Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

شیطان اور کسان

 
   
 
تم سب لوگ نالائق ہو، اگر تم لوگوں کی یہی ناقص کارکردگی رہی تو ایک دن دنیا سے بے ایمانی، نفرت، حسد، لالچ، خود غرضی، جھوٹ اور ظلم کا خاتمہ ہوجائے گا اور ہم شیطانوں کے کالے منہ مزید کالے ہوجائیں گے، بل کھائی ہوئی ٹانگوں والے شیطانوں کے سردار نے چنگاریاں برساتی ہوئی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے اپنے شاگردوں کو ڈانٹا۔
سردار، آپ یقین کریں کہ ہم لوگ دن رات اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی انسان نیکی کی طرف راغب نہ ہو، پھر بھی کچھ لوگ سچائی اور محبت کی شمع کو روشن رکھتے ہیں، لمبوتری نوک دار ٹوپی پہنے ایک شیطان نے سر جھکا کر صفائی پیش کی۔
بکواس بند کرو، مقیم پور گاﺅں کا ایک معمولی کسان گلاب خان تمہارے قابو ہی میں نہیں آرہا ہے، یہ بھینگا شیطان نمبر 911کئی سال سے اس کام پر لگا ہوا ہے، لیکن ابھی تک اس شخص کو گمراہ نہیں کرسکا۔ احمقو، ہر انسان پر ایک ہی فارمولا نہیں چلتا، جس کو ڈرا نہیں سکتے، اسے پھسلاﺅ، رجھاﺅ، بہکاﺅ، للچاﺅ کسی نہ کسی طرح تو مار کھائے گا۔ سردار کا مکروہ چہرہ غصے سے لال ہورہا تھا اور منہ سے جھاگ نکل رہے تھے۔
حضور، مجھے ایک موقع دیں، میں گلاب خان کو ایک ہفتے میں ایسا بھٹکاﺅں گا کہ پھر وہ زندگی بھر کوئی نیک کام نہیں کرے گا، غبارے جیسی پھولی ناک والے شیطان نے سینے پر ہاتھ مار کر دعویٰ کیا۔
بس، بس رہنے دو، تم سب کی کارکردگی دیکھ لی، اب اس کیس کو میں خود دیکھوں گا، اور ہاں دیکھو، اگلے ماہ ہم ہفتہ گناہ منا رہے ہیں، اس لیے اس ہفتے جو سب سے زیادہ لوگوں کو گمراہ کرے گا، اس کو تمغائے شیطانیت دی جائے گا۔ سردار نے گرج کر کہا۔
گلاب خان چھوٹے سے گاﺅں مقیم پور کا ایک غریب کسان تھا، اپنے دو بچوں کو اپنے بازوﺅں پر لٹا کر دلچسپ کہانیاں سناتا۔ گلاب خان کے اخلاق، ایمان داری اور شرافت کی وجہ سے گاﺅں کا ہر شخص اس سے محبت کرتا تھا۔
بچو، یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ شیطان ہر لمحہ انسان کو بہکانے کے لیے کوشاں رہتا ہے، نماز کے وقت وہ چپکے سے آپ کے کان میں کہتا ہے: ارے چھوڑو گڈو میاں، دیکھو آسمان پر کیسی رنگ برنگی پتنگیں اڑ رہی ہیں، کتنا اچھا موسم ہے۔ کچھ دیر اور کرکٹ کھیل لو، صبح اسکول کے وقت آپ کے سرہانے آکر شیطان کھڑا ہوجاتا ہے اور بہکاتا ہے: ارے ننھے میاں، ابھی سوتے رہو، بھلا اس سردی میں بھی کوئی اسکول جاتا ہے، آج تو لحاف میں لیٹ کو مونگ پھلیاں کھانے اور کارٹون دیکھنے کا دن ہے۔
شیطان نظر نہیں آتا، لیکن اپنے شیطانی چکر چلاتا رہتا ہے، کبھی کبھی شیطان کسی پرندے، جانور یا انسان کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور انسان کو بہکانے کے لیے ہمدرد یا دوست بن کر آتا ہے۔
گلاب خان کو بہکانے کے لیے بھی شیطان سردار نے یہی طریقہ اپنایا اور ایک بوڑھے مزدور کا بھیس بدل کر اس کے کھیت پر پہنچ گیا، دوپہر کو جب گلاب خان نیم کی چھاﺅں میں مکئی کی روٹی، پیاز اور اچار کھا رہا تھا تو شیطان ایک بوڑھے کے بھیس میں اس کے پاس پہنچا اور اپنی پریشانیوں اور دکھوں کی فرضی داستان سنا کر رونا شروع کردیا۔ گلاب خان سیدھا سادھا، رحم دل انسان تھا، اس نے آدھی روٹی بوڑھے کو دی اور کہا بھائی میں خود ایک غریب کسان ہوںِ لیکن میرا ایمان ہے کہ قناعت اور ایمانداری سے بڑھ کر کوئی دولت نہیں، میں اس روکھی سوکھی میں بہت خوش ہوں اور اللہ تعالیٰ کا شکرادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے نیک بیوی اور پیارے بچے دیے ہیں، بہرحال، اگر تم چاہو تو میرے ساتھ رہ سکتے ہو، دونوں محنت مزدوری کریں گے، دینے والا اللہ ہے۔
