Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

بری صحبت کا اثر

 
   
 

اقبال صاحب کرسی پر بیٹھے مغموم دکھائی دے رہے تھے۔ سرجھکائے وہ کسی سوچ میں محو تھے۔ اسی لمحے اس کا سیکرٹری طارق اندر داخل ہوا۔ اقبال صاحب کو اس کے آنے کی کچھ خبر نہ ہوئی۔

کیا بات ہے۔ اقبال صاحب! آپ آج اس قدر پریشان کیوں ہیں؟ طارق کے سوال پر اقبال صاحب سوچوں کے گہرے سمندر سے باہر نکل آئے۔

کیا کہہ رہے تھے آپ؟ اقبال صاحب نے سیکرٹری سے پوچھا۔

سر! میں پوچھ رہا تھا کہ پریشانی کی کیا وجہ ہے؟ سیکرٹری طارق نے دوبارہ پوچھا ۔ کیا بتاﺅں طارق! تمہیں تو پتا ہی ہے کہ ہماری کمپنی کے سیف سے کتنی مرتبہ چوری ہوچکی ہے۔ ہر بار لاکھوں روپے چوری ہوجاتے ہیں۔ سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ ہاتھ کی یہ صفائی کون دکھاتا ہے؟ اب کی بار تیس لاکھ روپے چوری ہوگئے ہیں۔ اقبال صاحب کی یہ بات سن کر سیکرٹری طارق چکرا سا گیا۔ وہ تین دن کی چھٹی کے بعد آج ہی دفتر آیا تھا۔ اقبال صاحب کی طرح اس کا چہرہ مغموم ہوگیا۔

اقبال صاحب! اب تو حد ہوگئی ہے۔ آخر کون ہے، جو ہمیں نقصان پہنچانے پر تلا ہوا ہے۔ سیکرٹری طارق پریشانی کے عالم میں بولا۔

اقبال صاحب ایک بہت بڑی کمپنی کے مالک تھے جس میں سینکڑوں ملازمین کام کرتے تھے۔ دنیا کی ہر نعمت انہیں میسر تھی۔ ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا علی حیدر تھا۔ انہوں نے اپنی اولاد کو خوب پڑھایا لکھایا اور بہت ہی اچھے انداز میں تربیت کی۔ ان کی گھریلو زندگی بہت پرسکون گزر رہی تھی۔ بس انہیں پریشانی تھی تو اس بات کی کہ آئے دن ان کی کمپنی میں ایک نئی واردات ہوجاتی تھی جس سے انہیں لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔

انہوں نے اپنے طور پر تحقیق کی لیکن انہیں کچھ بھی سراغ نہ ملا۔ کمپنی کے تمام کارکنان نہایت ایماندار تھے۔ انہیں کسی پر کوئی شک نہیں تھا۔

صرف اقبال صاحب ہی نہیں بلکہ ان کے ہمدرد سیکرٹری سمیت تمام ملازمین اس آئے روز کی وارداتوں کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ اقبال صاحب کسی بھی ملازم کو اپنی کمپنی میں بہت چھان پھٹک کے بعد رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود انہیں آئے دن لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑتا تھا۔ اب وہ دن رات اسی بارے میں سوچتے رہتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی صحت گرتی جارہی تھی۔

اقبال صاحب کے گھر والے ان کی گرتی ہوئی صحت کے بارے میں بہت پریشان تھے۔

ایک دن ان کی بیگم نے انہیں پریشانی کی اصل وجہ بتانے کو کہا۔ انہوں نے بیگم کو اس تازہ واردات کے متعلق نہیں بتایا تھا وہ دمے کی مریضہ تھیں۔ اقبال صاحب بیگم کی بات کو ٹالتے ہوئے اندر چل دیے۔ ان کی بیگم بھی پیچھے آگئیں اور بولیں آج آپ کو بتانا پڑے گا۔ سارا گھر آپ کی صحت کے بارے میں پریشان ہے اور آپ نے چپ سادھ رکھی ہے۔ خدا کے واسطے کچھ تو بولیے۔ بیگم کے بار بار کے استفسار پر اقبال صاحب نے سارا ماجرہ سنادیا۔ سنتے ہی بیگم صاحبہ کو کھانسی کا شدید دورہ پڑا اور وہ شدت غم سے بے ہوش ہوگئیں۔ سب گھر والے بہت پریشان ہوئے ڈاکٹر کو بلایا گیا۔ بیگم صاحبہ کو ہوش آگیا اور ان کی طبیعت خطرے سے باہر قرار دے دی گئی۔ اتنے میں اقبال صاحب کا اکلوتا بیٹا علی حیدر اکیڈمی سے پڑھنے کے بعد اندر داخل ہوا اور آتے ہی اپنے باپ سے لپٹ گیا۔

