Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

یہ دیس ہمارا ہے

 
   
 
آغا جان حسب معمول چہل قدمی کرکے لوٹے تو حرا، ردا، نصر اور عمر کو اپنے بستر پر موجود پایا۔
کیا ارادے ہیں۔ آغا جان نے چشمہ درست کرتے ہوئے پوچھا۔
بہت معصوم ارادے ہیں۔ بس اس جلسے کا آنکھوں دیکھا حال آپ سے سننا چاہتے ہیں، جس جلسے میں قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ ابو بتا رہے تھے کہ آپ نے اس میں شرکت کی تھی۔ ہم اس کے بارے میں جاننے کے لیے سخت بے چین ہیں۔ عمر نے اشتیاق سے کہا۔
آغا جان نے کہنا شروع کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس واقعے کو باسٹھ برس بیت گئے، مگر یوں لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو۔ ان دنوں میں پندرہ برس کا تھا۔ ملک کے تمام مسلمانوں کی طرح میں بھی آزادی کے نہ صرف خواب دیکھ رہا تھا بلکہ آزادی کی جدوجہد میں کچھ نہ کچھ حصہ بھی لے رہا تھا، اس روز تو ہمارے جوش و خروش اور خوشی کا عالم ہی کچھ اور تھا جب وائسرائے ہند نے اپنی ایک تقریر میں آل انڈیا مسلم لیگ کو مسلمانوں کی نمائندہ جماعت تسلیم کیا۔ مسلم لیگ کی اتنی بڑی کامیابی پر ہم خوشی سے پھولے نہ سما رہے تھے۔
آغا جان، یہ کب کی بات ہے۔ نصر نے پوچھا۔
یہ دس اکتوبر انیس سو انتالیس کی بات ہے۔
اور پھر اچانک تئیس مارچ انیس سو چالیس کو جلسے میں قرارداد پاکستان پیش کرکے وائسرائے ہند کو حیران کردیا۔ نصر نے ڈرامائی انداز سے کہا تو آغا جان ہنس دیے۔
یہ تم سے کس نے کہا۔ ایسا نہیں تھا بیٹا، مسلمان ایک بہادر قوم ہے۔ قائد اعظم نے وائسرائے ہند کو بتادیا تھا کہ لاہور میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں ہم الگ وطن کا مطالبہ کریں گے۔
پھر، پھر کیا ہوا۔ حرا نے بے چینی سے پوچھا۔
اس کے بعد قائد اعظم نے میرٹھ میں ایک اجلاس منعقد کیا۔ اجلاس میں مسلم لیگی رہنماﺅں نے سوچ بچار اور باہمی گفتگو کے بعد فیصلہ کیا کہ ایک کمیٹی مقرر کی جائے جس میں تقسیم ہند کے بارے میں تمام تفصیلات کا جائزہ لیا جائے۔ یوں اس سلسلے میں ایک کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔
بہت غور و فکر کے بعد کمیٹی نے ایک رپورٹ ترتیب دی، جسے تئیس مارچ کے اجلاس میں پیش کیا گیا۔ یہ اجلاس آل انڈیا مسلم لیگ کا ستائیسواں اجلاس تھا جو بائیس اور تئیس مارچ تک جاری رہا۔ پہلا اجلاس بائیس مارچ کو لاہور میں ہوا۔ اجلاس میں تقریباً پچیس ہزار افراد نے شرکت کی۔ ہندوستان کے مختلف حصوں سے آئے نمائندے ان میں شامل تھے۔
اجلاس کی صدارت کس نے کی تھی۔ ردا کا انداز خاصا تحقیقی تھا۔
میں ان دنوں تھا ہی نہیں ورنہ یہ سعادت میرے حصے میں آتی۔ عمر نے اپنے شانے جھٹکتے ہوئے دعوہ کیا۔
ضرور آتی مگر اس کے لیے تمہیں قائد اعظم بننا پڑتا۔ آغا جان نے برجستہ کہا تو بچے بے ساختہ ہنس دیے۔
