Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

طیارے کی تلاش

 
   
 
اسٹنسن ایر لائنز کا طیارہ ایک ہفتے سے گم تھا۔ ہوائی جہاز میں پانچ مسافر اور عملے کے دو آدمی سوار تھے۔ یہ نو فروری انیس سو سینتیس کا ذکر ہے۔ جمعہ کا دن تھا اور سہ پہر کا وقت طیارہ برسین سے سڈنی روانہ ہوا تھا۔ پرواز چھ میل کی تھی، لیکن راستے میں منطقہ حارہ کے سائیکلون (ہوا کا بگولہ) نے آلیا اور پھر اس کا کچھ پتا نہ چل سکا۔ شہری پرواز اور فضائیہ کے طیارے رات دن اس کا کھوج لگاتے رہے، ایک ایک میل چھان مارا، ساحلی علاقوں پر پرواز کرکے تلاش کیا، مختلف مقامات کے آدمیوں نے طیارہ پرواز کرتے ہوئے ددیکھا یا اس کی آواز سنی تھی، ان کی رپورٹ کی روشنی میں کھوج لگایا گیا، مگر بدقسمت طیارے کا کہیں نشان نہ ملا۔
فضائیہ کے طیاروں نے پینسٹھ ہزار میل پرواز کی۔ کھوجیوں میں آسٹریلیا کے نامور طیارہ ران بھی تھے۔ عام خیال یہ تھا کہ طیارہ سڈنی کے قریب سمندر میں گر پڑا ہے، اس خیال کے مطابق طیارے نے سائیکلون سے بچنے کے لیے ساحلی روٹ اختیار کرلیا تھا، مگر ابھی منزل مقصود کچھ دور تھی کہ حادثہ پیش آیا۔ بندرگاہ سڈنی سے دس میل کے فاصلے پر تیل کے بڑے بڑے خشک تالاب دور دور تک چلے گئے تھے، انہیں دیکھ کر یہ خیال پختہ ہوگیا کہ طیارہ سمندر ہی میں گر کر تباہ ہوا ہے۔
آخر کار مایوس ہو کر دسویں دن تلاش ترک کردی گئی، تاہم فضائیہ کے طیاروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ ہر وقت تیار رہیں جونہی کوئی اتا پتا چلے فوراً روانہ ہوجائیں۔ ایک مسافر کی ماں نے پیش کش کی کہ دوبارہ تلاش شروع کی جائے وہ تمام مصارف برداشت کرے گی لیکن اسے کہہ دیا گیا کہ اب کوئی فائدہ نہیں۔
ادھر تلاش کرنے والے مایوس ہوچکے تھے، ادھر کوئنز لینڈ اور ساﺅتھ ویلز کی سرحد پر پہاڑوں میں رہنے والا ایک کسان برنارڈ اورریلے سوچ رہا تھا کہ ماہرین غلط نتیجے پر پہنچے ہیں، حادثہ سڈنی کے قریب نہیں ہوا، طیارے کا پہلا پڑاﺅ لزمور تھا مگر وہ وہاں اترا ہی نہیں اور لزمور سڈنی سے چار سو میل دور ہے، طیارہ یقیناً میکفرسن کے پہاڑی جنگل میں تباہ ہوا ہے۔ یہ جنگل اسی ہزار ایکڑ کے رقبے میں پھیلا ہوا ہے، نہایت گھنا ہے اور بہت کم لوگ اس کی چھان بین کرپائے ہیں، بظاہر تھا تو یہ پاگل پن، لیکن ایک روز وہ گم شدہ طیارے کا کھوج لگانے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔
اسٹنسن تین انجنوں کا ایک چھوٹا سا طیارہ تھا۔ برسین سے اس نے تیسرے پہر پرواز کی تو اسے کیپٹن رابرٹ اور ہیری چلا رہے تھے، ان دونوں کا شمار آسٹریلیا کے انتہائی ماہر اور تجربہ کار پائلٹوں میں ہوتا تھا۔ طیارہ روانہ ہوا تو ہوا چل رہی تھی، مگر یہ خواب و خیال میں بھی نہ تھا کہ نصف گھنٹے کی مسافر پر بادلوں میں لپٹی ہوئی پہاڑیوں میں تباہ کن سائیکلون ان کا انتظار کررہا ہے، طیارہ روز مرہ کی پرواز پر تھا اور اس میں ریڈیو وغیرہ کچھ نہ تھا، اس زمانے میں آسٹریلیا کے ہوائی جہازوں کا ریڈیو سے محروم ہونا کوئی غیر معمولی بات نہ تھی، طیارے میں آٹھ تشستیں تھیں، مگر جب پرواز پر روانہ ہوا تو صرف پانچ مسافر سوار تھے، دو مسافر مائیکل اور گراہم ایک جانب بیٹھے تھے اور تین جیمز، ولیم اور جوزف دوسری جانب۔
