Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

نیند خواب اور پاکستان

 
   
 
رات کا پچھلا پہر تھا سرد برفانی ہواﺅں کے تھپیڑوں سے صحن میں لگے درخت جو ہل رہے تھے۔
ہواﺅں کے شور سے رات کے سناٹے میں عجیب سی آوازوں سے زیرو بلب کبھی مدہم اور کبھی تیز تر ہوجاتا۔ محمد صلاح الدین کا کل میتھ کا آخر پیپر تھا وہ میٹرک کا امتحان دے رہا تھا اور تمام پیر بہت اچھے دے چکا تھا وہ رات کا کھانا کھانے اور نماز عشاءسے فارغ ہو کر میتھ کے پیپر کی تیاری کے لیے اپنے چھوٹے سے کمرے میں آبیٹھا تھا اس کے حجرے نما کمرے میں لائٹ نہیں تھی ایک چھوٹا سا دیا ٹمٹا رہا تھا اور زردی مائل روشنی دیوار و در پر لرزاں تھی۔
محمد صلاح الدین کو اب نیند کے غلبے نے ستانا شروع کردیا تھا لیکن اس نے اپنی آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کی چھیٹے مارے اور تھوڑا سا بیدار ہو کر ایک بار پھر ریاضی کے مختلف سوالات کے دہرانی کرنے لگا اس نے جیو میٹری، الجبراءکے تمام سوالات حل کیے اور اب ریاضی کے مسئلوں کو حل کررہا تھا۔
نیند نے ایک بار پھر اس پر غنودگی کا حملہ کیا مگر وہ سونا نہیں چاہتا تھا۔ نیند اسے پیاری تھی مگر وہ خوابوں کی حرمت کا قائل تھا خوابوں کی تعبیروں کے لیے وہ اپنی کئی نیندیں قربان کرچکا تھا۔
نیند کے بغیر خواب کا حصول ناممکن ہے مگر وہ اس وقت نیند سے بھاگ رہا تھا۔
نیند اسے اپنی آغوش میں سمیٹنا چاہتی تھی اور وہ ضدی بچے کی طرح نیند کی گود سے بار بار نکلنا چاہتا تھا۔
اذان فجر تک اس نے ریاضی مسئلے اچھی طرح ذہن نشین کرلیے تھے۔
وہ مطمئن تھا اگرچہ نیند سے بوجھل پلکیں اس کے لیے ایک بار بن چکی تھیں۔
اس نے وضو کیا اور نماز فجر کے لیے مسجد چلاگیا۔
آج کا پیپر بھی دوسرے پیپرز کی طرح بہت اچھے ہوئے تھے وہ بہت خوش تھا۔
اس نے امتحان کی تیاری بہت ایمانداری سے کی تھی دوران پڑھائی جب اسے نیند آئی اس کے ذہن میں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح جیسے عظیم رہنما کا قصہ آجاتا۔ رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔
فاطمہ جناح نے دیکھا محمد علی کے کمرے کی لائٹ جل رہی ہے، اندر جھانکا تو دیکھا ان کا بھائی کتاب پڑھ رہا ہے، بہن نے پیار سے کہا بھیا، رات بہت گزر چکی ہے اب سوجاﺅ۔
بھائی نے جواب دیا۔ میں سوگیا تو بڑا آدمی کیسے بنوں گا۔ مجھے پڑھنے دو، میں محنت کرنا چاہتا ہوں۔
محمد صلاح الدین کو اپنے قائد کا قصہ ذہن نشین تھا۔ وہ بھی بڑا آدمی بننا چاہتا تھا۔
اس نے پورے امتحان کے دوران نیند کو اپنے پاس پھٹکنے نہیں دیا۔ آج وہ فارغ تھا اس نے سوچا آج وہ خوب مزے سے سوئے گا اور خواب دیکھے گا۔ اسے پاکستان کے خواب دیکھنا بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے اپنے پیارے وطن پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا تھا۔
بڑا آدمی بن کر بڑا کام کرنے کی آرزو لیے وہ پڑھتا رہا۔ محنت کرتا رہا اور اب وہ ایم ایس سی کرنے کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان بھی امتیازی نمبروں سے کرچکا تھا، کئی میٹھی نیندوں کی قربانی کے بعد آج وہ جب مزے کی نیند سویا تو اس نے خواب دیکھا۔ وہ پاکستان کی وزارت خارجہ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہوچکا ہے، صبح اس کی آنکھ کھولی تو اس کی اماں نے اسے خاکی رنگ کا ایک بڑا لفافہ تھماتے ہوئے کہا محمد صلاح الدین یہ ڈاکیا تمہارے نام ایک خط لایا تھا۔
محمد صلاح الدین نے جب لفافہ چاک کیا تو سچ مچ اسے اس کے خوابوں کی تعبیر مل گئی تھی۔
وہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے امتحان کے بعد وزارت خارجہ میں بحیثیت سفیر خاص منتخب ہوچکا تھا۔
وہ سجدہ بجا لانے کے لیے سجدہ ریز ہوگیا۔
یااللہ محمد توفیق دینا میں اپنے ملک پاکستان کی بہتر انداز میں خدمت کرسکوں۔ نیند خواب اور پاکستان کی مثلث پر مبنی ایک کہانی مکمل ہوچکی تھی۔ محمد صلاح الدین کی تقرری بیرون ملک ہوئی تھی اور آج وہ بائی ائیر جارہا تھا۔
صدر مملکت نے اس سے ملاقات کے دوران اسے سفارت کاری کے لیے دستاویزات دیں تو اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو چھلک پڑھے اس نے سبز ہلالی پرچم کو سلامی دی اور سلوٹ کیا اور جہاز میں سوار ہوگیا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close