بچوں یہ تو تمہیں پتا چل ہی گیا کہ اجلاس کی صدارت قائد اعظم نے کی تھی اور اجلاس کی کارروائی کا آغاز سر شاہنواز نے کیا تھا۔ انہوں نے وضاحت کردی تھی کہ ہندو اور مسلمانوں میں اس کے علاوہ اور کوئی بات مشترک نہیں کہ وہ ایک ملک میں آباد ہیں۔ پوری قوم کو محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد ہے۔ قائد اعظم نے اس موقع پر برملا کہا تھا۔ ہندوﺅں اور مسلمانوں کے درمیان کوئی چیز ایک جیسی نہیں ہے۔ وہ مختلف تہذیبوں کے وارث ہیں، چنانچہ واحد حل یہ ہے کہ ہندوستان کو اسلامک انڈیا اور ہندو انڈیا میں تقسیم کردیا جائے۔ مرکز میں برطانوی حکومت کے پاﺅں اکھڑ رہے ہیں لیکن وہ باقیادت کے طور پر خانہ جنگی کو جنم دے رہی ہے۔ یہ خانہ جنگی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایک آزاد مسلم قوم کی گنجائش پیدا نہیں کی جاتی۔ مسلمان کسی طرح بھی ہندو اکثریت کی حکمرانی قبول نہیں کرسکتے اور یقینا اپنے مطالبات منوانے کے لیے خود کو منظم کریں گے۔ مسلم لیگ کا دوسرا عام اجلاس تئیس مارچ انیس سو چالیس کو ہوا جس میں پینتیس ہزار افراد نے شرکت کی اور اس اجلاس میں قرارداد پیش کی گئی۔ قائد اعظم کی خواہش پر بنگال کے وزیر اعلیٰ شیر بنگال مولوی فضل الحق نے قرارداد پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آئین پر مکمل نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ انیس سو پینتیس کے ایکٹ میں وفاق کی جو اسکیم دی گئی ہے وہ کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ اسکیم مسلمانوں کو مرکز میں نہ صرف ہمیشہ کے لیے ایک اقلیت میں تبدیل کردے گی، بلکہ مسلم اکثریتی صوبوں میں صوبائی خودمختاری کو منسوخ کردے گی۔ مسلمان ہر ایسے آئین کو ناقابل عمل بنادیں گے، جو ان کی مرضی و منشا کے مطابق نہ ہو۔ رکن مرکزی قانون ساز اسمبلی مولانا ظفر علی خان نے قرارداد کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات قابل اطمینان ہوگی اگر یہ کہا جائے کہ آج کے دن سے شمال مغرب اور شمال مشرق کے مسلمانوں نے مکمل آزادی کا اعلان کردیا ہے۔
نصر نے کہا، آج کل کوئی جلسہ فساد اور فائرنگ کے بغیر ہوتا ہی نہیں۔
نصر کی بات سن کر آغا جان نے بتایا، بیٹا ان دنوں مسلمانوں کی اکثریت قائد اعظم کے ساتھ تھی۔ اجلاس شروع ہونے سے کچھ دیر پہلے خاکساروں کی فائرنگ سے بے چینی پھیل گئی تھی جس پر قائد اعظم نے کمال مہارات سے قابو پالیا۔
اجلاس کے آغاز پر آگرہ کے سید ذاکر علی نے وہ مرکزی قرارداد پیش کی جس پر گزشتہ اجلاس میں گفتگو کی تھی۔ یہ قرارداد نہایت جوش و خروش کے ساتھ متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔
آغا جان، جب قائد اعظم نے اتنے بڑے مجمع کو منتشر ہونے سے بچایا تو ان کے ساتھی تو بہت خوش ہوئے ہوں گے۔ دیر سے خاموش بیٹھے عمر نے پوچھا۔
ہاں بہت زیادہ۔ جتنی خوشی تمہیں مسلسل پانچ سال سے اول پوزیشن لانے پر ہورہی ہے اس سے بھی زیاد۔ آغا جان سے پہلے نصر نے جواب دیا تو آغا جان ہنس دیے۔
آپ نے اجلاس کے آخر میں کہا تھا کہ مسلمانوں نے دنیا کے سامنے اپنے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا ہے۔ دشمن کی چالیں ناکام ہوگئیں۔ مسلمانوں نے آخر اپنی منزل کا تعین کرلیا ہے اور موجودہ اجلاس ہندوستان کی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
آغا جان، اس زمانے میں برصغیر کے مسلمان معاشی اعتبار سے خوش حال نہ تھے۔ ایسے میں کیا اتنے بڑے جلسے کے انتظامات میں دشواری پیش نہیں آئی۔