طیارہ جوں جوں آگے بڑھتا گیا، ہوا تند و تیز ہوتی چلی گئی۔ لزمور کے اڈے پر اترنا ممکن نہ تھا، چنانچہ اس نے پرواز جاری رکھی۔ ہوائی اڈے کے حکام بھی کچھ ایسے پریشان نہ ہوئے، وہ یہی سمجھے کہ کیپٹن رابرٹ تند و تیز ہوا کے تھپیڑوں سے بچنے کے لیے سمندر کی طرف نکل گیا ہے اور اب سیدھا سڈنی چلا جائے گا۔
شام کا جھٹپٹا ہو چلا تھا، طیارے کو سڈنی پہنچ جانا چاہیے تھا، لیکن وہ نہ پہنچا، تاہم کسی کو بھی فوری تشویش نہ ہوئی، سورج ڈوب گیا اور تاریکی پھیل گئی، پھر آہستہ آہستہ رات بھیگنے لگی، مگر طیارے کا کچھ پتا نہ تھا، وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ اندیشے بڑھتے چلے گئے، راستے کے تمام شہروں سے فون کرکے پوچھا گیا، مگر ہر جگہ سے یہی جواب ملا کہ کچھ خبر نہیں، ساحلی مقامات خراب موسم، گہرے بادلوں اور طوفانی ہواﺅں کی خبر دے رہے تھے، صبح تک اس بات میں کوئی شک و شبہ نہ رہا کہ اسٹنسن گر کر تباہ ہوچکا ہے، سوال یہ تھا کہ بدقسمت طیارہ کس مقام پر حادثے سے دوچار ہوا، وہ جب سائیکلون کی زد میں آیا اس وقت ایک سو پینسٹھ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے میکفرسن کی پہاڑیوں پر پرواز کررہا تھا، سائیکلون میں گرتے ہی پتنگ کی طرح چکر کھانے لگا، مسافروں نے کھڑکیوں میں دے دیکھا، پہاڑ چشم زد میں پیچھے رہ گئے تھے، سامنے پائلٹ طیارے کو قابو رکھنے کی زبرست کوشش کررہا تھا، اس کے چہرے سے امڈتے ہوئے خطرے کے آثار صاف ظاہر تھے، تاہم ہوائی جہاز میں نہ تو افراتفری مچی اور نہ نالہ و فریاد کی آواز بلند ہوئی، مسافر اپنی اپنی سیٹ پر خاموش دم سادھے بیٹھے تھے، یوں نظر آتا تھا کہ ان کی قوت گویائی چھن گئی ہے۔ اچانک سائیکلونی ہوا کی ایک رون نے کسی دیو کی طرح اسٹنسن کو اپنی گرفت میں لے لیا، طیارہ سیدھا سرسبز پہاڑوں کے دامن کی طرف نہایت تیزی سے بڑھا، کیپٹن رابرٹ نے مشین پر قابو پانے اور حادثے سے بچانے کی آخری بار بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ طیارہ دیو ہیکل درختوںکو چیرتا ہوا، کانوں کے پردے پھاڑ دینے والی آواز کے ساتھ تیسرے درخت سے جاٹکرایا، وہ مائیکل والے پہلو پر گرا تھا، اس طرف کے دونوں مسافر اور دونوں پائلٹ فوراً ہلاک ہوگئے، دوسری طرف کے تینوں مسافر بچ گئے۔
