Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

خطرناک منصوبہ

 
   
 
اس کتاب کا نام تھا دی ہول یعنی سوراخ۔آندرے باجن جیل کی لائبریری سے یہ کتاب وقت گزارنے کے لیے آیا تھا، مگر جب آندرے نے اس کتاب کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو اس کے دل و دماغ میں زندگی کی ایک نئی امنگ، ایک نئی لہر اٹھنے لگی، وہ خوشی کی ایک نئی ترنگ اپنے آپ میں محسوس کرنے لگا کیوں کہ یہ ناول کچھ ایسے قیدیوں کے بارے میں تھا جو جیل خانے کی قید سے فرار ہوجانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔
آندرے باجن جیل میں تھا مگر وہ مجرم ہرگز نہیں تھا۔ وہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن سپاہیوں کے ہاتھوں قید ہو کر قیدی کی زندگی گزار رہا تھا۔ یہ جرمنی کی سب سے بدنام زمانہ جیل تھی۔ باجن لال سپاہی کے نام سے گوریلا گروپس سے تعلق رکھتا تھا۔ اس گروپس کے ایک ایک کرکے کئی سپاہی جیل میں آچکے تھے۔ یہ جیل برلن کے دیہاتی علاقے میں تھا۔
جیل خانے کی عمارت اس قدر مضبوط بنائی گئی تھی کہ یہاں سے کسی بھی قیدی کا بھاگ نکلنا یا فرار ہوجانا ممکن ہی نہیں تھا۔ سب ہی قیدی دل ہی دل میں دعائیں کرتے کہ کسی طرح جیل کی مضبوط بلند دیواریں گر جائیں اور وہ یہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوجائیں۔ باجن بھی ایسی ہی خواہش دل میں بسائے رکھنے والے قیدیوں میں سے ایک تھا۔ مگر ابھی تک جیل سے فرار ہونے کی کوئی ترکیب اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
کتاب دی ہول پڑھ لینے کے بعد اسے جیل سے فرار ہوجانے کا ایک طریقہ مل گیا۔ وہ ایک باعزم اور کچھ کر گزرنے، کچھ کر دکھانے کا حوصلہ رکھنے والا ایک غیر معمولی شخص تھا۔ کتاب کا مطالعہ مکمل کرتے ہی اس نے کتاب اپنے سرہانے رکھ دی اور اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔ سب سے پہلے اس نے اپنے بستر میں چھپا ہوا ایک دھاگا نکالا جسے قیدی جیل کا ٹیلی فون کہتے تھے۔ اس کے ایک سرے پر خط باندھ کر دو منزل نیچے تک پیغام پہنچایا جاسکتا تھا۔ باجن نے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر لکھا۔ میرے ذہن میں ایک خیال آیا ہے جس پر عمل کرکے ہم لوگ جیل سے باہر نکل سکتے ہیں۔ میری کوٹھڑی تیسری منزل پر ہے۔ باجن۔
اس پرچی کے ساتھ ایک چھوٹا سا پتھر باندھ کر اس نے اسے دو منزل نیچے لٹکایا اور کوٹھڑی نمبر سینتیس کی کھڑکی پر پتھر سے دستک دی۔ اس کوٹھڑی میں جین لوئیس تھا۔ اس کا تعلق بھی لال سپاہی نامی گروپ سے تھا۔ وہ چھ ماہ اس جیل میں گزار چکا تھا۔ اس نے باجن کا پیغام اپنی کوٹھڑی کے ساتھ ریمنڈ رچرڈ کو پڑھ کر سنایا۔
ویری گڈ، ریمنڈ نے پیغام سن کر کہا۔ کچھ امید تو بندھی اس قید سے نکلنے کی، اس کے بعد باجن کے پیغامات آتے رہے، وہ چھوٹے چھوٹے کاغذ کے ٹکڑوں پر اپنی اسکیم کے متعلق لکھتا رہا۔ یہ ایک بالکل نئی اسکیم تھی اور بالکل اسی کتاب کے مطابق جو دی ہول میں لکھی تھی، پوری اسکیم پڑھ لینے کے بعد جین لوئیس نے ریمنڈ سے کہا میرا خیال ہے یہ ایک اچھی اسکیم ہے، اس پر عمل کرکے ہم کامیابی سے ہمکنکار ہوچکتے ہیں اور اس قید سے رہائی حاصل کرسکتے ہیں۔
باجن کا آخری پیغام تھا، آج سے کھدائی شروع کردو، اس کے بعد باجن سرنگ کھودنے کے اوزار رسی سے باندھ باندھ کر نیچے اتارتا رہا۔
