Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

نئی امید

 
   
 
فضل پھر ایک نئی امید کے لیے اپنی کشتی کو دھکیلتا ہوا تیرتے ہوئے جال کی طرف بڑھا مگر اس جال میں بھی اسے ایک کچھوا پھنسا ہوا ملا۔ اب تو فضل پر جنون سوار ہوگیا۔ اس نے جال کو کشتی سے باندھا اور منہ ہی منہ میں بڑبراتا ہوا غصے کی حالت میں کنارے کی طرف آنے لگا، کنارے پر پہنچتے ہی اس نے جال کو کھینچا اور خشکی پر لے آیا۔ جہاں جال میں پھنسا ہوا بڑا سا کچھوا آزاد ہونے کے لیے بری طرح مچل رہا تھا۔ کچھوے کو جلا سے نکالتے ہی اس ظالم نے ایک بڑا موٹا سا ڈنڈا اپنی کشتی سے نکالا اور بے تحاشا اس بے چارے کچھوے کو مارنےلگا۔ کشتی ہی میں اس کا معصوم ممو بیٹھا ہوا تھا وہ ہمدری سے چیخا۔ نہ مار اسے ابا.... نہ مار، مگر اس ظالم پر اس کا ایک بھی اثر نہ ہوا۔ تکلیف سے کچھوا پتھر کی طرح سخت ہوگیا مگر ممو کو اس کی تکلیف کا اندازہ اس کے کانپتے ہوئے وجود سے ہورہا تھا۔ جب بہت مار پیٹ کر فضل نے اپنے دل کی بھڑاس نکال لی تو اس نے ایک مضبوط سی رسی سے کچھوے کی ٹانگ باندھی اور انتہائی قوت سے کچھوے کو کھینچتا ہوا بجلی کے کھمبے کے پاس لے گیا پھر پوری قوت لگا کر کچھوے کو کھمبے سے لٹکا کر باندھ دیا۔ یہ کام کرتے ہوئے اس کی سانس بری طرح پھول گئی تھی اور پیشانی پسینے سے تربتر ہوگئی۔ ارے بابا اتنا مار کر اس بے چارے کو کیوں لٹکادیا، ایسے لٹکتے لٹکتے تو یہ مرجائے گا ممو نے اداسی اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں کہا مرتا ہے تو مرجائے۔ فضل نے کچھوے کو تکلیف سے مچلتے ہوئے دیکھ کر غصے سے کہا۔ ایسا ظلم نہ کر ابا.... اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے گا۔ تو چپ کر شام سے پہلے پہلے تیس چالس کلو مچھلیاں پکڑنی ہیں ٹھیکیدار کو کل بھی پیسے نہیں دیے تھے جبکہ پہلے والے دونوں جال بھی مچھلیوں سے خالی تھے۔ ممو کا ابا اس وقت بہت غصے میں تھا۔ وہ دل ہی دل میں اپنے ابا کی اس حرکت پر افسردہ اور غمگین تھا وہ چاہتا تھا کہ کچھوے کو آزاد کرکے اس کی تکلیف کو دور کردے مگر فی الحال وہ اپنے ابا کے غصے کے آگے مجبور تھا۔
گھر میں داخل ہوتے ہی ممو کی ماں فضل کا چہرہ دیکھتے ہی سمجھ گئی کہ آج میاں کا پارہ چڑھا ہوا ہے۔ وہ فضل کے چہرے پر لکھی پریشانی کو پڑھ تو نہ سکی مگر پھر بھی پوچھ بیٹھی۔ کیا ہوا خیر تو ہے۔ آج بھی دو کلو مچھلیاں نہیں لگیں۔ ریا کا بند ابھی کھلا نہیں ہے۔ کچھوﺅں نے الگ ناک میںدم کیا ہوا ہے۔ ادھر ٹھیکیدار الگ پریشان کررہا ہے۔ ممو کے ابو نے فکر مندانہ انداز میں کہا۔ ممو کی ماں بولی۔
اللہ ہماری پریشانی سے خوب واقف ہے تو فکر نہ کر اللہ بھلا کرے گا۔
چائے لاﺅں‘ ممو کی امی نے رخ بدلتے ہوئے پوچھا۔
ہاں لے آ، اب تو بس اللہ ہی عزت رکھے، اگر دریا کا بند کھل جائے تو ساری پریشانیاں دور ہوجائیں۔ فضل نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا۔
ممو، لے بیٹا چل وحید سے دو روپے کا دودھ لے آ۔ اس وقت تو ممو خود باہر اڑ جانے کے چکر میں تھا۔ برتن اور پیسے لیتے ہی وہ تیزی سے باہر کی جانب دوڑا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے، اگر کچھوے کو بچانا ہے تو ابا ناراض ہوجائے گا اور اگر ابا سے ڈرنا ہے تو کچھوا مارا جائے گا اور اس کا عذاب ابا پر آئے گا۔ اب کیا کروں۔