سب سے پہلے جیمز کے اوسان بحال ہوئے، وہ سخت پریشان تھا، اس نے فوراً خطرے کو بھانپ لیا، کیبن سے سیاہ دھوئیں کے مرغولے اٹھ رہے تھے، پیٹرول کی بو آرہی تھی اور ننھی ننھی چنگاریاں سی سلگنے لگی تھیں۔ اس نے نشستوں پر نگاہ دوڑائی، سب مرے پڑے تھے، وہ ڈگمگاتا ہوا اٹھا اور اپنے اسے اگلے مسافر کو زور سے جھنجھوڑا، اٹھو اٹھو، وہ چیخا، اگر جل بھن کر راکھ ہونا نہیں چاہتے تو یہاں سے فوراً نکلو، آگ کسی وقت بھی بھڑک اٹھنے والی ہے، جوزف نیم غنودگی کے عالم میں تھا، جیمز نے اسے ایک بار پھر جھنجھوڑا، اس نے آنکھیں کھول دیں، جوزف نے بھی صورتحال فوراً بھانپ لی اور وہ آہستہ آہستہ اٹھ کھڑا ہوا، اب ان کی نظر ایک اور مسافر پر پڑی، یہ نوجوان انگریز ویلم تھا، وہ شعلوں سے گزر کر لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کے ساتھ کیبن کے پچھلے حصے میں پہنچنے کی کوشش کررہا تھا، دونوں نے اس کے بازو تھام لیے، وہ بریہ طرح جل گیا تھا اور اس کے ہاتھ کا گوشت نکل آیا تھا۔ جیمز اور جوزف نے مل کر اسے طیارے کی ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی میں سے باہر لٹکایا اور وہ چھ فٹ کی بلندی سے نیچے گر پڑا۔ جوزف خاص بھاری بھرکم تھا، اسے تنگ کھڑی میں سے نکلنے کے لیے زبردست جدوجہد کرنا پڑی، جگہ جگہ سے اس کا جسم چھل گیا اور پھر وہ ویلم کے پہلو میں کود گیا۔ جیمز کی حالت سب سے بہتر تھی اور وہ ان دونوں کے مقابلے میں طاقتور بھی زیادہ تھا، آگے بڑھا، کھڑی میں سے نکلا اور نیچے کود گیا، وہ جوزف کے پہلو میں گرا تو چٹاخ سی آواز آئی، یوں معلوم ہوا کہ جیسے درخت کا ٹہنا ٹوٹ گیا ہو، اس نے گرتے ہی اٹھنے کی کوشش کی مگر اٹھ نہ سکا، اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی تھی۔
میرا ہاتھ پکڑو، اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے کہا، میری ٹانگ ٹوٹ گئی ہے مجھے سہارا دو ہمیں طیارے سے دور چلے جانا چاہیے۔
ویلم اور جوزف بمشکل اٹھے اور جیمز کو کچھ گھسٹتے اور کچھ سہارا دیتے ہوئے چلے، طیارہ تیزی سے جل رہا تھا، مگر اب وہ اس کے شعلوں کی زد سے نکل چکے تھے، ان کے دیکھتے ہی دیکھتے طیارہ زرد آگی کی بھٹی میں جل کر بھسم ہوگیا۔
جونہی شعلے مدہم ہوئے، وہ نہایت بے کسی سے زمین پر گر پڑے، ان کی نگاہیں گھنے جنگل پر تھیں، جو ان کے چاروں طرف دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔ وہ فوراً سمجھ گئے کہ سارا علاقہ غیر آباد ہے اور اس جنگل سے بچ کر نکل جانے کی امید بہت کم ہے، بھڑکتی ہوئی آگ شاید کسی کو دکھائی دیتی ہوگی اور تلاش کرنے والی پارٹیاں ممکن کبھی پہنچنے نہ پائیں۔
جوزف نے جیمز کو درخت کے سہارے بٹھایا اور اس کی ٹانگ کا معائنہ کیا۔ ہڈی دو ٹکڑے ہوچکی تھی اور گوشت چیر کر نکل آئی تھی، اسے جھر جھری سی آگئی تھی، جوزف نے اپنی قمیض پھاڑ کر پٹیاں بنائیں، ہوائی جہاز درخت سے ٹکرایا تھا تو اس کے کئی ٹکڑے ادھر ادھر بکھر گئے تھے، جوزف نے چند ٹکٹرے لیے، انہیں ٹانگ پر رکھا اور پٹیاں سے باندھ دیا، ویلم نہ صرف جل گیا تھا بلکہ حادثے سے بری طرح متاثر بھی ہوا تھا، وہ پاگلوں کی طرح جنگل میں نکل جاتا، جوزف کو بار بار تعاقب کرکے اسے واپس لانا پڑتا۔
