Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

فقیر کی صدا

 
   
 
برگد کے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا فقیر ہر آنے جانے والے کے سامنے ہاتھ پھیلائے بلند آواز میں صدا لگاتا۔ اللہ کے نام پر دے دو اور پھر آہستہ سے کہتا، اس فقیر پر تقصیر کو نافرمانی کی تصویر کو۔
مدرسہ آتے جاتے فقیر کی یہ صدا سننا سلمان کا معمول تھا جس دن سلمان کے پاس جیب خرچ زیادہ ہوتا اس دن فقیر کے کشکول میں روپیہ دو روپے ڈال دیتا۔ فقیر دعائیں دیتا تو اس کا جی خوش ہوجاتا۔
سلمان اکثر سوچتا کہ یہ فقیر بھی ہماری طرح انسان ہے مگر یہ دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور کیوں ہے اور یہ نافرمانی کی تصویر کا کیا مطلب ہے، وہ یہ سوال تھا جو سلمان کو کبھی کبھار پریشان کردیتا تھا۔
ایک روز فٹ بال کی ٹیم کی جیت کی خوشی میں مدرسہ سے جلدی چھٹی ہوگئی تو تمام بچے خوشی سے شور مچاتے گھر جانے کے لیے مین گیٹ کی طرف دوڑے۔ سلمان بھی ان میں شامل تھا۔ مین گیٹ سے باہر نکل کر جب وہ برگد کے درخت کے قریب پہنچا تو اس کے کانوں میں فقیر کی مخصوص صدا گونجی۔ نافرمانی کی تصویر کو۔
یہ آواز وہ روز سنتا تھا اور بے چین ہوجاتا تھا۔ آج اس کے قدم نہ جانے کیوں رکنے لگے تھے۔ اس کے جی نے چاہا کہ وہ فقیر کے پاس بیٹھ کر پوچھے کہ وہ یہ صدا کیوں لگاتا ہے پہلے تو سلمان کو ڈر لگا پھر ہمت کرکے فقیر کے پاس جا کر کھڑا ہوگیا۔ فقیر نے ایک لڑکے کو اپنے پاس دیکھا تو پیار سے کہا۔ بیٹے کیا بات ہے۔ آﺅ میرے قریب آﺅ۔ سلمان انجانے خوف کے ساتھ فقیر کے پاس پہنچ تو گیا مگر ڈر کے مارے بھول ہی گیا کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے فقیر نے ایک بار پھر پیار سے کہا۔ بیٹے ڈرو نہیں، میرے پاس آکے بیٹھو کیا بات ہے۔
فقیر کی پیار بھری آواز سن کر سلمان کو حوصلہ ہوا تو وہ فقیر کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ بات اب بھی اس کے منہ سے نہیں نکل رہی تھی۔ کیا بات ہے بیٹے۔ فقیر نے پیار سے پوچھا۔ بات یہ ہے کہ میں ہر روز مدرسہ آتے اور جاتے یہاں سے گزرتا ہوں تو آپ اپنی صدا میں اللہ کے نام پر دے کے بعد اس فقیر پر تقصیر کو نافرمانی کی تصویر کو، کیوں کہتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے۔
سلمان نے بات ختم کی تو فقیر نے ایک لمبی سرد آہ بھری اور آنکھیں بند کرکے خیالاوں کی دنیا میں کھوگیا جیسے کوئی گمشدہ چیز ڈھونڈ رہا ہو۔ کچھ دیر اسی طرح گم سم رہنے کے بعد سر کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور آنکھیں کھول کر سلمان کی طرف دیکھا جو اس کے جواب کا منتظر تھا۔ بیٹا یہ بڑی درد بھری داستان ہے تم سن کر کیا کرو گے۔ فقیر نے ایک بار پھر سرد آہ بھری۔
خوف اور ڈر کی بجائے سلمان کو اب فقیر سے ہمدردی ہونے لگی تھی اس نے اصرار کرتے ہوئے کہا، بابار آپ مجھے اپنی داستان ضرور سنائیں۔
بابار نے سلمان سے ہمدردی کے چند بول سنے تو اس نے گٹھڑی پر پھیلے ہوئے پیسوں کو سمیٹتے ہوئے اپنی داستان شروع کردی۔ بیٹا ایک زمانہ تھا جب میں تمہاری طرح مدرسے میں پڑھا کرتا تھا،اپنے ابو امی کا بے حد لاڈلا تھا، اپنی ہر جائز اور ناجائز خواہش منوانا میری عادت تھی۔ یہ عادت آہستہ آہستہ پختہ ہوگئی کہ جب کبھی ابو امی کسی وجہ سے میری خواہش پوری نہ کرتے تو خود سر ہو کر ان کی بے عزتی بھی کردیتا۔ مجھے پڑھائی سے زیادہ اپنی فرمائشیں پوری کرانے کا شوق تھا۔ کلاس میں کوئی نیا سوٹ پہن کر آتا تو میں چاہتا کہ اگلے روز ایسا ہی سوٹ میں بھی پہنوں۔ گھر آتے ہی ابو امی کو فرمائش سے آگاہ کرتا۔ اگر وہ میری بات نہ مانتے تو کھانا کھائے بغیر روٹھ کر اپنے کمرے میں چلاجاتا۔
میری روز روز کی فرمائشوں اور پڑھائی سے جی چرانے اور امی ابو بہت پریشان تھے۔ بچپن کا بے جا پیار اب رنگ دکھا رہا تھا۔ امی اور ابو نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح میری بری عادتیں چھوٹ جائیں مگر ان کی کوششوں کا ہمیشہ الٹا اثر ہوتا۔ میرا دل پڑھائی میں بالکل نہیںلگتا تھا، آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومنے کی وجہ سے میں نے اسکول سے غیر حاضر ہونا شروع کردیا۔
