Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

احساس

 
   
 
اس کی کیا ضرورت تھی، آپ کو لاکھ دفعہ منع کیا ہے کہ گھر کے حالات ٹھیک نہیں ہیں، مگر آپ پر اثر ہی نہیں ہوتا، آئے دن مہنگے مہنگے کھلونے لے آتے ہیں۔ پہلے ہی مریم کے پاس گڑیوں کا ڈھیر موجود ہے، ان کھلونوں پر پیسے خرچ کرنے کے بجائے یہی پیسے بچا کر ہم اپنے گھر کے حالات بہتر کرسکتے ہیں۔ مریم کے ابو جب گھر میں داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ میں گڑیا دیکھ کر مریم کی امی غصے سے چراغ پا ہوگئیں اور مریم کے ابو کو باتیں سنانے لگیں۔
ارے بیگم سانس تو لو ایک دم شروع ہوگئی ہو، کیا ہوا جو میں نے مریم کی فرمائش پر ایک گڑیا دلادی۔ ابو نے مسکراتے ہوئے کہا مگر ابھی تک مریم کی امی کے تیور خطرناک تھے۔ آپ کے بے جا لاڈ نے مریم کو سر پر چڑھادیا ہے۔ اسی لیے وہ بھی آئے دن نت نئی فرمائشیں کرتی رہتی ہے، مگر آپ تو سمجھدار ہیں آپ ہی سوچ لیا کریں۔ یہ کیا بات ہوئی اس نے منہ سے جو بات نکالی آپ نے فوراً پوری کردی اس گھر کی بھی فکر کریں آنے والے وقت کی فکر کریں۔ مریم کے ابو سنی ان سنی کرتے ہوئے منہ ہاتھ دھونے لگے۔ ابو نے تولیے سے منہ خشک کرتے ہوئے بیگم کو دیکھ کر کہا۔ مجھے بھی حالات کا پتا ہے سب کچھ میرے سامنے ہے مگر مریم کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے لیے میں سب کچھ بھول جاتا ہوں بس میرا دل کرتا ہے وہ منہ سے جو نکالے وہ فوراً پورا کردوں۔ یہ سنتے ہی مریم کی امی پھر بولیں۔ تو کیا میں مریم کو پیار نہیں کرتی جتنا پیار آپ کو مریم سے ہے اتنا ہی مجھے بھی ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اس پیار میں مریم کا مستقبل برباد کردیں۔ ہمارے گھر کے حالات اگر اچھے ہوں گے تو ہم مریم کو بہتر سے بہتر مستقبل دے پائیں گے دوسری صورت میں فضول خرچیوں کی وجہ سے گھر میں کھانے کے لالے پڑے ہوئے تو مریم کا مستقبل تو دور کی بات دو وقت کی روٹی کھانی بھی مشکل ہوجائے گی اور آپ جب مریم کے لیے کوئی کھلونا لے کر آتے ہیں تو اسے خوش دیکھ کر جتنی خوشی آپ کو ہوتی ہے اتنی ہی مجھے بھی ہوتی ہے مگر جب مہنگائی، گھر کے حالات، مریم کا بہتر مستقبل یہ سب باتیں میری آنکھوں کے سامنے گھومتی ہیں تو مجھے ایسی فضول خرچیوں اور آپ کے لائے کھلونوں پر غصہ آتا ہے۔ مریم کے ابو خاموشی سے یہ باتیں سنتے رہے اور وہ بھی مریم کے مستقبل کے بارے میں بیگم کے احساسات سن کر سوچوں میں گم ہوگئے۔
مریم جو چھٹی کلاس میں پڑھتی تھی اور اپنی کلاس فیلوز کے پاس جو نیا کھلونا دیکھتی یا ان سے سنتی فوراً اور بلاجھجک ابو سے فرمائش کردیتی کیوں کہ اسے اپنے گھر کے حالات کا کچھ نہیں پتا تھا اور ہوتا بھی کیسے کہ اس نے آج تک جب بھی مہنگے سے مہنگے کھلونے کی فرمائش ابو سے کی وہ فوراً پوری ہوگئی۔
