Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

نیا سال

 
   
 
اس دن امتیاز احمد صاحب کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، اس لیے وہ آفس سے جلدی چھٹی لے کر گھر جارہے تھے، وہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر نیم دراز ہو کر گہرے گہرے سانس لے رہے تھے، ٹیکسی سست رفتار سے چل رہی تھی، اچانک انہیں اپنے سینے میں شدید درد محسوس ہوا، انہوں نے ٹیکسی ڈرائیور سے تیز چلنے کو کہا، ٹیکسی ڈرائیور نے ان کی حالت دیکھتے ہوئے مختصراً راستہ اپنایا، جو ایک پل پر سے جاتا تھا، اس دن شاید امتیاز احمد کی قسمت بھی ساتھ نہیں دے رہی تھی، پل پر ٹریفک جام تھا۔
امتیاز احمد صاحب کی طبیعت مزید بگڑنے لگی، وہ بڑی مشکلوں سے بولے۔ یہ کیا ہورہا ہے، تم رک کیوں گئے، جلدی گاڑی چلاﺅ۔
ڈرائیور پریشانی سے بولا۔ صاحب جی، آپ کی حالت بگڑ رہی ہے، میں آپ کو ہسپتال لیے چلتا ہوں۔
امتیاز صاحب سینے سے اٹھنے والی ٹیس سے کراہ کر بولے۔ ابھی تم مجھے جہنم میں بھی لے چلو، مگر یہاں سے تو نکلو۔
ڈرائیور بے چارگی سے بولا۔ پل پر سے ٹریفک ہٹے تو نکلوں، امتیاز صاحب تکلیف برداشت کرتے رہے، پھر سیٹ پر ہی بے ہوش ہوگئے، ٹیکسی ڈرائیور نے انہیں ہسپتال پہنچایا تھا، انہیں ہوش آنے پر بتایا گیا کہ ان پر دل کا دورہ پڑا تھا، اب ان کی والدہ اور بیوی بچے ہسپتال پہنچ گئے تھے۔
اپنی والدہ سے امتیاز صاحب نے رو رو کر پوچھا۔ یہ مصیبتیں ہم پر کیوں نازل ہونے لگی ہیں، ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی پریشانی آجاتی ہے، مجھے اسے سے پہلے کوئی بیماری نہیں رہی ہے۔
ان کی والدہ نے شفقت سے انہیں تسلی دی، بیٹا! صبر کرو۔ اللہ سے معافی مانگو اور اس کی رحمتیں طلب کیا کرو۔
٭....٭....٭
آفس کے اسٹاف نے امتیاز صاحب کو کبھی اتنا بدحواس نہیں دیکھا تھا، جب انہیں اطلاع ملی کہ ان کے بیوی بچوں کی کار کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے تو گویا وہ اپنے حواس کھو بیٹھے، فوراً وہ اپنے آفس سے نکلے اور ٹیکس میں ہسپتال جاپہنچے، ہسپتال پہنچتے ہی خود ان کی حالت غیر ہوگئی، اپنے بیٹے کو زخمی اور درد سے تڑپتا ہوا دیکھ کر ان کی آنکھوں میں اندھیرا آنے لگا، کئی بار وہ چکرا کر گرے بھی تھے، ان کی بیوی اور بیٹی بھی زخمی تھیں، لیکن ان کی چوٹیں معمولی تھیں، ان دن بھی انہوں نے ہسپتال میں اپنی والدہ سے پوچھا تھا کہ یہ مصیبتیں ان پر کیوں نازل ہونے لگی ہیں اور اس کے اسباب کیا ہیں، جواب میں ان کی والدہ خاموش رہیں۔
یہ سوال اب تک کانٹے کی طرح امتیاز صاحب کے دماغ میں چبھ رہا تھا۔
٭....٭....٭
بڑی پیاری شام تھی، دسمبر کے آخری دنوں کی سرد اور نرم شام، مبین کے سارے دوست اس کے گھر کے لان میں خوش گپیوں میں مصروف تھے، وہ سب نئے سال کی رات کے لیے تفریح کا پروگرام بنا رہے تھے، فیضان بڑے جوش و خروش سے اپنا منصوبہ پیش کرتے ہوئے بولا۔ میں تو کہتا ہوں کہ نئے سال کی رات ہم سب اپنی موٹر سائیکلیں لے کر نکلتے ہیں اور سب ان کے سائلنسر نکلوادیتے ہیں۔
ناصر اچھل کر بولا۔ واہ کیا پرشور تفریح ہوگی، کیا خیال ہے دوستو، اگر ہم موٹر سائیکلوں پر ساحل سمندر کی طرف بھی نکل چلیں تو کیسا رہے گا۔
مبین نے سر ہلا کر کہا، مگر ہمیں آتش بازی بھی تو کرنی ہے۔
