Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

قلعے کا قید خانہ

 
  مصباح منظور  
 
بیٹا جانوروں کو تنگ نہیں کرتے۔ ہمیں ان کا خیال رکھنا چاہیے۔ ”دادا جان نے مسکرا کر اپنے پوتے کو سمجھایا‘ جو ایک بلی کے بچے کی دم کھینچ رہا تھا، جو بے بسی سے ادھر ادھر پنجے مار رہا تھا۔
اپنے داد کی بات سن کر پوتے نے بلی کے بچے کی دم چھوڑی اور ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا: دادا جان! جانور تو بے زبان ہوتے ہیں۔ اگر ہم انہیں تنگ کریں یا ماریں تو یہ ہمارا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ یہ تو ہم سے بہت کمزور ہیں۔“
دادا جان نے یہ سن کر ایک گہرا سانس لیا۔ ابھی وہ کچھ کہنے ہی والے تھے کہ ان کے پوتے سنی کا دوست رابی آگیا اور دادا جان کو سلام کرکے سنی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ سنی رابی کو اپنی کارروائی اور دادا جان کی نصیحت کے بارے میں بتانے لگا۔ رابی نے بھی حیرت کا اظہار کیا۔ دادا جان پہلے خاموشی رہے اور پھر بولے: ”ٹھیک ہے‘ تم میری بات پر یقین نہیں کرتے تو میں تمہیں ایک سچا واقعہ سناتا ہوں۔“
رابی اور سنی پہلے ہی قصے کہانیاں سننے کے شوقین تھے، اس لیے فوراً وہ قصہ سننے کے لیے تیار ہوگئے۔ دادا جان نے واقعہ سنانا شروع کیا: ”یہ آج سے چالیس برس پہلے کی بات ہے، جب دو دوست ایک شہر میں رہتے تھے۔ ان میں سے ایک جس کا نام ثاقب تھا، جانوروں سے بہت پیار کرتا تھا اور ان کا بہت خیال رکھتا تھا، مگر دوسرے دوست جمشید کا مزاج اور خیالات ثاقب سے مختلف تھے۔ ان دونوں نے اکٹھے یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کی اور پھر ثاقب کو محکمہ آثار قدیمہ میں نوکری مل گئی۔
جمشید کو پرانے قلعے اور عمارتیں دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ جب اسے پتا چلا کہ ثاقب کی ڈیوٹی ایسی جگہ لگی ہے ، جہاں کوئی پرانا شہر اور قلعہ دریافت ہوا ہے تو وہ چند روز کے اندر اندر ثاقب کے پاس پہنچ گیا۔ ثاقب اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور اسے پرانے شہر کی عمارتیں دکھانے کے لیے لے گیا۔ جب وہ واپس آرہے تھے تو ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ایک جگہ انہوں نے گاڑی روکی۔ جمشید گاڑی سے اترا اور جب اس نے مڑ کر دروازہ بند کیا تو اسے ایک چیخ سنائی دی۔ اس نے چونک کر دیکھا تو بلی کا ایک بچہ جو نہ جانے کہاں سے آکر گاڑی میں گھسنے کی کوشش کرہا تھا، اس کی ٹانگ دروازے میں آکر کچل گئی۔ ثاقب نے گاری سے اتر کر فوراً بلی کے بچے کو اٹھایا اور قریبی ڈاکٹر کے پاس لے جا کر اس کی مرہم پٹی کروائی اور گھر لے آیا۔ جمشید کو اس بات پر کوئی افسوس نہیں ہوا، بلکہ اس نے ثاقب کا بہت مذاق اڑایا تھا۔
