Content on this page requires a newer version of Adobe Flash Player.

Get Adobe Flash player

صفحہ اول
لائبریری
کہانیاں > عمومی
شکریہ
میں کیوں نہ...
یہ دیس ہمارا...
صورت نہیں...
صورت نہیں...
نرالے طریقے
فقیر کی صدا
احساس
مردے کی واپسی
قیمتی موتی کی...
بری صحبت کا...
ضمیر کی صدا
بیرا
نئی امید
مامتا کی مہک
دعا
سرگرمیاں
انکل شائن
رسالہ
کیا آپ جانتے ہیں ؟
گیمز
تازہ ترین خبریں
 

کہانیاں

 
   

 

 

 
Bookmark and Share

Next   Back
 

جنگی تاریخ کا ایک یادگار دن

 
   
 
سرگودھا.... پاکستان ائیر فورس کی عظمت و ہیبت کا زندہ و پائندہ گواہ۔
بھارتی فضائیہ کی عبرت ناک شکست اور ذلت آمیز تباہی کا نشان جس کی بیکراں فضاﺅں میں نیلے آسمان کے نیچے بھارتی فضائیہ کے پرخچے اڑتے رہے، جہاں دشمن کا غرور اور اس کی قوت پاکستانی جانباز ہوا بازوں نے آن واحد میں ملیامیٹ کردی اور دنیا کو دکھایا کہ ایمان و ایقان کی لازوال قوت کے سامنے کتنا ہی طاقتور اور اعلیٰ ترین مادی ساز و سامان رکھنے والا دشمن ہو، بالآخر فنا ہوجاتا ہے۔
یہ سات ستمبر انیس سو پینسٹھ کا یادگار دن ہے، اس دن بھارتی فضائیہ پر پاکستان ائیر فورس کی ہیبت طاری ہوئی، ایسی ہیبت کہ دشمن کے بمبار اور لڑاکا طیاروں کو دن کے اجالے میں پاکستان کی فضائی میں گھس آنے کی جرات نہیں ہوتی، وہ رات کی تاریکی میں آتے ہیں اور پاکستانی شہروں اور دیہاتوں پر بم پھینک کر اپنی سرحدوں میں بھاگ جاتے ہیں، یہ اس بھارتی فضائیہ کا حال ہے جو پاکستان ائیر فورس کے مقابلے میں چھ گنا بڑی ہے اور جس کے پاس طاقتور اور انتہائی تیز رفتار طیارے ہیں، لیکن ایک ہی دن کی فضائی جنگ میں اس کا غرور ٹوٹ گیا اور اس کے پاکستان کے سامنے عاجزی سے گھٹنے ٹیک دیے ہیں، فضائی جنگوں کی تاریخ میں یہ ایک نرالا کارنامہ ہے جسے مستقبل کا مورخ نظر انداز نہ کرسکے گا۔
ایک روز پہلے چھ ستمبر کو بھارت نے پاکستان پر اچانک حملہ کیا، اسی روز پاکستانی ائیر فورس حرکت میں آگئی ہے،اس نے دشمن کی بری فوج پر تابڑ توڑ حملے شروع کردیے ہیں، پرانے لیکن وفادار ایف 86 سیبر جیٹ گونجتے گرجتے اپنے ٹھکانوں سے فضاﺅں میں بلند ہورہے ہیں اور بجلی کی طرح بھارتی ہوائی اڈوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، پٹھان کوٹ، آدم پور اور ہلواڑہ کے بھارتی اڈے پاکستانی طیاروں کی شدید بمباری کی زد میں ہیں اور دشمن کی فضائی طاقت کا سر کچلنے میں مصروف ہیں، چھ ستمبر کا سارا دن اسی کارروائی میں گزر جاتا ہے، یہ چھ اور سات ستمبر کا سارا دن اسی کارروائی میں گزر جاتا ہے، یہ چھ اور سات ستمبر کی درمیانی رات ہے، سرگودھا کے ہوائی اڈے پر پاکستان کے لڑاکا طیارے دشمن کے حملے کے منتظر ہیں، ہر شخص چاق و چوبند ہے اور اپنے فرض کی ادائیگی میں جی جان سے ڈٹا ہوا ہے، کسی کے چہرے پر خوف یا پریشانی کا شائبہ بھی نہیں، ہر ایک کے دل میں دشمن سے بھڑجانے اور اسے ختم کردینے کا ولولہ اور جون ہے، رات آہستہ آہستہ گزر رہی ہے، دشمن کے طیاروں کا دور دور پتا نہیںِ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی سے پاکستان ائیر فورس کی ہیبت اس کے دل پر طاری ہونے لگی ہے۔
