Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

صورت نہیں سیرت

 
   
 
اسکول سے واپس آتے ہی سارہ اپنے کمرے میں گھس گئی۔ بستہ میز پر رکھا اور آئینے کے سامنے جاکھڑی ہوئی۔ اسے اپنا عکس نظر آنے لگا۔ وہی چھوٹی چھوٹی آنکھیں، موٹی سی ناک، کالا رنگ، موٹے ہونٹ اور بڑے سے کان۔ اف اللہ! میں اتنی بدصورت کیوں ہوں؟ اس نے دوبارہ آئینے میں دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آج پھر اسکول میں اس کی سہیلیوں نے اس کا خوب مذاق اڑایا تھا۔ ہوا یہ کہ مس شہناز کے کہنے پر وہ سبق سنانے کے لیے کھڑی ہوئی تھی۔ وہ بہت پرجوش انداز میں پڑھنے کے لیے کھڑی ہوئی لیکن ابھی اس نے تھوڑا سا ہی پڑھا تھا کہ مس شہناز میڈم کے بلانے پر باہر چلی گئیں۔ مس کے جاتے ہی سب نے اس کا مذاق اڑانا شروع کردیا۔
سب سے زیادہ مذاق اس کی گہری رنگت کا اڑتا تھا۔ وہ سوچنے لگی اور پھر یہی سوچتے ہوئے سوگئی۔
سارہ اب اٹھ بھی جاﺅ، اتنی دیر سے سورہی ہو۔ اس کی بڑی بہن امبر نے اسے جھنجھوڑ کر اٹھادیا۔
کیا مصیبت ہے، ابھی تو سوئی تھی۔ وہ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھی۔
تم نے یونیفارم بھی نہیں بدلا اور کھانا بھی نہیں کھایا۔ اب تمہیں بڑے ابا بلارہے ہیں۔ امبر یہ کہتی ہوئی باہر نکل گئی۔
السلام علیکم بڑے ابا۔ سارہ ان کو سلام کرتی ہوئی ان کے بستر پر بیٹھ گئی۔
وعلیکم السلام بیٹی، کیسی ہو؟ بڑے ابا نے کتاب بند کرکے ایک طرف رکھ دی۔
ٹھیک ہوں بڑے ابا، آپ کو کوئی کام تھا۔ مجھے آپ نے بلایا تھا۔ اس نے کہا۔
نہیں کوئی کام نہیں ہے، مگر یہ بتاﺅ کہ جب تم بالکل ٹھیک ہو تو اتنی اداس کیوں نظر آرہی ہو اور تم آج میرے پاس کیوں نہیں آئیں روز کی طرح۔ انہوں نے پوچھا۔
بڑے ابا دراصل، وہ میں.... اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔
ہوں، اس کا مطلب ہے کہ اسکول میں کوئی بات ہوئی ہے۔ کیا ہوا بھئی، پھر کسی سے جھگڑا ہوگیا، انہوں نے پیار سے پوچھا۔
بس اب میں اسکول نہیں جاﺅں گی، سب میرا مذاق اڑاتے ہیں۔ سارہ نے رونا شروع کردیا۔
ارے بھئی، اس میں رونے کی کیا بات ہے، کون مذاق اڑاتا ہے جس کی وجہ سے تم اسکول چھوڑنے کی بات کررہی ہو۔ بڑے ابا نے اس کی سر پر ہاتھ پھیرا۔
سب ہی مذاق اڑاتے ہیں کہ میں بدصورت ہوں، کالی ہوں، سب مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ بڑے ابا، کیا میں بہت بری ہوں۔ روتے ہوئے آخر میں سارہ نے سر اٹھا کر معصومانہ انداز میں پوچھا۔
بیٹی، تم بہت پیاری، اچھی سی بچی ہو۔
بڑے ابا نے اس کے ماتھے پر بکھرے بال سمیٹ کر اوپر کیے۔
پھر میری شکل کیوں اتنی بری ہے، سارہ نے اداسی سے پوچھا۔
