Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

اگلا   Back
 

شکریہ

 
   
 
مصعب، مصعب کہاں ہو تم۔
عمیر نے گھر میں داخل ہوتے ہی اونچی اونچی آوازیں دینا شروع کردیں۔
کیا ہے بھائی، یہاں ہوں۔ مصعب نے کھڑکی سے جھانک کر نیچے صحن میں کھڑے عمیر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، اور یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے، اس نے اوپر سے ہی سوال داغا، نیچے آﺅ گے تو بتاﺅں گا۔ عمیر نے ہاتھ میں پکڑے ہوئے اشتہار کو پیٹھ پیچھے چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
نہیں، میں اور اسامہ بھائی چھٹیوں کا ہوم ورک کررہے ہیں تم بھی اوپر ہی آجاﺅ۔ مصعب نے فیصلہ کن لہجے میں کہا اور کھڑکی بند کردی،عمیر نے سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں پہنچتے ہی ہاتھ میں پکڑا اشتہار مصعب کی آنکھوں کے سامنے کھول کر لہرادیا۔
جیسے جیسے وہ اشتہار پڑھتا گیا اس کے چہرے کے رنگ میں تبدیل آتی گئی، یا ہو، اشتہار پڑھتے ہی اس نے لوفرانہ قسم کا نعرہ لگایا اور بڑی خوشی سے کہا۔ چلنا کب ہے۔
کل شام چھ بجے۔
نہیں، پیسے میں نے ابو سے لے لیے ہیں لیکن ٹکٹ لینے اکٹھے چلیں گے بلکہ اب تو اسامہ بھائی کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے، عمیر نے صوفے پر نیم دراز ہوتے ہوئے کہا۔
ان کا نیا دوست اسامہ جو پہلی دفعہ ان کے گھر آکر ان کے ساتھ ہوم ورک میں شریک تھا مگر اب تک خاموش بیٹھا تھا بولا، کیسے ٹکٹ! خیر تو ہے کہاں جانا ہے۔
وہ اسامہ بھائی ایک بہت بڑی خوشخبری کی بات ہے آپ بھی سنیں گے تو خوش ہوجائیں گے، بس یوں سمجھیں کہ ہمارے تو وارے نیارے ہوگئے، سچ پوچھو تو اسے ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر تھک چکا تھا، کتنا مزہ ہوگا جب حقیقت میں اسے اپنی آنکھوں کے سامنے پرفارم کرتے دیکھوں گا، مصعب نے بڑی خوشی خوشی تفصیل بتائی اس کا اندازہ تھا کہ وہ واقعی کسی کو بڑی توجہ اور حیرت سے دیکھ رہا ہو۔
میں سمجھا نہیں، آخر آپ دونوں کھل کر مجھے بات کیوں نہیں بتا رہے، کیسی خوشخبری۔ کسے ٹی وی پر دیکھ دیکھ کر تھک گئے۔ اس نے دونوں کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھتے ہوئے کہا، ارے اسامہ بھائی آپ کو نہیں پتا کل جیفکو گراﺅنڈ میں میلہ شروع ہورہا ہے اور اس میں کل شام موسیقی کا بڑا شو ہوگا جس میں مختلف ملکوں کے طائفے روشن خیالی کا پرچار کرنے کے لیے آرہے ہیں، اور آپ کو تو پتا ہی ہے جب سے ہمارے ملک کی بھارت سے دوستی کی پلنگیں بڑھی ہیں تب سے فنکاروں، گلوکاروں اور کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے، اسی سلسلے میں مصعب کی پسندیدہ بھارتی گلوکارہ پہلی مرتبہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اس شو میں شرکت کے لیے آرہی ہیں، پہلے تو مجھے خود یقین نہ آیا کہ اتنی بڑی گلوکارہ ہمارے سا شہر میں آرہی ہیں مگر اس کی تصویر دیکھ کر میں مطمئن ہوگیا، ویسے کتنا مزہ آئے گا جب کل آپ بھی ہمارے ساتھ پہلی نشستوں پر بیٹھ کر رنگا رنگ تقریب کا لطف اٹھا رہے ہوں گے۔
عمیر نے مکمل تفصیلات چٹخارے لے لے کر بتاتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی ایک دفعہ پھر اشتہار کھول کر اسامہ کے سامنے کردیا۔
بے ہنگم قسم کے پوسٹر پر ایک عورت کو بے ہودہ قسم کا ڈانس کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا ساتھ ہی بہت سے لوگوں کے نام لکھے گئے تھے جو روشن خیالی کا پرچار کرنے پاکستان آرہے تھے۔
اف میرے خدا، کہتے ہوئے اسامہ نے سر پکڑ لیا اور نہایت ہی افسردہ ہو کر آہستہ سے زمین پر بیٹھ گیا۔ کیوں اسامہ بھائی کیا ہوا۔ وہ دونوں اسامہ کو ایسے بیٹھتے ہوئے دیکھ کر ایک ساتھ چیخے۔
بیٹھو، اس نے ہاتھ کے اشارے سے دونوں کو اپنے قریب بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
دیکھو چوں کہ میں آپ لوگوں کا نیا دوست بنا ہوں، اس لیے پہلے تو میں آپ کے مزاج سے لاعلم تھا جبکہ میں جان چکا ہوں تو میں آپ سے کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں، امید ہے آپ لوگ ناراض نہیں ہوں گے۔ اسامہ نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ نہیں بالکل نہیں۔ آپ تو ہمارے اتنے اچھے دوست ہیں،بھلا آپ کی باتوں کا ہم برا کیوں مانیں گے، مصعب نے کہا اور عمیر نے اس کی تائید میں سر ہلایا۔
اگر آپ ناراض نہیں ہوتے تو پھر سنو، میں آپ کے ساتھ نہیں چل سکتا، دونوں اپنی جگہ سے اس طرح اچھلے جیسے اسپرنگ لگ گئے ہوں۔
