Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

احسان کا قدر داں

 
   
 
میرے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ میں ایک کامیاب تاجر اور اچھا انسان ہوں، کاروباری دنیا میں میری سچائی، دیانت اور وعدے کی پابندی کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ میں نے چند سال پہلے ہی ایک چھوٹے سے کاروبار کا آغاز کیا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے کاروبار ترقی کرتا چلا گیا۔ اب میرا شمار ملک کے چند بڑے تاجروں میں ہوتا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کا کرم اور میری والدہ کی بہترین تربیت کا نتیجہ ہے، میرے والدین بہت نیک، قناعت پسند اور محنتی تھے اور یہی اچھائیاں وہ اپنی اولاد میں دیکھنا چاہتے تھے، کبھی کبھی ہماری ایک چھوٹی سی نیکی اللہ تعالیٰ کو اتنی پسند آتی ہے کہ وہ اس کے بدلے میں ہمیں دونوں جہاں کی نعمتوں سے نواز دیتا ہے۔ بے شک نیکی اور احسان کا حقیقی قدر دان اللہ تعالیٰ ہے، میں اس سلسلے میں آپ کو اپنی زندگی کا ایک واقعہ بتانا چاہوں گا۔
یہ کافی سال پہلے کی بات ہے، جب ہمارے گھر کے معاشی حالات اتنے اچھے نہ تھے، ہم تین بہن بھائی تھے، مجھ سے چھوٹی سارہ اور پھر معید تھا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ والد صاحب کا چلتا ہوا کاروبار نقصان کا شکار ہوگیا، انہیں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا تھا، جسے پورا کرنے کے لیے والد صاحب نے مکان اور گاڑی تک بیچ دی، ہم لوگ کرائے کے مکان میں آگئے۔
ابھی ہم ان صدموں سے سنبھلے بھی نہ تھے کہ والد صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوگیا، انہیں ہسپتال میں داخل کروادیا گیا، ان کے علاج کے لیے امی جان نے اپنا سارا زیور بیچ دیا۔ والد صاحب چار ماہ کے بعد گھر آگئے، ایک مہینہ انہوں نے جیسے تیسے گزارا اور پھر کمزوری کے باوجود کسی چھوٹی موٹی نوکری کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ ان کے اچھے وقتوں کے دوستوں میں سے کسی نے بھی ان کی کوئی مدد نہ کی۔ رشتے داروں نے بھی ہمارے گھر آنا چھوڑ دیا۔ ہم ایک اور جگہ کم کرائے والے مکان میں آگئے، گھر میں فاقے ہونے لگے، والد صاحب بہت پریشان رہنے لگے تھے، امی جان ہمیشہ ان کی ہمت بندھاتی تھیں کہ آزمائش کا وقت جلد ٹل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو آزماتے ہیں۔
مجھے نیا محلہ بالکل پسند نہ آیا۔ میرے سارے پرانے دوست چھوٹ گئے تھے۔ ہم بہن بھائی ایک معمولی سے اسکول میں پڑھنے لگے، میں اکثر اداس ہوجاتا تو امی جان مجھے پیار سے سمجھاتی تھیں کہ جیسے اچھا وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے ایسے ہی برے وقت کو بھی صبر اور شکر سے گزارنے والے اللہ کو بہت پسند ہیں۔ والد صاحب روز شام کو مایوس لوٹتے۔ وہ بہت چپ اور اداس رہنے لگے تھے، امی جان کو سلائی کڑھائی بہت اچھی آتی تھی، مگر سلائی مشین خریدنے کے لیے ان کے پاس پیسے نہ تھے، گھر کا سامان آہستہ آہستہ بکتا گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ بیچنے کے لیے گھر میں باقی کچھ نہ بچا۔
میں اور سارہ گھر کے حالات اچھی طرح جانتے تھے، اس لیے ہم امی ابو سے کبھی کوئی فرمائش نہ کرتے، امی جان نے چاہا کہ محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر تھوڑا بہت کمالیں،مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا، محلے والے اتنے غریب تھے کہ وہ بڑی مشکل سے اپنے بچوں کو اسکول میں تعلیم دلا رہے تھے، ٹیوشن کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ والد صاحب ایکسیڈنٹ کے بعد اتنے کمزور ہوگئے تھے کہ وہ مزدوری نہیں کرسکتے تھے، ایک دو دن انہوں نے مزدوری کی اور ہفتہ بھر بستر پر پڑے رہے، وہ بہت مایوس ہوگئے تھے، اگر امی جان ان کی ہمت نہ بڑھاتیں تو شاید وہ بالکل حوصلہ ہار دیتے۔
