دکان دار نے اس کا نام لے کر اسے پکارا۔ وہ چونکا، مگر پھر جلدی سے اس کے پاس جاکھڑا ہوگیا، وہاں اس وقت ایک گاہک کھڑا تھا۔ جس نے ادائیگی کے لیے دکان دار کو پانچ سو روپے کا نوٹ دیاتھا۔
"وہ میرا ملازم لڑکا گھر سے ذرا روٹی لینے گیا ہے"۔ دکان دار نے کہا۔ :تو یہ بھاگ کر ذرا میڈیکل اسٹور والے سے کھلا لے آ، اس سے کہنا، میں نے بھیجا ہے۔ دے دے گا"۔
واحد نے دکان دار سے پانچ سو روپے کا نوٹ لیا اور انڈوں کی تھیلی سمیت باہر چل دیا۔
واحد آدھے منٹ میں واپس آگیا، پھر دکان دار کی ہتھیلی پر سو سو روپے والے نوٹ رکھتے ہوئے بولا: "یہ لیں جناب"۔
"شکریہ"۔ دکاندار نے کہا اور اس رکے ہوئے گاہک کو حساب کرکے فارغ کردیا۔
عین اسی لمحے ایک لڑکا آندھی اور طوفان کی طرح دکان میں داخل ہوا، بلکہ گھسا اور گھستے بولا: "ابو! امی نے کہا ہے کہ جلدی سے ایک درجن انڈے دے دو، بلکہ یہی دے دو"۔
اس نے اچانک وہ انڈوں والی تھیلی پکڑ لی، جو واحد تھامے کھڑا تھا، واحد کی گرفت اپنی تھیلی پر مزید مضبوط ہوگئی۔
"نن نہیں، میں نہیں دے سکتا"۔ واحد نے پہلے دکان دار کی طرف دیکھا، پھر میری طرف، مجھے  یوں لگا، جیسے کہہ رہا ہو، میری مدد کر۔
"بھئی ایک درجن ہی تو ہیں، دے دو"۔ دکان دار نے منت کی۔ "بلکہ یوں کرو، تم اپنے انڈے اسے دےد و، میں تمہیں ایک انڈا مفت دوں گا۔
واحد اب بھی آمادہ نہیں تھا۔ اس نے مدد کے لیے پھر میری طرف دیکھا، کیوں کہ وہ جانتا تھا کہ میں واقف ہوں کہ اس کے نہ دینے کی وجہ کیا ہے۔ مجھے اس پر ہلکا سا ترس آیا، کیوں کہ میں جانتا تھا، وہ پکڑے جانے کے خوف سے گھبرایا ہوا ہے۔ میں نے فورا صورتحال کو سنبھالا اور اپنی تھیلی اس لڑکے کی طرف بڑھادی۔
لڑکے نے شکریہ کہہ کر وہ تھیلی سنبھالی اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیا۔
دکان دار نے میرا شکریہ ادا کیا، پھر واحد کو مخاطب کرکے بولا: "بھئی اتنا پیار تو مرغی بھی اپنے انڈوں سے نہیں کرتی، جب وہ بیٹھ کر ان کو سیتی ہے"۔ اس کے لہجے میں ہلکی سی حیرت تھی۔
پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر بولا: "آپ کا ایک بار پھر شکریہ"۔
"جی، کوئی بات نہیں"۔ میں نے شرمندہ سا ہو کر کہا۔
"انڈے آپ خود ڈالیں گے یا میں ڈال دوں"۔ اس نے مسکراتے ہوئے مجھ سے پوچھا اور ایک تھیلی اٹھالی۔
"کوئی بات نہیں، آپ مجھے دیں، میں ڈال لیتا ہوں"۔ میں نے کہا اور تھیلی دکان دار سے لے لی۔
جب میں تھیلی میں انڈے ڈال چکا تو میں نے اپنی تسلی کے لیے انہیں گنا۔ پھر یہ جان کر اطمینان ہوا کہ وہ پورے بارہ تھے، یعنی ایک درجن، نہ ایک کم، نہ ایک زیادہ۔