دیکھو ویلم، اگر تم نیچے نہیں بیٹھو گے تو میں تمہارے اوپر بیٹھ جاﺅںگا، پھر تم ہل جل بھی نہ سکو گے، تمہیں اتنی ناگفتہ بہ حالت میں یہاں سے نہیں جانا چاہیے، زندہ بچ نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے، یہاں ٹھہرے رہو، امید ہے کھوج لگانے والی کوئی نہ کوئی پارٹی ضرور ہمیں دیکھ لے گی۔
ویلم، جوزف کے قریب بیٹھ گیا، مجھے کل انگلینڈ جانا تھا، وہ بڑبڑایا، آج رات میرے دوست سڈنی میں الوداعی پارٹی دینے والے تھے۔
سہ پہر کے وقت موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اور تینوں شرابور ہوگئے، اب وہ تھے اور امید و بیم میں ڈوبی ہوئی انتظار کی گھڑیاں، نہ کھانے کو کچھ تھا اور نہ پناہ گار۔ روزانہ پچھلے پہر یا شام کے قریب چھاجوں مینہ برسنے لگتا۔ ان کا خیال تھا کہ جنگل میں بڑا سا الاﺅ جلا کر ڈھونڈنے والوں کو متوجہ کریں گے لیکن مسلسل بارش نے اس منصوبے پر پانی پھیر دیا۔ اندھیرا چھاگیا، پہلی رات آہستہ آہستہ رینگنے لگی، تینوں اپنے خیالات میں گم بیٹھے کپکپا رہے تھے، جوزف سوش رہا تھا نہ جانے ایسی کتنی راتیں یہاں گزارنی ہوں گے۔ دونوں ساتھیوں کی دیکھ بھال اس کے کندھوں پر آپڑی تھی، ان کے زخموں نے انہیں بالکل بے بس کردیا تھا، ویلم ذہنی طور پر بھی ایک مسئلہ بن چکا تھا، ذہنی حالت سدھر بھی جاتو تو بھی اس کے ہاتھ اس قدر جل گئے تھے کہ خوراک اور پانی ڈھونڈنا اس کے لیے ناممکن تھا۔
اگلی صبح جوزف خوراک اور پانی تلاش کرنے نکل گیا۔ ادھر وہ نگاہوں سے اوجھل ہوا،ادھر ویلم کھڑا ہوگیا، میں یہاں نہیں ٹھہروں گا، اس نے جیمز سے فیصلہ کن انداز میں کہا۔ تم کھوج لگانے والوں کے انتظار میں پڑے پڑے سڑجاﺅ گے، میں اپنا راستہ خود تلاش کروں گا۔
دیکھو غلطی کرو گے، جیمز نے کہا۔ مگر میرا خیال ہے کہ ہم چاہیں بھی تو تمہیں نہیں روک سکتے، اچھا قسمت تمہارا ساتھ دے تو ہمیں بھول نہ جانا، راستہ مل جائے تو ہمیں لینے لیے ضرور آنا۔
ویلم چل پڑا، اس کے قدم لڑکھڑا رہے تھے، لیکن وہ چلتا رہا اور گھنے درختوں اور جھاڑیوں میں راستہ بناتے ہوئے غائب ہوگیا۔ پھر اسے کبھی کسی نے زندہ نہ دیکھا۔
جوزف واپس آیا تو پتا چلا کہ ویلم چلا گیا ہے، اس نے بے بسی کے انداز میں کندھے اچکائے اور بڑبڑایا۔ میں ہوتا تب بھی اسے روکنا مشکل تھا، ہمیں زندہ رہنے کے لیے مضبوط قوت ارادی کی ضرورت ہے، جوزف نے جنگلی بیر ڈھونڈ لیے تھے، مگر ڈر تھا کہیں زہریلے نہ ہو، آخر ہمت کرکے انہوں نے چند کھائے اور پھر اگلے دس روز وہ صرف ان ہی پر گزر بسر کرتے رہے، کوئی تین سو گز نیچے ڈھلان پر ٹھنڈے پانی کا ایک چشمہ بھی مل گیا تھا،جوزف روزانہ وہاں سے پانی لاتا، بھوک اور فاقہ زدگی سے وہ روز بروز کمزور ہوتا جارہا تھا، چند دن بعد تو یوں محسوس ہونے لگا کہ جیسے چشمہ میلوں دور