Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

دنیا کو عقل کیسے ملی؟

 
  گوہر تاج  
 
جب دنیا بالکل نئی نئی بنی تھی تو دنیا کی ساری عقل مکڑے کو کہیں پڑی ہوئی مل گئی۔ اب ظاہر ہے کہ مکڑا تو اس ساری عقل کو اپنے پاس ہی رکھنا چاہتا تھا، لہٰذا اس نے اس کو ایک بہت بڑے سے مٹی سے برتن میں رکھ کر مضبوطی سے بند کردیا۔
"آہا، میں کتنا خوش نصیب ہوں، جس کے پاس اتنی ساری عقل ہے"۔ مکڑے نے سوچا ہ ایک دن مین دنیا کا بادشاہ بن جائوں گا، کیوں کہ میں دنیا میں اکیلا عقل مند ہوں۔ میں اس کو بہت احتیاط سے چھپادوں گا، جہاں کوئی اور اس کو نہ دیکھ سکے۔ مکڑا جنگل میں اپنی آٹھ ٹانگوں کےساتھ جتنا تیز بھاگ سکتا تھا بھاا، تاکہ اس عقل سے بھرے برتن کو کہیں چھپاسکے۔
کچھوے نے اس سے پوچھا: "کہاں جارہے ہو تم"۔
خرگوش نے اس سے سوال کیا: "کہاں جارہے ہو اور اتنی جلدی میں کیوں ہو"۔
مگر مکڑے نے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ بھاگتا رہا۔ ایک ایسی جگہ کی تلاش میں جہاں وہ عقل کو چھپاسے۔ اس سے پہلے کہ کوئی اور اسے دیکھے اور اس میں سے کچھ عقل لے لے۔ مکڑے نے سوچا: "مجھے پتا ہے کہ میں کیا کروں گا، میں اپنی عقل کو دنیا کے سب سے اونچے درخت کے اوپر چھپائوں گا۔
آکر اس کو ایک درخت ملا۔ یہ ریشمی سوت کا درخت تھا کہ جس کے نچلے حصے میں اس کی شاخیں زمین سے اتنی اوپر آگئی تھیں کہ وہ ایک ہاتھی کو بھی چھپاسکیں۔ اس کا چکنا تنا اتنا موٹا تھا کہ اس میں مکڑے کا پورا گھر سماجائے۔ درخت کے اوپر کے حصے کی شاخیں بالکل چھتری کی طرح پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ شاخیں نرم چمکیلی پتیوں اور بہت اچھی روئی جیسی ایک چادر کی طرح دھنکی ہوئی تھیں۔
مکڑا چلایا: "یہ تو کچھ چھپانے کی زبردست جگہ ہے۔ اس پر تو کوئی بھی نہ چڑھ سکے گا، کیوں کہ اس کی شاخیں زمین کےقریب نہیں ہیں"۔
یہ دیکھ کر مکڑا دوبارہ اس جگہ گیا کہ جہاں اس نے اپنا عقل کا برتن رکھا ہوا تھا۔ پھر اس کو وہ اس گھنے درخت کے نیچے لایا۔ اب ریشمی سوت کے درخت پر چڑھنا بہت مشکل ہوتا ہے، کیوں کہ وہ اوپری سطح تو بہت چکنی ہوتی ہے، مگر مکڑے کو یقین تھا کہ وہ اس پر چڑھ جائے گا، اس کی وجہ یہ تھی کہ دوسروں کے مقابلے میں اس کی ٹانگیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ انسانوں کے پاس دو اور جانوروں کے پاس چار، لیکن مکڑے کے پاس آٹھ ہوتی ہیں۔
