Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

انجانا خوف

 
   
 
وقاص پانچویں جماعت کا طالب علم تھا، وہ انتہائی ذہین اور پڑھائی میں دلچسپی رکھنے والا بچہ تھا، گزشتہ کوئی دنوں سے وہ سخت پریشان تھا، اس کا دل پڑھنے لکھنے میں نہیں لگ رہا تھا۔ اس کے اسکول میں تھرڈ ٹرم کے امتحانات قریب آرہے تھے لیکن وہ مسلسل سوچوں میں مگن پریشان دکھائی دیتا تھا۔ وقاص کی امی نے دو تین بار اس سے پریشانی کی وجہ جاننا چاہی اور کئی بار پوچھا کہ وہ کھویا کھویا سا کیوں رہتا ہے مگر اس نے ہمیشہ ٹال مٹول سے کام لیا اور امی سے حقیقت چھپائے رکھی۔
وقاص کے ابو تمام صورتحال سے بے خبر تھے، ایک دن اچانک انہیں وقاص کے اسکول سے پرنسپل صاحب کا فون آیا۔ پرنسپل صاحب نے دعا سلام اور خیریت جاننے کے بعد بتایا کہ وقاص کی کلاس انچارج ان کے علم میں یہ بات لائی ہیں کہ آپ کا بیٹا ان دنوں کسی خاص الجھن کا شکار ہے جب دیکھو سوچوں میں گرفتار نظر آتا ہے اور کسی انجانے خوف اور ڈر میں مبتلا ہے، جب اس سے سوال کیا جائے یا کچھ بھی پوچھا جائے تو سہم جاتا ہے۔ پرنسپل صاحب کچھ دیر توقف کے بعد پھر بولے۔ آپ وقاص سے گھر میں پیار اور محبت سے پوچھیے کہ وہ اس قدر خوفزدہ اور سہما ہوا کیوں ہے، اگر کوئی گھریلو مسئلہ ہے تو مہربانی فرما کر اسے گھر ہی حل کیجیے اور ہاں، اگر کوئی نفسیاتی و ذہنی مسئلہ ہے تو آپ کسی ماہر ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں اور اس معاملے کو نظر انداز مت کیجیے گا، کیوں کہ اگلے ہفتے وقاص کے تھرڈ ٹرم کے امتحانات شروع ہونے والے ہیں۔
پرنسپل صاحب نے امتحانات کے لفظ پر زور دیا اور اجازت لے کر فون بند کردیا۔
وقاص جب اسکول سے چھٹی کے بعد گھر پہنچا تو خلاف معمول ابو جان کو گھر میں موجود پایا، ابو نے پرنسپل کے فون کے فوراً بعد اپنے دفتر سے چھٹی لے لی تھی، وقاص کی بڑی بہن مناہل بھی کالج سے آچکی تھیں، دوپہر کے کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ابو جان نے دونوں بچوں کو اپنے کمرے میں اکٹھا ہونے کو کہا، تھوڑی دیر بعد ہی مناہل اور وقاص ابو کے کمرے میں تھے، تب ابو نے مناہل سے پوچھا: بیٹی کیا تم جانتی ہو کہ وقاص آج کل بہت زیادہ اداس اور پریشان رہتا ہے۔ مناہل بولی، جی ابو میں نے کئی بار محسوس کیا ہے اور بھائی سے اصرار کرکے وجہ جاننے کی کوشش بھی کی ہے،مگر یہ کچھ بتاتا ہی نہیں کہ اس کی پریشانی کی وجہ کیا ہے۔
آخر کیوں، ابو یہ کہہ کر مناہل کے جواب کے انتظار میں بیٹھ گئے، وہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی کہ بھائی آپ کے سامنے بیٹھا ہے، آپ خود اسے وجہ جان سکتے ہیں۔ اتنے میں مناہل کی امی بھی کمرے میں چائے کی پیالیاں لے کر پہنچ گئیں، وہ باورچی خانے میں کھڑی مناہل اور ابو کے درمیان ہونے والی بات چیت کو غور سے سن رہی تھیں، وہ گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہنے لگیں کہ، میں نے محسوس کیا ہے کہ جب شام کو ٹیوشن سے فارغ ہونے کے بعد وقاص کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتا ہے تو اس کے چہرے پر خوف اور پریشانی کی سلوٹیں نمایاں نظر آنے لگتی ہیں، وقاص گم سم بیٹھا سب کی باتیں سن رہا تھا، ابو نے اس سے مخاطب ہو کر پریشانی کی وجہ جاننا چاہی تو وہ بجائے کچھ بتانے کے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، وہ اٹھ کر اپنے کمرے کی جانب بھاگ گیا اور اوندھے منہ بستر پر گر پڑا۔
ابو جان نے شہر کے معروف ماہر نفسیات سے ٹیلی فون پر شام کا وقت لیا اور مقررہ وقت پر وقاص کو لے کر ڈاکٹر مشہود علی کے کلینک پہنچ گئے، ڈاکٹر مشہود علی نے وقاص سے گپ شپ شروع کی اور ابو کا انتظار گاہ میں بیٹھنے کے لیے کہہ دیا، ڈاکٹر مشہود نے پوری توجہ، خوشگوار ماحول اور دوستانہ انداز میں وقاص سے تبادلہ خیال کیا اور اس کی پریشانی جان لی، اس سارے عمل میں دو گھنٹے صرف ہوئے، ابو انتظار گاہ میں بڑی بے چینی سے نتیجے کا انتظار کررہے تھے، ڈاکٹر مشہود نے اپنی تسلی ہوجانے کے بعد ان کو اپنے کمرے میں بلایا، جب وہ ڈاکٹر کے کمرے میں داخل ہوئے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہی جب وقاص نے آگے بڑھ کر ان کو گلے لگالیا، وہ دونوں بہت خوش نظر آرہے تھے، ڈاکٹر مشہود نے وقاص کے ابو کو بتایا کہ وقاص جیسے بچوں کی پریشانی کا سبب صرف ان کے والدین ہوتے ہیں، جو اپنے بچوں کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت پر نظر نہیں رکھتے، ڈاکٹر نے بتایا کہ وقاص دو ہفتے قبل مارکیٹ سے ایک کارٹون فلم خرید کر لے آیا تھا اور یہ کارٹون فلم ایک خوفناک اور ہیبت ناک جن کے کارناموں پر مشتمل تھی۔ اس فلم کا جن خاص خطرناک ہوتا ہے جو بچوں کو ان کی غلطیوں پر سزا دیتا اور تشدد کرتا ہے اور ننھے بچوں کو غاروں اور جیلوں میں رکھ کر ان پر ظلم کرتا ہے، اس فلم کی وجہ سے وقاص کے ذہن پر جن کا خوف سوار ہوگیا تھا، ڈاکٹر مشہود نے بتایا کہ انہوں نے بڑی کوشش اور محنت سے وقاص کا ڈر ختم کردیا ہے، لیکن آئندہ آپ لوگ خیال رکھیں کہ آپ کا بچہ کیا دیکھتا اور پڑھتا ہے۔
وقاص کے ابو نے وعدہ کیا کہ وہ وقاص کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کی صحیح سمت میں رہنمائی کے لیے وقت نکالیں گے اور اس کے ویڈیو شیلف سے ایسی تمام بے ہودہ سی ڈیز نکال کر باہر کریں گے، ڈاکٹر مشہود علی نے انہیں تاکید کی کہ بچوں کو ایسی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں جو ان کے اخلاق و کردار کو سنواریں اور انہیں تربیت کے مواقع اس طرح فراہم کریں کہ بچوں میں آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا ہو اور وہ اپنے ملک کے لیے مفید اور معاون ثابت ہوسکیں، ابو نے انشاءاللہ کہا اور وقاص کا ہاتھ تھامے ہوئے کلینک سے باہر نکل آئے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close