میرے گننے کے ساتھ ساتھ واحد بھی گن رہا تھا، لہٰذا جیسے ہی گنتی ختم ہوئی، واحد نے ایک انڈا اور میری طرف بڑھایا، تاکہ میں اسے تھیلی میں ڈال لوں، جسے لینے سے میں نے صاف انکار کردیا، اسی لمحے دکان دار کی آواز سماعت سے ٹکرائی: "لے لو بھئی! اس پہ آپ کا حق بنتا ہے، کیوں کہ میں نے اس کام کے لیے واحد کو آفر کی تھی ایک مفت انڈے کی، اس لیے لے لیں، حق ہے آپ کا"،
"جی شکریہ"۔ میں نے دوبارہ انکار کرتے ہوئے کہا۔
عین اسی لمحے ایک شہد کی مکھی نے مجھ پر حملہ کردیا۔ میں اس سے ایک بار بچنے کی کوش میں کامیاب رہا، دوسری بار بھی کامیاب رہا، مگر اس سے پہلے کہ وہ تیسرا رائونڈ لے کر مجھے گرائونڈ کرتی، صورتحال کی سنگینی کو بھانپ کر واحد نے فورا میری مدد کی اور مجھ سے انڈوں والی تھیلی لے کر پھرتی سے ایک طرف ہٹ گیا، تاکہ وہ بھی محفوظ رہے اور میں بھی شہد کی مکھی کے خلاف کوئی خاطر خواہ کارروائی کرسکوں، مگر اسے کیا پتا تھا، یہی بات اس کی بدبختی کا سبب بننے والی ہے، کیوں کہ ہوا کچھ یوں کہ مکھے نے مزید دو تین حملے کیے، مگر اس کے بعد وہ میری زد مین آہی گئی، اس ہاتھ کی زد میں، جس میں دکان دار کی فوری طور پر دی ہوئی ایک بالشت بھر کی مگر بڑی کار آمد جھاڑو تھی، مکھے سے فارغ ہو کر میں نے جیسے ہی جھاڑو دکاندار کو شکریے کے ساتھ واپس کی، میں چونکا، بلکہ مجھ سے زیادہ واحدچونکا، اور صرف چونکا ہی نہیں، بلکہ اس کے چہرے پہ ایک رنگ سا آکے چلاگیا، اس لیے کہ دکان دار واحد کے ہاتھ میں موجود انڈوں کی تھیلی کو بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا، واحد والی تھیلی، میری تھیلی میں ہر لحاظ سے اور واضح طور پر بڑی نظر آرہی تھی، میں سمجھ گیا کہ دکان دار کیا سوچ رہا ہے۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا یا کچھ کرتا، دکان دار کائونٹر کے پیچھے سے نکل کر آگیا۔ اسی لمحے اس کا ملازم بھی آدھمکا۔ دکاندار نے واحد کو مخاطب کرکے شائستگی سے کہا: "پہلے آپ ان کو ایک درجن انڈے دیجئے، پھر میں آپ کو ایک کام بتاتا ہوں، ایک ایسا کام جو آپ کے لیے کرنا بہت آسان ہوگا"۔ واحد عجیب سی، مگر گھبرائی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ دکان دار کی ہدایت کے مطابق اس نے میری والی تھیلی کو میرے حوالے کردیا اور تھوگ نگلتے ہوئے دکان دار کی طرف دیکھا۔
اس کے بعد دکان دار نے ملازم لڑکے سے کہا: "جلدی سے ایک تھیلی مجھے دینا"۔
ملازم لڑکے نے آنا فانا ایک تھیلی دکان دار کے ہاتھ میں تھمادی۔