ایک دن مریم کی ایک کلاس فیلو اپنے ساتھ اسکول میں موبائل فون لے آئی اور موبائل دیکھ کر تو مریم کے ذہن میں بس یہی جنون سوار ہوگیا کہ میں بھی ابو سے کہہ کرموبائل لوں گی۔ کلاس میں بھی وہ صرف اور صرف موبائل کے بارے میں ہی سوچتی رہی اور گھر جاتے جاتے بھی اس کے ذہن پر صرف موبائل فون ہی سوار تھا۔ شام کو جب ابو گھر آئے تو اس نے اکیلے میں ابو سے اپنی خواہش کا اظہار کردیا۔ ابو نے جب یہ کہا کہ ٹھیک ہے آپ کو نیا موبائل خرید دوں گا تو مریم کے خوشی کے مارے پاﺅں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ دوسری دن اس نے اپنی پوری کلاس کو فرداً فرداً یہ بتادیا کہ دو چار دن میں میرے پاس بھی موبائل آجائے گا۔
دوسری طرف مریم کے ابو نے مریم سے یہ وعدہ تو کرلیا تھا کہ وہ اسے موبائل دلادیں گے مگر انہیں لگ رہا تھا کہ وہ مریم کی یہ فرمائش پوری نہیں کرسکیں گے کیوں کہ دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور آئے دن خراب حالات کی وجہ سے کاروباری بالکل مفلوج اور آمدن نہ ہونے کے برابر ہوگئی تھی جس میں گھر کے اخراجات بھی چلانا مشکل ہوتا جارہا تھا۔ یہی سوچ سوچ کر مریم کے ابو پریشان رہنے لگے تھے کہ بیٹی کی فرمائش کیسے پوری کروں۔
مریم کے ابو جنہوں نے مریم کی کوئی فرمائش کبھی رد نہیں کی تھی اب اس پریشان میں گھلتے جارہے تھے اور مریم کی امی ان کے یہ حالات دیکھ کر فکر مند تھیں کہ اچانک ان کو کیا ہوگیا۔ کیا پریشان ہے جو وہ ہر وقت کھوئے کھوئے رہتے ہیں۔ انہیں پریشانیوں اور سوچوں میں ڈوبے مریم کے ابو گھر میں آئے تو کافی تھکے ہوئے اور پریشان لگ رہے تھے، مریم کی امی سے ان کی پریشانی دیکھی نہ گئی اور انہوں نے آخری پوچھ ہی لیا۔ کیا بات ہے مریم کے ابو آپ کافی دنوں سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں، کیا مسئلہ ہے۔ مریم کے ابو نے ان کی طرف دیکھا اور پھر خیالوں میں کھوگئے۔ امی نے پھر پوچھا۔ کیا پریشان ہے آپ کیوں نہیں بتاتے۔ کسی سے جھگڑا ہوگیا ہے۔ ابو نے کہا، ارے نہیں بیگم یہ بات نہیں ہے بس ویسے ہی دل اداس سا ہے کافی دن سے کاروبار نہ ہونے کے برابر ہوگیا ہے ابھی تک کوئی خاطر خواہ آمدن نہیں ہوئی مہنگائی کی وجہ سے لوگ خریداری کم ہی کررہے ہیں۔
مریم کی امی نے انہیں دیکھ کر کہا۔ اس میں پریشانی کی کیا بات ہے اللہ کرے گا سب ٹھیک ہوجائے گا اور ویسے بھی اللہ کا شکر ہے ہماری گزر بسر اچھے طریقے سے ہورہی ہے، آپ پریشان نہ ہوں۔ مریم کے ابو نے تسلی ملنے کے بعد کہا۔ بیگم اصل میں مریم نے پچھلے دنوں موبائل کی فرمائش کی تھی اور میں نے اسے نیا موبائل دلانے کا وعدہ کیا تھا مگر سمجھ نہیں آرہا کہ میں ان حالات میں کیسے اس کی یہ فرمائش پوری کروں پہلے ہی دو چار دوستوں کا قرض دار ہوگیا ہوں۔