ساجد چٹکی بجا کر بولا، یہ کون سا بڑا مسئلہ ہے، ہم سی سائیڈ پر ہی آتش بازی کریں گے۔
سارے دوستوں نے ساجد کو داد دی، قریب ہی نذیر بابا کیاریاں ٹھیک کررہے تھے، وہ کھرپی رکھ کر ہاتھ جھاڑ کر کھڑے ہوگئے، پھر دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ان کے پاس آکر بولے۔ تم لوگ آتش بازی کرو گے۔
ناصر تھوڑا منہ پھٹ تھا، لہٰذا فوراً بولا۔ ہاں بابا، ہم نئے سال کا جشن منائیں گے، اس میں خرابی کیا ہے آخر۔
مبین نے ناصر کو پیچھے کیا اور بولا۔ بابا ہم صرف ایک دن کے لیے ہی تو خوشی کے طور پر نئے سال کا جشن مناتے ہیں۔
نذیر بابا اس گھر کے کافی پرانے ملازم تھے، وہ مبین کے داد کے زمانے سے یہاں کام کررہے تھے، ان کی حیثیت گھر کے فرد جیسی تھی، مبین ان کی عزت بھی کرتا تھا، بابا اسے سمجھاتے ہوئے بولے۔ بیٹا، یہ سب چیزیں فضول ہیں، تم ان کاموں میں کیوں اپنا پیسہ اور وقت برباد کرتے ہو، نئے سال کو اگر خوش آمدید کہنا ہی ہے تو سادگی سے کہو، دعائیں مانگو کہ نیا سال سب کے لیے خوشیوں کا پیغام لے کر آئے۔
مبین نے ان کی بات سن کر بڑی سعادت مندی سے سر ہلایا، ٹھیک ہے بابا، جیسا آپ نے سمجھایا ہم ویسا ہی کریں گے۔
نذیر بابا خوش ہوگئے، مبین کے دوستوں کو گویا سانپ سونگھ گیا تھا، نذیر بابا چلے گئے تو دوستوں نے اس پر برسنا شروع کردیا۔ سب سے پہلے فیضان چیخا۔ یہ کیا حماقت ہے، تم ہماری تفریح کو بھی ملیامیٹ کرو گے۔
ناصر ناگواری سے بولا۔ سادگی سے تم اکیلے ہی منانا نیا سال۔ ہم الگ چلے جائیں گے، کیوں دوستو۔
سب نے اپنے سر ہلادیے۔ بالکل بالکل۔
مبین نے بری مشکلوں سے انہیں خاموش کرایا اور دبے دبے لہجے میں بولا۔ تم لوگ سمجھتے کیوں نہیں، بابا ہمارے بزرگ ہیں، میں ان کی عزت کرتا ہوں، اس لیے میں نے ان کی بات مان لی، لیکن ہم اپنی تفریح ضرور کریں گے۔
یہ سن کر سب نے قہقہہ لگایا۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ نذیر بابا لان کے پیچھے راہ داری میں کھڑے ان کی باتیں سن رہے تھے اور افسوس کررہے تھے۔ قہقہے تھمے تو مبین پریشانی سے بولا۔ پتا نہیں، ابو مانیں گے بھی یا نہیں، مجھے ان سے آتش بازی کے سامان کے لیے پیسے لینے ہیں۔
جواد نے جو اب تک خاموش تھا، ایک لفافہ مبین کو پکڑاتے ہوئے کہا۔ اس میں ہم سب نے پیسے جمع کررکھے ہیں، یہ تم اپنے پاس رکھو اور اپنے پیسے بھی اس میں ڈال دینا، ہم کل لے لیں گے۔
مبین نے لفافہ لے لیا اور بولا۔ تم سب کو تو معلوم ہے کہ کافی عرصے سے ہمارا گھر مسلسل پریشانیوں کی لپیٹ میں ہے، خاندانی جھگڑے، بے قصور چچا پر غبن کا کیس، ہمارا ٹریفک ایکسیڈنٹ، ابو کی بیماری اور گھر کے دیگر معاملات میں پریشانی، یہ سب دیکھتے ہوئے ابو شاید مجھے جانے کی بھی اجازت نہ دیں۔
فیضان منہ بنا کر بولا: اس کا مطلب ہے تم نہیں آﺅ گے۔
اچانک گلاکھکارنے کی آواز پر وہ پلٹے اور انہوں نے مبین کے ابو امتیاز احمد صاحب کو دیکھا۔انہوں نے مبین کی بات سن لی تھی۔ وہ بولے۔ میں نہیں منع کرو گا۔ تم اپنے دوستوںکے ساتھ جاسکتے ہو۔
مبین خوش ہوگیا۔ آپ بہت اچھے ہیں ابو، میرے دوستوں نے ایک ہزار روپے جمع کیے ہیں۔
امتیاز احمد صاحب بولے۔ تم میری طرف سے دو ہزار لے لو، میں بھی تو ایک تقریب میں جاﺅں گا، لہٰذا تمہیں بھی تفریح کرنی چاہیے۔ آخر نیا سال ہے۔