باجن کو یہ اوزار اکٹھا کرلینے میں اس لیے آسانی تھی کہ وہ قیدیوں کے اوپر جیل کا ایک رکن تھا اور صفائی کرنے والے عملے کے ساتھ مل کر کام کرتا تھا۔
رات بارہ بجے کے بعد جین لوئیس نے فرش پر چھینی رکھ کر پہلی ہتھوڑی چلائی۔ ہتھوڑی کی آواز بند کوٹھڑی میں اس طرح گونجی جیسے کوئی بم پھٹا ہو۔
مائی گاڈ، جین نے گہری سانس لیتے ہوئے زیر لب کہا۔ شاید یہ آواز سن کر جیل کے سارے ہی لوگ نیند سے بیدار ہوجائیں گے۔ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔
کچھ دیر خاموش لیٹا وہ انتظار کرتا رہا لیکن اسے کوئی آواز یا آہٹ تک سنائی نہدی اور نہ ہی کوئی پہریدار اس کی کوٹھڑی کی طرف دوڑتا ہوا آیا۔ اب وہ مطمئن ہوگیا۔ اس نے پھر اپنا کام شروع کردیا۔ پانچ گھنٹے محنت کرنے کے بعد ریمنڈ اور جین لوئیس ایک بڑا اور وزنی پتھر اکھاڑنے لینے میں کامیاب ہوگئے۔ اس کے نیچے تہہ خانہ تھا اور تہہ خانے میں بجلی کی تار اور ضرورت کی دوسری اشیاءبھری پڑی تھیں۔
ایک رات کے لیے یہ کام بہت تھا، بڑی کامیابی تھی، وہ اطمینان سے لیٹ کر سوگئے لیکن اگلے چند دنوں میں انہیں ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑگیا۔ باجن جب جین لوئیس کے لیے اوزار باندھ کر نیچے لٹکاتا تھا تو اس سے نچلی منزل کے دو قیدی اسے روک لیتے تھے، یہ دونوں لائین چوپلین اور بلارڈ تھے۔ ایک دن جب قیدیوں کو ورزش کرائی جارہی تھی تو ان دونوں نے لوئیس سے کہا کہ کچھ اوزار انہوں نے روک لیے ہیں اور وہ بھی فرار ہونے میں ان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں۔ جین لوئیس انہیں انکار نہ کرسکا۔ اس نے کہا ان حالات میں تمہیں اپنی کوٹھڑی میں ایک سوراخ کرنا ہوگا جس کے ذریعے تم میری کوٹھڑی میں آکر سرنگ کھودنے میں میری مدد کرسکو۔ چوپلین اور بلارڈ اس کام کے لیے تیار ہوگئے اور انہوں نے سرنگ کھودنے میں ساتھ دینے کا وعدہ کرلیا۔
ساتھ ہفتے تک جین لوئیس، ریمنڈ، چوپلین اور بلارڈ ایک رسی کی مدد سے اپنی کوٹھڑی سے چلے جاتے، یہ رسی انہوں نے اپنی چادر کو پھاڑ کر بنائی تھی۔ جین لوئیس کو پانی چھت کا سوراخ بند کرکے ہر روز پلاستر لگانا پڑتا کہ کسی پہریدار کی نظر نہ پڑجائے، اتفاق سے ریمنڈ نے جنگ سے پہلے کسی کان میں کام بھی کیا تھا۔ اس کا عملی تجربہ یہاں اس کے بہت کام آیا جس نے اندازہ لگایا کہ سرنگ کو پہلے کم از کم آٹھ فٹ تک نیچے جانا چاہیے، اس کے بعد تقریباً پچیس فٹ تک سیدھی طرف پھر بالائی سمٹ میں، دو ماہ تک وہ کتاب دی ہول میں بتائے گئے طریقوں کے مطابق اپنا کام کرتے رہے، سرنگ سے نکلی ہوئی مٹی تہہ خانے میں جمع ہوتی رہی، روشنی کے لیے ان کے پاس صرف موم بتی ہوتی تھی۔ محتاط اندازے کے مطابق لمبائی میں سرنگ کھود کر بالائی سمت میں کھدائی کا کام شروع کردیا گیا۔ ریمنڈ کو چوپلین کے کندھوں پر چڑھ کر کھدائی کا کام کرنا پڑتا تھا۔
سرنگ تیار ہوگئی اور جیل سے فرار ہوجانے کا راستہ بن گیا تھا لیکن اس رات ایک اور نئی مشکل سامنے آکھڑی ہوئی، چوپلین اور بلارڈ کی کوٹھڑی میں ایک نیا اور تیسرا قیدی ٹھونس دیا گیا، مجبور ہو کر اسے بھی ساتھ ملا لینا پڑا۔ یہ فوجی قیدی نہیں تھا بلکہ ایک جرمن جاسوس تھا مگر اس کے ساتھ مشکل یہ تھی کہ وہ کبڑا تھا، پتلی سی سرنگ میں اس کا گزرنا آسان نہیں تھا۔
