Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

ضمیر کی صدا

 
   
 
شام کی کرنیں ڈوب چکی تھیں، دن بھر کی تھکاوٹ کے بعد میں ابھی بستر پر دراز ہوا تھا کہ ایک اعلان کانوں میں سنائی دیا۔ معزز مسافرین۔ ڈریم ورلڈ کا جہاز تیار ہوچکا ہے۔ تمام مسافر اپنی اپنی سیٹوں پر براجمان ہوجائیں۔ ڈریم لینڈ کے حسین نظاروں کو دیکھنا تھا اس لے جلد ہی تمام تر سوچوں کو چھوڑ کر میںحسین وادیوں کے سفر کو نکل پڑا۔ کچھ ہی لمحوں بعد میں سپنوں کی وادیوں میں کھوچکاتھا۔
10جون کی یہ حسین صبح تھی۔ یعنی میری اکیسیوں سالگرہ کا دن تھا۔ ویسے تو اس دن کی تیاریاں کافی دن سے عروج پر تھیں۔ ایک فٹ لمبے کیک کا آرڈر بھی دیا جاچکا تھا۔ مختلف احباب کے کارڈز اور گفٹ کا جم غفیر گھر کے ایک کونے میں جمع تھا۔
آج تو تقریب کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا۔ اس لیے سویرے ہی دوستوں کا تانتا بندھ چکا تھا۔ میرے چاہنے والوں کی اتنی تعداد، میں تو آج خوشی سے پھولے نہیں سما رہا تھا۔ ساتھ ساتھ فخر کا جن بھی سر پر سوار ہوچکا تھا۔ کیک کاٹا جارہا تھا۔ تمام دوست باری باری اپنے تحائف کے ساتھ ساتھ گلے لگ کر مبارکبادوں سے ہمکنار کررہے تھے۔
آخر یہ صاحب کون ہوسکتے ہیں جو کافی دیر سے تن تنہا، بنا کسی شور شرابے سکوت کی چادر اوڑھے کھڑے ہیں۔ کہیں میرے ساتھ ان کی کوئی ناراضگی تو نہیں۔ تنہائی میں کھڑے ایک شخص کو دیکھ کر ذہن میںمختلف سوالات ابھر رہے تھے۔ کافی دیر تک تو میں منتظر رہا کہ شاید یہ شخص آکر مجھ سے ملے لیکن اس نے مجھے کوئی خاطر خواہ لفٹ نہیں کروائی۔ آخر میں خود ہی دوستوں کی لمبی قطار سے گزرتے ہوئے اس کی جانب لپکا، ایک لمحہ تو میں حیران ہوچکا تھا۔ یہ تو وہی شخص تھا جسے میں نے آئینے میں دیکھا تھا۔ اس کی شکل تو ہو بہو میری تصویر ملتی تھی۔
محترم، آپ مجھے مبارکباد نہیں دیں گے۔ میں بولا۔
کس بات کی مبارکباد۔ وہ صاحب بولے۔
آپ کو معلوم نہیں، آپ تو میری سالگرہ کی تقریب میں شامل ہیں۔ میں مسکراتے ہوئے بولا۔
محمود، خوشی تو مفاد پر کی جاتی ہے نقصان پر نہیں، وہ بولے۔
کچھ سمجھا نہیں کھل کر صاف صاف بتائیے۔
سننا ہی چاہتے ہو تو سنو۔
کیا تم اس بات پر خوشی منار رہے ہو، کہ تم ایک سال اور موت کے قریب چلے گئے۔ اکیس برس کی زندگی تو محض تم نے گزار دی لیکن اس میں تم نے کیا پایا۔ ان گزرے ہوئے سالوں میں تم نے ہمیشہ کی زندگی موت کے لیے کتنا ذخیرہ کیا ہے۔ وہاں تمہارے اعمال ہی تمہارے لیے زاد راہ ہوں گے۔ حقوق اللہ‘ حقوق العباد کی کتنی پاسداری کی تم نے۔
قبر کے لیے کتنی تیاری کی، جس کی طرف تمہارا ایک قدم جارہا ہے۔
ضمیر کی صدا نے مجھے بیدار کردیا تھا۔ یہ میرا ضمیر تھا جو مجھے للکار رہا تھا‘ جاگتے ہی میری آنکھوں سے اشک جاری تھے۔
اور میرا دل یہ کہہ رہا تھا کہ
ہمارے ضمیر سوئے ضرور ہیں، پر مردہ نہیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close