اقبال صاحب نے اسے اپنی پریشانی محسوس نہ ہونے دی اور ایک جعلی مسکراہٹ سے اس سے اکیڈمی کے بارے میں پوچھا۔ علی حیدر سمجھ گیا دال میں کچھ کالا ضرور ہے اور پھر ماں کی طرف دیکھتے ہوئے اس کا شک یقین میں بدل گیا۔

ماں کیا ہوا ہے آپ کو؟ علی حیدر نے جھٹ سوال کیا۔

کچھ نہیں بیٹا! بس ذرا طبیعت خراب ہوگئی تھی۔ ماں نے شفقت بھرے لہجے میں کہا۔

کچھ دیر کے بعد اقبال صاحب نے اپنے بچوں کے ہمراہ کھانا کھایا اور واک کو چل پڑے۔ اب وہ خود کو قدرے بہتر محسوس کررہے تھے۔ خیر دن گزرتے گئے اور اقبال صاحب خود کو ہلکا محسوس کرنے لگے۔ کچھ عرصے کے بعد وہ بالکل ہی بھول گئے کہ انہیں اتنا بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

اقبال صاحب نے اپنی کمپنی کی سیکورٹی میں اضافہ کردیا اور جگہ جگہ کیمرے نصب کروادیے۔ اتنی سخت سیکورٹی کا یہ فائدہ ہوا کہ دوچار ماہ بڑے سکون سے گزرگئے۔ اب اقبال صاحب بہت خوش تھے۔ ان کی صحت بھی مکمل بحال ہوچکی تھی۔ وہ ایک دن اپنے ملازمین کے ساتھ بیٹھے کچھ باتیں ڈسکس کررہے تھے کہ یکایک چھ نقاب پوش اسلحہ اٹھائے ان کے دفتر میں آدھمکے اور سب کو ہینڈز اپ کرنے کو کہا۔ یہ امر اقبال صاحب کے لیے باعث حیرت تھا کہ اتنی سخت سیکورٹی کے باوجود ڈاکو ان کے دفتر میں پہنچنے میں کیسے کامیاب ہوگئے؟۔

یہ بات سب کے لیے پریشان کن تھی کیوں کہ ڈاکا کمپنی میں پہلی بار ہی پڑا تھا۔ پہلے جتنا بھی مالی نقصان ہوا تھا اس کے لیے ہاتھ کی صفائی دکھائی گئی تھی۔ نقاب پوش ڈاکوﺅں نے اقبال صاحب کے سیکورٹی اسٹاف کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ ایک ڈاکو اپنی جیب سے چابی نکال کر تجوری کھولنے لگا۔ اتنے میں اقبال صاحب کے ایک گن مین نے کمانڈو ایکشن کرتے ہوئے ڈاکو کو دبوچ لیا۔ بندوق نقاب پوش ڈاکو کے ہاتھ سے گرگئی۔ اتنے میں دوسرے ڈاکو بدحواس ہو کر فائرنگ کرتے ہوئے بھاگ گئے۔ ایک نقاب پوش ڈاکو کو اپنے سیکورٹی اہلکاروں کے نرغے میں دیکھ کر اقبال صاحب کے چہرے پر رونق نمودار ہوگئی۔ اب وہ بہت خوش ہورہے تھے کہ نقصان بھی نہیں ہوا اور ڈاکوﺅں کا ایک ساتھی بھی ان کے ہاتھ آگیا۔

کمپنی کے ایک گن مین نے نقاب پوش ڈاکو کا نقاب اتارا تو اقبال صاحب کے پاﺅں تلے زمین نکل گئی۔ ان کا سر چکرانے لگا۔ انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کیوں کہ ڈاکو کوئی اور نہیں بلکہ اس کا لاڈلا اور اکلوتا بیٹا علی حیدر تھا۔ وہ شرمندگی سے سرجھکائے کھڑا تھا۔

اقبال صاحب نے علی حیدر کی طرف دیکھتے ہوئے صرف اتنا کہا۔ علی حیدر تم اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے۔ انہیں فوراً ہسپتال پہنچایا گیا۔ انہیں دل کا شدید دورہ پڑا تھا۔ ان کی بیگم بھی ہسپتال پہنچ گئیں۔ ڈاکٹروں نے اقبال صاحب کی حالت بہت نازک بتائی۔ اقبال صاحب کی بیگم ایک ڈیسک پر بیٹھے روئے جارہی تھی۔ بیگم صاحبہ کو ایک آدمی نے تمام صورتحال سے آگاہ کردیا کہ آج جو کچھ ہوا ہے آپ کے لاڈلے بیٹے علی حیدر کی وجہ سے ہوا ہے۔