فرار ہونے کی اسکیم سن کر جرمن مجرم ایلن کوسٹا خوشی سے جھوم اٹھا، اس نے کہا دوستو، تم فکر مت کرو اور نہ ہی میری کبڑی کمر کا خیال، شاید تم یہ بات بھول رہے ہو کہ کبڑا ہمیشہ خوش بختی لے کر آتا ہے۔
وہ بے چارے کر بھی کیا سکتے تھے۔ کبڑے کو اپنے ساتھ شامل کرنے پر بے بس اور مجبور تھے۔ رات کے دو بجے فرار ہونے کے وقت کا تعین کیا گیا۔ باجن نے دو گھنٹہ پہلے سے اپنی کوٹھڑی کی سلاخیں کاٹنی شروع کردیں۔ یہ کام دو بجے تک مکمل ہوگیا۔ اس نے ایک رسی کھڑی سے باندھی اور نیچے اتر گیا۔ جین لوئیس کی کھڑکی سے سلاخیں پہلے ہی کاٹ دی گئی تھیں، اب کل چھ افراد فرار ہونے کے لیے بالکل تیا رتھے، تہہ خانے میں پہن کر سرنگ کا دہانہ کھولا گیا، جین لوئیس سب سے پہلے سرنگ میں اترا، اس کے بعد باجن پھر چوپلین، اس کے بعد ریمنڈ، پانچویں نمبر پر کبڑا کوسٹا اور سب سے آخر میں بلارڈ۔
سرنگ اتنی پتلی تھی کہ ایک وقت میں صرف ایک ہی فرد وہاں سے گزر سکتا تھا، جبکہ ان کی تعداد چھ تھی۔
وہ اندھیرے میں کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، آخر وہ سرنگ میں اس مقام تک پہنچ گئے جہاں سے انہیں اوپر چڑھنا تھا۔ اب جین لوئیس باجن کے کندھوں پر کھڑا ہوگیا تاکہ سرنگ کا دہانہ دوسری آزاد دنیا میں کھول دی۔ اندر کسی نے موم بتی روشنی کرنی چاہی مگر وہ ناکام رہا، آکسیجن نہیں ہے۔ کسی نے سہمی ہوئی آواز میں کہا۔ پھر بولا۔ ہم سب یہیں دم گھٹ کر مرجائیں گے۔ اسی لمحے جین لوئیس نے چھینی پر ہتھوڑے کی ضرب لگائی۔ مٹی نیچے گری اور سرنگ سے چاندنی نظر آنے لگی، پھر اس نے باہر نکل کر ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ وہ جیل کی دیوار سے صرف ایک فٹ آگے تھے، وہ دونوں ہاتھ ٹیک کر اوپر چڑھ گئے۔ اور باجن کے بازو پکڑ کر اسے اوپر اٹھا کر باہر لے آئے۔ اب کبڑا کوسٹا اور بلارڈ باقی تھے، سرنگ کا موڑا تنا تنگ تھا کہ کبڑے کا بدن وہاں سے گزر نہیں سکتا تھا۔ بلارڈ نے غصے بھرے لہجے میں کہا، تم نے کہا تھا کہ کبڑے خوش بختی لے کر آتے ہیں مگر تم تو میرا راستہ روک رہے ہو۔
تنگ جگہ میں وہ ایک دوسرے کی جگہ بدل نہیں سکتے تھے۔ وہ دونوں واپس تہہ جانے کی طرف چل دیے۔ پھر پہلے بلارڈ اور بعد میں کوسٹا سرنگ میں داخل ہوا۔ بلارڈ کو اس کے ساتھیوں نے اوپر کھینچ لیا، کوسٹا کا بدن سرنگ کے موڑ پر آکر پھنس سگیا۔ اوپر اس کے ساتھی زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرسکتے تھے لہٰذا وہ لوگ چلے گئے اور کوسٹا اپنی قسمت پر آنسو بہاتا ہوا واپس تہہ خانے میں جانے پر مجبور ہوگیا۔
آدھے گھنٹے بعد جیل کے پہریداروں نے اسے وہیں تہہ خانے میں بیٹھا آنسو بہاتے ہوئے دیکھا۔ فوراً خطرے کے الارم بج اٹھے، بھاگے ہوئے قیدیوں کی تلاش شروع ہوئی۔ فرار ہونے کے دو گھنٹے بعد جین لوئیس ایک جھونپڑے سے پکڑا گیا اور اسی طرح دوسرے چاروں مفرور قیدی بھی ایک ہفتے کے اندر اندر دوبارہ گرفتار کرلیے گئے۔ جیل کا نظام اسی طرح چلتا رہا لیکن اب اس میں ایک فرق آگیا تھا، جیل کی لائبریری سے وہ کتاب دی ہول اٹھالی گئی تھی تاکہ دوسرے قیدی باجن کی طرح فرار ہونے کا منصوبہ نہ بناسکیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close