اس دوران شہر میں ہیضہ کی وباء پھیلنے سے میرے ابو اس موذی مرض کا شکار ہوگئے۔ مرض بڑھتا گیا اور ایک دن ایسا آیا جب ابو مجھے اور امی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے۔
ابو کے انتقال نے وقتی طور پرمجھے ہلا کر رکھ دیا مگر چند دن کے بعد پھر وہی آوارہ دوستوں کے ساتھ گھومنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ امی کو ابو کی وفات کے ساتھ ساتھ میری آوارگی کا غم دیمک کی طرح چاٹ رہا تھا مگر میں تمام حالات سے بے پروا اپنے ہی حال میں مگن تھا اور پھر ایک شام میرے لیے غموں کا پہاڑ بن کر آئی، جب میری بے توجہی اور بے رخی کا زخم لے کر امی اس دنیا کو چھوڑ کر ابو کے پاس چلی گئیں۔
میری بے توجہی اور لاپرواہی سے میری زندگی کا آخری سہارا بھی مجھ سے چھن گیا تو ذہنی طور پر مجھے شدید صدمہ ہوا۔
اس صدمے نے مجھے کہیں کا نہ چھوڑا۔ لکھنا پڑھنا پہلے ہی چھوڑ چکا تھا۔ کوئی کام کرنا میں نہیں جانتا تھا، اس لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہا تھا۔ ایک دن ہمت کرکے مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکلا تو راستے میں دو آدمی ملے، انہوں نے پوچھا۔ مزدوری کروگے۔
مجھے اور کیا چاہیے تھا مزدوری کے لیے فوراً تیار ہوگیا۔ دونوں آدمیوں نے اشاروں اشاروں میں نجانے کیا بات کی تو گاڑی میں بیٹھنے کے لیے کہا۔ گاڑی ایک جھٹکے سے اسٹارٹ ہوئی اور پھر ہوا سے باتیں کرنے لگی، شہر سے دور ایک ویران علاقے میں بہت بڑی حویلی کے سامنے کار رکی تو مجھے کچھ شک ہوا کہ یہ لوگ مزدوری کے بہانے اغواءکرکے تو نہیں لے آئے۔ ابھی میں انہیں سوچوں میں گم تھا کہ کار کا دروازہ کھلا اور مجھے حویلی کے اندر چلنے کا حکم ملا۔
حویلی میں داخل ہوتے ہی کئی بچوں پر نظر پڑی، کسی کا ہاتھ ٹوٹا ہوا تھا کسی کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی۔ یہ منظر دیکھ کر خوف کے مارے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ دونوں آدمی مجھے حویلی کے سجے سجائے کمرے میں لے گئے جہاں ایک خوفناک چہرے والا آدمی شاہانہ انداز میں بیٹھا دو تین لڑکوں سے اپنے پاﺅں اور ٹانگیں دبوا رہا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی بولا۔ مال تو اچھا ہے کہاں سے لائے ہو۔
بڑی محنت اور کوشش سے ایسا ماحول ڈھونڈ کر لائے ہیں سردار۔ دونوں میں سے ایک آدمی نے جواب دیا، خوفناک چہرے والے آدمی نے اپنی جیب سے سو سو روپے کے کئی نوٹ نکال کر مجھے اغواءکرکے لانے والوں کو دیتے ہوئے کہا۔ اس سے اچھا مال لاﺅ گے تو اس سے زیادہ رقم ملے گی۔
دونوں آدمیوں نے نوٹ اپنی جیبوں میں ٹھونستے ہوئے شکریہ ادا کیا اور وہاں سے چلے گئے۔
سردار نے اپنے ملازم کو آواز دی کہ مجھے لے جا کر بھیک مانگنے کے طریقے سکھائے اگر یہ تنگ کرے تو اس کا بازو اور ٹانگ توڑ دینا۔
یہ سن کر میں کانپ گیا، اس قلعہ نما حویلی سے فرار ہونا میرے لیے ممکن نہ تھا اس لیے میں بے بس اور مجبور ہو کر ان کی ہر بات مانتا چلا گیا اور پھر وہ دن اور آج کا دن بھیک مانگنے کی ایسی عادت پڑی کہ عمر کے اس حصے میں پہنچ گیا ہوں۔ گزرے ہوئے وقت کو جب یاد کرتا ہوں تو دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے۔ میں خود کو اپنے ابو اور امی کا مجرم اور نافرمان سمجھتا ہں۔ جنہیں میں نے اپنی لاپرواہیوں اور نافرمانیوں سے ہمیشہ کے لیے کھودیا۔
اب یہ غم میرے جسم و جاں کا غم بن چکا ہے۔ میں لوگوں کے سامنے بھیک مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلاتا ہوں تو بے اختیار یہ صدا لگاتا ہوں۔ اللہ کے نام پر دے، اس فقیر پر تقصیر کو نافرمانی کی تصویر کو۔ فقیر نے اپنی درد بھری داستان ختم کی تو سلمان کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ رومال سے آنسو پونچھتے ہوئے سلمان نے فقیر سے کہا۔ بابا آپ میرے ساتھ میرے گھر چلیں۔
نہیں بیٹا۔ اب برگد کا یہ بوڑھا درخت ہی میرا سب کچھ ہے۔ میں اس کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ میں اس راستے پر بیٹھ کر ہر آنے جانے والے کو یہ صدا دیتا ہوں کہ میں تو برباد ہوا ہوں کوئی اور ماںباپ کی نافرمانی کرکے اپنی دنیا تاریک اور برباد نہ کرے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close