Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

مردے کی واپسی

 
   
 
سب دھک سے رہ گئے۔
بات ہی کچھ ایسی تھی‘ جس سلطان کو فوت ہوئے چند دن ہوگئے تھے۔ اب وہ ان کے سامنے تخت پر بیٹھا تھا۔ وہ اپنی آنکھیں ملنے لگے، کچھ نے خود کو چٹکیاں بھی کاٹیں کہ ہوسکتا ہے ہم کوئی سہانا خواب دیکھ رہے ہوں جب انہیں تکلیف ہوئی تو انہیں یقین کرنا ہی پڑا کہ ان کے سامنے تخت پر وہی سلطان بیٹھا ہے جس کا کچھ دن پہلے ایک فوجی مہم کے دوران انتقال ہوگیا تھا اور اس کی میت ایک تابوت میں واپسی آئی تھی جس کی وفات نے پورے ملک کو غم کی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ دل غم سے پھٹے جارہے تھے‘ جب آج سلطان ان سب کے سامنے دربار میں آیا تو وہ یہی سمجھے کہ ان کی روح دنیا میں واپس آگئی ہے لیکن فوراً ہی انہیں احساس ہوگیا کہ روحوں کا اس دنیا میں آنا ممکن ہی نہیں ہے۔ درباری اتنے حیرت زدہ تھے کہ وہ سلطان سے یہ بھی نہ پوچھ سکے۔
حضور! وہ جو ہم نے آپ کا جنازہ پڑھا تھا جو ہم نے آپ کو کندھے دیے تھے ان کا کیا بنا۔
سلطان بھی ان سب کی حیرت سے نڈہال ہورہا تھا، کچھ دیر بعد بولا۔
اللہ تعالیٰ کی ذات ہی بھروسہ کرنے کے قابل ہے جس نے تم لوگوں کو اس آزمائش میں کامیاب کیا۔
کیسی آزمائش۔ چند دبی دبی سی سرگوشیاں ابھریں۔
اصل میں ہم نے تمہارا امتحان لیا تھا کہ تم ہمارے بغیر بھی منظم رہتے ہو یا بھیڑ بکریوں کی طرح بکھر جاتے ہو۔
یہ سن کر سب حیران رہ گئے۔ سب سے زیادہ حیرت تو سلطان کے بیٹے کو تھی۔ اسے ذرا سا بھی علم نہیں ہوا تھا کہ یہ اصلی جنازہ ہے یا کوئی چال ہے۔ اسی نے تو سب سے زیادہ کندھے جنازے کو دیے تھے۔
سلطان پھر کہنے لگا۔
چند خاص آدمیوں کے علاوہ کسی اور کو اس بات کا پتا نہیں تھا.... حد تو یہ ہے کہ اس بات کا علم ہمارے بیٹے کو بھی نہیں تھا۔
عالی جاہ! آپ نے یہ سب کچھ کیوں کیا۔ ایک درباری نے دریافت کیا۔
ہم سب کا امتحان لینا چاہتے تھے۔ اس امتحان میں ہمارا بیٹا بھی شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ تم سب اس امتحان میں پورا اترے لیکن.... لیکن کیا عالی جاہ! وزیر اعظم نے پوچھا۔
کیا حاکم کڑپہ حلیم خان کی دوستی کا پتا چل گیا ہے۔ اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسے سبق سکھایا جائے۔ تم لوگوں کو تو پتا ہی ہے کہ ہماری موت کا سن کر وہی ایک بندہ تھا جو سب سے زیادہ خوش تھا۔ اس نے شکرانے کے نوافل ادا کیے۔ نقارے پٹوائے، مٹھائیاں بانٹیں۔ اس نے اسی پر ہی بس نہیں کی بلکہ ہمارے نائب اور سفیر کو بہت بے عزت کرکے وہاں سے نکال دیا۔ وہ جانتا تھا کہ مرنے والے کبھی لوٹا نہیں کرتے نہ وہ بدلہ لے سکتے ہیں۔ اسی لیے تو وہ بڑا خوش تھا۔ بدنصیبی کی تو بات یہ کہ وہ مسلمان ہے۔ اس کے ساتھ ہمارا معاہدہ تھا اور بظاہر تو وہ ہمارا دوست بنا ہوا تھا، تم لوگ تو جانتے ہی ہو کہ ہم نے اس کا کتنا خیال رکھا ہے۔ اگر ہم چاہتے تو اس سے اس کی ریاست چھین بھی سکتے تھے مگر ہم نے دوستی نبھائی اور اسے کبھی کچھ نہیں کہا، لیکن اب اس کی دوستی کا ہمیں پتا چل گیا ہے۔
ابھی یہ باتیں ہوہی رہی تھیں کہ ایک قاصد نے آکر اطلاع دی کہ کڑپہ والوں نے بغاوت کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے جنگ کی تیاریاں بھی شروع کردی ہیں۔
یہ اطلاع سن کر سلطان نے فوراً ہی کڑپہ کی طرف پیش قدمی کا حکم دے دیا۔
کڑپہ والوں نے جب سلطان اور اس کے لشکر کو دیکھا تو ان کے چھکے چھوٹ گئے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ ایک مردہ اس دنیا میں کیسے واپس آسکتا ہے۔ کچھ سوچ کر حاکم کڑپہ نے اپنا قاصد سلطان کی خدمت میں بھیجا تاکہ سلطان سے صلح کے لیے بات کی جائے۔
قاصد کے آنے کی وجہ جان کو سللطان غضب ناک ہوگیا۔ جاﺅ، جا کر کہہ دو کہ ہمیں تمہاری معافی قبول نہیں ہے۔ اب جب کہ ہم دوست اور دشمن کو پہچان چکے ہیں تو اس غدار کو صرف اور صرف ہماری تلوار ہی سیدھا کرے گی۔ اسے کہہ دو کہ جنگ کی تیاری کرلے کیوں کہ ہم اس کی سرکوبی کرکے ہی رہیں گے۔
قاصد کی ناکامی نے حلیم خان کو جنگ کی تیاری کرنے پر مجبور کردیا۔ حلیم خان نے اس جنگ کی قیادت اپنے بھتیجوں حسین میاں اور سعید میاں کو سونپی۔ یہ دونوں نوجوان ناتجربہ کار تھے۔ اس کے باوجود وہ بڑی بے جگری سے لڑے اور سلطان کی جنگی چالوں کے سامنے ان کی ایک نہ چلی اور وہ شکست کھاگئے۔ کڑپہ فتح ہوگیا اور اس کی گرفتاری عمل میں آگئی۔ گرفتار ہونے کے باوجود دانہوں نے سلطان کو قتل کرنے کی کوشش کی۔ اس میں انہیں ایک بار پھر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس بار سلطان نے انہیںقتل کروادیا۔
یوں ایک حاکم اپنی کم عقلی کی وجہ سے نہ صرف خود تباہ ہوا بلکہ اپنے ساتھ دوسروں کو بھی لے ڈوبا۔
بچو! آپ یہ جاننے کے لیے بہت بے چین ہوں گے کہ اس سلطان کا کیا نام ہے جن کا مردہ واپس آیا تھا۔ اب آپ کی بے چینی ختم کرتے ہیں اور بتادیتے ہیں، اس سلطان کا نام سلطان حیدر علی تھا جو ٹیپو سلطان کے والد تھے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close