آغا جان نے بتایا، تقسیم سے پہلے برصغیر کے مسلمانوں کا اتحاد مثالی تھا۔ مسلم لیگی رہنماﺅں نے باہمی اتفاق سے اجلاس کے لیے منٹو پارک کے میدان کا انتخاب کیا۔ اس زمانے میں یہ میدان کشتیوں کے لیے مخصوص تھا۔ حکومت نے جلسے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا کہ چند روز پہلے سکھوں کے ایک اجتماع نے اس کا حلیہ خراب کردیا ہے، اب مزید خراب ہوجائے گا۔ مسلم لیگی رہنماﺅں کے دباﺅ ڈالنے پر جلسے کی مشروط اجازت دی کہ جلسے کے منتظمین پانچ ہزار روپے بہ طور ضمانت داخل کریں تاکہ نقصان کی صورت میں اس کی تلافی کی جاسکے۔ یہ منتظمین کے لیے ممکن نہ تھا۔ اس کا حل یہ نکالا گیا کہ ہم خیال مسلم لیگی افسروں سے رابطہ کرکے اس سلسلے میں چھوٹ حاصل کی گئی۔
حرا نے پوچھا: آغا جان، کیا بچے بھی اتنے ہی زیادہ پرجوش تھے۔
آغا جان نے جواب میں کہا۔ کیوں نہیں حرا، بچہ مسلم لیگیوں کے لیے تو یہ عید کا سماں تھا۔ ریڑھیوں پر فروخت ہونے والی چیزوں پر سستی قیمتوں کی چٹیں لگادی گئی تھیں۔ نواب کالا باغ نے ایک ہزار کی رقسم مسلم لیگ کو دی اور ساتھ ہی یہ پیغام بھیجا کہ اگر کوئی صاحب اس سے زیادہ رقم دیں گے تو وہ اتنی ہی رقم اور دیں گے۔ نواب سر شاہنواز خاں نے اپنے اثر رسوخ سے کام لے کر فوری اخراجات کے لیے چھ ہزار روپے دیے۔ مجلس استقبالیہ کی رکنیت فیس پچاس روپے مقرر کی۔ اس سے خاصی رقم جمع ہوگئی۔ ایک اندازے کے مطابق جلسے کے لیے بیس ہزار روپے کی رقم جمع ہوگئی تھی، جو اس زمانے میں آج کے بیس لاکھ روپے کے برابر تو ہوگی۔
آغا جان، بیس ہزار میں جلسے کے انتظامات ہوگئے تھے۔ ردا نے پوچھا۔
جلسے کے انتظامات پر تقریباً پونے گیارہ ہزار روپے خرچ ہوئے تھے۔
حرا نے پوچھا: باقی رقم کا کیا ہوا۔
تم کو اس سے کیا۔ حرا کے سوال کرنے پر عمر نے پوچھا۔
مستقبل کی خاتون خانہ ہیں۔ پوچھ لیا تو کیا ہوا۔ نصر نے عمر کو ٹوکا۔
ہونا کیا تھا بیٹی، باقی رقم آل انڈیا مسلم لیگ کے خزانے میں جمع کردی گئی تھی۔ یہ بتاﺅ تم لوگ کہ قرارداد پاکستان میں کیا جانے والا مطالبہ کیا تھا۔
آغا جان میں بتاتی ہوں۔ وہ علاقے جہاںمسلم اکثریت ہے، وہاں مسلم ریاست قائم کردی جائے۔ ردا نے جلدی سے جواب دیا۔
قائد اعظم نے درست کہا تھا، واقعی قرارداد پاکستان تو پاکستان کی تاریخ میں سنگ میل ثابت ہوئی۔ عمر نے جوش و مسرت سے کہا تو سب نے اس کی تائید کی۔
آغا جان مجھے قرارداد پاکستان سے متعلق ایک کوئز شو میں شرکت کرنی ہے۔ مجھے ایسی کسی کتاب کا نام بتائیں جس میں قراراد پاکستان کی تفصیلات ہوں۔ نصر نے آغا جان سے کہا۔
ہاں بیٹا، کیوں نہیں، معروف محقق خواجہ رضی حیدر کی کتاب قرارداد پاکستان۔ تاریخ اور تجزیہ۔ اس سلسلے میں بہت معاون ثابت ہوگی۔ آغا جان نے فوراً کتاب کا نام بتایا۔
آغا جان، آپ کو یہ یادیں تازہ کرنا کیسا لگا۔ حران نے پوچھا۔
بہت اچھا بیٹا، ہم نے بڑی جدوجہد اور قربانیوں کے بعد آزاد وطن حاصل کیا ہے تم اس کے وارث بھی ہو اور امین بھی۔ میرے بچو، تم سے بس اتنی درخواست ہے کہ اس پاک سرزمین کی حفاظت کرنا۔ پاکستان ہمارے بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر اور جذبوں کا امین ہے۔ ہمیں پاکستان کی موجودہ نسل سے بہت سی اچھی توقعات ہیں۔
آغا جان کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ بچے آغا جان سے لپٹے کہہ رہے تھے، آغا جان ہم پاکستان کے وارث اور امین ہی نہیں محافظ بھی ہیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close