Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

نرالے طریقے

 
   
 
کتنی پیاری اور خوبصورت گڑیا ہے یہ کاش یہ میرے پاس ہوتی، اس بڑی سی دکان کے بڑے سے شوکیس میں رکھی ہوئی گڑیا کو دیکھ کر نازش نے دل ہی دل میں سوچا اور اس کے بڑھتے قدم وہیں تھم گئے، اس کی نظریں شوکیس میں سجی گڑیا پر جم کر رہ گئی تھیں۔
دس سال کی عمر کی نازش پانچویں کلاس کی طالبہ تھی، تین سال پہلے ٹریفک کے ایک حادثے میں اس کے والد عرفان صاحب اپنی زندگی سے ہار کر اپنے خالق حقیقی کے پاس پہنچ چکے تھے اور تب سے ہی اس کی امی عقیلہ خاتون اس کی والدہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے والد ہونے کے فرائض بھی ادا کررہی تھیں۔
روز ہی وہ اسکول سے گھر واپس جاتے ہوئے اس گفٹ سینٹر کے سامنے سے گزرتی تھی اور ہر روز ہی گفٹ سینٹر کے سامنے پہنچ کر اس کے قدم ٹھٹک جاتے اور نظر اس شوکیس میں رکھی خوبصورت گڑیا کے وجود پر جم جاتی تھیں، کافی دیر تک وہ شوکیس میں رکھی گڑیا کو نظر میںجمائے دیکھتی رہتی جیسے وہ اسے نظروں ہی نظروں میں اپنے دل میں اتارلے گی، نازش کو اس گڑیا کی آنکھیں خصوصی طور پر بہت پسند تھیں، تھیں بھی وہ آنکھیں بہت بڑی بڑی اور خوبصورت، ان میں بلا کی کشش تھی، وہ گڑیا کی طرف دیکھتی تو اسے محسوس ہوتا جیسے وہ گڑیا کو دیکھ رہی ہو اور مسکرا کر اسے خوش آمدید کہہ رہی ہو اور نازش بھی اس کی مسکراہٹ کے جواب میں مسکرادیتی، یہ سلسلہ گزشتہ کئی دنوں سے جاری تھا۔
ایک دن نازش نے ہمت کرکے سیلز مین سے گڑیا کی قیمت پوچھ ہی لی، تین سو روپیہ، کاﺅنٹر پر بیٹھے ہوئے سیلز مین نے جواب دیا اور یہ قیمت سن کر بے چاری نازش اپنا سا منہ لے کر رہ گئی۔
انکل اتنی مہنگی گڑیا، مگر میرے پاس تو اتنے سارے پیسے بھی نہیں ہیں۔ نازش بولی۔
تو بیٹی گھر جاﺅ، یہاں رش مت لگاﺅ، جب اتنے پیسے تمہارے پاس جمع ہوجائیں، تب گڑیا لے جانا آکر، سیلز مین نے اس سے کہا اور نازش خاموشی سے سرجھکائے اپنے گھر واپس پہنچ گئی، اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں، نازش اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کی امی مہینے بھر سخت محنت کرتی ہیں تب کہیں جا کر گھر میں دو وقت کا کھانا اور جیسے تیسے اس کے تعلیمی اخراجات پورے ہوتے ہیں۔
آج اگر میرے ابو زندہ ہوتے تو شاید، سوچتے ہوئے اس کا دل بھر آیا، جیسے تیسے اس نے کھانا تو کھالیا مگر چہرے پر رنج و ملال کے بادل دیر تک قبضہ جمائے رہے، لبوں کی مسکراہٹ ماند اور آنکھوں کے جگنو بجھ کر رہ گئے۔
اگلے دن اسکول سے چھٹی ملنے کے بعد وہ جب گفٹ سینٹر کے سامنے پہنچی تو اس کے بڑھتے قدم سینٹر کے سامنے ہی تھم گئے اس کی نظر میں اپنی پسندیدہ گڑیا کے وجود پر جم گئیں۔
پاپا آئسکریم والا، وہ دیکھیے، ادھر نازش کی توجہ یہ آواز سن کر گڑیا کی طرف سے ہٹ گئی، دیکھا ایک چھ، سات سال کی بچی اپنے پاپا سے آئسکریم کھلانے کے لیے کہہ رہی ہے۔
بیٹے آج تو میں تمہیں آئسکریم ضرور ہی کھلاﺅں گا، کہتے ہوئے اس کے پاپا نے اشارے سے آئسکریم والے کو قریب بلایا اور اپنی بیٹی کو آئسکریم دلوادی۔
آئسکریم والے کو پیسوں کی ادائیگی کے بعد جب اس لڑکی کے پاپا اپنا پرس پینٹ کی جیب میں رکھنے لگے تو بے خیال وہ پرس وہیں گرگیا، نازش نے وہ گرا ہوا پرس اس وقت دیکھا جب وہ صاحب اپنی بیٹی کے ہمراہ وہاں سے جاچکے تھے۔
اس سے پہلے کہ کوئی دوسرا پرس کو اٹھائے، نازش نے جھک کر وہ پرس اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اپنے بستے میں رکھ کر گھر کی طرف بڑھنے لگی، وہ راستے میں کہیں اور نہیں رکی، گھر پہنچ کر ہی اس نے سانس لی۔