سرگودھا کے اڈے پر کام کرنے والا ہر چھوٹا بڑا افسر بے قرار ہے، مضطرب ہے.... وہ دشمن کی آمد کا شدید انتظار کررہا ہے، تاکہ اس کا گرم جوشی سے استقبال کیا جائے، لڑاکا طیاروں کی فائنل چیکنگ کی جاچکی ہے، مشین گنیں تیار ہیں، طیارہ شکن توپوں کے گن بار بار پہلو بدل رہے ہیں، ان کی توپیں شعلے اگلنے کے لیے بے چین ہیں، سرگودھا بیدار ہے، سرگودھا ہوشیار ہے، مشرقی افق پر ہلکی ہلکی سنہری روشنی پھوٹ رہی ہے، سورج نکلنے میں ابھی کچھ دیر ہے، سرگودھا کے ہوائی اڈے پر ائیر مین پائلٹ اور افسران بھی مستعد ہیں، انہیں دشمن کے حملے کا انتظار تھا اور اب وہ اپنے دن کے مشن کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں، پائلٹ اپنے اپنے طیاروں کے کاک پٹ میں بیٹھے احکامات کے منتظر ہیں، پاکستان ائیر فورس کا ایک ہیلی کاپٹر اڈے کے گرد چکر لگا رہا ہے، چند منٹ بعد ہیلی کاپٹر نیچے آتا ہے، اب وہ زمین پر اتر گیا ہے، پائلٹ کاک پٹ سے باہر آرہے ہیں، دفعتہ آسمان پر زناٹا سا گونجتا ہے اور چند گز کے فاصلے پر ایک راکٹ دھماکا خیز آواز سے پھٹتا ہے۔
بھارت کے چھ مسٹیئر جیٹ لڑاکا طیارے اڈے کی طرف بہت نیچے اڑان کرتے ہوئے آرہے ہیں، دشمن نے چیلنج قبول کرلیا ہے، اب اس کا گرم جوشی سے جواب دینا ہوگا، بھارتی لڑاکا طیارے اندھا دھند گولیاں برساتے اور راکٹ پھینکتے نکل جاتے ہیں، سرگودھا کے رن وے کے پرلے کنارے پر اسٹار فائٹر تیار کھڑا ہے، کاک پٹ میں فلائٹ لیفٹیننٹ امجد حسین بیٹھے ہیں، اشارہ ملتے ہی اسٹار فائٹر گرج دار آواز سے فضا میں بلند ہوتا ہے اور بے پناہ رفتار سے دشمن طیاروں کا تعاقب کرتا ہے، دشمن کے مسٹیئر طیارے بچنے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن پاکستانی اسٹار فائٹر ان کے بالکل نزدیک پہنچ کر فائرنگ کررہا ہے، اسٹار فائٹر سے نکلی ہوئی گولیاں دشمن کے دو طیاروں کی ٹنکیوں میں سوراخ کردیتی ہیں اور دو سیکنڈر کے اندر اندر دونوں طیارے ہولناک انداز میں فضاءہی میں تباہ ہوجاتے ہیں، زمین سے طیارہ شکن توپیں شعلے اگل رہی ہیں، چند سیکنڈ بعد مزید دو بھارتی طیارے گولیوں کی زد میں آجاتے ہیں اور ان کا جلتا ہوا ملبہ میلوں دور کھیتوں میں آن گرتا ہے، بقیہ دو طیارے جان بچا کر فرار ہوجاتے ہیں۔