ہو، لیکن سفر کے بغیر چارہ نہ تھا، جیمز بخار کی آگ میں پھنک رہا تھا اور بار بار پانی مانگتا تھا، جوزف کے پاﺅں جواب دے گئے تو وہاں ہاتھ اور گھٹنوں کے بل رینگ کر جاتا اور پانی لاتا، ناہموار چٹانوں پر گھسٹنے سے زخم ہوگئے لیکن وہ ان سے بے نیاز اپنا فرض انجام دیتا رہا، اب تو پورا پورا دن اسی کام میں لگ جاتا، جیمز بار بار کہتا جوزف تم چلے کیوں نہیں جاتے، کم از کم اپنی جان تو بچا سکتے ہو، لیکن وہ جواب میں صرف مسکرادیتا۔
آٹھویں دن جوزف کو چشمے تک آنے جانے میں اٹھ گھنٹے لگے، یہی وہ دن تھا جب برنارڈ اپنے ڈیرے میں اسٹنسن کے انجام پر غور و فکر کررہا تھا، اسے سرکاری رپورٹوں پر یقین نہیں آیا تھا، اس نے میکفرسن کے پہاڑوں کا نقشہ نکالا، اس کا چھی طرح معائنہ کیا اور بیوی سے مخاطب ہو کر چیخا۔ ایکن، میں جا کر طیارہ تلاش کرتا ہوں، وہ سمندر میں نہیں میکفرسن کے پہاڑوں میں گرا ہے۔
ستائیس فروری کو برنارڈ اوریلے گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ اس نے کوئی لمبی چوڑی تیاری نہ کی۔ دو روٹیاں ایک پونڈ مکھن، درجن بھر پیار، چائے، چینی، چاقو، ٹین کا ایک ٹبہ، پانی پینے کا جگ اور زہریلے کیڑوں سے محفوظ رہنے کے لیے لوازمات لیے، گھوڑے پر بیٹھا اور کوہستان میکفرسن کا رخ کیا۔ اگر واپسی میں دیر ہوجائے تو پریشان نہ ہونا، نہ جانے کہاں تک جانا پڑے، اس نے اپنی بیوی سے کہا اور روانہ ہوگیا۔ پہاڑی کے قریب پہنچ کر گھوڑی سے اترا، اس کی باگ ایک رکاب سے باندھی اور اسے راستے پر ڈال کر گھر کی طرف روانہ کردیا۔ خود پاپیادہ میکفرسن کا ابھار عبور کرتے ہوئے پہلی چوٹی کی طرف بڑھا۔ یہاں جنگل نہایت گھنا تھا۔ درختوں کی شاخیں ایک دوسرے سے گھستی ہوئی اس طرح چلی گئی تھیں کہ آدمی زمین پر قدم رکھے بغیر میلوں تک شاخوں ہی شاخوں پر سفر کرسکتا تھا۔ سورج کی روشنی گھنے پتوں سے چھن کر بمشکل زمین پر پہنچ رہی تھی، پتلی پتلی سبز زمینی بیلوں کا سلسلہ پھیلا ہوا تھا اور قاتل کانٹے چاروں طرف بکھرے ہوئے تھے، روشنی اس قدم معمولی تھی کہ دس فٹ آگے کی چیز دکھائی نہ دیتی، ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ بارش شروع ہوگئی، رات گیلی زمین پر گزارنا پڑی۔
اگلے روز سورج طلوع ہوتے ہی برنارڈ روزانہ ہوگیا، تقریباً آٹھ بجے وہ دوسری چوٹی پر تھا، اس نے ایک نظر دور تک پھیلے ہوئے علاقے پر دوڑا۔ تیسری چوٹی پر سرسبز ڈھلوان پر اسے کچھ درخت جلے ہوئے دکھائی دیے، وہ سیدھا اس طرف ہولیا۔ نیچے اترا تو گھنا جنگل شروع ہوگیا جس میں سے گزرتے وقت اسے خاصی دقت پیش آئی۔ بار بار سمت کا اندازہ کرنا پڑتا۔ دوپہر تک وہ صرف تین میل طے کرسکا تھا۔
چار گھنٹے مسلسل سفر کرنے کے بعد اس نے اندازہ لگایا کہ وہ کہیں قریب پہنچ چکا ہے، زور سے چیخا کوئی ہے؟ اس کی آواز جنگل کی خاموشی فضا میں تحلیل ہوگئی۔ ایک بار پھر اس نے آواز دی۔ کوئی ہے۔