ثاقب اور جمشید اس بات سے بے خبر تھے کہ کوئی ان کا خاموشی سے پیچھا کررہا ہے۔ یہ ایک بلی تھی۔ اس بلونگڑے کی ماں جس کی ٹانگ جمشید کی بے پروائی سے کچل گئی تھی۔ گھر آکر ثاقب نے بلی کے بچے کو ایک ٹوکری میں بٹھادیا اور اس کے لیے دودھ لینے چلاگیا۔ واپس آیا تو اس نے ایک بلی کو دیکھا۔ جو اس بلونگڑے کو چاٹ رہی تھی، ثاقب نے دودھ رکھا اور خاموشی سے چلاگیا۔
کئی دن گزر گئے۔ بلی کا بچہ اب آہستہ آہستہ چلنے لگا تھا اور بلی بھی وہیں رہنے لگی تھی۔ ثاقب کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں تھا۔ ایک دن ثاقب نے جمشید کے ساتھ قلعے کی سیر کا پروگرام بنایا۔ جمشید تو بہت ہی خوش ہوا، کیوں کہ قدیم اور تاریخی جگہوں کی تصویریں لینا تو اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ قلعے میں پہنچ کر وہ دونوں دیر تک وہاں گھومتے رہے۔ سارا قلعہ دیکھنے کے بعد اب صرف ایک جگہ باقی رہ گئی تھی۔ جو قلعے کی جان تھی، یعنی قلعے کا قید خانہ۔ جلد ہی دونوں قید خانے آگئے۔
قید خانے کا لوہے کا دروازہ بہت بڑا تھا۔ مگر اتنے عرصے کے بعد اتنا ہلکا تھا کہ ایک آدمی بھی آسانی سے اسے دھکیل کر کھول سکتا تھا۔ اس جگہ جہاں دشمن ملکوں کے جاسوسوں اور مجرموں کو سزائیں دی جاتی تھیں۔ طرح طرح کی خوفناک مشینیں اور عجیب و غریب اوزار تھے۔ جنہیں دیکھتے ہی اندازہ ہوتا تھا کہ یہاں مجرموں کے ساتھ کتنا ظالمانہ سلوک کیا جاتا ہوگا۔
پھر ایک جگہ پہنچے جہاں سزائے موت کے آلات تھے۔ وہاں کا منظر اتنا دہشت ناک تھا کہ ثاقب کے جسم میں سنسنی کی لہریں دوڑنے لگیں۔ وہاں ایک بڑی مشین تھی۔ جو دو حصوں پر مشتمل تھی۔ ایک حصہ بڑی میز پر مشتمل تھا، جس میں سوراخ تھے اور اس کا دوسرا حصہ میز کے عین اوپر زنجیر سے لٹکا ہوا تھا۔ اس میں لوہے کی بڑی بڑی نوک دار سلاخیں لگی ہوئی تھیں اور یہ سلاخیں تقریباً تین فیٹ لمبی تھیں۔ اس کی زنجیر ایک جانب کی دیوار میں ایک کنڈے سے بندھی ہوئی تھی۔ جمشید نے جیسے ہی اس زنجیر کو کنڈے سے الگ کیا تو ایک زور دار آواز کے ساتھ وہ سلاخوں والا ڈھکن میز پر آگرا اور اس کی نوک دار سلاخیں میز کے سوراخ سے گزر گئیں۔
یہ خوفناک منظر دیکھ کر وہ دونوں ساکت رہ گئے۔ صاف ظاہر تھا کہ سوراخوں والی میز پر مجرم کو لٹا کر باندھ دیا جاتا ہوگا اور پھر اوپر سے سلاخوں والا ڈھکن اس پر آگرتا ہوگا۔ سلاخیں مجرم کے جسم میں سے گزرجاتی ہوں گی۔ یقینا اتنی بھیانک موت کا تصور ہی رونگٹے کھڑے کردینے والا تھا۔
جمشید نے زنجیر کھینچ کر دوبارہ کنڈے میں پھنسادی۔ اچانک جمشید اس لوہے کی میز پر لیٹ گیا اور ثاقب سے بولا: ”ثاقب تم زنجیر آہستہ آہستہ چھوڑو اور ڈھکن آہستہ آہستہ نیچے لاﺅ۔