نہیں بیٹی، اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو بہت محبت کے ساتھ بنا کر اس دنیا میں بھیجا ہے۔ انسان اچھا برا نہیں ہوتا، بلکہ اس کے کام اچھے برے ہوتے ہیں، کتنے ہی انسان ایسے ہوتے ہیں جن کی شکلیں بہت اچھی ہوتی ہیں، رنگ بھی گورا ہوا ہے مگر ان کے کام برے ہوتے ہیں، وہ دوسروں کا حق مارتے ہیں، چوری کرتے ہیں، ڈاکا ڈالتے ہیں، نماز بھی نہیں پڑھتے اور کئی برے کام کرتے ہیں۔ ان کی رنگت تو گوری ہوتی ہے مگر دل اندر سے سیاہ ہوتا ہے۔ کیا سمجھیں؟ وہ مسکرائے۔
بڑے ابا، کیا اچھی شکلوں کے سارے انسان برے ہوتے ہیں۔ سارہ نے حیرت سے پوچھا۔
ارے نہیں، کوئی کوئی ہوتا ہے۔ بڑے ابا ہنسے۔
ایک اور بات بتاﺅ، انہوں نے اس کے گالوں پر پھیلے آنسو صاف کیے اور دوبارہ کہنے لگے، جب اللہ کسی انسان میں کوئی خامی پیدا کرتا ہے تو بہت سی خوبیاں بھی اس میں پیدا کردیتا ہے۔ اب تم اپنے آپ کو دیکھو، تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے۔ تمہیں چاہیے کہ قرا ¿ت اور نعت وغیرہ کے مقابلوں میں حصہ لو۔ تم نے مجھے اپنی لکھی ہوئی کچھ کہانیاں دکھائی تھیں۔ وہ دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ تم میں کہانیاں لکھنے کی صلاحیت بھی ہے۔ تمہیں گھر کے کام سیکھنے کا بہت شوق ہے۔ تم ہمیشہ صاف ستھری رہتی ہو، تم ذہین ہو اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں۔ تم صرف شکل کی وجہ سے اپنی سب صلاحیتوں کو ضائع کررہی ہو۔ بڑے ابا نے اس کی صلاحیتوں کے بارے میں اسے تفصیل سے بتایا۔
وہ تو ٹھیک ہے بڑے ابا، مگر جب میں کلاس میں کچھ پڑھنے کے لیے کھڑی ہوتی ہوں تو سب میرا مذاق اڑانے لگتے ہیں۔ میں قرا ¿ت اور نعت کیسے پڑھ سکتی ہون۔ وہ الجھتے ہوئے بولی۔
دیکھو، اب یہ کام تو تمہیں خود کرنا ہے کہ اپنے اندر اعتماد پیدا کرو۔ کوئی تمہارا مذاق اڑاتا ہے تو اڑانے دو۔ جو کسی دوسرے کا مذاق اڑاتے ہیں انہیں خود اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ یہ سب چیزیں اللہ کی بنائی ہوئی ہیں۔ ان کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔ کیا پتا کب ہم میں کوئی خامی پیدا ہوجائے۔ تم ایسے بچوں سے خوف نہ کھایا کرو، بلکہ انہیں بھی سمجھایا کرو۔ ایک بات اور، وہ یہ کہ شکر کیا کرو اللہ نے تم میں کوئی خاص کمی یا معذوری پیدا نہیں کی، تمہیں کسی کا محتاج نہیں کیا۔ ٹھیک ہے نا۔
جی بڑے ابا، میں آپ کی باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کروں گے۔ وہ اٹھنے لگی۔
اوہو، تمہاری ایک خوبی تو رہ ہی گئی۔ بڑے ابا نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔
وہ کیا۔ سارہ رک گئی۔
وہ یہ کہ تم چائے بہت اچھی بناتی ہو، کیوں کیا خیال ہے۔ بڑے ابا مسکرارہے تھے۔
اوکے میں ابھی آپ کو چائے بنا کر پلاتی ہوں آخر آپ میرے لاڈلے ابا ہیں۔ سارہ ہنستی ہوئی باہر نکل گئی اور بڑے ابا نے سکون کا سانس لیا۔ وہ تصورات ہی میں اپنی پیاری بھتیجی کو اعلیٰ مقام پر دیکھ رہے تھے اور اس خواب کے پورا ہونے کی دعا مانگ رہے تھے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close