لیکن کیا بات ہے کہ آپ ہمارے ساتھ شو میں شریک نہیں ہوسکتے۔
اس لیے کہ رقص و سرور کی محفلیں، راگ رنگ،ناچ گانے، کھیل تماشے، ورائٹی شو وغیرہ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کھلی بغاوت ہے اور ایسی محفلوں میں شرکت حرام اور عذاب الٰہی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔
کیا، وہ دونوںبری طرح بوکھلا گئے۔ کیا واقعی۔
ہاں، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ گانے بجانے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا۔ نہیں۔ مہربانی فرما کر اسامہ بھائی بتادیں کہ اس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے کیوں کہ مجھے تو جنون کی حد تک گانے سننے کا شوق ہے۔
ہاں، ہاں ضرور سنو۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری امت میں بعض لوگ غرق ہوں گے اور ان کی صورتیں بھی مسخ ہوں گی،جب گانے والی عورتیں اور آلات لہو لعب (ٹی وی، وی سی آر، باجہ وغیرہ ) ظاہر ہوں گے۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ گانے اور باجوں سے بچو، میرے رب نے مجھے منہ اور ہاتھ سے (ہر قسم کے باجوں) کو مٹادینے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ لعنت فرماتا ہے اس شخص پر جو گانے بجانے کا کام کرے یا گھر میں اس کا اہتمام کرے۔
وہ دونوں جیسے بھی تھے آخر تھے مسلمان، شافعی محشر صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سنتے ہی ان دونوں کے سر ندامت سے جھکتے چلے گئے، کچھ دیر خاموشی کے بعد مصعب نے سر اٹھایا تو دو موٹے موٹے آنسو اس کے رخساروں پر لڑھک گئے اور وہ روہانسی آواز میں بولا۔ اسامہ بھائی، میں کس منہ سے آپ کا شکریہ ادا کروں کہ آپ نے احادیث کی روشنی میں ہمیں موسیقی کی مذمت کے بارے میں بتایا۔
واقعی، آج سے پہلے میں نے جو کچھ بھی کیا لاعلمی میں کیا اب میں آئندہ سے کسی قسم کی موسیقی کی محفل میں شرکت نہیں کروں گا اور نہ ہی گانے سنوں گا، اس نے دونوں ہاتھ کانوں کو لگاتے ہوئے کہا۔ اور میں بھی، عمیر نے سر اٹھاتے ہوئے پرعزم لہجے میں کہا اور نفرت سے ہاتھ میں پکڑے ہوئے پوسٹر کے ٹکڑے ٹکڑے کردیے۔
شاباش میرے دوستو، تم سے یہی امید تھی کیوں کہ کوئی بھی مسلمان جان بوجھ کر کسی برائی کا کام نہیں کرتا بلکہ ہمیشہ شیطان کے بہکانے پر اس کے جال میں آجاتا ہے ہمیں چاہیے اللہ رب العزت سے اپنے گزرے ہوئے گناہوں کی معافی مانگیں اور آئندہ بھی گناہ نہ کرنے کا عزم کریں۔
اس کے بعد اسامہ نے اپنی خوش آواز قرات میں سورہ آل عمران کی چند آیات کی تلاوت کرکے اس کا ترجمہ پڑھا تو بے اختیار دونوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
ترجمہ: اور اہل ایمان لوگوں میں سے جب کوئی کھلی بے حیائی یا اپنے حق میں کوئی ظلم کر بیٹھتے ہیں تو وہ اللہ کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کے سوا گناہ کون بخش سکتا ہے اور وہ جان بوجھ کر اپنے (برے) کاموں پر اڑے نہیں رہتے۔
اس پر دونوں کی دھاڑیں بندھ گئیں اور عمیر نے آگے بڑھ کر کہا۔ اسامہ بھائی ہم دونوں آپ کا بہت بہت شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ نے ہمیں دوزخ کا ایندھن بننے سے بچالیا۔
نہیں نہیں اس میں شکریہ کی کیا بات ہے یہ تو میرا دینی و اخلاقی فرض تھا کہ آپ کو برائی سے نکال کر نیکی کی طرف لاﺅں بلکہ شکریہ تو مجھے آپ دونوں کا ادا کرنا چاہیے کہ آپ دونوں نے گناہوں والی زندگی سے نکل کر رب کی رضا والی زندگی کا آغاز کیا۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر
ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ آذان کی آواز گونجنے لگی، موذن صاحب نے سب کو کامیابی کی دعوت دی اور نماز کی طرف بلایا تو تینوں دوست ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے گناہ کی دعوت والے پوسٹر کے پرزوں کو پاﺅں تلے روندتے ہوئے رحمن سے صلح کرنے مسجد کی طرف چل پڑے۔
پیارے دوستو، ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے گرد و پیش کے ماحول پر نظر دوڑائیں، کیا ہمارا دوست یا عزیز کسی گناہ کبیرہ میں مبتلا تو نہیں، اگر ہے تو اسے پیار و محبت سے نصیحت کیجئے، کیا پتا آپ کے دل کی گہرائی سے نکلے ہوئے دو بول کسی کی زندگی کی کایا پلٹنے کا سبب بن جائیں اس لیے کہ جب تک وہ نیک کام کرتا رہے گا اس کا اجر و ثواب آپ کو بھی ملتا رہے گا۔
 
اگلا   Back

Bookmark and Share
 
 
Close