اس طرح شیطان نے گلاب خان کے گھر میں جگہ پیدا کرلی، شیطان دن رات ایسے موقع کی تلاش میں رہتا کہ وہ گلاب خان کو بہکاسکے، آخر کار اس کو ایک ترکیب سوجھی۔
جب گندم کی بوائی کا موسم آیا تو شیطان نے گلاب خان کو مشورہ دیا کہ اس بار نشیب کے علاقے میں بیج بوئے، کیوں کہ اس بار بارش کم ہونے کے امکانات ہیں، اتفاق سے اس سال کم بارش ہوئی اور کھیت جل گئے، صرف گلاب خان کے کھیت نشیب میں ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے اور زبردست فصل ہوئی، گلاب خان کی گندم چار گنا زیادہ قیمت میں فروخت ہوئی اور اس کے وارے نیارے ہوگئے، شیطان نے اسے مشورہ دیا کہ اتنی رقم گھر کے بجائے بینک میں رکھی جائے، جہاں رقم محفوظ رہے گی اور بڑھتی رہے گی۔ گلاب خان نے اس مشورے پر عمل کیا اور یوںگلاب خان کو سود کے چکر میں پھنسا کر شیطان بہت خوش ہوا۔
اگلے سال شیطان نے گلاب خان کو مشورہ دیا کہ اس بار بلندمقام پر بیج بویا جائے، اتفاق سے اس سال خوب زوردار بارش ہوئی، ہر طرف جل تھل ہوگیا، کئی جگہ سیلاب آگئے، پچھلی بار گلاب خان کی دیکھا دیکھی کسانوں نے نشیب میں فصل بوئی تھی، اس لیے اس بار شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے لوگوں کی فصلیں تباہ ہوگئی لیکن گلاب خان کے کھیت میں گندم کی بالیاں لہراتی رہیں، اس کے گودام گندم سے بھر گئے، گندم کی فصل تباہ ہونے کی وجہ سے قحط کی کیفیت تھی، اس لیے گلاب خان کو گندم کی منہ مانگی قیمت ملی، اس نے مسجد کے سامنے والا ایک بڑا پلاٹ لے کر اپنا شان دار مکان بنوایا، اب گلاب خان گاﺅں کا سب سے دولت مند شخص تھا۔
جیسے جیسے گلاب خان کی دولت کے انبار اونچے ہوتے رہے، وہ لالچ، خود غرضی اور غرور کی پستی میں گرتا جارہا تھا، رفتہ رفتہ وہ اپنے پرانے ساتھیوں سے دور ہوتا گیا اور اس کے گرد خوشامدی لوگوں کی بھیڑ نظر آنے لگی۔
آج گاﺅں والوں نے گلاب خان کو گاﺅں کا نمبر دار چنا تھا، آج اس کے محل نما گھر کے سامنے ایک بڑے شامیانے میں جشن تھا، آس پاس کے گاﺅں کے زمین دار، تھانے دار اور بڑے بڑے لوگ جمع تھے، ناچ گانے کی آوازیں دور تک آرہی تھیں، شامیانے کے ایک طرف گاﺅں کے غریب کسان اور بچے اس انتظار میں کھڑے تھے کہ آج ان کو بھی پیٹ بھر کر اچھا کھانا نصیب ہوگا۔
اسی دوران گلاب خان زرق برق لباس پہنے اپنے کسی مہمان کا خیر مقدم کرنے کے لیے آرہا تھا کہ وہ سامنے خستہ حال لوگوں کا ہجوم دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا۔ دو تین لوگوں کو ٹھوکریں مارنے کے بعد اس نے نوکروں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو دھکے دے کر باہر نکال دیا جائے، جب وہ غصے میں گھر میں داخل ہوا تو اس کی بیوی نے اس کے نامناسب رویے پر اعتراض کیا تو اس نے اپنی بیوی کو بھی مارنا شروع کردیا۔ اس کے بچے ایک کونے میںسہمے کھڑے تھے اور حیران تھے کہ ان کے باپ کو کیا ہوگیا ہے۔
رات کو جب محفل ختم ہوئی اور مہمان ایک ایک کرکے چلے گئے تو کچھ دیر بعد چاروں طرف سناٹا چھاگیا۔
بستی کے باہر پیپل کے درخت کے نیچے شیطانوں کا سردار خوشی سے قہقہہ لگاتے ہوئے اپنے شاگردوں سے کہہ رہا تھا: وہ دیکھو، تم لوگ اتنے عرصے سے ایک معمولی شخص کو گمراہ کرنے میں ناکام رہے، میں نے مختصر عرصے میں اس کو لالچ، ہوس، دولت، خود غرضی کے جال میں پھانس کر کس پستی میں پہنچادیا۔ آج ہر شخص اس سے نفرت کرتا ہے، یہی ہماری فتح ہے، کچھ دن پہلے گلاب خان کی زندگی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور سکون سے روشن تھی، آج وہ غرور، لالچ اور نفرت کی کیچڑ میں لتھڑا لوگوں کے لیے عبرت کا نمونہ بناکھڑا ہے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close