مکڑے نے عقل سے بھرے ہوئے برتین کو ایک مضبوط رسی کی مدد سے باندھ کر اپنے گلے میں لٹکا لیا تاکہ وہ اس کی نظروں کے سامنے ہی رہے۔ وہ درخت پر چڑھنے کے لے تیار ہوگیا۔ اس نے اپنی آگے کی دو ٹانگوں کو درخت کے تنے کے گرد جتنا دور تک جاسکتی تھیں، رکھا پھر اس نے اس کے بعد کی دو اگلی ٹانگوں کو برتن کے منھ کی طرف لپیٹ لیا۔ دو ٹانگوں کو برتن کے درمیانی حصے پر جمایا، آخری دو ٹانگوں کو برترین کے بالکہ نیچے رکھا، لیکن برتن تو بہت بھاری تھا۔ آخر اس نے دنیا بھر کی عقل جو بھری ہوئی تھی۔
آہستہ آہستہ وہ اوپر کی جانب جانے لگا۔ عین اس وقت کہ جب وہ انتہائی خوشی محسوس کررہا تھا، اچانک پھسل گیا۔ وہ گرا تو واپس زمین پر پہنچ گیا۔
مکڑے نے سوچا کہ میری آٹھ ٹانگیں ہیں، میں یقیناً اس درخت پر دوبارہ چڑھ سکتا ہوں، لہٰذا اس نے دوبارہ چڑھنا شروع کردیا۔ وہ درخت کو جتنی مضبوطی کے ساتھ خود سے چمٹاسکتا تھا چمٹایا اور اپنی طاقت سے چڑھنا شروع کردیا۔
برتن بھت بھای تھا اور اس کی نچلی ٹانگیں اس کے وزن کو نہ سہار سکیں۔ اس بار بھی اس کی قمست پہلے کی طرح اچھی نہیں نکلی۔ وہ ایک بار پھر زمین پر آگرا۔ مکڑا اب بہت فکر مند ہورہا تھا۔ شاید اس کو غصہ بھی بہت آرہا تھا۔ اس نے ایک دفعہ اور کوشش کرنے کا سوچا اور پہلے سیزادہ محنت سے اوپر کی طرف چڑھنے کی کوشش کی، لیکن پھر وہی ہوا اس کی ٹانگیں پھسلیں اور تھوڑی دیر میں وہ زمین پر آگرا۔ مکڑا برتن اور عقل کے ساتھ چاروں شانے چت زمین آگرا تھا۔ اس دوران مکڑے کا سب سے بڑا لڑکا "کما" یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
 اس نے کہا: "ابو! مجھے ایک خیال آیا ہے، کیوں نہ آپ اپنے آگے کے بجائے عقل کے برترین کو پیچھے لٹکالیں۔ اس طرح آپ آسانی سے درخت پر چڑھ سکیں گے۔ جب مکڑے نے یہ سنا تو اسے معلوم ہوا کہ کما کے پاس بھی کچھ عقل ہے اور دنیا کی ساری دانائی صرف اسی کے پاس نہیں ہے۔ یہ سوچ کر اس کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے عقل سے بھرے برتن کو زمین پر پٹخ دیا، جس سے وہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بکھر گیا اور عقل بھی نکل کر چاروں طرف پھیل گئی۔
اس سےا تنا شور ہوا کہ اس کو دیکھنے کے لیے دور دور سے لوگ آنے لگے۔ گھروں سے بوڑھی عورتیں آگئیں، کھیتوں سے مرد نکل کر آگئے۔ چھوٹے لڑکے کھیل چھوڑ کر ادھر آگئے اور چھوٹی
بچیاں بھی گڑیاں چھوڑ کر آگئیں۔ جب سب نے دیکھا عقل برین سے نکل کر چاوں طرف بہ رہی ہے تو انہوں نے تھوڑی تھوری اپنے لیے لے لی، یہاں تک کہ جانروں نے بھی کچھ عقل لے لی۔ یہ سارے لوگ دنیا میں پھیل گئے۔ انڈیا، اسپین اور پناما۔ وہاں بھی جہاں ہمیشہ ٹھنڈ پڑتی ہے اور وہاں بھی جہاں ہمیشہ گرمی رہتی ہے۔ ہر ایک کے پاس کچھ عقل آگئی، کیوں کہ وہ اتنی ساری تھی کہ ہر ایک کو آسانی سے مل سکتی تھی۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close