ممو دل و ضمیر کے ہاتھوں پریشان تھا۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کس طرح اس کچھوے کو بچانے کہ ابا بھی ناراض نہ ہو اور اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوجائے۔ آخر اس نے خود کلامی کرتے ہوئے کہا کہ ابا کی ناراضگی کچھوے کی زندگی سے بڑھ کر نہیں ہے۔ پھر وہ دوڑتا ہوا دریا پر آیا کشتی سے بندھی رسی کو کھولا اور اللہ کا نام لے کر کشتی کو آہستہ آہستہ بجلی کے کھمبے کی طرف لے جانے لگا۔ ممو بہت چھوٹا تھا جبکہ کشتی کے چپو انتہائی بڑے تھے اور کافی قوت سے چلانا پڑ رہے تھے مگر اسے تو صرف کچھوے کو بچانے کی فکر تھی۔ چپو چلاتے چلاتے اس کے دونوں بازو تھک گئے تو اس نے کشتی کو دریا ہی میں روک دیا۔ کنارا ابھی کافی دور تھا جبکہ ممو جلد از جلد کنارے تک پہنچنا چاہتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے پھر ہمت کی اور کافی کوشش کے بعد کشتی کو دورسرے کنارے تک لے ہی آیا۔ کنارے پر آتے ہی اس نے دونوں چپو کشتی میں ڈالے اور کنارے پر ایک بڑی سی لکڑی کو ٹھونک کر اسے مضبوطی سے باندھ دیا۔ اس کام سے فارغ ہوتے ہی وہ انتہائی سرور کیفیت میں بھاگتا ہوا کچھوے کے پاس پہنچا جو کہ ابھی تک بجلی کے کھمبے سے اوندھا لٹکا ہوا تکلیف سے بری طرح مچل رہا تھا۔
کچھوے میرے ابا نے واقعی تمہارے ساتھ بہت ظلم کیا ہے میں تمہیں آزاد کرانے کے لیے آیا ہوں۔ ہوسکے تو میرے ابو کو معاف کردینا۔ ممو نے کہا اور فوراً ہی پول کے ساتھ بندھی رسی کھول دی۔ رسی کا کھلنا تھا کہ کچھوا دھڑام سے زمین پر آگرا۔ پھر ممو نے بغیر کسی خوف کے کچھوے کے پاﺅں کی رسی بھی کھول دی۔
جاﺅ، جاﺅ کچھوے اب تم آزاد ہو، ممو نے کہا۔
رسی کا کھلنا تھا کہ کچھوے نے ایک نظر ممو پر احسان مندی سے دیکھا اور پھر پوری قوت سے دریا کی طرف بڑھنے لگا۔ اس وقت ممو کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ دریا کے قریب پہنچتے ہی کچھوے نے ایک نظر پھر ممو کو دیکھا۔ دوسرے ہی لمحے وہ دریا کی تیز لہروں میں غائب ہوگیا۔ دریا کا بند اب کھل چکا تھا اور ایسے میںدریا میں کشتی چلانا اور واپس دوسرے کنارے اپنے گاﺅں تک پہنچنا ناممکن تھا۔ پانی کے تیز بہاﺅ کو دیکھتے ہی ممو تو پریشان ہوگیا کہ اب کیا کرے اور کس طرح واپس جائے۔ خیر ریلوے پل کے اوپر سے جانے کا راستہ تھا۔ پل کا خیال آتے ہی ممو کو کچھ سکون ملا۔ پل پر پہنچتے ہی اس نے پل کے دونوں جانب دیکھا کہ کہیں ریل تو نہیں آرہی۔ پورا اطمینان کرنے کے بعد ممو تیزی سے پل پار کرنے لگا۔ پل دریا کے اوپر کوئی تین سو فٹ لمبا اور دریا سے سو فٹ بلند تھا۔
ادھر جب کافی وقت گزرا تو فضل پریشان ہوگیا۔ پھر ممو کے دوست رحمت نے فضل کو بتایا کہ اس نے ممو کو دریا کی طرف جاتے دیکھا تھا۔ یہ سنتے ہی فضل دوڑتا ہوا لنگر والی جگہ پر آیا تو یہ دیکھ کر اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس کی کشتی دریا کے دوسرے کنارے پر کھڑی تھی جبکہ دور بجلی کے کھمبے سے لٹکا ہوا کچھوا بھی اسے نظر نہیں آرہا تھا۔ اس وقت فضل کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے کیوں کہ دریا کا بند کھلنے کی وجہ سے پانی میں تیزی آگئی تھی اور دوسری پریشانی کی وجہ یہ بھی تھی کہ دور دور تک اسے ممو نظر نہیں آرہا تھا۔ ایسے میں دریا میں دوسری کشتی ڈالنا یا تیر کے دریا پار کرنا بہت مشکل تھا لہٰذا فضل نے وقت ضائع کیے بغیر پل کی جانب دوڑ لگادی۔ پل سے تھوڑا ہی دور تھا مگر پریشانی اور گھبراہٹ سے فضل کو پسینہ آنے لگا۔ ریلوے لائن پر آتے وہ پوری قوت سے پل کی جانب دوڑا پل پر پہنچتے ہی اس نے دیکھا کہ ممو آہستہ آہستہ پل پار کرتا ہوا اس طرف آرہا تھا۔ اچانک ہی فضل کو ممو کے پیچھے سے ٹرین آتی ہوئی نظر آئی۔ فضل نے چیخ کر ممو سے کہا۔ ممو واپس چلا جا، ممو واپس چلا جا، پیچھے سے ریل آرہی ہے۔ اب ممو نے جیسے ہی پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ مزید بدحواس ہوگیا کیوں کہ ریل پوری رفتار سے پل کی طرف ہی آرہی تھی۔ ایسے میں فضل نے اڑ کر ممو تک پہنچنا چاہا مگر یہ ناممکن تھا اپنے پیچھے دیکھتے ہی ممو واپس پلٹ اور دوڑتے ہوئے پل پار کرنے لگا۔ گھبراہٹ اور بدحواسی کے عالم میں اس کی رہی ہمت بھی جواب دے رہی تھی۔ فضل کا ممو تک پہنچنا ناممکن تھا مگر پھر بھی اس نے اپنے ممو تک پہنچنے کے لیے پل پر دوڑ لگادی۔
بھاگ ممو بھاگ،جلدی بھاگ۔ مگر اس سے پہلے کہ فضل ممو تک پہنچتا، ریل ممو کے سر پر آگئی، اب جو اپنے سامنے موت کو آتے ہوئے دیکھا تو ممو کو دوسرے کوئی صورت نظر نہ آئی اور اس نے دریا کے بہتے ہوئے دھارے میں چھلانگ لگادی۔ ممو کو دریا میں کودتے دیکھتے ہی فضل بھی دریا میں کود گیا مگر ممو اس کی پہنچ سے بہت دور تھا۔ بند کھلنے کی وجہ سے دریا میں جیسے طغیانی آئی ہوئی تھی۔ ایسے میں طوفانی لہروں نے ممو کو طری طرح اچھالا مگر وہ معصوم بچہ تھا اسے تو ابھی صحیح طرح سے تیرنا بھی نہیں آتا تھا۔ فضل نے ممو کے قریب پہنچنے کی بہت کوشش کی مگر اس کے سامنے ہی ایک زبردست لہر نے ممو کو غوطہ دیا اور پھر دوسرا غوطہ، فضل کی تو چیخ نکل گئی۔ دوسرے غوطے کے بعد ہی ممو پھر سے پانی کی سطح پر نمودار ہوا۔ فضل نے دیکھا کہ وہ تختے جیسے کسی چیز سے چمٹ گیا ہے۔ فضل جلد از جلد اپنے بچے تک پہنچنا چاہ رہا تھا مگر اس سے پہلے ہی وہ چیز ممو کو کنارے کی طرف لے جانے لگی۔ وہ چیز اضل میں کچھوا تھا جس نے جب اپنے محسن ممو کو تکلیف میں دیکھا تو بھاگ کر آیا، قریب پہنچنے پر فضل نے دیکھا کہ ممو کے نیچے سے تختہ نکل گیا۔ اتنی دیر میں فضل بھی ممو تک پہنچ چکا تھا، اپنے بچے کو صحیح سلامت دیکھتے ہی فضل نے خوشی کے آنسو بہاتے ہوئے اپنے ممو کو گلے لگالیا۔
اگر تجھے کچھ ہوجاتا تو میں جیتے جی مر جاتا میرے بچے، فضل نے محبت سے اپنے بچے سے پیار کرتے ہوئے کہا۔
ابا یہ سب اللہ کی مہربانی سے ہی ہوا ہے۔ بھلائی کا بدلہ جانور بھی دینا جانتے ہیں۔ اگر آج کچھوا بھلائی کا بدلہ بھلائی سے نہ دیتا تو میں ڈوب ہی گیا ہوتا۔ ممو نے سچی بات کہی جو کہ فضل کے دل میں اترگئی۔
تم سچ کہتے ہو، غلطی میری ہی تھی۔ کچھوے تم نے احسان کا بدلہ احسان سے دیا۔ میں اپنے کیے پر نادم ہوں، ہوسکے تو مجھے معاف کردینا۔ فضل نے اپنے ممو کو گود میں اٹھا کر کچھوے کے قریب ہوتے ہوئے کہا۔ کچھوا آہستہ آہستہ واپس دریا کی طرف جانے لگا۔ پھر قریب پہنچتے ہی اس نے فضل کی طرف ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہوں۔
بھلائی کا اجر بھلائی کے سوا کچھ نہیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close