Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ہم نے پکڑا چور

 
  سارہ الیاس  
 
والدہ محترمہ کا فرمانِ عالی شان تھا: ”جب سے لڑکا امتحان سے فارغ ہوا ہے، خوانچہ فروشوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگیا ہے۔“ اس جملے میں سیاق و سباق یہ ہے کہ ہم میٹرک کے امتحانات سے فراغت پا کر رزلٹ کا انتظار فرمارہے تھے اور انتظار کی اس کوفت سے بچنے کے لیے کباڑیے کی دکان سے پچیس تیس جاسوسی اور پانچ چھے اصلاحی ناول لے آئے تھے اور ان کو پڑھ کر وقت گزار رہے تھے اور والدہ کے خیال میں ہم وقت گنوا رہے تھے۔ اس بری عادت کا کیا کیجیے کہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ کھانا بھی ضرور ہے!
خیر! ہم معمول کی کارروائی کے لیے بابو چھولے والے کے پاس پہنچے۔ دکان پر ہجوم بہت تھا۔ ہم ساتھ والے باغ میں چلے گئے۔ سرسبز درخت کے نیچے بیٹھ کر ناول کے انجام کو سوچنے لگے۔ ابھی ہم سوچ ہی رہے تھے کہ ایک ننھی سی پری نما بچی پر نظر پڑی۔ اس کی پھولی سانسیں اور روتی آنکھیں دیکھ کر ابھی ہم نے غور کیا ہی تھا کہ ایک آدرمی درخت کے پیچھے سے نکلا اور بچی کی طرف بڑھنے لگا۔ ہم ابھی معاملے کی نوعیت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرہی رہے تھے کہ بچی چیخی: ”آپ پھر مجھے پکڑ لیں گے۔“
بچی پارک سے نکل کر باہر کی طرف دوڑ پڑی۔ وہ آدمی بھی اس کے پیچھے نکلا۔ بچی کے فقرے سے ہم نے اندازہ لگایا کہ یہ شخص بچی کو اغوا کرنا چاہتا ہے۔ ہم اس کے پیچھے چلنے لگے۔ بچی آگے جا کر رک گئی تھی، لیکن اس آدمی کو دیکھ کر پھر دوڑنے لگی۔ ہم چوکنا ہوگئے اور ان دونوں کا پیچھا جاری رکھا۔ بچی اچانک ایک سنسان موڑ پر مڑی اور وہ آدمی بھی اس کے پیچھے وہیں پہنچ گیا۔ آدمی نے جیب سے چاکلیٹ نکالی اور بچی کو دینے لگا۔ لڑکی نے چاکلیٹ لے کر کھالی۔ وہ آدمی لڑکی کو کندھے پر اٹھا کر چل پڑا۔ ہم نے پختہ ارادہ کرلیا کہ اس معصوم جان کو اس درندے سے بچانا ہے۔ ہم پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ وہ شخص پارک کے نزدیک ایک چھوٹے سے گھر میں داخل ہوگیا۔ اس گھر کا انداز صورت حال کو مزید پیچیدہ بنارہا تھا۔ گھر زیر تعمیر لگ رہا تھا۔ سامنے برگد کا گھنا درخت تھا جو گھر کو ڈھانپے ہوئے تھا۔
اب ہم سوچ رہے تھے کہ کیا کریں، کیوں کہ نہ تو کوئی سب انسپکٹر ہمارا انکل تھا اور نہ ہم کسی ایس پی کے بیٹے تھے کہ موبائل پر اطلاع کرتے اور فوراً پولیس پہنچ جاتی۔ آخر ہم امام مسجد کے پاس گئے۔ وہ عبادت میں مشغول تھے۔ ہم قریب بیٹھ گئے۔ بار بار ہمارے ذہن میں بچی اور وہ شخص آجاتا۔ نامعلوم بچی پر کیا گزر رہی ہوگی۔ ہم پہلو پر پہلو بدل رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد ہم نے امام صاحب کو سارا قصہ سنایا تو بولے: ”مجھے اس گھر تک لے چلو۔“
جب ہم انہیں لے کر وہاں پہنچے تو ان کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ ہمیں بہت حیرت ہوئی۔ انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو دروازہ ایک بچے نے کھولا۔ وہ ہمیں لیے ہوئے بیٹھک میں آئے۔ ہمارا دل دھک دھک کررہا تھا۔ وہ ہمیں بیٹھک میں بٹھا کر اندر چلے گئے۔ عجیب وسوسے اور خیالات پریشان کررہے تھے اور قریب تھا کہ ہم وہاں سے بھاگ نکلتے امام صاحب بیٹھک میں داخل ہوئے۔ ان کے پیچھے وہی شخص تھا، جو بچی کو اغوا کرکے لایا تھا۔ مارے خوف کے ہماری گھگھی بند گئی۔ امام صاحب نے پوچھا: ”یہی ہے وہ ڈاکو؟“
بڑی مشکل سے ہماری منھ سے نکلا: ”جی ہاں۔“
وہ دونوں قہقہے لگانے لگے۔ ہم پریشان ہوگئے کہ کہیں امام صاحب بھی.... لیکن نہیں۔ اچانک وہی بچی شربت لیے ہوئے اندر داخل ہوئی اور امام صاحب سے بولی۔ ”دادو! امی کہہ رہی ہیں کہ ابو سے کہیں کہ سبزی لادیں۔“
ہم حیران رہ گئے۔ امام صاحب بولے۔ ”برخوردار! یہ ڈاکو میرا بیٹا ہے اور یہ میری پوتی رانی ہے، جو پارک میں اپنے ابو کے ساتھ کھیل رہی تھی۔“
اب کمرے میں پھر سے قہقہے گونجنے لگے اور ہم جھینپ کر مسکرادیے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close