گھر آکر اس نے بستہ اپنی جگہ رکھا، یونیفارم تبدیل کرکے گھریلو لباس زیب تن کیا، پھر منہ ہاتھ دھو کر کھانا کھانے بیٹھ گئی، کھانے سے فارغ ہوئی تو اسے پرس کا خیال آیا، بستے میں سے پرس نکالا.... اس میں ہزار اور پانچ پانچ سو والے کئی نوٹ تھے، چھوٹا نوٹ تو ایک بھی نہیں تھا پرس میں، اتنے سارے روپے اتنی چھوٹی سی عمر میں اس نے پہلی مرتبہ دیکھے تھے، وہ پریشان ہوگئی۔
اس کے دل کی دھڑکنیں بڑھ گئیں، نوٹوں سے بھرا پرس ہاتھ میں لیے وہ سوچ رہی تھی کہ ان کا کیا کرے، دوسروں کے پیسے اپنے پاس رکھنا اچھی بات تو نہیں، اپنے پیسے تو وہی ہوتے ہیں جو اپنی محنت سے کام کرکے بطور اجرت حاصل کیے جائیں، جیسے اس کی امی سلائی، کڑھائی، بنائی کرکے پیسے کماتی ہیں، یہ پیسے اپنے پاس رکھ لیے تو خالق کائنات ناراض ہوجائے گا، پیارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے خلاف ہوگی یہ بات، پیارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم صادق کہلاتے تھے اور امین بھی، وہ ان کی امتی ہے، وہ ان کی تعلیمات کے خلاف کیسے کرسکتی ہے، یہ ساری باتیں ذہن میں آتے ہی نازش نے دوبارہ پرس کھول کر دیکھا، اس میں کئی خانے تھے۔ کئی پورشن تھے، ایک پورشن میں اسے ایک وزیٹنگ کارڈ ملا، اس نے کارڈ نکال کر دیکھا، اس پر عبدالکریم خان اکاﺅنٹس منیجر لکھا ہوا تھا، کمپنی کے نام کے ہی ساتھ ایک کونے میں فون نمبر بھی درج تھا، نازش نے اپنی امی کو یہ بات بتائی، امی خوش ہوگئیں، کہنے لگیں بیٹی تم نے یہ بہت اچھا کیا، لاﺅ میں اس کمپنی کے نمبر پر فون کرکے پتا کرتی ہوں، اگر پرس کمپنی کے فرد کا ہے تو میں ان سے کہوں گی کہ وہ پرس کی نشانی اور پرس میں رکھی رقم کی تعداد بتا کر میرے گھر سے اپنا پرس لے جائیں۔
پھر نازش کی امی نے گلی کے پی سی او سے اس کمپنی کے نمبر پر فون کیا، اتفاق کی بات یہ کہ فون اٹھانے والے عبدالکریم خان صاحب ہی تھے، نازش کی امی نے ان سے دریافت کیا۔ آج آپ کا کوئی پرس کھوگیا ہے، جواب ملا۔ جی ہاں، یہ تقریباً ساڑھے بارہ بجے کی بات ہے، آپ کون ہیں اور کہاں سے بات کررہی ہیں۔ کیا آپ کو میرے پرس کے متعلق کچھ معلوم ہے۔
نازش کی امی نے عبدالکریم خان کو یہ بات بتادی کہ آپ کا پرس میری بیٹی کو اسکول سے گھر آتے ہوئے ملا تھا، آپ یہ بتائیں اس پرس میں آپ کی کتنی رقم ہے۔
عبدالکریم خان نے پرس میں موجود رقم کی تعداد بتادی، جو بالکل صحیح تھی، نازش کی امی نے اب اپنے گھر کا پتا عبدالکریم خان کو اچھی طرح سمجھادیا اور کہا وہ شام کو اس پتے پر آکر اپنا پرس واپس لے جائیں۔
شام ہوئی تو عبدالکریم خان دیے ہوئے پتے پر نازش کے گھر پہنچ گئے، انہوں نے پرس ہاتھ میں لے کر رقم گنی جو پچیس ہزار پوری تھی، انہوں نے نازش کو دیکھا، گھر کی حالت کا اندازہ لگا کر کہا۔ بیٹی اتنی بڑی رقم دیکھ کر تمہارے دل میں ذرا بھی خیال نہ آیا کہ اسے واپس کردینے کے بجائے اپنے ہی پاس رکھ لو، اتنی رقم سے تمہاری کتنی ضروریات پوری ہوسکتی تھیں۔
نازش نے کہا: انکل ضروریات رقم سے نہیں اللہ تعالیٰ کی مدد، اس کے فضل و کرم سے پوری ہوتی ہیں، میری امی نے مجھے بتایا ہے اور یہ تربیت دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے، جو اس کے امتحان میں کامیاب ہوجاتے ہیں ان کو اپنے فضل و کرم، اپنی رحمتوں سے نوازتا ہے، یہ پیسہ تو چند روز کی ہی ضرورت پوری کرسکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کی رحمت تو تمام زندگی کام آتی ہے۔
عبدالکریم خان نازش کایہ جواب سن کر خوش ہوگئے، انہوں نے کہا، افشاں میری بیٹی ہے، آج سے تم اس کی بڑی بہن، تم بھی ہمارے ہی ساتھ رہوگی، کہہ کر وہ نازش کو اس کی امی کے ساتھ اپنے گھر لے آئے۔
اب نازش ایک اچھے صاف ستھرے ماحول میں رہ رہی تھی، اس کے پاس وہ گڑیا بھی تھی جسے دیکھنے کے لیے وہ گفٹ سینٹر کے سامنے رک جاتی تھی، وہ سوچ رہی تھی واقعی اللہ تعالیٰ کے دینے اور نوازنے کے طریقے بھی نرالے ہیں۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close