مبین کے سب دوستوں نے ایک ساتھ کہا۔ شکریہ انکل۔ امتیاز صاحب نے مبین کو دو ہزار روپے دیے، جو مبین نے لفافے میں رکھ لی۔ راہ داری میں کھڑے نذیر بابا کی نظریں اس لفافے پر جم گئیں۔
٭....٭....٭
امتیاز احمد صاحب خوشگوار موڈ میں نئے سال کی تقریب میں جانے کی تیاری کررہے تھے، وہ اپنی والدہ کے کمرے میں آئے تو انہیں عبادت میں مصروف پایا، وہ تخت پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ اتنے میں مبین پریشانی کے عالم کے کمرے میں داخل ہوا۔ ابو میں نے اپنے بستر پر تکیے کے نیچے پیسوںکا لفافہ رکھا تھا، وہ کسی نے نکال لیا ہے۔
امتیاز احمد صاحب کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور وہ بولے۔ کیا مطلب، گھر میں سے پیسے کون لے سکتا ہے، تم ضرور ادھر ادھر رکھ کر بھول گئے ہوگے۔
مبین بولا، میں نے آج تک کوئی چیز ادھر ادھر نہیں رکھی، پھر بھی میں نے ہر جگہ چھان ماری، مگر وہ لفافہ غائب ہے۔
اتنے میں امتیاز احمد کی والدہ بولیں۔ میں بتاتی ہوں۔ وہ لفافہ نذیر بابا کے پاس ہے۔
امتیاز احمد اور مبین بری طرح چونکے۔ کیا، آخر نذیر بابا کو پیسے چرانے کی کیا ضرورت تھی، امتیاز احمد صاحب ایک دم بھڑک اٹھے تھے۔
ان کی والدہ نے انہیں ڈانٹا، پہلے پوری بات سن لو، نذیر بابا نہیں چاہتے کہ تم لوگ نئے سال کی رات فضول کاموں اور کھیل تماشوں میں گزارو۔
مبین جھنجھلا کر بولا: ہم تو صرف تفریح کریں گے۔
اس کی دادی نے کہا: تم لوگ ہمیشہ تفریح کے نام پر شور شرابا، ہنگامے اور ناچ گانے کرکے نئے سال کا استقبال کرتے ہو، سال چاہے ہجری ہو یا عیسوی ہمیں اس کا استقبال سادگی سے اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں طلب کرتے ہوئے کرنا چاہیے، تمہاری پریشانیوں کی وجہ بھی یہی ہے، بلکہ پوری دنیا کی پریشانیوں کی وجہ بھی شاید یہی ہے کہ سال کے شروع میں ہم اللہ کی رحمتیں طلب کرنے کے بجائے خرافات میں مصروف رہتے ہیں اور پھر پورے سال ہم ان کا خمیازہ بھگتتے ہیں۔
نذیر بابا اچانک کمرے میں داخل ہوئے اور انہوں نے امتیاز احمد صاحب کے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھ کر کہا، میں آپ کے والد کے زمانے سے یہاں ملازم ہوں، وہ پہلی محرم پر بھی اللہ سے پورے سال کے لیے رحمت و برکت کی دعائیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر ہم سال کی شروعات ہی غلط طریقے سے کریں تو پورے سال اس کے نتائج بھگتتے رہیں گے، اس لیے نئے سال کو سادگی سے خوش آمدید کہنا چاہیے۔
امتیاز احمد صاحب نے شرمندگی سے کہا، میں کس قدر غفلت میں تھا، میں یہ پیغام اپنے دوستوں کو بھی بتادوں گا۔
مبین نے کہا، میں بھی ان باتوں پر عمل کروں گا اور اپنے دوستوں کو بھی سمجھاﺅں گا۔
نذیر بابا نے خوش ہو کر کہا، میں نے ان پیسوں سے بیگم صاحبہ کے کہنے پر ضرورت مندوں کے لیے گرم کپڑے وغیرہ خرید لیے ہیں۔
امتیاز صاحب کے ہونٹوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی، آج انہیں اپنے سوال کا جواب مل گیا تھا۔
گھڑی نے رات کے بارہ بجائے۔ 2009ءرخصت ہوگیا، آنکھوں کو اشک بار کرکے، اپنے دامن میں بہت سی یادیں سمیٹ کر اور اب 2010ءآگیا ہے، امیدوں کو لیے اور کہہ رہا ہے کہ رحمتیں اور خوشیاں سمیٹ لو، دکھتی انسانیت کے ہونٹوں پر مسکراہٹیں بکھیر دو۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close