ایک دن گھر میں کھانے کو کچھ نہ تھا۔ والد صاحب صبح سویرے بغیر کچھ کھائے پیے چلے گئے، میں اور سارہ صبر کیے بیٹھے رہے، مگر چھوٹا معید بھوک کے مارے روئے جارہا تھا، میں نے برابر والے گھر سے کچھ پیسے ادھار لینے کا سوچا، میں ان کے دروازے تک آیا، وہاں تالا لگا دیکھ کر شدید مایوسی ہوئی، مجھے رہ رہ کر معید کا خیال آرہا تھا، میں گھر واپس آیا تو دیکھا کہ معید لیٹا ہوا ہے، اب اس سے رویا بھی نہیں جارہا تھا، ہم سب اسے بہلانے کی کوشش کرنے لگے، مگر وہ کسی طرح بہل نہیں رہا تھا، اذان ہوئی تو میں نماز پڑھنے چلاگیا، نماز کے بعد میں دیر تک دعا مانگتا رہا۔ دعا مانگ کر میں نے ہاتھ چہرے پر پھیرے تو میری نظر اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی پر پڑی۔ میں نے بازار جا کر گھڑی بیچ دی، اس کے اتنے پیسے ملے کہ میں صرف ایک دودھ کا ڈبا خرید سکا، میں گھر آیا اور معید کو پینے کے لیے دودھ دیا، امی جان نے کہا کہ میں اور سارہ بھی تھوڑا سا دودھ لے لیں، مگر ہم نے انکار کردیا، ہمیں معلوم تھا کہ وہ دودھ معید کے لیے بھی کم ہے۔
شام کو امی جان قرآن شریف پڑھنے کے بعد دیوار میں بنی کپڑوں کی بوسیدہ الماری ٹٹولنے لگیں کہ شاید کوئی ایسی چیز مل جائے جسے فروخت کیا جاسکے۔ انہوں نے والد صاحب کا ایک موٹا سا کوٹ نکالا اور مجھ سے کہا: اسے بیچ آﺅ۔
انہوں نے کوٹ اچھی طرح جھاڑا اور اسے تہ کرنے لگیں، پھر انہوں نے اس کی جیبیں ٹٹولیں تو ایک جیب میں انہیں کسی کاغذ کی موجودگی کا احساس ہوا، انہوں نے اسے نکالا تو دیکھا کہ وہ پچاس روپے کا نوٹ ہے، پچاس کا نوٹ دیکھ کر ہم سب بہت خوش ہوئے، میں نے اسے چھو کر دیکھا اور خوشی خوشی سوچنے لگا کہ ان پچاس روپوں سے کھانے کے لیے کیا کیا لاﺅں۔ اب تو بھوک سے جان نکلی جارہی ہے، امی جان مجھے بتانے لگیں کہ ان روپوں سے کیا لانا ہے۔
اتنے میں ہمارے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی، میں نے دروازہ کھولا تو دیکھا کہ سامنے والی پڑوسن کھڑی ہیں، وہ امی جان سے ملیں اور بڑی مشکل سے بولیں، بہن میرے گھر دو دن سے فاقہ ہے، میں ہر طرف سے مایوس ہو کر آئی ہوں، چھوٹے بچوں سے بھوک برداشت نہیں ہورہی ہے، اس لیے میں آپ کے آگے ہاتھ پھیلا رہی ہوں۔
امی جان نے میری طرف دیکھا، ہمیں معلوم تھا کہ وہ بیوہ خاتون ہیں، جو دوسروں کے گھروں میں کام کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالتی ہیں، امی جان کی نظروں کا مطالبہ سمجھتے ہوئے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا اور پچاس روپے نکال کر ان خاتون کو دے دیے، روپے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور وہ ڈھیروں دعائیں دیتی ہوئی چلی گئیں، میں امی جان کے پاس بیٹھ گیا، انہوں نے مجھے گلے سے لگالیا، میں نے کہا: امی جان ان کو ان روپوں کی زیادہ ضرورت تھی، ہم نے اچھا کیا کہ انہیں پیسے دے دیے، امی نے ہاں میں سر ہلادیا، شاید انہیں ہماری بھوک یاد آرہی تھی۔
رات کو والد صاحب بہت دیر سے گھر آئے، ان کے ہاتھوں میں ڈھیر ساری کھانے پینے کی چیزیں تھیں اور وہ بے حد خوش تھے، ہم سب اتنا سامان دیکھ کر حیران اور خوش ہوگئے، ڈھیر ساری کھانے کی مزےدار چیزیں تھیں، والد صاحب نے کہا، پہلے کھانا کھاتے ہیں، پھر بتاتا ہوں کہ آج کیا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے آج ہم پر کیسا کرم کیا۔
کھانا کھاتے ہوئے مجھے ہر چیز مزیدار لگ رہی تھی اور میں ہر نوالے پر اللہ کا شکر ادا کرتا رہا، کھانے کے بعد والد صاحب بولے، آج بھی میں حسب معمول مایوس ہو کر گھر لوٹ رہا تھا کہ اچانک مجھے اپنا ایک پرانا دوست مل گیا، وہ اچھے وقتوں میں مجھ سے دو لاکھ روپے ادھار لے کر کینیڈا چلا گیا تھا، مجھے تو یاد بھی نہیں تھا، مگر اس نے نہ صرف روپے لوٹا دیے، بلکہ شکریہ بھی ادا کیا کہ اس کے کام آیا، اب ان شاءاللہ میں دوبارہ اپنا کاروبار شروع کروں گا۔
ابا جان بتا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ بے شک احسان کا سب سے بڑا قدر داں اللہ تعالیٰ ہے، وہ ایک نیکی کے بدلے اتنا نوازتا ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ پچاس روپے کے بدلے اس نے دو لاکھ روپے دے ڈالے، بے شک اللہ تعالیٰ جب انسان کو نوازنے پر آتا ہے تو ان راستوں سے نوازتا ہے جن کے بارے میں انسان خواب و خیال میں بھی نہیں سوچ سکتا۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close