عین اس وقت چند سو گزر دور جوزف اور جیمز موت کا استقبال کرنے کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ ان کی قوت جواب دے چکی تھی۔ میرا خیال ہے کہ زندگی پر پردہ گرا ہی چاہتا ہے، مرنا ہی لکھا ہے تو آرام سے مرنا چاہیے۔ جوزف کہہ رہا تھا۔ میں کچھ پتے لاتا ہوں، تاکہ لیٹنے کے لیے کوئی نرم چیز تو ہو۔
جیمز نے اسے رینگ کر ایک طرف جاتے ہوئے دیکھا اور پھر پتے جمع کرنے کی سرسراہٹ محسوس کی۔ اچانک اس نے سر اٹھایا اور کہا، یہ کیسی آواز تھی۔
شاید کوئی پکار رہا تھا، جوزف نے ہانپتے ہوئے کہا۔ جیمز، خوشی کے گیت گاﺅ، ان لوگوں نے ہمیں ڈھونڈ لیا ہے، دونوں نے پکار کا جواب دیا، لیکن انہیں یوں محسوس ہوا جیسے ان کی آواز حلق میں پھنس کر رہ گئی ہو، تاہم برنارڈ اورریلے نے ان کی مزور سی آواز سن لیں وہ پھر زور سے پکارا اور ان کی طرف تیزی سے بڑھا۔ آوازوں کا تبادلہ جاری رہا، اوریلے نے درخت کی آخری شاخیں ہٹائیں اور کھلی جگہ پہنچ گیا۔ اس کی پہلی نظر جیمز پر پڑی، ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ زمین پر لیٹا ہوا تھا، آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں، داڑھی بڑھی ہوئی تھی، بالکل لاش معلوم ہوتا تھا، ٹوٹی ہوئی ٹانگ بھی بری طرح خراب تھی، پاجامہ تار تار تھا۔
چند لمحے تینوں چپ چاپ ایک دوسرے کو تکتے رہے، فرط مسرت سے جیسے زبانیں گنگ ہوچکی ہوں، آخر جوزف نے خاموشی توڑی۔ چائے کا ایک پیالہ ہوجائے،کیا خیال ہے، اس نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔
کرکٹ کا کیا حال ہے، جیمز کا پہلا سوال تھا۔ اس کا اشارہ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کی طرف تھا جو آسٹریلیا کے دورے پر آئی ہوئی تھی۔
اوریلے نے انہیں کھانا دیا ار چائے بنا کر پلائی، انہوں نے حادثے کی تفصیلات بیان کیں اور اشارے سے بتایا کہ ویلم اس راستے سے گیا تھا اوریلے گھنٹہ بھر ٹھہرا رہا اور پھر واپس روانہ ہوگیا۔
پریشان نہ ہونا، اس نے جاتے ہوئے کہا۔ میں جا کر ڈاکٹر اور آدمی لاتا ہوں۔
اوریلے نے ایک میل فاصلہ طے کیا تھا کہ اس کا گزر ویلم کی لاش سے ہوا۔ وہ بیس فٹ اونچی چٹان سے گر گیا تھا اور پھر وہاں سے گھسٹتا ہوا کوئی آدھ میل دور ایک پہاڑی کھانچے تک آیا، جہاں ایک درخت کے تنے سے پیٹھ لگائے مرا پڑا تھا، بعد ازاں بچانے والی ایک پارٹی نے اسے دفن کردیا۔
تین گھنٹے بعد اوریلے اپنے ایک دوسرے کے ڈیرے پر پہنچا۔ وہاں سے گھوڑوں پر بیٹھ کر دونوںقریب ترین شہر لامنگٹن پہنچے، ٹیلی فون کے ذریعے آنا فاناً یہ خبر پورے آسٹریلیا میں پھیل گئی کہ اسٹنسن کا جلا ہوا ڈھانچا مل گیا ہے، صرف دو آدمی زندہ بچے ہیں، بچاﺅ پارٹیاں، ڈاکٹر اور اسٹریچر لیے جائے حادثہ کی طرف پوری تیزی سے بڑھ رہی تھیں اور بارنارڈ اوریلے قومی ہیرو بن چکا تھا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close