آل کلیئر سائرن ختم بھی نہیں ہوا کہ سائرن دوبارہ بولنے لگے ہیں، یہ ایک اور حملے کی وارننگ ہے، اس مرتبہ بھارت کے چھ ہنٹر طیارے برق رفتاری سے سرگودھا کی طرف آرہے ہیں، دشمن کے ان ہنٹر طیاروں کا استقبال کرنے کا حکم شہرہ آفاق سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم اور ان کے مدد گار فلائنگ آفیسر مسعود اختر کو دیا گیا ہے، پاکستان کی فضائیہ کے یہ دو باہمت ہوا باز اپنے اپنے لڑاکا طیاروں میں اس وقت دس ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کررہے ہیں کہ یکایک انہیں ریڈیو کے ذریعے اطلاع ملتی ہے کہ سرگودھا پر دشمن کے طیاروں نے حملہ کردیاہے، چند لمحوں بعد انہیں دشمن کے چار ہنٹر دکھائی دیتے ہیں، دونوں پاکستانی سیبر جیٹ فوراً ایک شاندار غوطہ لگاتے ہیں، اب وہ دس ہزا فٹ کی بلند سے یک لخت نیچے اتر کر ڈیک لیول پر آجاتے ہیں، ڈیک لیول زمین کی سطح سے چالیس فٹ اونچی اڑان ہے، دشمن کے چاروں ہنٹر طیارے سیبر جیٹ طیارے دیکھتے ہی دو حصوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں، تین ہنٹر دائیں طرف اور چوتھا بائیں جانب مڑ جاتا ہے، لیکن عالم مسلسل اس کے تعاقب میں ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کو بچ نکلنے کا موقع دینا نہیں چاہتا ہے، دریائے چناب کے اوپر دو منٹ تک وہ اس کا پیچھا کرتا ہے، آخر دشمن کا طیارہ اس کی فائرنگ کی زد میں آجاتا ہے، عالم کا طیارہ مشین گن سے گولیاں برسا رہا ہے،چشم زدن میں ہنٹر طیارے کے پرخچے فضا میں بکھر جاتے ہیں۔
اب دونوں جیالے پاکستانی ہوا باز دشمن کے بقیہ طیاروں کی تلاش میں نکلتے ہیں، تین منٹ پرواز کے بعد عالم کے ریڈیو پر مسعود کی آواز گونجتی ہے۔
دشمن کے پانچوں ہنٹر سامنے ہیں۔
پاکستانی سیبر جیٹ دائرے کی شکل میں پرواز کررہے ہیں، دشمن کے طیاروںکا لیڈر مسعود کے طیارے کا تعاقب کرتا ہے اور اسے گھیرنے کی کوشش میں ہے، لیکن پاکستانی پائلٹ اس کی ہر چال کو ناکام بنارہا ہے، دفعتاً وہ دائیں جانب گہرا غوطہ لگا کر دشمن کی فائرنگ کے حلقے سے صاف نکل جاتا ہے، ادھر عالم نے دو ہنٹر گھیر لییے ہیں، ہنٹر طیارے سیبر کی نسبت کہیں زیادہ تیز رفتار ہیں، لیکن کتنی حیرت کی بات ہے کہ انہیں فرار ہونے کا راستہ نہیں مل رہا، عالم کا طیارہ موت کی طرح ان کا پیچھا کررہا ہے، اب دونوں ہنٹر مشین گنوں کی زد میں آگئے ہیں، بیک وقت دونوںطیاروں پر گولیاں برس رہی ہیں، دشمن کے طیارے بے قابو ہوگئے ہیں، ان کے انجنوں سے گہرا سیاہ دھواں اور آگ کے شعلے نکل رہے ہیں،ان کا رخ زمین کی طرف ہے، دونوں طیارے تباہ ہوگئے ہیں۔
عالم کے ریڈیو ٹرانسمیٹر پر مسعود کی آواز دوبارہ گونجتی ہے، وہ اسے بتا رہا ہے کہ اس کا طیارہ محفوظ ہے اور دشمن کا کوئی طیارہ اس کا تعاقب نہیں کررہا، عالم جواب دیتا ہے۔
فکر نہ کرو، اب میں ان کے باقی ساتھیوں کو گھیرتا ہوں۔
دونوں سیبر جیٹ ایک اور چکر مکمل کرتے ہیں اور اتنے میں عالم چوتھے ہنٹر کو گھیر لینے میں کامیاب ہوجاتا ہے، پلک جھپکنے میں دشمن کا یہ طیارہ بھی دھوئیں اور شعلوں میں گھرا ہوا زمین کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے، اب لیڈر کی باری ہے جو پاکستانی ہوا بازوں سے بھاگ نکلنے کی فکر میں ہے وہ نوے درجے کا زاویہ بناتے ہوئے پاکستانی ہوا بازوں کی زد سے نکلنے کی جان توڑ کوشش کررہا ہے، دشمن کا ایک اور ہنٹر بھارت کی طرف جارہا ہے، عالم لیڈر کے تعاقب میں ہے، غوطہ زنی کے کمالات دکھانے کے باوجود لیڈر اپنے طاقتور طیارے کو عالم کی مضبوط گرفت سے بچا نہیں سکتا۔