بیگم صاحبہ نے جب یہ سنا کہ ان کا اپنا ہی بیٹا اپنی ہی کمپنی میں ڈاکا ڈالتے پکڑا گیا ہے تو انہیں ایک دھچکا سا لگا۔ پہلے پہلے تو انہیں اپنے ملازم کی باتوں پر یقین نہیں آیا لیکن علی حیدر کے اعتراف جرم سے انہیں یقین کرنا ہی پڑا۔ علی حیدر کی آنکھیں بارش کی طرح برسنے لگیں وہ مسلسل روئے جارہا تھا اور اس کی آنکھیں زمین پر گڑی ہوئی تھیں۔ وہ اپنی غلطی پر انتہائی نادم تھا۔ اسے اپنی غلطی کا بھرپور احساس ہوچکا تھا اور وہ اپنے والد کی صحت یابی کے لیے دعائیں کررہا تھا۔

کچھ دیر بعد ڈاکٹر صاحب نے خوشخبری سنائی کہ اقبال صاحب کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے جب یہ بتایا کہ اقبال صاحب کو ایک بڑے صدمے کی وجہ سے دل کا دورہ پڑا ہے تو علی حیدر پھوٹ پھوٹ کر رودیا۔ بیگم صاحب نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اقبال صاحب کی حالت سنبھل گئی ہے۔ علی حیدر بھی اب کچھ دلی سکون محسوس کررہا تھا۔

دو ہفتے کے بعد اقبال صاحب کو ہسپتال سے گھر شفٹ کردیا گیا۔اب ان کی صحت کافی بہتر ہوچکی تھی۔وہ گھر پر زیادہ تر خاموش ہی رہتے اور ان کے سامنے وہی منظر گھومنے لگتا جو ان کے لیے ہارٹ اٹیک کا باعث بنا تھا۔وہ کھانا بہت ہی کم کھاتے۔ علی حیدر جب یہ سب کچھ دیکھتا تو خود کو بہت کوستا۔وہ یہ چاہتا تھا کہ اپنے ابو سے کوئی بات کرے لیکن اس میں ہمت ہی نہ پڑتی تھی اور نہ ہی ابو اسے بلاتے تھے۔

ایک دن باپ کا دل پسیج گیا۔اقبال صاحب نے علی حیدر کو آواز دی۔ علی حیدر اپنے باپ کی ایک ہی آواز پر دوڑتا چلا آیا اور آتے ہی اپنے باپ کے قدموں میں گرگیا۔ وہ اپنے باپ کے پاﺅں پکڑ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے جارہا تھا۔ وہ بار بار اپنے ابو سے معافی مانگ رہا تھا۔ اقبال صاحب نے علی حیدر کو دلاسا دیتے ہوئے اپنے قدموں سے اٹھایا اور اپنے گلے لگالیا اور کہا بیٹا! واقعی میرا دل تہماری اس حرکت سے ٹوٹ گیا تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میرا بیٹا ڈاکو بن جائے گا اور اپنے باپ کی رقم پر ہی ڈاکا ڈالے گا۔ اسی دکھ سے مجھے ہارٹ اٹیک ہوا۔ میرے زندہ بچنے کی تو کوئی امید نہ تھی لیکن تم سب لوگوں کی دعائیں رنگ لائیں۔ میں جانتا ہوں کہ تم نے میرے لیے بہت دعائیں کیں۔ دن رات جاگتے رہے،میری صحت کے لیے فکر مند رہے۔ مجھے تمہاری ماںنے سب کچھ بتادیا ہے۔

علی حیدر سر جھکائے ہوئے بولا ابو جان بری صحبت انسان کو برا بنادیتی ہے۔ کالج میں میرے چند برے لڑکوں کے ساتھ تعلقات بن گئے وہ راتوں رات امیر بننا چاہتے تھے اور میںامیر ہونے کے باوجود ان کی صحبت کا اثر لے بیٹھا۔ ابو جان! وہ تمام لڑکے اب بہت خطرناک ڈاکو بن چکے ہیں۔ میں ان کو پکڑوانے کے لیے پولیس کی مدد کرسکتا ہوں۔ ابو جان! میں اب ان کی صحبت مکمل چھوڑ چکا ہوں۔ میں اب مکمل بدل چکا ہوں۔ میں آئندہ ایسی غلطی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔

اقبال صاحب یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ ان کا بیٹا اب مکمل بدل چکا ہے۔ علی حیدر کے سب گھر والے اب بہت خوش تھے۔

 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close