میں موت کی اس کیفیت کو محسوس کرنا چاہتا ہوں، جو یہاں سزا پانے والے مجرم کی ہوتی تھی۔“
ثاقب یہ سن کر حیران ہوا اور جمشید کو اس کی بے وقوفی پر ڈانٹنے لگا،مگر جمشید کی ضد سے مجبور ہو کر اس کی بات ماننے پر راضی ہوگیا۔ ثاقب آہستہ آہستہ وہ ڈھکن نیچے لانے لگا اور پھر جمشید کے جسم سے ایک فٹ کے فاصلے پر لا کر اسے واپس اوپر کرنے لگا۔ اس نے جمشید کو آواز دی ”اب اٹھ جاﺅ جمشید۔“
جمشید نے اٹھنے سے انکار کردیا اور ڈھکن کو مزید نیچے لانے کا کیا، لیکن ثاقب نے ایسے کرنے سے سختی سے انکار کردیا۔ ابھی جمشید میز پر اٹھنے ہی لگا تھا کہ نہ جانے کہاں سے وہی بلی جو کہ اس بلونگڑے کی ماں تھی جسے جمشید نے زخمی کیا تھا، ثاقب پر جھپٹی۔ اس سے پہلے کہ ثاقب سنبھلتا، زنجیر اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی اور وہ آہنی ڈھکن تیزی سے نیچے آگرا۔ جمشید نے بچنے کی لاکھ کوشش کی، مگر اس کی ایک ٹانگ دو سلاخوں کی زد میں آگئی، اس کی درد بھری چیخ سے قلعہ گونج اٹھا۔
کسی نہ کسی طرح ثاقب جمشید کو فوراً اسپتال لے آیا تھا۔ اس کی جان تو بچ گئی تھی، مگر ایک ٹانگ ناکارہ رہ گئی۔ یوں ایک بے زبان جانور نے اپنے بچے کے زخمی ہونے کا انتقام جمشید سے لے لیا تھا۔ ڈاکٹروں کو جمشید کی زخمی ٹانگ کاٹنی پڑی اور اسے مصنوعی ٹانگ لگادی گئی۔ اب وہ لنگڑا کر چلتا ہے۔ ثاقب ملازمت سے استعفٰی دے کر واپس اپنے شہر آگیا۔ اسے اپنے دوست کے حال پر بہت افسوس تھا اور ملال تھا کہ اس نے جمشید کی بات کیوں مانی۔“
یہاں تک قصہ سنا کر داد جان خاموش ہوگئے۔ سنی اور رابی جو سانس روکے یہ قصہ سن رہے تھے، ایک دم گویا ہوش میں آگئے۔
سنی بولا: ”دادا! ہم کیسے مان لیں کہ یہ بات سچ ہے؟“ رابی نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔
اس بات پر دادا جان نے اپنی ٹانگوں پر پڑا ہوا کپڑا ہٹادیا۔ اب حیران ہونے کی باری سنی اور رابی کی تھی۔ دادا جان کی ایک ٹانگ ران تک غائب تھی۔
وہ دونوں یہ بات جانتے تھے، لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ شخص،یعنی جمشید دادا جان ہی ہوں گے۔ سنی نے تھوک نگلتے ہوئے سوال کیا ”مم.... مگر اس آدمی کا نام تو جمشید تھا؟“
اس بار دادا جان مسکرائے: ”شاید تمہیں میرا پورا نام نہیں معلوم۔ میرا نام ناصر علی جمشید ہے اور وہ جو انکل حشمت مجھ سے ملنے آتے ہیں وہ حشمت ثاقب ہیں۔“
یہ بتا کر دادا جان نے آنکھیں بند کرکے کرسی کی پشت سے ٹیک لگالی۔
رابی اور سنی شاید دل میں ارادہ کررہے تھے کہ آئندہ وہ کسی جانور کو نہیں ستائیں گے، کیوں کہ بعض اوقات اس کا بہت برا نتیجہ نکلتا ہے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close