سیبر جیٹ کی مشین گن کا منہ کھل گیا اور پہلی ہی بوچھاڑ میں لیڈر کا طیارہ قلابازیاں کھاتا ہوا زمین کی طرف جارہا ہے، لیکن اسے زمین تک پہنچنا نصیب نہیں ہوا، ایک دھماکے سے وہ فضا ہی میں پھٹ گیا ہے اور اب اس کے جلتے ہوئے ٹکڑے زمین پر گر رہے ہیں۔
آدھے گھنٹے کے اندر اندر بھارت کی ائیر فورس پانے نو بہترین لڑکا جیٹ طیارے تباہ کرااچکی ہے، جن میں سے چار مسٹیئر اور پانچ ہنٹر ہیں۔
عالم کا سیبر جیٹ اپنے اڈے کی طرف آرہا ہے، اس نے صرف تیس منٹ کی فضائی جنگ میں بھارت کے پانچ لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں، فضائی جنگ کے غیر ملکی ماہرین حیرت سے کہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سیبر جیٹ اپنے سے کہیں زیادہ تیز رفتار ہنٹر کو مار گرائے، ان ماہرین کو علم نہیں کہ عزم و ہمت اور ایمان کی قوت کے سامنے پانچ تو کیا پانچ ہزار ہنٹر طیارے بھی نہیں ٹھہر سکتے۔
عالم کے فاتح سیبر جیٹ کے پہیے ہوائی اڈے کی زمین چوم رہے ہیں، طیارہ دوڑتا ہوا اپنے ٹھکانے کی طرف آرہا ہے، لیجئے وہ رک گیا، سینکڑوں آفیسرز ور ائیر مین اپنے ہیرو کا استقبال کرنے کے لیے انتہائی جوش و خروش سے طیارے سے گرد جمع ہورہے ہیں، ایم ایم عالم کا مسکراتا ہوا چہرہ ان کے سامنے ہے، اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے فضا تھرا رہی ہے، یہ نعرے دل کی گرائیوں سے نکل رہے ہیں، اسٹیشن کا ہر چھوٹا بڑا افسر عالم کو اس عظیم الشان کارنامے پر خوش ہو کر مبارکباد دے رہا ہے، اس کے ساتھی پائلٹوں کے چہرے فرط مسرت سے تمتمارہے ہیں، انہوں نے دشمن کو پہلے ہی حملے میں عبرت ناک شکست دی ہے اور فضائی جنگوں کی تاریخ میں ایک زبردست ریکارڈ قائم کردیا ہے۔
اب ذرا اس دہشت اور صدمے کا اندازہ کیجیے جو بھارتی ائیر فورس کو اپنے لڑاکا طیارے ضائع ہونے پر ہوا ہوگا، اس نے اپنے بارہ بہترین طیارے سرگودھا بھیجے لیکن ان میں سےس تین طیارے واپس پہنچے تو بھارتی ائیر فورس کو پتا چل گیا کہ پاکستانی ہوا باز اور ان کے کمزور سیبر جیٹ ترنوالہ نہیں ہیں جسے آسانی سے نگل لیا جائے گا، وہ تو لوہے کے چنے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی طیاروں کو سات ستمبر کے بعد دن کے روشنی میں سرگودھا پر آنے کی جرات نہ ہوئی، انہوں نے اس روز ایک بار پھر اپنی پیشانی سے ذلت و رسوائی کا داغ دھونے کی کوشش کی اور دوپہر کے وقت چار مسٹیئر طیاروں کو حملے کے لیے بھیجا، ان طیاروں کو نیچے آنے کا حوصلہ نہ ہوا اور جونہی انہوں نے پاکستانی سیبر جیٹ اپنی طرف آتے دیکھتے فوراً اپنی سرحدوں کی طرف بھاگ گئے۔
 
Next   Back

Bookmark and Share
 
 
Close