"چلیں بھئی، واحد میاں"۔ دکان دار نے تھیلی کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر کھولتے ہوئے کہا، "شروع ہوجائیں"۔ اور جا کر بغل میں کھڑا ہوگا۔
واحد ہکابکا، اسے تکے جارہا تھا، ایسے لگ رہا تھا، جیسے اس کا دماغ اس وقت سوچنے سمجھنے کی طاقت کھوچکا ہے، یہ حالت دیکھ کر دکان دار نے فورا ملازم لڑکے سے کہا: "میرا خیال ہے واحد میاں گنتی بھول گئے ہیں، ذرا آکے ان کی مدد کرنا، پھر اس نے اسے تفصیلا بتایا کہ وہ واحد کی تھیلی سے ایک ایک کرکے انڈا نکالے اور گنتی کرکے اس تھیلی میں ڈالتا جائے، جو اس نے تھام رکھی ہے، ملازم حکم کی تعمیل میں جت گیا۔
واحد کے چہرے اور آنکھوں پر گہرا خوف نظر آرہا تھا۔ وہ شرمندہ بھی تھا۔
جب گنتی بارہ تک پہنچی تو دکان دار نے اپنے ملازم لڑکے کو مزید آگے گننے سے روک دیا۔ پھر وہ تھیلی جس میں بارہ انڈے پہنچ چکے تھے، اس نے ملازم لڑکے کو پکڑا دی اور اس کے بعد واحد سے تھیلی لی، پھر اس میں موجود اضافی انڈے گنتے ہوئے بولا: "اکھٹے چار گول، ایک ساتھ"۔ اس کے لہجے میں حیرت تھی۔ "لگتا ہے برازیل کی ٹیم میں کھیلتے رہے ہو"۔
واحد نے خوف سے تھوک نگلا، کیوں کہ وہ سمجھ چکا تھا کہ اب اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے
"لیکن ایک بار شاید میں نے تمہیں کبھی نہیں بتائی"۔ دکان دار نے وہ چار انڈوں والی تھیلی بھی ہاتھ بڑھا کر اپنے ملازم لڑکے کو تھمادی اور بولا: "یہ میں کرکٹ کا کھلاڑی ہوں، بیٹنگ کے لیے جائوں تو شاہد آفریدی کی طرح کھیلتا ہوں، اور بولنگ کروں تو پھر شعیب اختر، مطلب یا تو چوکے چھکے یا کلین بولڈ"، اسی کے ساتھ لپک کر اس نے واحد کا گریبان پکڑ لیا اور ایک ساتھ تین چار زناٹے دار تھپڑا اس کے گال پر جڑ دیے۔
فضا، چٹاخ، چٹاخ کی آوازوں سے لرز اتھی، جس کے آخر میں سسکیاں بھی موجود تھیں۔
"ایک کو دیکھو، مفت میں انڈا ملا، مگر نہیں لے رہا"۔ وہ غصے سے لال پیلا ہوتے ہوئے بولا۔ "اور دوسرا۔۔۔۔۔۔ دوسرا مفت میں چوکے مار رہا ہے، اور نجانے کب سے مار رہا ہے"۔ اسی کے ساتھ ایک اور چٹاخ کی آواز ابھری۔
اس کے بعد وہ بولا: "آج کے بعد اگر تو مجھے اس مارکیٹ میں نظر بھی آیا تو میں ایسا بائونسر ماروں گا کہ ڈک بھی نہیں کر پائوگے"۔ اسی کے ساتھ اس نے واحد کو بری طرح جھنجھوڑا، پھر اس نے جیسے ہی واحد کا گریبان چھوڑا، وہ جان بچی لاکھوں پائے کے مصداق فورا نو دو گیارہ ہوگیا اور آج اس قصے کو تقریبا پانچ سال کا عرصہ بیت چکا ہے، مگر میں نے پھر کبھی واحد کو اس مارکیٹ کی طرف جاتے نہیں دیکھا۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close