اسی لیے آپ سے کہتی تھی کہ آپ اس کی ہر فرمائش فوراً مت پوری کردیا کریں وہ تو بچی ہے اسے کیا پتا کہ ہمارے حالات کیسے ہیں۔ دوسری طرف مریم جو سونے کی کوشش کررہی تھی مگر موبائل کے خیالات اسے سونے نہیں دے رہے تھے اس کے ذہن میں نیا موبائل ہی بسا ہوا تھا جو دو چار دن بعد اسے ابو نے دلانا تھا۔ مریم کے کانوں میں جب امی ابو کی باتوں کی آواز آئی تو وہ ناچاہتے ہوئے بھی سننے پر مجبور ہوگئی اور جب امی ابو کی ساری باتیں سنیں تو نیند جو پہلے ہی نہیں آرہی تھی اب تو نیند اس سے کوسوں دور چلی گئی اور وہ اپنے ابو امی کی باتوں پر غور کرنے لگی اور اسے افسوس ہونے لگا کہ آج تک وہ ابو کو خواہ مخواہ کی فرمائشیں کرکے پریشان کرتی رہی اور اس کے ابو مالی حالات خراب ہونے کے باوجود بھی اس کی ہر خواہش پوری کرتے رہے۔
اب تو مریم کو یہ باتیں سوچ سوچ کر اپنے اوپر غصہ آرہا تھا کہ وہ اپنے ابو کی پریشانیوں کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ صبح جب ناشتہ کرنے سب بیٹھے تو ابو نے مریم کو دیکھ کر کہا۔ ارے بیٹا کیا ہوا لگتا ہے رات کو نیند نہیں پوری ہوئی۔
مریم نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ جی ابو پتا نہیں رات کیوں دیر تک نیند نہیں آرہی تھی۔ امی نے کہا۔ بیٹا آپ کو کتنی دفعہ کہا ہے کہ آیت الکرسی پڑھ کر سویا کرو۔ یہ کہہ کر امی جب کچن میں چلی گئیں تو مریم نے ابو سے فوراً کہا ابو وہ موبائل کے لیے آپ سے بات کرنی تھی۔ یہ سن کر مریم کے ابو ناشتہ کرنا بھول گئے اور پریشانی میں مریم سے کہنے لگے۔ ہاں ہاں بیٹا انشاءاللہ دو چار دن میں آپ کا موبائل آجائے گا اور پھر سرجھکا کر ناشتہ کرنے لگے۔ نہیں ابو میں نے پہلے اپنی پڑھائی پر توجہ دینی ہے کیوں کہ کل اسکول میں مس کہہ رہی تھی کہ موبائل سے پڑھائی میں خلل پڑتا ہے اور میں پہلے امتحان میں کامیابی حاصل کروں، آگے بڑھوں پھر موبائل بھی خرید لوں گی مگر وہ بھی اپنی جیب خرچ کے جمع کیے ہوئے پیسوں سے۔ یہ سن کر مریم کے ابو کا ہاتھ ناشتہ کرتے کرتے رک گیا اور امی جو کچن سے واپس آرہی تھیں وہ بھی ہکا بکا کھڑی مریم کو دیکھنے لگیں۔ بلکہ ابو آج کے بعد آپ میرے لیے جو بھی ضرورت کی چیز لائیں گے میں کوشش کروں گی کہ اپنی جیب خرچ سے جمع کیے ہوئے پیسوں میں سے اس کے لیے پیسے دوں، ہاں اگر کم پڑجائیں تو پھر آپ دے دیجیے گا۔ مریم کی امی جو اس کی یہ باتیں سن کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں اور پھر خوشی سے مریم کا ماتھا چومنے لگیں اور مریم کے ابو سے کہنے لگیں۔ مریم نے اپنے بہتر مستقبل کے سفر کا آغاز آج سے شروع کردیا ہے اب انشاءاللہ ہم سب مل کر مریم کی خود اعتمادی سے اٹھائے ہوئے قدم سے قدم ملا کر مریم کو بہتر مستقبل کی طرف گامزن کریں گے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close